Original Articles Urdu Articles

بابری مسجد کو رونے والے جنت البقیع کے لئے آواز کیوں نہیں اٹھاتے – بریلوی عالم دین ہاشمی میاں کا دیوبندی وہابیوں سے سوال

11053691_929489730443758_7835662500342520894_n

ہندوستان میں اہلسنت کے عظیم روحانی پیشوا پیر سید ھاشمی میاں نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ بابری مسجد کے گرائے جانے پر واویلا کرنے والے دیوبندی اور وھابی مولویوں کے آنسو مگرمچھ کے آنسو ہیں ،کیونکہ یہ مدینہ و مکہ میں وھابیت کے ھاتھوں 200 سے زیادہ مساجد کے گرائے جانے ، اصحاب رسول ، آل بیعت اطہار اور اولیائے امت کے مزارات کو گرائے جانے پر خاموش رہے آٹھ شوال کا دن خاموشی سے گزار دیا جاتا ہے جوکہ اسلامی ثقافت ورثے کی تباہی کی یاد دلانے والا دن ہے

آٹھ شوال 1926 ء کو ابن سعود کے لشکر نے مدینہ المنورہ پر حملہ کیا اور یہاں پر موجود قدیم ترین قبرستان جوکہ جنت البقیع یعنی درختوں کا باغ کہلاتا تھا میں موجود تمام قبروں کو مسمار کیا ، ان پر بنے قبے گرادئے اور ان پر لگے کتبے بھی گراڈالے اور اس طرح سے مسلم تہذیب کا ایک اہم ترین نشان مٹانے کی کوشش کی گئی

جنت البقیع مسلمانوں کے قبرستان کے طور پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختص کیا تھا ، اگر آپ تاریخ اسلامی کی انتہائی معتبر ترین کتب جن میں اسد الغابہ ، الاستعیاب ، حلیہ الاولیا اور دیگر کتب شامل ہیں ان میں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے تذکرے میں لکھا ہے کہ

جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا ھجرت کے دوسرے سال انتقال ہوا تو آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے ابن مظعون رضی اللہ عنہ کے سرمبارک کو اٹھایا اور ان کی پیشانی پر بوسہ دیا جبکہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، آپ نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا جنازہ پڑھایا اور اس کے بعد ان کو وہاں دفن کیا جسے آج جنت البقیع کہا جاتا ہے ، آپ نے حضرت عثمان بن مظعون کی قبر مبارک پر ان کے سرھانے کی طرف پتھر نصب کیا اور اس کو اپنے بھائی کی قبر کی نشانی قرار دیا ، جب حضرت ابراہیم آپ کے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ابراھیم کو بھی ہمارے سلف عثمان ابن مظعون کے ساتھ دفن کردیں اور اسی طرح جب آپ کی صاحبزادی اور حضرت عثمان بن عفان خلیفہ راشد الثالث رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ کا انتقال ہوا تو آپ نے ایک مرتبہ پھر فرمایا کہ ان کو بھی ہمارے سلف کے ساتھ ملحق کردو

اس کے بعد جو بھی مدینہ المنورہ میں وفات پاتا اسے جنت البقیع میں دفن کیا گیا ، وفات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو سال بعد جناب فاطمتہ الذھراء رضی اللہ عنھا کا انتقال ہوا تو ان کو بھی وہیں دفنایا گیا ، اس سے قبل شہدائے بدر ، شہدائے احد و خندق بھی جنت البقیع میں ہی دفن کئے گئے بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال شہدائے بدر و احد کی قبور پر تشریف لاتے اور صحابہ کرام کے اجتماع سے خطاب کرتے تھے اور اسی کو عرس کی اصل بھی بعض علمائے اہل سنت نے قرار دیا

جنت البقیع میں مزارات اصحاب رسول من المھاجرین و الانصار ، اہل بیت اطہار و تابعین و تبع تابعین پر قبے بنے ہوئے تھے اور یہ ترک عثمانوں سے پہلے بھی ساتویں صدی میں موجود تھے جب مشہور سیاح سعید بن جبیر نے مدینہ کا دورہ کیا تھا اور ڈیڑھ صدی بعد ابن بطوطہ نے حجاز کا سفر اختیار کیا تھا

افسوس اس امر کا ہے کہ آل سعود نے حجاز پر جب قبضہ کیا تھا اور حجاز کا کنٹرول سنبھالا تو شرک و بدعت کے نام پر جنت البقیع میں موجود بزرگان اسلامی کی یادگاروں کو مسمار کردیا گیا اور پھر جب پورے عالم اسلام نے اس پر شور مچایا اور نئی ترک سلطنت نے اور مصر کے پاشا نے حملے کی دھمکی دی تو ابن سعود نے ایک موتمر رابطہ اسلامی بلائی اور اس میں حجاز کا مشترکہ کنٹرول مسلمانوں کی ایک نمائیندہ کونسل کو دینے کا وعدہ کیا جو کبھی وفا نہیں ہوا

جنت البقیع مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس و مکرم جگہ تو ہے ہی ، ساتھ ساتھ یہ عالمی مشترکہ تہذیبی ورثہ بھی ہے اور اس ورثے کی بحالی کے لئے یونسیکو ، عرب لیگ ، او آئی سی سب کو کوشش کرنی چاہئیے