Original Articles Urdu Articles

وائس آف سنی نے سعد عزیز دیوبندی کے سپاہ صحابہ سے تعلق بارے سب سے پہلے خبر شائع کی

Exclusive-Picture-of-Saad-Aziz-Killer-of-Sabeen-Mehmud

وائس آف سنی نے معروضی و سچی رپورٹنگ کا معیار برقرار رکھا وائس آف سنی نے سب سے پہلے بتایا تھا کہ سعد عزیز سپاہ صحابہ پاکستان کے ہتھے چڑھا تھا وائس آف سنی نے سب سے پہلے اس کی تکفیری ، خارجی سوچ کو بے نقاب کیا اور بتایا تھا کہ یہ آئی بی اے کے اندر سپاہ صحابہ پاکستان کے طلباء ونگ کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا

ڈان نیوز ٹی وی کی یہ رپورٹ وائس آف سنی کی جانب سے ایک پوسٹ میں ڈان ویب سائٹ میں سعد عزیز سمیت سانحہ صفورا گوٹھ کے مکزمان کی سپاہ صحابہ پاکستان سے وابستگی بارے کچھ نہ بتانے کے حوالے سے سوال اٹھائے جانے کے بعد شایع ہوئی وائس آف سنی کی ٹیم نے جب سانحہ صفورا گوٹھ میں دیوبندی تکفیری خارجی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے لوگوں کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا تھا تو اس وقت ہماری اس پوسٹ کے نیچے بہت سے دیوبندی تکفیریوں نے خود کو بظاہر غیر جانبدار ظاہر کرتے ہوئے فیک آئی ڈی ز کے ساتھ ہم پر فرقہ واریت ، اور دیوبندیوں سے تعصب برتنے کے الزام لگائے تھے حالانکہ وائس آف سنی نے دیوبندی علماء کی جانب سے مسلسل سپاہ صحابہ پاکستان کی تکفیری خارجی سرگرمیوں کو دیکھنے کے باوجود خاموشی بلکہ ان کی حمائت کئے جانے کے باوجود تمام دیوبندیوں کو نہ تو کبھی دہشت گرد کہا ، نہ ہی تمام دیوبندیوں کو تکفیری و خارجی قرار دیا اور نہ ہی ہم نے تما دیوبندیوں کے خلاف فوجی آپریشن کی بات کی

ہمارا موقف بہت واضح ہے کہ ایسے دیوبندی جو پاکستان کی ریاست ، پاکستان کی عوام ، پاکستان میں بسنے والی مختلف مذھبی برادریوں کے خلاف ھتیار اٹھائے ہوئے ہیں ، ان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہیں ، اہل قبلہ کی تکفیر کے مرتکب ہیں اور ان دہشت گردوں کے لئے نظریہ سازی ، ان کے لئے بطور سہولت کار کام کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے ، تکفیری دیوبندی خارجی اس ملک کی سالمیت ، اس ملک کے عوام کے درمیان اتحاد اور اتفاق کے سب سے بڑے دشمن ہیں

ڈان ٹی وی کی اس رپورٹ میں بہت واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سعد رفیق سپاہ صحابہ پاکستان المعروف اہلسنت والجماعت کے عسکری ونگ کے ھاتھ چڑھ گیا اور اس نے مذھب اور اسلام کے نام پر اسے سر تاپا تکفیری دہشت گرد بنا ڈالا داڑھی رکھنا ، نماز پنجگانہ کا پابند ہونا ، غیر محرم سے احتراز کرنا ، محرمات سے دور ہونا ، ڈانس پارٹیوں سے تائب ہونا اور نامحرم لڑکیوں سے دوستی ترک کرنا عین اسلام اور قابل ستائش بات ہے لیکن اس سے آگے جاکر لوگوں کو کافرقرار دے کر ان کا قتل کرنا اور ان کو زندگی سے محروم کرنا اور خود ریاست کا کردار ادا کرنے لگ جانا اور معاشرے کو بندوق اور بارود کے زور پر اسلامی بنانے کے نام پر تکفیری ریاست کی تعمیر کرنے لگ جانا سراسر شیوہ خوارج ہے

عصر حاضر کے تکفیری و خوارج کا شیوہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے نام پر نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرکے ان کو گمراہ کرنے کا کام کرتے ہیں اور ان کو تکفیر و خارجیت کی راہ پر سوار کردیتے ہیں وائس آف سنی کی بہت سی پوسٹ کے نیچے بعض نوجوان فیک آئی ڈی از کے تحت تکفیری و خارجی لیڈروں کی عبادت میں غلو اور جیلوں میں عبادت کے قصے کہانیاں درج کرتے ہیں اور اس بنیاد ہر ان تکفیری و جارجی لیڈران کو حق پر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں
ایسے نوجوانوں کو جذبات کی بجائے ہوش سے کام لیکر صحاح ستہ میں کتاب الفتن میں موجود خوارج کی نشانیوں کے بارے میں آنے والی احادیث ، حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت علی ، حضرت عبداللہ بن عباس اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنھم کے خوارج بارے ارشادات کو غور سے پڑھ لینا چاہئے ، ارشاد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم ہے

