Newspaper Articles Urdu Articles

عالم اسلام میں روحانی اقدار وروایات کے امینوں کا قتل عام – غلام رسول دہلوی

 

photo-3

براہ راست موضوع سے متعلق گفتگو شروع کرنے سے قبل میں انتہاء پسندوں کے ہاتھوں علماء اہل سنت کے بہیمانہ قتل کے دو شرمناک واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا:

(1) مفتی سرفراز احمد نعیمی (علیہ الرحمۃ) پاکستان کے ایک سنی المسلک اور صوفی المشرب عالم دین تھے جنہیں اعتدال پسندانہ اسلامی نظریات کی حمایت اور پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی زبردست مخالفت کے لیے جانا جاتا تھا۔ 12 جون 2009 میں انہیں اس وقت ایک خود کش بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا جب وہ پاکستان کے شہر لاہور کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کر رہے تھے۔ انہیں اس خود کش بم حملے کا نشانہ بنائے جانے سے قبل انہوں نے  تحریک طالبان کے دہشت پسند نظریہ سازوں اور ان کی سرگرمیوں کو غیر اسلامی قرار دیا تھا۔

(2) سنی وصوفی نقطہء نظر کے حامل، تقلید فقہی کے شہرت یافتہ حامی ومبلغ اور عالمی سطح کے ایک بلند پایہ اسلامی محقق شیخ رمضان البوطی (رحمۃ اللہ علیہ) جنہیں عام طور پر ‘‘معتدل اسلامی اسکالر’’ کے طور پر جانا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنی بے لاگ تحریروں اور بے باک مذہبی خطابات کے ذریعہ اسلامی معتقدات ومسلمات کی خود ساختہ سلفی تشریحات کو کھلے طور پر چیلنج کیا تھا۔ سلفیوں کی فکری انتہاء پسندی اور دور جدید میں اس کی تباہ کاریوں کی وضاحت کرتے ہوئے سلفی آئیڈیولوجی کی تردید میں انہوں نے بر وقت انتہائی اہمیت کی حامل ایک کتاب ‘‘السلفية مرحلة زمنية مباركة وليست مذهبًا إسلاميًّا’’ (السلفية ایک ایک مبارک عہد ہے، نہ کہ کوئی مکتب فکر) تصنیف کی ۔ اسی طرح انہوں نے مختلف مسلم ممالک میں سرگرم عمل مذہبی انتہاء پسندوں کی عسکریت پسندانہ اور سیاسی نظریات اور متشددانہ سرگرمیوں کی نظریاتی طور پر زبر دست تردید کی تھی، جیسا کہ ان کی ایک کتاب ‘‘الجھاد في الإسلام’’ (1993) سے عیاں ہے۔ موصوف زندگی بھر احسان وسلوک اور تصوف و روحانیت پر مبنی اسلامی معتقدات کی عصری انداز میں ترسیل و تبلیغ کرتے رہے۔ صوفی فکرومزاج کے حامل اس عبقری عالم دین کو سلفی دہشت گردوں نے اس وقت خود کش حملے سے اڑادیا جب وہ اپنے شاگردوں کو شام کے شہر دمشق کے مرکزی ضلع مزارا میں واقع مسجد جامع الایمان میں ایک مذہبی وروحانی درس دے رہے تھے۔ اس واقعہ کی خبر مشہور عربی وبین الاقوامی چینل الجزیرہ ٹی وی نے جس ہیڈلائن کے ساتھ نشر کی وہ قابل توجہ ہے: ’’البوطي.. عالم أشهره الدين وقتلته السياسة – الجزيرة’’ (یعنی شیخ البوطی، جسے دین نے مشہور کیا اور سیاست نے مقتول)۔

جدید خوارج اور اس فکر کے دیگر مذہبی انتہاء پسندوں کے ذریعہ روحانیت پسند اور تصوف واحسان سے نظریاتی وابستگی رکھنے والے علماء اہل سنت پر خود کش بم حملے اور ان کا سر عام درد ناک قتل آج تک بلا کسی عالمی مزاحمت کے جاری ہے۔ اس ضمن میں  ہمارے لئے انتہائی شخصی رنج والم، ملی درد، اور جماعتی قلق کا باعث یہ ہے  کہ مولانا اسید الحق عاصم قادری بدایونی، جو عصر حاضر میں مجھ جیسے سے بہت سے طالب علموں کے لیے علمی دانشوری اور روحانی شیفتگی کی تحریک کا سر چشمہ تھے، اس سال 4 مارچ کو عراق کے شہر بغداد میں اس وقت ایک دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوگئے جب وہ صوفیاء کرام، فقہائے اسلام اور اولیاء عظام کے مزارات کی زیارت کے لیے وہاں تشریف لے گئے۔ اطلاعات کے مطابق شیخ بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان بالخصوص حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مزارات پر حاضری کے لیے عراق کے دورہ پر تھے۔

