Newspaper Articles Urdu Articles

سیٹھی، امتیاز عالم، عمران خان اور شرمندگی کا سوال – عمار کاظمی

11760149_851007408322124_3526963147536094469_n

نجم سیٹھی اور امتیاز عالم دونوں کا ماننا ہے کہ عمران خان کو اپنے گزشتہ بیانات پر اپنے مخالفین یعنی محترم جج صاحبان افتخار چوہدری، نواز لیگ وغیرہ سے قوم کے سامنے معافی مانگنی چاہیے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد عمران خان کو ججوں کے فیصلے پراعتراض نواز شریف سے معافی کا مطالبہ کرتے شرم آنی چاہیے۔ نجم سیٹھی اور امتیاز علم صاحب عمران خان کو شرم دلانے سے پہلے ذرا یہ بھی بتا دیں کہ دونوں میں سے کس کا ماضی اتنا درخشاں ہے کہ عمران کو اپنے کہے پرشرمندگی ہونی چاہیے؟ مسئلہ یہ نہیں کہ شرمندگی ہونی چاہیے یا نہیں مسئلہ یہ ہے کہ کسے کس بات پر شرمندگی ہونی چایے۔ شرمندگی توعمران خان کو افتخار چوہدری جیسے جانبدار جج کا ساتھ دینے پر ہونی چاہیے تھی لیکن شاید آغاز میں تو آپ لوگ بھی تو وکلاء تحریک کے حمایتی تھے۔

عمران خان کو اسلامی جمہوری اتحاد سے فیضاب ہونے والوں پر الزام لگاتے شرم کیوں محسوس ہونی چاہیے تھی؟ انصاف تو ہماری تاریخ میں ہمیشہ سے ہی کمزور رہا ہے تاہم شرم تو اسے اس بات پر دلانی چاہیے کہ بھٹو، بے نظیراورزرداری کے وقت سے نظامِ عدل ایسا ہی چلا آرہا ہے عمران کے لیے کوئی نئے جج اپوائنٹ نہیں ہوئے تھے۔ معافی تو اسے آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی سے مانگنی چاہیے وہ انہی ججوں اور ان کے چیف افتخار چوہدری جیسے شخص کے دیے فیصلوں پرپیپلزپارٹی کو دھمکیاں دیا کرتے تھے کہ اگر یوسف رضا گیلانی وزارت عظمیٰ چھوڑ کر گھرنہ گیا اور عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہوا تو ہم حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ مگر کیا کریں اس کے دماغ میں شرم کا خانہ خالی ہے اور آپ حضرات کی عقلیں جاتی عمرہ کے نور سے اس قدر منور ہو چکی ہیں کہ انھیں نواز کے حق کے سوا کچھ اور سجھائی ہی نہیں دیتا۔

کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے نجم سیٹھی اور امتیاز عالم کے دماغ کو پھپھوندی اور عمران کے دماغ کو طالبانی تالا لگا ہوا ہے۔ مجال ہے دونوں قابل قدراشخاص کبھی زمینی حقائق کے مطابق غیرجانبدار اورمختلف زاویہ پیش کر سکیں اورکیا مجال کہ عمران خان کی طالبان سے مذاکرات پر اٹکی ہوئی عقل کبھی 0.1 فیصد بھی کچھ مختلف سوچ سکے، کچھ آگے بڑھ سکے۔

مندرجہ بالابیانیے پرآصف زرداری اوریوسف رضا گیلانی کے حوالے سے باتوں پریہ وضاحت ضروری ہے کہ اسے زرداری، گیلانی کی وکالت، حمایت یا پیپلزپارٹی اوراس کے جیالوں کی طرفداری نہ سمجھا جائے۔ ایسا نہیں کہ پیپلز پارٹی درست اور محض یہ سب لوگ ہی غلط ہیں یا میں ان پر تنقید کرتے کرتے اچانک ان کے حق میں ہوگیا ہوں۔ زرداری صاحب، پیپلز پارٹی کی دیگر قیادت اورجیالوں پرشدید تنقید کرتا رہا ہوں تاہم میری تنقید کی بنیاد کبھی عدلیہ کے فیصلوں، میڈیا کے ابوالفضلوں اور اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کی بنیاد پر نہیں رہی۔ میں آج بھی کہتا ہوں کہ آصف زرداری کی حکومتِ وقت سے غیرضروری مفاہمت، پارٹی میں تکبراورغیرجمہوری طرز عمل کی سیاست نے مرکز کی علامت سمجھی جانے والی جماعت کو تینوں صوبوں، گلگت بلتستان اورآزاد کشمیرمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اورجب تک جب تک پیپلز پارٹی کا آخری جیالا بھی پارٹی چھوڑ کرچلا نہیں جاتا پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کو غداری کے سرٹیفیفکیٹس سے نوازا جاتا رہے گا۔

