Original Articles Urdu Articles

وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے طلبہ کے نتائج روک دیے – سبوخ سید

ulma-deobandi1

مولانا زاہد الراشدی جو مولانا سرفراز خان صفدر علیہ الرحمہ کے بیٹے ہیں ، نصرۃ العلوم میں بخاری شریف کے استاد ہیں ۔ مولانا زاہد الراشدی ماہنامہ الشریعہ کے ایڈیٹر بھی ہیں جس میں الشریعہ کی پالیسی کے مطابق آزادانہ مکالمہ اور بحث مباحثہ ہوتا ہے ۔
عمار خان ناصر مولانا زاہد الراشدی کے بیٹے ہیں جو اکابرین دیوبند کے ساتھ ساتھ جاوید احمد غامدی کے بھی شاگرد ہیں ۔ جاوید غامدی صاحب کے خلاف پاکستان میں جس شخص نے سب سے پہلے قلم اٹھایا وہ مولا نا زاہد الراشدی ہیں ۔

اب عمار خان ناصر کے تفردات کی وجہ سے نصرت العلوم کے طلبہ کے نتائج روک لیے گئے کیونکہ ان کے خیالات وفاق المدارس العربیہ کے خیالات سے نہیں ملتے ،اس لیے ہم نتیجہ نہیں دیتے ۔

نصرت العلوم کا موقف یہ ہے کہ
الشریعہ ،مولانا زاہد الراشدی ، عمار خان ناصر کا نصرت العلوم سے کوئی تعلق نہیں ۔
نا ہی مدرسے اور الشریعہ کی پالیسی ملتی ہے ۔
اسے کہتے ہیں وسعت قلبی ، وسعت فکری ، وسعت نظری

یہ وسعت قلبی کوئی نئی نہیں ۔ اس سے پہلے بھی وفاق المدارس العربیہ کے صدر مولانا سلیم اللہ خان صاحب نے دیوبندی مسلک میں مماتی فکر سے وابستہ طلبہ پر کھانا بند کیا اور پھر ان کو مدرسے سے نکال دیا۔ لیکن سعودیوں مماتیوں سے ریاستی سطح پر چندہ لیتے ہیں ۔

مدارس میں انتہا پسندی اور دہشت گردی اکابرین کی ہے۔ دیوبندی مسلک کو دہشت گرد اور فرقہ پرور بنانے والے اس سوقت وفاق المدارس کے سرخیل ہیں ۔

اللہ کا شکر ہے اس ملک میں زرداری ، راحیل شریف ، نواز شریف ، عمران خان جیسے لوگ موجود ہیں جن پر مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق بھی اعتماد کر تے ہیں ۔

ان کو چندہ دیتے ہو جو سوچ کی بنیاد پر غریب طلبہ کی روٹی بند کر دیتے ہیں ۔ یہ مدرسے کی چار دیواری میں خدا بن گئے ہیں ،ان کو حکومت ملی تو یہ اسی طرح عوام کا بیڑا غرق کر دیں گے جس طرح انہوں نے اسلام کا بیڑا غرق کیا ہے ۔ اس لیے مولوی کو چندہ دو اور نہ ووٹ دو

میں اسی لیے تو شروع دن سے کہتا ہوں کہ مدرسوں کا انتظام جکومت سنبھالے اور ان کا الحاق ڈاکٹر محمود احمد غازی کے قائم کردہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ساتھ ہونا چاہیے ۔

وفاق المدارس کے ترجمان میرے بھائی عبدالقدوس محمدی صاحب میرے پاس تشریف لائیں تو میں انہیں بتاؤ ں کہ مجھے دینی مدارس کے سو سے زائد مظلوم بچوں نے ای میلز کیں ۔ فیس بک پر کہا کہ ہم مجبور ہیں ، تم کیوں نہیں لکھتے ۔

ابھی نماز کے لیے جا رہا تھا تو ایک طالبعلم کا فون آیا، ایسا شخص جس نے ہمیشہ مجھے فیس بک پر گالی ہی دی ۔ کبھی جمعراتی سید کہا ، لیکن آج وہ مجھے کہہ رہا تھا کہ شاہ جی میں تم سے معافی چاہتا ہوں ۔ اللہ کی قسم میں مدرسے سے فارغ ہو گیا ہوں لیکن اپنی اولاد کو کبھی بھی مدرسے کے نزدیک بھی نہیں چھوڑوں گا ۔

میں مدرسے پر تنقید نہیں کرتا ، اللہ نہ کرے کہ ایسا دن آئے  لیکن جن لوگوں کے پاس مدارس کا انتظام ہے ، ان کی ذہنی سطح پرائمری اسکول کے بچوں سے بھی کم ہے ۔ ان کا وژن تو ملاحظہ فرمائیں  علمی اختلاف کی بنیاد پر بچوں کو مدرسے سے نکال دو ۔ ان کا کھانا بند کر دو یا پورے مدرسے کا نتیجہ روک دو ۔

میرے پاس علما کے خطوط موجود ہیں جنہوں نے اس طرز عمل کو دین دشمنی قرار دیتے ہوئے وفاق المدارس کے نوابوں سے باقاعدہ احتجاج کیا ہے ۔
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے نمناک
نہ زندگی نہ محبت،نہ معرفت نہ نگاہ

آج پرویز رشید بہت یاد آیا جس کو ان مدرسے والوں نے دینی مدارس پر تنقید کی وجہ سے مرتد اور زندیق بنا ڈالا تھا اور اسلام آباد میں بینرز آویزاں کئے گئے تھے ۔

وفاق المدارس کے ترجمان نے ایک بیان جاری کیا ہے کہ یہ مسائل چوکوں میں حل نہیں ہوتے تو کیا بتانا پسند فرمائیں گے کہ چوکوں میں انہیں لے کر کون آیا تھا ۔

میں صرف ایک بات پوچھتا ہوں کہ یہ سب کچھ ہوا یا نہیں ؟
اس کی بنیاد وہی بنی یا نہیں ؟

اطلاعاً عرض ہے کہ جناب صدر وفاق نے اپنے ایک حالیہ خط میں بقلم خود یہ فرمایا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مولانا زاہد الراشدی کی ’’تادیب وتنبیہ‘‘ ہے اور اس کے ذریعے سے انھیں مسلک علماء دیوبند کا پابند بنانا اور ’’غامدیت‘‘ کی طرف میلان سے واپس لانا ہے۔

اہم نوٹ
اس تحریر کی ساری ذمہ داری دینی مدارس کے طلبہ پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے مجھے ای میل اور ان باکس میں لکھا اور مجھے کربلا بھیج دیا ۔تین دن سے باقاعدہ مہم جاری تھی کہ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ،تم بولو ، میرے پاس خط ہی ہیں ۔ اب میں لکھ تو دیا ہے ۔ کاش مجھے گالی دینے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانک لیں ۔مجھے معلوم ہے قرآن و سنت کے سائے میں تعلیم حاصل کرنے والے وارثان نبوت اب اخلاق کی کس بلندی کا اظہار فرمائیں گے ۔

اس کی دوسری قسط کل لکھوں گا۔
لیپ ٹاپ سے ٹائپ کیا ہے ، اس کا عادی نہیں ۔