Original Articles Urdu Articles

برے کو برا کہنا ہوگا – عمار کاظمی

bura12074980_10206459927071495_4335645133218936539_n

میرا تبلیغی ہمسایہ بتا رہا تھا کہ پیر صاحب کے مرید ہر سال قربانی سے ہفتہ پہلے ہی انھیں دو قوی بیل اور پانچ چھ بڑے بکرے بھینٹ کر جاتے ہیں اور پیر صاحب پوری شان و شوکت کے ساتھ ان کی قربانی کر کے دو حصے گوشت غربا اور عزیز رشتہ داروں تقسیم کر کے باقی خود رکھ لیتے ہیں۔ پیر صاحب کا گھر سے دو گھر چھوڑ کر ہے۔ تاہم میں نے آج تک ان کی شکل نہیں دیکھی۔ محض بچوں سے ان کے بارے میں سن رکھا ہے۔

بچے بھی ان سے محض اس بنیاد پر واقف ہیں کہ جب ان کے مریدن کی طرف سے بیل و بکرے آتے ہیں تو وہ گلی میں بندھے ہونے کی وجہ سے ان کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ پیر صاحب شان و شوکت کے ساتھ غرور و تکبر کا بھی شکار ہیں کہ جب میرے چھوٹے بیٹے ساون شاہ نے کہیں ان سے سوال پوچھا کہ انکل بیل کتنے میں لیے؟ تو انھوں نے جواب نہ دیا۔ پہلے تو وہ انھیں ان کے تگڑے بیلوں اور بکروں کی وجہ سے کافی عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔

لیکن جب پیر صاحب نے اس کی بات کا جواب نہ دیا تو مجھ سے آ کر شکایت کے انداز میں کہہ رہا تھا کہ “بدتمیز سا جواب بھی نہیں دیتا”۔ میں نے سمجھایا کہ بیٹا ہو سکتا ہے انھوں نے سنا نہ ہو۔ تو بولا کہ وہ کسی بھی بچے کی بات کا جواب نہیں دیتا۔ یہ سن کر مجھے بے اختیار ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی۔ میں نے بیٹے خفت مٹانے کے لیے کہا، بیٹا دیکھ یہ بندہ پتا نہیں کون ہے اور کون نہیں، لیکن تو خود پیر ہے، سادات کی اولاد ہے، ہم چاہیں تو یہ پیری مریدی کا ڈرامہ ہمارے لیے کونسا مشکل ہے، تو ایسے گھٹیا آدمی کے پاس گیا ہی کیوں؟

ہمارے تو اپنے بزرگوں کے دو تین گاوں مرید تھے اور اب بھی بہت سارے ہیں، مگر انھوں نے ہمیشہ غریب مریدوں کو دیا ہی دیا تھا۔ کبھی ان سے لینے کے گناہ کے مرتکب نہ ہوئے۔ اور میرے نانا نے تو اپنے ایک مرید “بابے بگھے” کو پورا ایک مربع زمین مفت میں دے رکھی تھی کہ وہ اسے کاشت کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے۔

خیر پیر صاحب کی شخصیت کا احاطہ میرے موضوعات میں ایک انتہائی غیر اہم اور معمولی بات ہے۔ اصل بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ پیر کی چڑھاوے کی قربانی، تکبر اور غرور اپنی جگہ مگر خادمین حرمین شریفین کا غرور کیسا ہے؟ وہ حرم کی کمائی سے کیا کرتے ہیں کہ جن کے اسلام میں پیری مریدی ویسے ہی بدعت سمجھی جاتی ہے؟ ان کی اور ایک پیر کی کمائی میں ویسے تو کھربوں ڈالرز کا فرق ہے لیکن دونوں کی کمائی کی نوعیت میں کتنا فرق ہے؟

سوال یہ ہے کہ سعودی اسلام پیروں سے کیسے فرق مانا جا سکتا ہے؟ جبکہ کعبے کا انتظام بھی برسوں سے انہی کے پاس ہے؟ ظہور اسلام سے پہلے کعبہ کا انتظام بنی ھاشم کے پاس تھا۔ مگر اس کے بعد تو یہ سلسلہ ختم ہو گیا تھا۔ کچھ عرصہ اس کا انتظام غیر عرب کے پاس بھی رہا۔ تاہم عربی عجمی کے فرق کو مٹانے کا دعویدار سعودی اسلام عجمیوں کو کعبے کا انتظام کیوں نہیں دیتا؟ پیر تو پھر مریدوں سے لیے گئے بیل اور بکروں کے دو حصے بانٹ دیتا ہے۔

