Original Articles Urdu Articles

طاہر اشرفی – امن پسندی کے چوغے میں چھپا تکفیری بھیڑیا – از سید حیدر

11990501_10153578415569561_4027351896389219827_n

ہمارے بچپن میں پی ٹی وی پر ایک ہندکو ڈرامہ چلتاتھا، نام تو اس کا یاد نہیں مگر ایک گاؤں کی کہانی ہوتی ہے جہاں لوگ روزمرہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے، محنت مزدوری، چھوٹا سا اسکول، بھیڑ بکریاں، کھیت کھلیاں غرض سب کچھ دکھایا جاتاہے۔

اس ڈرامے میں ایک نائی کا کردار تھا جس کا تکیہ کلام تھا ‘تیلی لا کے’ (تیلی لگا کے)۔ گاؤں والے جب بھی بال کٹوانے یا داڑھی منڈوانے اس کے پاس جاتے وہ ایک دوسرے کے خلاف ایسا زہر اگلتا کہ انسان کے دل میں کدورتوں کا بیج بو دیتا۔ اصل میں ‘تیلی لا کے’ سے مراد وہ پہلی تیلی ہے جس سے آگ کو لگایا جاتا ہے۔۔۔ یہ کردار ایسا تھا جو اس اسکرپٹ کے مطابق واقعات اور بیانات کو گاؤں والوں کے سامنے گھما پھرا کر پیش کرتا تھا تا کہ علاقے کا ماحول خراب ہو اور گاؤں میں ہمیشہ نا امنی اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا رہے۔  

یعنی گامے کو کہتا کہ پھجے نے اپنی گائے تیری فصلوں میں جان بوجھ کر بھجوائی تاکہ تیری فصل تباہ ہو۔۔۔ یا منّے کو کہتا ٹیوب ویل والا جان بوجھ کر تمہیں  پانی کم دیتا ہے تاکہ تجھے نقصان ہو اور کاکے کو فائدہ ہو ۔۔۔جب کبھی وہ تیلی لگاتا ہے تو ساتھ میں یہ وضاحت ضرور کرتا ہے کہ میں تو صرف تمہارے بھلے کے لیے یہ کر رہا ہوں ورنہ میرا کاروبار تو بہت اچھا ہے۔۔۔وہ کردار جب بھی اپنی چالاکی اور سفاکی سے کسی کو ایک دوسرے کے خلاف لڑتا دیکھتا تو اسے یہ دیکھ کر سکون ملتا تھا۔

میں جب کبھی بھی مولانا طاہر اشرفی کو یا اس کے سرگرمیوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے وہ کردار یاد آ جاتا ہے۔۔۔ یہاں پر مولاناکی دوکان تو نہیں لیکن “ٹویٹر” ضرور موجود ہے جس پر وہ معاشرے میں فتنہ برپا کرتے رہتے ہیں اور ساتھ میں یہ کہہ بھی دیتا ہے میں تو ملک اور امت کی بھلائی کے لیے یہ سب کچھ کر رہا ہو۔

اشرفی صاحب بھی یوں ہی کہتے ہیں میں تو عدم برداشت کے رویوں کے خلاف ہوں مگر ” مرزا قادیان پر۔” میں امت کے اتحاد پر یقین رکھتا ہوں مگر “ابن سبا” والوں پر بھی لعنت۔۔ دراصل یہ “کردار” ہمارے معاشرے میں سرایت کر گیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری بھلائی چاہتا ہے مگر وہ “کردار” اپنی خواہشات کی تسکین کے لیے یہ سب  کچھ کرتا ہےashrafi 5۔

Source:

http://mehsoore.blogspot.com/2015/09/blog-post.html