Featured Original Articles Urdu Articles

ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کا دہرا میعار

وطن عزیز پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ملک میں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات ہوتے ہیں۔کچھ دنوں تک روایتی مذمتیں ہوتی ہیں۔پھر اگلے سانحہ تک وہی خاموشی۔آخر کیا وجہ ہے کہ ملک دہشت گردی کا شکار رہتا ہے۔کیا کبھی کسی نے اس پر سوچا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی حکومت دہشت گردوں کے خلاف کاروائی میں سنجیدہ نظرنہیں آئی۔حکومت تو دور کی بات ہے بعض سیاست دان بھی دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے بجائے ان سے مذاکرات کی باتیں کرتے رہے۔جبکہ یہی حکومت اور سیاست دان سیاسی مخالفت کی بنیاد پر ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کی حمایت کررہے ہیں۔

اس ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی بڑی بڑی کاروائیوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان میں سے ایک بھی کاروائی میں ایم کیوایم ملوث نہیں ملے گی۔مثال کے طور پر اگر سانحہ پشاور،سانحہ صفورا گوٹھ جیسے سانحات کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں کالعدم تنظیمیں ملوث ہیں۔لیکن کسی بھی سانحہ میں ایم کیوایم ملوث نہیں ملے گی۔ان سب کاروائیوں میں کالعدم تنظیمیں،لشکر جھنگوی،سپاہ صحابہ،طالبان،جماعت اسلامی اور داعش ملوث ملیں گی۔

سوال پیدا یہ پوتا ہے کہ جماعت اسلامی،جماعت الدعوٰی،سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی مختلف دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث ہونے کے باوجود بھی کھلے عام اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان دہشت گرد تنظیموں کی کسی بھی سرگرمی پر کوئی پابندی نہیں۔لیکن ایم کیو ایم جو کھل کر دہشت گردی کے خلاف بولتی ہے اور پاک آرمی کو دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی جنگ کی حمایت میں ریلیاں بھی نکالتی ہے اس کی سرگرمیوں پر پابندیاں کیوں ہے۔جماعت اسلامی کے منور حسن نے کھل کر دہشت گردوں کی حمایت کی۔اور پاکستان آرمی کو کہا کہ یہ شہید نہیں بلکہ طالبان شہید ہیں لیکن پھر بھی اس کے خلاف کوئی پابندی نہیں۔


اس شہر میں کالعدم تنظیموں اور تمام مذہبی انتہا پسند جماعتیں آزادی سے کام کررہی ہیں۔رمضان کے مہینے میں ان انتہاپسندوں نے آزادی سے زکوٰۃ اور فطرہ وصول کررہی تھیں۔کئی مقامات پر یہ کالعدم تنظیمیں جہاں  زکوٰۃ اور فطرہ وصول کررہی تھیں وہاں قریب میں رینجرز کی موبائلیں بھی کھڑی تھیں۔لیکن یہی رینجرز ایم کیو ایم کے کارکنان کو زکوٰۃ اور فطرہ جمع کرنے کے الزام میں گرفتار  کررہی تھیں۔حیرت کی بات ہے کہ رینجرز نے کالعدم دہشت گرد گروپوں کو آزادی سے زکوٰۃ اور فطرہ جمع کرنے دیا اور ان کو پوری طرح سیکوریٹی بھی فراہم کی جبکہ ایم کیو ایم کو زکوٰۃ اور فطرہ جمع کرنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی۔


رینجرز نے کبھی کسی کالعدم تنظیم کے مرکز پر چھاپہ مارنے کی ہمت نہیں کی ۔دہشت گردی کے ہر بڑے واقعہ میں جماعت اسلامی اور سپاہ صحابہ ملوث ملیں گی لیکن رینجرز کو کبھی ان کے مراکز پر چھاپہ مارنے کی توفیق نہیں ہوئی۔


حیرت کی بات یہ ہے کہ رینجرز نے کسی کالعدم تنظیم کے دہشت گرد کو گرفتار بھی نہیں کیا بلکہ ان سب کو پولیس نے گرفتار کیا۔


سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے بعد رینجرز نے نہ تو کالعدم تکفیری دہشت گردوں کے  دفاتر پر چھاپہ مارا اور نہ ہی دہشت گردی کو پروان چڑھانے والے مدارس پر چھاپہ مارا۔ایم کیو ایم کے کارکنان کو تو گرفتار کرکے ان پر بے تحاشہ تشدد کرکے ان کی وڈیو بنائی جاتی ہے اور جے آئی ٹی رپورٹ شایع کی جاتی ہیں لیکن کیا کسی اور تنظیم کے دہشت گرد کو گرفتار کرکے ان کی وڈیو میڈیا پر چلائیں گئیں؟کیا رینجرز نے کبھی سپاہ صحابہ اور جماعت اسلامی کے کارکن کو گرفتار کرکے ان کی ویڈیو اور جے آئی ٹی رپورٹ میڈیا کو دکھائیں؟


مذہبی انتہا پسند تںظیمیں ملک بھر میں  جلسے جلوس کر رہی ہیں،یہ کالعدم تنظیمیں کھلے عام فرقہ وارایت پھیلارہی ہیں اور نفرت انگیزتقاریر کرکے مخالف فرقوں بالخصوص شیعہ فرقہ کے لوگوں کے قتل کی ترغیب دے رہی ہیں۔لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔رمضان کے آخری دن سپاہ صحابہ نے کھلے عام رینجرز کی حمایت میں ریلی نکالی۔حیرت کی بات یہ ہے کہ رینجرز نے اس ریلی کو مکمل سیکوریٹی دی۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رینجرز سیکولر طاقتوں کو کچل کر فرقہ پرستوں اور مذہبی انتہا پسندوں کو کراچی پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔


آخر حکومت اور ریاستی اداروں کو کب سمجھ آئے گی؟گزشتہ چالیس سال سے ریاست ان انتہاپسندوں کی سرپرستی کرتی رہی ہے جس کا نتیجہ وہ آرمی پبلک اسکول کے ڈیڑھ سو بچوں کی ہلاکت کی صورت میں دیکھ چکے ہیں لیکن اب بھی ان کے سمجھ میں نہیں آرہی۔ان ریاستی اداروں کی نااہلی کی وجہ سے پورے ملک میں مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی کو پروان چڑھا ہے۔لیکن اب بھی سیاسی مخالفت کی بنیاد پر ان مذہبی انتہاپسندوں اور دہشتگردوں کی پشت پناہی کی جارہی ہے۔

اب بات کرتے ہیں الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے مقدمہ کی۔الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی ایف آئی آر ان لوگوں نے درج کروائی جنہوں نے ان کی تقریر کو سنا ہی نہیں۔اپنی پوری تقریر میں الطاف حسین نے فوج کے خلاف کوئی نفرت انگیز بات نہیں کی بلکہ انہوں نے رینجرز کی طرف سے ایم کیو ایم کے کارکنان کے ساتھ پیش آنے والے مظالم پر بات کی تھی اور اپنے اوپر ہونے والے مظالم پر بات کرنا کوئی گناہ نہیں بلکہ ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائے.لیکن رینجرز کے مظالم کے خلاف ہونی والی تقاریر کو بیناد بناکر ایم کیوایم کے مرکز نائین زیرو پر چھاپہ مار کر رابطہ کمیٹی کے رکن قمر منصور کو گرفتار کرلیا گیا۔سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ کیا رینجرز نے کسی کالعدم تنظیم کے رہنما کو نفرت انگیز تقریر کرنے پر گرفتار کیا۔ان کالعدم تنظیموں کے جلسے اور جلوسوں میں نفرت انگیز تقریریں اپنی عروج پر ہوتی ہیں۔کافر کافر کے نعرے سے پورے جلسے اور جلوس گونج رہے ہوتے ہیں۔لیکن رینجرز کو یہ نظر نہیں آتا۔کیوں کہ رینجرز کی ہمت نہیں ہے کہ کسی  لدھیانوی، فاروقی اور مینگل کو گرفتار کرے۔کراچی سے لیکر کوئٹہ تک یہ تنظیمیں نہ صرف نفرت انگیز تقاریر کرتی ہیں بلکہ معصوم عوام کے خون سے ہاتھ بھی رنگتی ہیں۔جماعت اسلامی کے کارکنان وزیرستان میں ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔ان کے کارکنان ڈرون حملوں میں مارے جاتے ہیں۔ان کے گھروں سے القاعدہ کے لوگ برآمد ہوتے ہیں۔ایم کیو ایم کے چار ہزار کارکنان کو گرفتار کیئے گئے اور سب کو نوے دن کے ریمانڈ ہر دے دیا گیا۔سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی کے کتنے کارکنان گرفتار ہوئے اور کتنوں کو نوے دن کے ریمانڈ پر دیا گیا۔منور حسن نے فوج کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی۔کیا رینجرز نے منور حسن کی تقریر کو بنیاد بنا کر ادارہ نور حق پر چھاپہ مارا؟الطاف حسین کے خلاف تو سو سے ذیادہ ایف آئی آر درج کرلی گئیں لیکن منور حسن کے خلاف کتنی ایف آئی آر درج کروائی گئیں؟لال مسجد کے مولوی عبدل عزیز نے  پاکستان کے آئین اور فوج کے خلاف فتوے جاری کئے ، خودکش حملوں کی ترغیب دی، فوج پر حملے کرائے آرمی پبلک اسکول میں فوجی افسروں کے بچوں کوسفاکی سے شہیدکیاگیا۔تومولاناعبدالعزیزنے اس کو درست اورجائز قرار دیالیکن انہیں گرفتارنہیں کیاگیا.ان کے خلاف کتنی ایف آئی آر کاٹی گئیں؟ لال مسجد  کا ملا عبدل عزیز جو پاکستان کے آئین کو نہیں مانتا اور داعش کو پاکستان پر قبضے کی دعوت دیتاہے؟کیا ان کے خلاف بھی سو سے ذیادہ ایف آئی آر کاٹیں گئیں؟