مگر خادمین دنیا بھر کے مسلمانوں کے پیسے سے دہشت گرد پالنے والے مدرسوں کی فنڈنگ کے علاوہ برائے نام مسلم اُمہ کو کیا دیتے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ کعبے کی حفاظت کا ذمہ لینے والا خدا جب ہاتھی بانو سے اس کے حفاظت فرما سکتا ہے تو وہ کعبے میں اس کی عبادت کے لیے آئے حاجیوں کی حفاظت کیوں نہیں کرتا؟ ابراہا کا لشکر تباہ برباد کرنے والا رب آل سعود سے کعبے کو آزاد کیوں نہیں کرواتا؟

ایک طرف گاڑی میں بیٹھ کر شیطان کو کنکریاں مارنے والے سعودی شہزادے اور دوسری طرف زندگی بھر کی جمع پونجی سے حج کرنے والے دنیا بھر کے غریب حاجی۔ ایک طرف حج کی مائی سے یورپ میں رنگ رلیاں منانے والے سعودی شاہی خاندان کے شہزادے اور دوسری طرف بلڈوزروں سے اٹھائے جانے والے حجاج کے لاشے۔ ارشد محمود صاحب نے حجاج کی لاشوں کی تصویریں دیکھ ایک بہت ہی تکلیف دہ، کربناک مگر سچائی پر مبنی جملہ لکھا کہ “پیٹرو ڈالرز سے حاجی ڈالروں میں نہائے سعود خاندان نے ان جنت رسیدوں کے ساتھ وہ سلوک کیا ہے، جو کمیٹی والے زہر سے مرنے والے آوارہ کتوں سے کرتے ہیں”۔ کیا کوئی پیر اپنے مریدین کی لاشوں کے ساتھ ایسا سلوک کر سکتا ہے؟

ان سب جائز اعتراضات اور سوالوں کو جب پاکستانیوں کی اکثریت کے سامنے رکھا جاتا ہے تو وہ سوال کے جائز ناجائز ہونے یا اعتراضات کا جواب دینے کی جبائے اسے فرقہ واریت کی طرف لے جاتے ہیں۔ سعودیوں کے غیر انسانی رویوں اور انسانی لاشوں کے ساتھ جانروں جیسے برتاو کے جواب میں ایرانی مولویوں کی جہالت کا ذکر لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ارے بھائی وہ بیت اللہ کے محافض نہیں ہیں۔

ظہور اسلام ایران میں نہیں ہوا تھا، خانہ کعبہ مشہد میں نہیں ہے۔ ایرانی اور عراقی بھی زائرین کی مد میں بہت زرمبادلہ وصول کرتے ہیں مگر وہ خانہ کعبہ جیسی مشترکہ اساس کے مالک نہیں ہیں۔ ایرانی مولویوں اور پارلیمنٹ کے جاہلانہ فیصلوں سے کسی کو اتفاق نہیں ہے۔ ہم ان کی جہالت پر بھی ہمیشہ ہی معترض رہے ہیں۔ تاہم اگر وہ واپس آتش پرستی کی طرف بھی لوٹ جائیں تو دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس سے کیا فرق پڑ سکتا ہے؟ بات تو خانہ خدا کی ہے جو تمام مسلمانوں کی ایک جیسی ملکیت ہے۔ بات تو عربوں کی جہادی اسلام کی فنڈنگ کی ہے۔

اگر ایرانی فنڈڈ حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم مان بھی لیا جائے تو اس کا دائرہ کار ایک مذہبی جہادی تنظیم سے زیادہ ایک قوم پرست باغی گروہ جیسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر القائدہ، داعش، طالبان اور اسی فکر سے وابستہ دیگر سعودی فنڈڈ جہادی فسادی تنظیموں کی بات کی جائے تو وہ اس وقت عالم اسلام ہی نہیں پوری دنیا میں دہشت گردی کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ کل کسی دوست نے یہ خبر سنائی کہ سعودی عرب نے یمن کے خلاف باضابطہ طور پر اسرائیل کی مدد طلب کر لی ہے۔ اس کے جواب میں اس کے جو اچھے بھلے لکھاری ہیں کا جواب تھا کہ جب ایرانی پاسداران امریکہ سے ہاتھ ملا سکتے ہیں تو کچھ بھی ممکن ہے۔

ان کی بات درست تھی مگر کیا ہر برے کی برائی کی مزمت روکنے کے لیے اس کے مخالف کا حوالہ کیا ضروری ہے؟ بحیثیت پاکستانی اگر ہمیں اسلام کی سربلندی عزیز اور انسانیت پیاری ہے تو فرقہ پرستی، رنگ، نسل اور مذہب سے اوپر اٹھ کر برے کو برا کہنا ہوگا۔