خوراج کی عبادتوں کے سامنے تمہیں اپنی عبادتیں تھوڑی معلوم ہوں گی اور ایک جگہ اور فرمایا کہ وہ بہت زیادہ قرآن کی تلاوت کریں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ اسلام سے ایسے خارج ہوں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے اسلام کے اندر جہاد ، سزا و جزا کے قوانین موجود ہیں اور کوئی فرد یا گروہ ازخود کسی کے بارے میں فیصلہ کرنے اور اس کو زندگی سے محروم کرنے کا حق نہیں رکھتا

سبین محمود سمیت جتنے بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سعد عزیز کے بقول اللہ کے غضب کو دعوت دینے والے کام کرنے میں مشغول تھے تو اس کو حق نہیں پہنچتا تھا کہ وہ کسی سگنل پر رک کر اسے اپنے ھاتھ سے گولی ماردے اور خود ہی مدعی ، منصف ، گواہ کا کردار اور پھر خود ہی جلاد کا کردار بھی ادا کرے ، ان سب کے قتل کا بوجھ اور جرم سعد عزیز ، طقہر حسین ، اظہر عشرت اور ناصر حسین پر تو ہے ہی اس کا بوجھ ان سب لوگوں پر ہے جنھوں نے اس گمراہی تک ان نوجوانوں کو پہنچایا

پاکستان کے نوجوانوں کا یہ نصیب نہیں ہے کہ وہ تکفیر و خارجیت کی دلدل میں دھنس کر ختم ہوجائیں بلکہ ان اسلام کے آفاقی پیغام کے مسلم وہ ہے جو خود بھی سلامتی کا داعی ہو اور دوسروں کو بھی سلامتی سے رہنے دے

سانحہ صفورا گوٹھ کے سلسلے میں پکڑے جانے والے چار افراد کے بارے میں انکشافات کا سلسلہ جاری و ساری ہے سبین محمود کا قتل سعد عزیز نے سبین کی مولوی عبدالعزیز کے خلاف مہم کی وجہ سے کیا سی ٹی ڈی کے ایس پی عمر خطاب کے مطابق کراچی اور حیدر آباد میں مختلف دیوبندی تکفیری گروپوں نے باہمی اتحاد بنارکھا ہے اور اس اتحاد کا مقصد حکومت کو کمزور کرنا ، پاکستان کا امیج عالمی سطح پر خراب کرنا اور ان کے ایجنڈے سے متفق نہ ہونے والے مسالک کے لوگوں پر حملے کرنا ہے

ڈان کی رپورٹ کے مطابق سانحہ صفورہ گوٹھ کے ماسٹر مائینڈ کو گلشن معمار سے پکڑا گیا یہ وہی گلشن معمار ہے جہاں مولوی منظور مینگل کا مدرسہ ہے معروف صحافی اے کے چشتی کے مطابق مولوی منظور کے حراست میں لئے گئے طلباء نے سانحہ صفورہ گوٹھ میں ملوث گروہ اور ان کے ماسٹر مائینڈ کی نشاندھی کی ، اس سے یہ شبہ مزید مضبوط ہوجاتا ہے کہ موجودہ گروہ کا کھرا بھی جعلی اہلسنت والجماعت کی طرف ہی جاتا ہے