کل دریا بیچنے والے جرنیل کے لیے فاطمہ جناح کو غدار کہا گیا اور آج کے جیالے زرداری کی تمام تر نا اہلیوں اور ہٹ دھرمیوں کے باوجود پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کو بغیر کسی دوسری سوچ غدار ڈکلیر کر دیتے ہیں۔ قومی المیہ یہی ہے کہ قوم کی اکثریت ہمیشہ سے ہی یکطرفہ سوچ کی حامل ہے رہی ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ جیالوں کا یہ جانبدار رویہ نیا نہیں۔ جام صادق سے لغاری، کھر، مصطفی جتوئی، ملک معراج خالد، آفتاب شیر پاو، راو سکندر، فیصل صالح حیات، فیصل رضاعابدی تک جانے کتنے لوگ اسی یکطرفہ فارمولے کے تحت غدار قرار دیے گئے کہ قیادت نے انھیں پارٹی چھوڑنے پر غدار قرار دیا تھا۔ کبھی کسی نے سوال کرنے کی جرات نہ کی کہ فاروق لغاری کی بیٹی کی ٹیلیفون کالز کی ریکارڈنگ کیوں اور کس کے کہنے پر کی جاتی رہی۔

لغاری کو پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہی صدر پاکستان بنایا تھا مگر کیا فاروق لغاری مرحوم نے کبھی پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں دیا تھا؟ کیا اس کی صدر بننے سے پہلے پارٹی کے لیے کوئی جدو جہد نہ تھی؟ آپ نے صدر بنایا تو کیا صدر کی ٹیبل پرجوتے رکھ کربیٹھنے کا حق بھی آپ کو حاصل ہوگیا تھا؟ کیا ملک معراج خالد ہی کی ساری غلطی تھی؟ ہر بار قیادت ہی کی ہر بات حرف آخر سمجھی گئی، قیادت ہی لاریب سمجھی گئی۔ کبھی کسی نے قیادت سے یہ سوال کرنے کی جرات نہ کی کہ آپ بھی کوئی نبی پیغمبر نہیں ہیں، آپ سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ سینکڑوں لوگ یکطرفہ طور پر غدار مان لیے گئے مگر ایک اکیلا لیڈر کبھی کسی بات پر جواب دہ نہ ہوا۔ اس غلامانہ طرزعمل اور ذہنیت کو جمہوریت کا نام دے کر ہمیشہ جمہوریت کو گالی دی جاتی رہی۔

میں یہ نہیں کہتا کہ مندرجہ بالا تمام لوگ بہت صاف ستھری شہرت کے حامل تھے یا مفاد پرست نہ ہونگے لیکن اگر یہ لوگ برے تھے تو ان کی اکثریت میں یہ تمام برائیاں ہمیشہ سے ہی موجود رہی ہونگی لیکن غداراور مفاد پرست وہ تب ہی کہلائے جب انھوں نے پیپلز پارٹی چھوڑی۔ اعتزاز ٹرک پر چڑھا تو غدار قرار پایا، افتخار چوہدری جیسے جھوٹے کے ساتھ پارٹی کے خلاف کھڑا ہوا تو غدار ٹھہرا، لیکن جب واپس آیا تو صاف شفاف اصول پسند تسلیم ہوا۔ تو اس غلام گردش میں تحریک انصاف کی ڈرائی کلین مشین بھی کوئی نئی ایجاد نہیں یہ غلام اور نوکر چاکر ذہنوں میں ہمیشہ سے مختلف شکلوں میں موجود رہی ہے۔

حرف آخر وہی ہے جو حرف آغاز تھا یعنی شرمندگی تو کسی نہ کسی شکل میں یہاں سب کو ہونی چاہیے۔ اور آگے بڑھنے کے لیے سب کو اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی ضرور کرنا چاہیے۔

Source:

http://arynews.tv/ud/blogs/archives/67066