مشہور بین الاقوامی انگریزی اخبار ‘‘دی ٹائمز آف انڈیا’’ میں ہمارے دوست محمد وجیہ الدین کی تیارکردہ ایک رپورٹ کے مطابق مولانا مرحوم کے چھوٹے بھائی مولانا محمد عطیف قادری نے عراق سے فون پر یہ خبر دی کہ:

‘‘مولانا اپنے والد گرامی حضرت شیخ عبدالحمید محمد سالم قادری (بدایوں، اتر پردیش میں سلسلہ قادریہ کے سجادہ نشین)  اور اپنے چھوٹے بھائی (مولانا محمد عطیف قادری) کے ہمراہ 26 افراد پر مشتمل ایک روحانی وفد کے ساتھ بغداد میں اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری کے لیے 25 فروری کو ممبئی سے روانہ ہوئے۔ انہیں اگلے ہی ہفتہ ہندوستان واپس لوٹنا تھا۔ لیکن عراق میں جب وہ بغداد سے 300 کیلو میٹر دور شہر سلیمانیہ میں پہنچے تو مسلح دہشت گردوں کی ایک جماعت نے ان کی کار پر حملہ کر دیا جس کی وجہ سے ان کی شہادت ہو گئی۔’’

‘‘ہم اپنی منزل کی طرف آدھے سے زیادہ مسافت طے کر چکے تھے۔ تبھی کچھ مسلح افراد نے ہماری کار کو روک کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ زخمی ڈرائیور نے کار کی رفتار اور بھی تیز کر دی اور ہم ایک چیک پوسٹ پر پہنچے جہاں ایمبولینس بلایا گیا۔ مولانا اسید الحق (علیہ الرحمۃ والرضوان) کی موت حملے کے وقت ہی ہو چکی تھی، جبکہ ڈرائیور کو اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ دوسرے دن مولانا کے جسد خاکی کو بغداد لایا گیا اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی (رضی اللہ عنہ ) کی درگاہ کے احاطہ مدفون کیا گیا۔’’

جدید دور کے متبحر عالم دین مولانا اسید الحق عاصم القادری، جو ‘‘شیخ صاحب’’ کے نام سے بھی مشہور تھے، علمی کروفر، صوفی فکرونظر اور قلندرانہ مزاج کے حامل ایک ماہر فقیہ، باکمال روحانی شاعر، محقق وناقد، کثیر التصانیف قلم کار، سماجی مفکر اور ان سب پر مستزاد ایک عظیم انسان تھے۔ وہ ہندوستان کے صوفیاء کرام اور عظیم مسلم مذہبی و روحانی اساطین کی اقدار وروایات کے امین وپاسدار تھے۔ انہی کے نقوش قدم پر چلتے ہوئے وہ انسانی فلاح و بہبود اور قیام امن کے لیے سماجی سرگرمیوں میں شبانہ روز مصروف عمل تھے۔ زبردست علمی طمطراق کے باوصف مرحوم حد درجہ منکسر المزاجی، جذبۂ سلوک، روحانی معرفت اور تصوف کی طرف اپنے گہرے میلان کے لئے مقبول خاص وعام تھے۔ وہ سرزمین ہند کی فقید المثال علمی وروحانی شخصیت کے حامل ایک نامور اور ابھرتے ہوئے جوان سال محقق و ناقد بھی تھے جن کے نقد ونظر کی مقبولیت عالم اسلام اور بالخصوص  ہندوپاک میں روز افزوں تھی۔ محض 37 سال کی مختصر سی عمر میں مولانا مرحوم نے آسمان علم وفکر کی جن بلندیوں کو چھو لیا تھا، ان تک ادنی رسائی کے لئے بھی ایک عرصۂ دراز درکار ہے۔  اعلی پیمانے پر ہندوستانی سماج کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی بے لوث خدمات اور انتھک کوششوں کی وجہ سے بھی مولانا مرحوم اپنی خانقاہ کی روشن تاریخ کا ایک لازوال باب بن کر ہمارے دلوں میں ہمیشہ جلوہ گر رہیں گے۔