اب بات کرتے ہیں عمران خان اور تحریک انصاف کی منافقت کی۔عمران خان جو طالبان سے مذاکرات کی باتیں کرتے نہیں تھکتے وہی عمران خان کراچی میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔جبکہ طالبان نے تو کئی فوجیوں کے گلے بھی کاٹے لیکن پھر بھی عمران خان ان کی حمایت کرتے نظر آئے جبکہ ایم کیو ایم کے چار ہزار سے زائد کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا لیکن زرا سی بھی مزاحمت نہی ہوئی۔ایم کیو ایم نے تو کسی فوجی کا گلہ بھی نہیں کاٹا لیکن پھر بھی عمران خان ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کی حمایت کرتے ہیں جبکہ طالبان جو خودکش حملہ کرتے ہیں۔مساجد میں نمازیوں کو شہید کرتے ہیں عمران خان ان کے خلاف آپریشن کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی میں ایم کیو ایم کے خلاف تو فوراً قرارداد پیش کردی لیکن کیا کبھی تحریک انصاف نے مولوی عبدل عزیز اور منور حسن کے فوج مخالف بیانات پر کوئی قرارداد پیش کی؟آصف زرداری اور خواجہ آصف نے فوج کے خلاف سخت زبان استعمال کی۔کیا تحریک انصاف نے اس پر کوئی قرارداد پیش کی؟

خود عمران خان کا جنرلوں کے خلاف پیشاب نکلنے والی وڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے۔کیا ان کے خلاف کسی نے ایف آئی آر درج کرنے کی بات کی؟

طالبان کے بارے میں تو یہ تک کہا جاتا ہے کی وہ ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہوجائےلیکن ایم کیو ایم نے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف تو ہتھیار بھی نہیں اٹھایا وہ کیا پھینکیں؟طالبان کو تو ہتھیار پھینک کر معافی مل رہی ہے لیکن ایم کیوایم ہتھیار نہ اٹھانے کو باوجود عتاب کا شکار ہے۔



آخر ایم کیو ایم اور مہاجر ایسا کیا کریں کہ ان کو معافی مل جائے اور ان کو فرزند زمین تسلیم کرلیا جائے۔وطن عزیز کے لیئے بیس لاکھ جانیں قربان کرکے اور اپنی باپ اور دادا کی زمینیں اور جائیداد چھوڑ کر اپنا سب کچھ لٹا کر بھی مہاجروں کو فرزند زمین اور محب وطن تسلیم نہیں کیا جاتا تو مہاجر ایسا کیا کریں کہ ان کو محب وطن تسلیم کرلیا جائے۔اس سے پہلے بنگالیوں کی حب الوطنی بھی مشکوک سمجھی جاتی تھی۔لیکن اب کوئی ان کو غدار نہیں کہتا۔کیا مہاجر بھی وہی راستہ اختیار کریں کیوں کہ اس راستے کے بعد پھر کوئی ان غدار نہیں کہے گا جیسے بنگالیوں کو اب غدار نہیں کہا جاتا۔