Original Articles Urdu Articles

پی پی پی اور اسٹبلشمنٹ کے دوست – عامر حسینی

sherry

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کے ملٹری اسٹبلشمنٹ کو چنوتی دئے جانے کو ابھی تین دن مشکل سے گزرے ہوں گے کہ خود پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر سے ایسی آوازیں سامنے آنا شروع ہوگئیں جن کو انگریزی کے معروف اخبار ” روزنامہ ڈان ” نے ” نقصان کنٹرول ” کرنے کی پالیسی سے تعبیر کیا ہے آصف علی زرداری کی جانب سے افطار ڈنر کے بعد قمر الزمان کائرہ اور شیری رحمان نے جو پریس بریفنگ دی ، اس میں شیری رحمان تو اس بات سے صاف انکاری ہو گئیں کہ آصف علی زرداری نے پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ بارے کوئی اختلافی بات کی ہو ، انھوں نے آصف عل؛ زرداری کے بیان کو سابق آمروں سے منسلک کردیا اور یہ توضیح اصل میں عذر گناہ ، بدتر از گناہ کی ذیل میں آتی ہے شیری رحمان پاکستان پیپلزپارٹی میں شہید بے نظیر بھٹو کے دور میں ان لوگوں میں شامل تھیں جن کی اصل میں پروفیشنل صلاحیتوں سے محترمہ بے ںظیر بھٹو نے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا ، یہ لوگ صحافت ، سول سوسائٹی اور مغربی صحافتی حلقوں میں معروف تھے ،

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ان سے پارٹی کے پیغام کو اچھے طریفے سے آگے تک پہنچانے کے لئے کام لیا کرتی تھیں ، بالکل ایسے جیسے حسین حقانی نے امریکہ کے اندر جو تعلقات بنائے تھے بی بی نے ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان کو اپنے قریب کیا تھا اور ایسے کئی مینجرز اور بھی شہید بے نظیر بھٹو نے اپنے قریب کئے تھے ، رحمان ملک ایف آئی اے سے آئے تھے اور گھر کے بھیدی تھے ، انھوں نے بی بی کو ان کے خلاف ہونے والے ٹرائل میں استعمال ہونے والے ہتھکنڈوں بارے آگاہ کیا تھا ، جسٹس قیوم کی ٹیپس انھوں نے فراہم کی تھی اور بی بی ان سے اس حوالے سے کام لیا کرتی تھیں ، ایسے ہی بابر اعوان ، فاروق ایچ نائیک تھے جن سے بی بی قانونی معاملات میں مدد لیا کرتی تھیں ، لطیف کھوسہ بھی ایسے ہی ایک وکیل تھے اور زیادہ سے ان کا کوئی سیاسی کردار تھا تو وہ بار میں پیپلزلائرز فورم کی سیاست تک محدود تھا مگر بی بی صاحبہ کی شہادت کے بعد شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے ان سب لوگوں کو پاکستان پیپلزپارٹی میں کلیدی عہدے دئیے بلکہ ان کو پاکستان پیپلزپارٹی کے 2008ء کے اقتدار کا چہرہ بھی بنا ڈالا بابر اعوان نے ابتک جتنی بھی رونمائی دکھائی ہے ،

اس کا سرسری سا تجزیہ یہ بتادے گا کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے سے لڑائی وہ مول لینے کا خیال تک نہیں لاسکتے ، بلکہ جب بھٹو کے کیس کے ری ٹرائل کا موقعہ آیا تو اس وقت بھی بابر اعوان نے سارا فوکس ” عدالتی اسٹبلشمنٹ ” کی جانب رکھا اور اس معاملے میں ” ملٹری اسٹبلشمنٹ ” کا جو غالب کردار تھا اس بارے میں ان کا ایک بیان بھی سامنے نہیں تھا اور پھر جب عدالتی اسٹبلشمنٹ سے محاذ آرائی شروع ہوئی تو یہ بابر اعوان تھے جنھوں نے بار کے اس سارے گند کو پیسے دیکر اپنے ساتھ کھڑا کروایا جو مشرف کے ساتھ بھی کذرا رہا تھا اور مسعود چشتی جیسے لوگ سیکرٹری قانون بنادئے گئے ، یہ سارا معاملہ جیسے بابر اعوان ، فاروق ایچ نآئیک اور کھوسہ نے ہینڈل کیا ،