وائس آف سنی نے معروضی و سچی رپورٹنگ کا معیار برقرار رکھا وائس آف سنی نے سب سے پہلے بتایا تھا کہ سعد عزیز سپاہ صحابہ پاکستان کے ہتھے چڑھا تھا وائس آف سنی نے سب سے پہلے اس کی تکفیری ، خارجی سوچ کو بے نقاب کیا اور بتایا تھا کہ یہ آئی بی اے کے اندر سپاہ صحابہ پاکستان کے طلباء ونگ کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا ڈان نیوز ٹی وی کی یہ رپورٹ وائس آف سنی کی جانب سے ایک پوسٹ میں ڈان ویب سائٹ میں سعد عزیز سمیت سانحہ صفورا گوٹھ کے مکزمان کی سپاہ صحابہ پاکستان سے وابستگی بارے کچھ نہ بتانے کے حوالے سے سوال اٹھائے جانے کے بعد شایع ہوئی وائس آف سنی کی ٹیم نے جب سانحہ صفورا گوٹھ میں دیوبندی تکفیری خارجی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے لوگوں کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا تھا تو اس وقت ہماری اس پوسٹ کے نیچے بہت سے دیوبندی تکفیریوں نے خود کو بظاہر غیر جانبدار ظاہر کرتے ہوئے فیک آئی ڈی ز کے ساتھ ہم پر فرقہ واریت ، اور دیوبندیوں سے تعصب برتنے کے الزام لگائے تھے حالانکہ وائس آف سنی نے دیوبندی علماء کی جانب سے مسلسل سپاہ صحابہ پاکستان کی تکفیری خارجی سرگرمیوں کو دیکھنے کے باوجود خاموشی بلکہ ان کی حمائت کئے جانے کے باوجود تمام دیوبندیوں کو نہ تو کبھی دہشت گرد کہا ، نہ ہی تمام دیوبندیوں کو تکفیری و خارجی قرار دیا اور نہ ہی ہم نے تما دیوبندیوں کے خلاف فوجی آپریشن کی بات کی ہمارا موقف بہت واضح ہے کہ ایسے دیوبندی جو پاکستان کی ریاست ، پاکستان کی عوام ، پاکستان میں بسنے والی مختلف مذھبی برادریوں کے خلاف ھتیار اٹھائے ہوئے ہیں ، ان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہیں ، اہل قبلہ کی تکفیر کے مرتکب ہیں اور ان دہشت گردوں کے لئے نظریہ سازی ، ان کے لئے بطور سہولت کار کام کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے ، تکفیری دیوبندی خارجی اس ملک کی سالمیت ، اس ملک کے عوام کے درمیان اتحاد اور اتفاق کے سب سے بڑے دشمن ہیں ڈان ٹی وی کی اس رپورٹ میں بہت واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سعد رفیق سپاہ صحابہ پاکستان المعروف اہلسنت والجماعت کے عسکری ونگ کے ھاتھ چڑھ گیا اور اس نے مذھب اور اسلام کے نام پر اسے سر تاپا تکفیری دہشت گرد بنا ڈالا داڑھی رکھنا ، نماز پنجگانہ کا پابند ہونا ، غیر محرم سے احتراز کرنا ، محرمات سے دور ہونا ، ڈانس پارٹیوں سے تائب ہونا اور نامحرم لڑکیوں سے دوستی ترک کرنا عین اسلام اور قابل ستائش بات ہے لیکن اس سے آگے جاکر لوگوں کو کافرقرار دے کر ان کا قتل کرنا اور ان کو زندگی سے محروم کرنا اور خود ریاست کا کردار ادا کرنے لگ جانا اور معاشرے کو بندوق اور بارود کے زور پر اسلامی بنانے کے نام پر تکفیری ریاست کی تعمیر کرنے لگ جانا سراسر شیوہ خوارج ہے عصر حاضر کے تکفیری و خوارج کا شیوہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے نام پر نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرکے ان کو گمراہ کرنے کا کام کرتے ہیں اور ان کو تکفیر و خارجیت کی راہ پر سوار کردیتے ہیں وائس آف سنی کی بہت سی پوسٹ کے نیچے بعض نوجوان فیک آئی ڈی از کے تحت تکفیری و خارجی لیڈروں کی عبادت میں غلو اور جیلوں میں عبادت کے قصے کہانیاں درج کرتے ہیں اور اس بنیاد ہر ان تکفیری و جارجی لیڈران کو حق پر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے نوجوانوں کو جذبات کی بجائے ہوش سے کام لیکر صحاح ستہ میں کتاب الفتن میں موجود خوارج کی نشانیوں کے بارے میں آنے والی احادیث ، حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت علی ، حضرت عبداللہ بن عباس اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنھم کے خوارج بارے ارشادات کو غور سے پڑھ لینا چاہئے ، ارشاد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم ہے خوراج کی عبادتوں کے سامنے تمہیں اپنی عبادتیں تھوڑی معلوم ہوں گی اور ایک جگہ اور فرمایا کہ وہ بہت زیادہ قرآن کی تلاوت کریں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ اسلام سے ایسے خارج ہوں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے اسلام کے اندر جہاد ، سزا و جزا کے قوانین موجود ہیں اور کوئی فرد یا گروہ ازخود کسی کے بارے میں فیصلہ کرنے اور اس کو زندگی سے محروم کرنے کا حق نہیں رکھتا سبین محمود سمیت جتنے بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سعد عزیز کے بقول اللہ کے غضب کو دعوت دینے والے کام کرنے میں مشغول تھے تو اس کو حق نہیں پہنچتا تھا کہ وہ کسی سگنل پر رک کر اسے اپنے ھاتھ سے گولی ماردے اور خود ہی مدعی ، منصف ، گواہ کا کردار اور پھر خود ہی جلاد کا کردار بھی ادا کرے ، ان سب کے قتل کا بوجھ اور جرم سعد عزیز ، طقہر حسین ، اظہر عشرت اور ناصر حسین پر تو ہے ہی اس کا بوجھ ان سب لوگوں پر ہے جنھوں نے اس گمراہی تک ان نوجوانوں کو پہنچایا پاکستان کے نوجوانوں کا یہ نصیب نہیں ہے کہ وہ تکفیر و خارجیت کی دلدل میں دھنس کر ختم ہوجائیں بلکہ ان اسلام کے آفاقی پیغام کے مسلم وہ ہے جو خود بھی سلامتی کا داعی ہو اور دوسروں کو بھی سلامتی سے رہنے دے

Posted by Voice of Sunnis on Monday, May 25, 2015