مولانا مرحوم کا موقف تھا کہ ہندوستان جیسے ایک متعدد الثقافات اور کثیر المذاہب ملک میں مسلمانوں کو ایک ایسے نظام حیات کی ضرورت ہے جس سے مسلمان اس ثقافتی تنوع اور مذہبی تعدد کے باوجود اپنی غیرمعمولی اہمیت اور انفرادی افادیت کو بحیثیت قوم دوسروں کو محسوس کرا سکیں۔ ان کا یہ یقین تھا کہ گزشتہ صدیوں کی طرح آج بھی تعلیمات تصوف نہ صرف قوم مسلم بلکہ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی اقوام کو بھی فائدہ بہم پہنچا سکتی ہیں اور ہندوستانی معاشرہ کو امن وسکون، مذہبی رواداری اور محبت و ہم آہنگی کا ایک بے مثال گہوارہ بنا سکتی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے زندگی بھر اس امر پر زور دیا کہ مذہب وملت، عقائد ومسالک اور رنگ و نسل سے قطع نظر اس ملک کی عوام کی سماجی فلاح کے لیے اسلام کی روحانی بنیادوں کو مضبوط کی جائے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت پر ‘‘شانتی سمّیلن’’ کے عنوان سے مولانا مرحوم کی سرپرستی میں اور خانقاہ قادریہ بدایوں کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا ایک تاریخی، عہد ساز اور عظیم الشان اجلاس جماعتی سطح پر ہندوستان میں بین المذاہب ڈائیلاگ کی طرف ایک خوشگوار اقدام تھا جو ملک کی خانقاہی تاریخ میں انمٹ نقش چھوڑ گیا ہے۔ اس تاریخی کانفرنس میں مولانا اسید الحق قادری مرحوم نے ملک کے نامور علماء کرام اور دانشوران اھل سنت  کو دیگر سماجی ومذہبی رہنماؤں کے ساتھ  بین المذاہب مکالمہ اور امن عالم کے فروغ کے لئے پہلی مرتبہ یکجا مجتمع کیا، مثلاً معروف ادیب و قلمکار علامہ یٰسین اختر مصباحی، مولانا خوشتر نورانی،  ڈاکٹر خوجہ اکرام (ڈائریکٹر،)، اردو اور ہندی کے مشہور شاعر اہل سنت بیکل اتساہی ودیگر۔ اس کانفرنس میں مذکورہ بلند پایہ سنی شخصیات نے غیر مسلم قائدین اور مذہبی رہنماؤں مثلا معروف ہندو رہنما سوامی اگنی ویش، (ڈائریکٹر، کمیشن برائے مذہبی ہم آہنگی، دہلی , ) فادر ایم ڈی تھامس، پنڈت انیل شاستری اور سردار گرمیت وغیرہ اور مختلف مذاہب کی نمائندہ علمی و سماجی شخصیات کے ساتھ ہم آواز ہوکر ایک اسلامی اسٹیج سے دہشت گردی کی وبا کو مٹانے اور امن و شانتی کے قیام  کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ۔ مولانا مرحوم کی اس عظیم کوشش نے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ اسلام کے روحانی نظام پر مبنی ہندوستانی خانقاہوں نے ہر دور میں پر امن کوششوں اور بے لوث انسانیت نواز خدمات کے ذریعہ ہی اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی، جس کی تابندہ مثال بدایوں کی سرزمین پر خانقاہ عالیہ قادریہ ہے۔

مولانا اسید الحق مرحوم کی شہادت سے چند روز ہی قبل 10 فروری کو نئی دہلی میں جب وہ عراق کے سفر کی روانگی میں مصروف تھے، راقم السطور کو ان سے ایک علمی نششت میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اس مجلس میں میں نے مولانا مرحوم کی عبقری شخصیت کا اس وقت  بنظر غائر اور قریب سے خاموش مطالعہ کیا جب مولانا کی گفتگو کا محور ہماری مذہبی مجالس کی ‘‘دیرینہ روایات’’ سے ہٹ کر خالص علمی، ملی اور دعوتی تھا۔ اس نششت کے اختتام پر مولانا مرحوم نے مجھ سے ایک شخصی گفتگو کے دوران کوہ ہمالہ کی طرح بلند اپنے ان دعوتی عزائم کا اظہار کیا جو اگر واقعی مجسم حقیقت ہو جائیں تو جدید دور میں ملت اسلامیہ کی تاریخ کی روش ہی بدل جائے۔