اس سے پی پی پی کی حکومت کو کیا پریشانیاں پیش آئیں ، وہ اب ریکارڑ کا حصّہ ہے شیری رحمان کا اگر معاملہ دیکھا جائے تو بطور وزیر اطلاعات و نشریات ان کا کردار ہمارے سامنے ہے ، کیسے وہ مشکل وقت میں پسپائی اختیار کرگئیں اور پھر یہ شیری رحمان اینڈ کمپنی تھی جس نے آصف علی زرداری کو نجم سیٹھی ، اعجاز حیدر ، دانیال حسن ، بینا سرور اور دیگر کئی کرداروں کے پارٹی کے حق میں ہونے کا یقین دلایا اور پھر وہ اسی دوران اپنی این جی او ” جناح انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اینڈ ریسرچ ” کو ملٹری اسٹبلشمنٹ کے قریب لانے اور ان کو رام کرنے کے لئے استعمال کرتی رہیں اور ایک وقت میں ہم نے رضا رومی کو اس کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی دیکھا اور پھر جب حسین حقانی کے بعد امریکہ میں نئے امریکی سفیر کے تعین کی بات سامنے آئی تو اس کا فیصلہ بھی قومی سلامتی کیمٹی کے اجلاس میں ہوا اور امریکہ میں سفیر کے لئے بیگم عابدہ حسین کا نام چاہتے تھے لیکن ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اشارے پر شیری رحمان کا نام سامنے آیا

اور پھر ان کے دور سفیری میں یہ بھی سنا گیا کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اشارے پر ان لوگوں کو فارغ کیا گیا جو ملٹری اسٹبلشمنٹ کے نزدیک گھس پیٹھیہ تھے شیری رحمان اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے درمیان تعلقات بارے ایک مرتبہ پھر اس وقت شور اٹھا جب معروف دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر عاشہ صدیقہ نے اپنے ایک کالم میں شیری رحمان کے جناح انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار معید یوسف کو لیکر یہ کہا کہ آئی ایس آئی امریکی تھنک ٹینکس میں اس انسٹی ٹیوٹ کے زریعے سے اپنے بندے داخل کررہی ہے اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تعمیر بینک کے زریعے سے جناح انسٹی ٹیوٹ کے ملازمین کو تنخواہیں آئی ایس آئی ادا کرتی ہے جناح انسٹی ٹیوٹ نے اسی دوران افغانستان کے حوالے سے ایک رپورٹ شایع کی ، جس میں ملٹری اسٹبلشمنٹ کی لائن لی گئی تھی ، جس سے پی پی پی کی حکومت اتفاق نہیں رکھتی تھی

اور اس معاملے کو لیکر بھی بہت سے لوگوں نے شری رحمان کے ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ روابط کو بحث کا موضوع بنایا شیری رحمان سمیت پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر ایسے لبرل اشراف زادے اور زادیاں موجود ہیں جن کے بارے میں یہ تاثر بہت پختہ ہوچکا ہے کہ ان کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی میں برگر کلچر کو فروغ دینے کا سبب بنی ہیں شیری رحمان اور سول سوسائٹی میں ان کی گروپنگ نجم سیٹھی اور بینا سرور گروپ کے ساتھ ہے اور یہ سول سوسائٹی اور میڈیا کا وہ سیکشن ہے جس نے ایک طرف تو پاکستان کے اندر شیعہ ، سنّی نسل کشی پر ابہام کا پردہ ڈالا تو دوسری طرف اس سیکشن نے اس نسل کشی کے زمہ دار تںظیموں کو سپورٹ کرنے والے محمد احمد لدھیانوی ، طاہر اشرفی اور اورنگ زیب فاروقی جیسوں کو امن کے پیامبر کے طور پر پروموٹ کیا

