Original Articles Urdu Articles

سعودی عرب سنی اسلام پر وھابیت مسلط کرنے میں ناکام رھے گا – از خالد نورانی

Wahhabism-Zionism

آج کل بہت سے لوگ وھابی تکفیری دہشت گرد,تنظیموں اور سعودی اثر سے مغلوب تنظیموں کی جانب سے اپنے آپ کو سنی کہلوانے کے پروپیگنڈے سے اثر لے رہے ہیں اور وہ اس حوالے سے اب یہ بھی ماننے لگے ہیں کہ جدید تکفیری خوارج کی شعیہ اور دیگر مکاتب فکر کے خلاف کاروائیاں سنی اسلام سے تعلق رکھنے والوں کی جانب سے ہوتی ہیں

ایک عربی جریدے میں حال ہی میں ایک آرٹیکل شایع ہوا ہے جس کا عنوان ہے

قنبلۃ داعش او فشل السعودیۃ فی “ادارۃ الاسلام السنی


یعنی داعش بم یا سعودیہ کی سنی اسلام کو اپنے مطابق ڈھالنےمیں ناکامی اور ایک دوسرا آرٹیکل بیروت سے شایع ہونے والے عربی کے مقبول ترین اخبار. ” الاخبار ” میں شایع ہوا ہے اور اس کا عنوان ہے الفشل السنی: السلبی و,ایجابی سنی ناکامی : مثبت و منفی اور یہ مضمون معروف,صحافی ناھض حتر نے لکھا ہے
پہلے مضمون میں فاضل مصنف نے یہ جائزہ لیا ہے کہ داعش نامی تنظیم اصل میں سعودیہ عرب کی جانب سے پورے عالم اسلام میں سنی اسلام کو وھابی خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کی ناکامی کا براہ راست نتیجہ ہے اور وہ تاریخی اعتبار سے یہ تنظیم وھابی سلفی اور دیوبندی تکفیری گوریلوں پر مشتمل ہے اور مضمون نگار بتاتا ہے کہ کہ کیسے داعش کا نام نہاد خلیفہ نے اپنے اعلان خلافت میں توحید کے وھابی نظریات کو جگہ دی تھی اور داعش کے ترجمان جریدے میں کیسے محمدبن عبدالوھاب نجدی کی اول اول تحریک کا کامل عکس داعش کو,قرار دیا تھا

مضمون نگار کہتا ہے کہ سعودیہ عرب کی تشکیل میں جیسے برطانوی سامراج کے دو انتہائی اہم ایجنٹوں نے اہم کردار ادا کیا تھا اسی طرح داعش کو بھی جنم دینے میں امریکیوں اور برطانوی ایجنٹوں کا کردار ہے مضمون نگار کہتا ہے کہ برطانیہ ‘فرانس نے سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کئے جو اس وقت سواد اعظم اہلسنت کی نمائندہ سلطنت تھی اور سنی مذاھب اربعہ اور سنی اسلام کے ثقافتی تنوع کو تسلیم کرتی تھی اور,عثمانی ترک نہ صرف فقہی تنوع کو برداشت کرتےتھےبلکہ وہ سنی اسلاف کے پیروکاروں کو زبردستی ایک خیال کی پیروی پر مجبور نہیں کرتے تھے جب کہ سلطنت عثمانیہ بذات خود ایک بڑی علاقائی طاقت کے طور پر موجود تھی اور یہ سلطنت خطے میں سامراجیوں کے عزائم کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ تھی اور اس کے ہوتے ہوئے برطانوی سامراج کو مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ میں اپنی تابع فرمان حکومتوں کا قیام ممکن نظر نہیں آرہا تھا اس لئے برطانوی سامراج نے سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کئے اور اس سلطنت کے سنی اسلام اور اس سے ابھرنے والے سیاسی فہم کو دبانے کے لئے اس نے نجد میں قدرے دبی دبی تحریک وھابیت سے کام لینے کا فیصلہ کر لیا ‘ محمد بن عبدالوھاب ‘ فیصل السعود کے ساتھ لارنس,آف عربیا نتھی ہوا اور پھر ابن سعود کے ساتھ برطانوی حکومت کا ایک سابق تجربہ کار اھلکار بظاہر اسلام قبول کرکے ابن سعود کے مشیر کادرجہ اختیار کر لیا اور وہ ایک طرح سے عبدالعزیز ابن سعود کے تمام فیصلوں پر حاوی ہوگیا

برٹش سامراج سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ہو جانے کے بعد سنی اسلام کی قیادت کا جو خلا پیدا ہوا اور سنی آبادی اور سنی اسلام کو مینج کرنے کی جو ضرورت ابھر کر سامنے آئی تھی اس کے لئے عبدالعزیز ابن سعود کو تیار کیا گیا اور جدید سعودی عرب کی ریاست کو زرا کم پیمانے پر سنی اسلام کی زبردستی نمائیندگی دینے کی کوشش کی گئی