مولانا اسید الحق مرحوم نے اپنی پوری زندگی اسلام کی پر امن تعلیمات کے فروغ، شدت پسندانہ اور دہشت گردانہ نظریات کی تردید اور اپنے بیش بہا علوم وفنون اور دیگر وسائل وذرائع کو اسلام، روحانیت اور خلق خدا کی خدمت عام کے لیے صرف کر دیا تھا۔ وہ اپنی ان مومنانہ سرگرمیوں کی وجہ سے ایک حقیقی مجاہد کی تصویر تھے۔ اسلام کی تاریخ شہادت شاہد ہے کہ راہ حق وفا کا مجاہد ہمیشہ شہید ہوا ہے ۔ ہمیں امید واثق ہے کہ رب قدیر نے اپنی بارگاہ ذوالجلال میں اپنے اس بندۂ مؤمن کے قلمی ولسانی جہاد کی مقبولیت کا مظاہرہ فرمانے کے لئے اسے اپنے اولیاء کرام کی سرزمین پر شہادت اور روحانی رشد و ہدایت اور ولایت کے سرچشمہ شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی قبر انور کے جلو میں تدفین سے سرفراز کیا ہے۔

درحقیقت مولانا مرحوم نے اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری کی نیت سے ہی عراق کا سفر کیا تھا اور اسی غرض سے انہوں نے ترکی کا بھی سفر کرنا تھا۔ مگر اس سے پہلے ہی انہیں شہادت نصیب ہو گئی۔ اسے نصیبہ کی فیروزمندی نہیں تو اور کیا کہا جائے کہ  انہیں مزار غوث پاک کے احاطہ میں انہی روحانی اجداد کے درمیان سپرد خاک کیا گیا۔

عالم اسلام میں صوفیاء کرام کی روحانی وراثتوں کے امین وپاسدار علماء اہل سنت کے بہیمانہ قتل کے اس قسم کے واقعات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ جو لوگ مذہب یا کسی مذہبی عقیدہ کے نام پر دنیا کے کسی بھی گوشہ میں دہشت گردی میں ملوث ہیں انہیں صوفی ازم سے کسی بھی قسم کی نظریاتی حمایت حاصل نہیں ہے۔ دہشت گردی کا اسلام کے روحانی و خانقاہی نظام سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہے۔ بالخصوص ہندوستان میں تمام تر خانقاہی اقدار وروایات کی بنیاد امن عالم، انسانیت نوازی، آفاقی اخوت وبھائی چارگی، معاشرتی فلاح، سماجی غمگساری اور مذہبی رواداری پر ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب اسلام کے بنیادی تصورات اور خوبصورت مذہبی معتقدات کا سلفی ووہابی دیوبندی انتہاء پسند طبقہ (جو اب مرکزی دھارے میں شامل سنی مسلمان ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر نے لگا ہے) غلط استعمال کر رہا ہے اور ان کی خود ساختہ اور بے بنیاد تشریح رائج کرنے پر تلا ہوا ہے، انسانیت اور امن کے خیر خواہوں کو اسلام کی روحانی تعبیر سے متعارف کرانے کی ازحد ضرورت ہے۔ کیوں کہ دنیا بھر میں اہل تصوف ہی حقیقی اسلام کی ترجمانی کر رہے ہیں جو کہ امن پسند، تکثیریت پسند اور اعتدال پسند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک میں اسلام پسندی کی نام نہاد تعبیر کے ساتھ پیر پسار رہے دہشت گردانہ نظریات کے شکار تمام تر فرقوں اور جماعتوں کے بیچ صرف اصحاب تصوف اور علماء اھل سنت ہی ہیں۔

Source

http://baseeratonline.com/2014/03/19/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%D9%88%D8%AD%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%A7%D9%82%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%D9%88%D8%B1%D9%88%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%92/