اور پاکستان پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور اقتدار اور اس مرتبہ کی سندھ حکومت کے دور میں اگر شیعہ اور سنّی بریلوی یہاں تک کہ کرسچن ، ہندؤ وغیرہ بھی جو پی پی پی سے دوری کا سبب ہے اس کی وجہ بھی یہی گول مول رویہ ہے اور اس کی وجہ سے ملٹری اسٹبلشمنٹ نے ” ایک پنتھ دو کاج ” والا کام کیا کہ ایک تو ان برادریوں کے ایسے لیڈر سامنے لیکر آئی جو ملٹری اسٹبلشمنٹ کے زیادہ قریب ہوگئے اور پھر ڈاکٹر طاہر القادری جیسے لیڈروں کی پی پی پی سے دوری کا سبب یہی نام نہاد لبرل لیڈر بن گئے شیری رحمان کراچی کے اندر بینا سرور ایںڈ کمپنی کے زریعے سے کام کرتی ہے ، اس حوالے سے ایل یو بی پاک رائٹ بلاگ کے موجودہ ایڈیٹر انچیف علی عباس تاج نے راقم سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بینا سرور سے اپنا ایک مکالمہ یوں بیان کیا

Beena’s argument on defense of Sethi. Sethi has to please everyone so he has to bring in Ludhanvi and Ashrafi. My answer: Why does he bring in those who advocate Genocide of Shia Sunni Sufi and Barelvi as well as Ahmadis and Christians? If he sits with our killers, how does it help the victims? It only helps he killers. Beena: Well he has to live in Pakistan and be on TV. ME: No he does not have to be on TV it is not necessary for him to be on TV, he can choose another profession or another country.

گویا اس ملک میں ٹی وی پر موجود رہنے اور زندہ رہنے کے لئے لدھیانوی ، اشرفی جیسوں کو راضی رکھنا ضروری ہے ، یقینی بات ہے کہ بینا سرور نے مبالغے سے کام لیا اور نجم سیٹھی گروپ کی موقعہ پرستی ، خود غرضی کا دفاع کرنے کی کوشش کی ، مگر اس سے یہ ثابت تو ہوتا ہے کہ یہ لوگ فیک قسم کے ہیں اور ان جعلی لوگوں کے ہاتھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی مہار دے دینا کہاں کی عقل مندی ہے علی عباس تاج نے کہا کہ عامر بھائی ! مجھے ایسا ہی معاملہ رضا رومی سے پیش آیا ، جب میں نے اس سے اشرفی کے ساتھ بیٹھنے کی وضاحت طلب کی تو اس کے پاس بھی وہی دلائل تھے جو بینا کے پاس تھے علی عباس تاج نے مجھ سے سوال کیا کہ اس قدرسمجھوتہ بازی کے باوجود رضا رومی پر حملہ ہوگیا اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ جب ان کے گھر تک آگ پہنچ چکی ہو تو بھی یہ لوگ مصلحتوں کو ترک کیوں نہیں کرتے

؟ تو جو لوگ ” فریب کی حد تک ” بتوں سے امیدیں لگائے ہوئے ہوں اور اپنے قاتلوں سے زندگی کے پروانے طلب کرتے ہوں ، وہ عوام کی مسیحائی کے قابل کس طرح سے ہوسکتے ہیں شیری رحمان کی اسٹبلشمنٹ نوازی کے حوالے سے مجھے ایک اور واقعہ بھی یاد آرہا ہے کہ منیر مینگل جب بازیاب ہوکر آیا تو اس نے کئی ایک میڈیا آؤٹ لیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ شیری رحمان جو اس وقت انفارمیشن منسٹر تھیں کی جانب سے دھمکی آمیز کالز وصول ہوئی تھیں ، شیری رحمان نے اسے زبان بند رکھنے کو کہا اور زرینہ بلوچ کے معاملے کو اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ پاکستان مشکل وقت سے گزر رہا ہے ، اسے ہندوستان کی طرف سے چیلنجز کا سامنا ہے ، پاک بھارت تعلقات معمول پر آئے تو زرینہ بلوچ کا معاملہ اٹھایا جائے گا اور شیری رحمان نے منیر مینگل کو بھاری رشوت کی پیشکش بھی کی تھی

Source:

http://voiceofaamir.blogspot.de/2015/06/pakistan-people-s-party-and-friends-of.html?spref=fb