ہمیں اس طرح کی کوشش خود عبدالعزیز ابن سعود کی جانب سے نظر آتی ہے جب اس نے پہلی موتمر اسلامی بلائی یہ مڈل ایسٹ ‘ شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا سے نمائندہ سنی علماء کی کانفرنس تھی اس کانفرنس میں سلطان عبدالعزیز نے خود کو ابھی اسلام کا ترجمان بنا کر پیش کیا اور اپنے گرد ایک سنی شیلڈ بطور حصار کے تعمیر کرنے کی کوشش کی لیکن اس کانفرنس میں مذاھب اربعہ فقہ سے تعلق رکھنے والے اکثر علماء نے ابن سعود کو سنی اسلام کا نمائندہ ماننے سے انکار کیا اور مکہ و مدینہ کو پورے عالم اسلام کی ایک نمائندہ کونسل کو دینے کا مطالبہ کیا اور صرف دیوبندی مولوی تھے جنھوں نے بڑی قلابازی لگائی کہ وہ پہلے احیاے ترکی خلافت کی بات کرتے تھے

اب اچانک وہ سب کے سب ابن سعود کے قصیدے پڑھنے لگے اور دارالعلوم دیوبند کا یہ بہت بڑا یوٹرن تھا اور پھر جب سعودیہ عرب میں تیل کی آمدنی شروع ہوئی تو سعودی عرب کے پاس وافر وسائل آگئے اور اس نے وھابیت کو پھیلانے اور اسے سنی اسلام کا چہرہ دکھانے کے لئے سارے وسائل جھونک دئے اور ایسے گروپوں پر ھاتھ رکھا جو سلف سے مراد صرف ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوھاب نجدی کو لیں اور ان کے نظریات کو سنی اسلام قرار دیں سعودی عرب نے مڈل ایسٹ ‘شمالی افریقہ ‘ جنوبی ایشیا جہاں مذاھب اربعہ ‘اشاعرہ و ماتریدیہ کے عقائد غالب تھے کو بدلنے کی کوشش کی اور ابن تیمیہ و محمد بن عبدالوھاب کے نظریات کو سنی اسلام بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی یہ کوشش اصل میں خود سنی اسلام کے لئے وجودی خطرے کا سبب بنی اور سعودی عرب کی امداد نے مسلم دنیا کے اندر سنی اسلام کی پوری طرح سے ماھیت قلب کرنے کی کوشش کی گئی اور آج مغرب بھی جب سنی اسلام کی بات کرتا ہے تو وہ ایک طرف تو سعودی عرب کو سنی اسلام کا قائد بتلاتا ہے اور,دوسرا وہ وھابی تکفیری تنظیموں داعش ‘ جبھۃ النصرۃ و طالبان کو سنی دہشت گرد کہتا ہے جبکہ اس کے پاس پوری معلومات ہیں کہ یہ کون سے گروہ ہیں اور ان کے فکری ڈانڈے کہاں جاکر ملتے ہیں

برطانوی سامراج کا جب سورج ڈوب گیا اور نیا سامراج امریکیوں کی شکل میں سامنے آیا تو اس نے بھی سابقہ پالیسیوں کی طرح سعودی عرب کو,اسلام کا نمائندہ بنا کر پیش کیا اور نام نہاد سلفی اسلام کی پشت پناہی کی سنی اسلام کے حوالے سے ناھض حتر لکھتا ہے کہ سنی اسلام کے ساتھ ٹریجڈی یہ ہے کہ اس,کی ترجمانی کا پرچم تکفیری دہشت گرد تنظیموں اور سعودیہ عرب کی پٹھو جماعتوں نےاٹھارکھا ہے جن کے پاس مڈل ایسٹ میں جاری خانہ جنگیوں کا کوئی پرامن متبادل نہیں ہے اور سنی عوام میں ان کی جڑیں بہت گہری بھی نہیں ہیں بلکہ یہ اقلیتی ٹولہ ہے جو مڈل ایسٹ میں سنیوں کے تشخص کو برباد کررہا ہے

ناھض حتر کہتا ہے کہ اگر لبنان میں دیکھا جائے تو سنی اکثریت کی پارٹی فیوچر,الائنس ہے جس میں سنی کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو لبنان میں سعودی عرب اور امریکی مفادات کی نگرانی پر مامور ہے اور وہ عملی طور پر شعیہ -سنی خلیج کو اور بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں یہ سنی اسلام کے نام پر امریکیوں اور سعودی عرب کے مفادات کے نگران ہیں ناھض عراق کی اور پھر شام کی صورحال کا جائزہ لیتا ہے اور بتاتا کہ کس طرح سے وہاں پر بھی سعودی عرب کی جانب سے سنی اسلام کو مینج کوشش کا نتیجہ وہی القائدہ ‘ داعش ہے اس لئے ہم سنی اسلام کو وھابی تکفیری نظریہ سے الگ کرکے دیکھیں