Original Articles Urdu Articles

انجمن غلامان عسکریہ کے وفد کی خان آف قلات سے ملاقات – عامر حسینی

542ab88ed97e7

عسکری اسٹبلشمنٹ کی ہدائت پر خان آف قلات کو چارہ ڈالنے والا انجمن غلامان عسکریہ کا وفد خان آف قلات سے ملا ضرور لیکن خان آف قلات ان کے دام میں نہیں پھنسا ، خان آف قلات نے صاف صاف کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور عسکری اسٹبلشمنٹ کا طریقہ کار بلوچ -ریاست تنازعہ حل کرنے کا نہیں ہے

حکومت بلوچوں کو اغوا کرنے اور لاشیں پھینکنے کی پالیسی کسی شرط کے بغیر بند کرے مجھے گرینڈ بلوچ جرگے نے بھیجا ، اسی کو اختیار ہےاقتدار میں بیٹھے بلوچ اگر بلوچ عوام کے وفادار ہوتے توبلوچ نسل کشی رکواتے ملاقات کرنے والے وفد نے خان آف قلات کو کہا ہے کہ اگر وہ واپس نہیں جاتے تو بلوچستان میں بین القبائلی تصادم شروع ہوجائے گا

مجھے لگتا ہے ہے کہ عسکری اسٹبلشمنٹ بلوچ انسرجنسی کوجڑ سے مکانے کے جو دعوے کرتی آئی تھی ، اس میں اسے ناکامی کا سامنا ہے اور بلوچ سرزمین پر گوادر اور چینی عزائم اس انسرجنسی کے ہوتے ہوئے پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ، اسلام آباد کی کوشش ہے کہ پشتون ، بلوچ ٹھیکے دار سیاسی کلاس کو رشوت دیکر اپنے ساتھ ملائے جو پہلے ہی ملی ہوئی ہے محمود اچکزئی ، مالک ، بزنجو وغیرہ کی شکل میں ہزارہ کے اندر لشکر جھنگوی و سپاہ صحابہ کا خوف اتنا ہے کہ وہ فوجی اسٹبلشمنٹ اور اسلام آباد سے ھٹ کر کچھ بھی سوچنے کے قابل نہیں ہیں ایسے میں عسکری اسٹبلشمنٹ بلوچ قبائل کی باہمی لڑائی کرائے اور پشتون و بلوچ لے درمیان کوئی تنازعہ کرائے تو بظاہر انسرجنسی کے کمزور پڑنے کی راہ نکلتی ہے لیکن اس عمل سے خود بلوچستان کے اندر جوطوائف الملوکی پھیلنے کا خدشہ ہے وہ چینی اکنامک اقتصادی ڈور کے تقاضوں کے متصادم ہے

خان آف قلات کی بلوچستان واپسی کے ایجنڈے کا چینی اقتصادی کوریڈور سے گہرا سمبندھ ہے ، عسکری اسٹبلشمنٹ نے خان آف قلات کے رام ہونے بارے میڈیا میں اتنی زیادہ خبریں پہلے ہی پھیلادیں تھیں کہ جس کا فائدہ ہونے کی بجائے نقصان ہوگیا

آصف علی زرداری اور ان کی پارٹی سندھ میں اگرچہ اب بیک فٹ پر چلی گئ ہے لیکن آصف علی زرداری کا یہ سوال بہت سے زھنوں میں موجود ہےپندرہ سال سے بلوچستان فوجی اسٹبلشمنٹ چلارہی ہے ، وہاں حالات بد سے بدتر ہوئے ہیں تو وہاں کون ناکام ہوا ہے ؟یہ سوال عسکری اسٹبلشمنٹ کا پیچھا آسانی سے چھوڑنے والا نہیں ہے

شیعہ ، صوفی سنی ، کرسچن ، ہندو ان سب کو نیشنل ایکشن پلان اور راحیل شریف کے بیانات سے جو ایک امید پیدا ہوئی تھی ( کم از کم میں اس معاملے میں امید پرست نہیں رہا ) اس امید کے مایوسی میں بدل جانے کے آثار بہت واضح ہیں اور مجھے تو یوں لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بریلوی اور شیعہ کی وہ پارٹی قیادت جو عسکری اسٹبلشمنٹ کی تعریفوں کے ڈونگرے برساتے نہیں تھکتی ، جلد ہی ان کے اپنے حامی ان سے عسکری اسٹبلشمنٹ بارے سوال کریں گے اور ان کی ریٹنگ میں جو اضافہ دیکھنے کو ملا تھا اس لے گرنے کے امکانات اس صورت میں ذیادہ ہوں گے جب یہ عسکری اسٹبلشمنٹ کی نیم دروں ، نیم بروں حالت پر مبنی پالیسی پر سوال نہ اٹھائے تو بلوچستان اور کراچی و سندھ دونوں جگہ عسکری اسٹبلشمنٹ نےاپنے مخالفین سے نمٹنے کے لئے جس بھونڈے طریقے سے تکفیری فاشسٹ تنظیموں کا سہارا لیا ہے ، اس نے کم از کم عسکری اسٹبلشمنٹ کی جانب سے تزویراتی گہرائی تلاش کرنے سے باز آنے کے دعوے پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے ، کارپوریٹ سرمایہ کے باہمی تضادات میں عسکری اسٹبلشمنٹ چینی سرمائے کی حفاظت کے لئے ڈرٹی گیم کھیل رہی ہے ، چین جماعت دعوہ کے خلاف بھارتی قرارداد یو این میں ویٹو کرتا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ چینی رجیم کا پرنالہ کہاں بہہ رہا ہے

http://www.dawn.com/…/khan-of-kalat-turns-down-govts-reques…