Original Articles Urdu Articles

مُلا، ملحد اور عام آدمی – عمار کاظمی

20101231203730677112_20

بلا تفریق ہر مسلک کے لوگوں کی ایک اچھی بھلی تعداد مولوی اور مولوی کے سیاسی کردار کو غلط سمجھتی ہے۔ ہم ایڑی چوٹی کا زور لگا کر انھیں ثابت کرتے ہیں کہ فی زمانہ ایسا کوئی مسلکی عالم نہیں جو کسی نہ کسی طور فساد کی وجہ نہ بنتا ہو۔ لہذا ایسے ماحول میں مُلا کے ہاتھوں انسانیت اور معاشرہ برباد کروانے سے بہتر ہے کہ ہر کسی کو مکمل مذہبی آزادی فراہم کر کے مذہب کو ریاست سے الگ کر دیا جائے۔ مگر پھر خلا نوردوں کی ٹوپی پہنے ہاتھ میں سائنسی صحیفے لیے آٹے میں نمک اور اس نمک میں زرہ برابر ملحدیت آ دھمکتی ہے۔ اور ملا کو چھوڑ مذہب کو براہ راست چیلنج کرنے لگتی ہے۔ ساتھ کھڑے ایمان والے چلا کے بولتے ہیں “چل ہٹ سالا لادین سیکولر کہیں کا۔ تو نے سنا نہیں کہ حضرت اقبال نے کیا فرمایا تھا “جدا ہو دین سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی”۔ اور مُلائیت کی چنگیزی کے خلاف بنتا اتحاد پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔ سچ پوچھیں تو روشن خیالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ لبرل طبقہ ہے جو یہ سوچتا ہے کہ رات سو کر اٹھے تو صبح سارا پاکستان ملحد ہو چکا ہوگا۔

کبھی سوشلسٹوں میں بھی اسی طرح کا ایک ٹولہ ہوا کرتا تھا جسے مولوی نے محض ٹُلا لگا کر باہر کر دیا تھا۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ مولوی آج تک کی تاریخ میں جدید سیکولر اور سوشلسٹ فکر کے لوگوں کو ٹُلا لگانے میں کامیاب رہا ہے۔ اور اگر آپ سنجیدگی سے غور کریں تو وجہ ایک ہی ہے اور وہی ہے جواوپر بیان کر چکا ہوں۔ سوشلسٹ بھی عجیب و غریب اورزمینی حقائق سے دور باتیں کرتے کرتے غریب رہ گئے اور یہ آج کے برائے نام سیکلور لبرل کا کیا بتاوں کہ ان میں تو امرا زیادہ ہیں، لہذا یہ عجیب کے عجیب ہی رہیں گے اور کبھی تبدیلی سوچ کا مقبول استعارہ نہیں بن سکیں گے۔ آپ لوگوں کو ضد میں ڈال کر تو زہر بھی نہیں چھڑوایا جا سکتا۔ ان دونوں طبقات نے سنجیدگی اور زمینی حقیقت کو ہمیشہ بچگانہ طرز فکر اور مذہب کا مذاق اڑانے اور ٹھٹھے لگانے کی نظر کر دیا۔ اور نتیجہ ہمیشہ صفر + صفر۔

مُلا اپنی تمام تر خرابیوں اور کوتاہیوں کے عوام میں رہا اور سیکولر، لبرل سوشلست ہمیشہ مقببول کے بعد غیر مقبول ہوتے رہے۔ ملائیت سے تنگ ایمان رکھنے والوں کی اکثریت کے پاس ان کے ٹھٹھوں کے بعد کوئی چارہ، کوئی چوائس ہی نہیں بچتی لہذا یا تو وہ غیر جانبدار ہو کر تماشبین بن جاتی ہے یا پھر چار و ناچار اپنے اپنے مسلک، مذہب عقیدے کے مُلا کے ساتھ جُڑ رہنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

بعض ملحد دوستوں کو یہ غلط فہمی بھی ستاتی رہتی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اور ٹیکنالوجی تیزی سے مذہبی اور بناید پرست سوچ کا خاتمہ کر رہی ہے۔ اب اس دانش پر کس دیوار پر سر ماریے کہ ان کی غلط فہمی دور ہو جائے؟ زیادہ ٹیکنولوجی والے ممالک میں مذہب کتنا ہارا اور الحاد کتنا جیتا؟ کیا جاپان، چین امریکہ، جرمنی، فرانس اور امریکہ وغیرہ وغیرہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال اب شروع کیا ہے؟ کیا وہاں مذہب ختم ہو گیا؟ فنڈڈ این جی اوز کے بند دروازوں اور سوشل میڈیا کے فورمز پر مذہب کا تمسخر اُڑانے والوں کی زمینی حیثیت کیا ہے؟ ان کی سوچ عوام میں کتنی مقبول ہے؟ خود کو دانش کا محور سمجھنے والے بنیادی انسانی نفسیات سے بھی واقف نہیں ہیں۔ اور ہو بھی کیسے سکتے ہیں جبکہ یہ عوام کے لیول پر آ کر بات کرنے کا شعور ہی نہیں رکھتے۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب عام پاکستانی کو مُلا کا مسلسل غلام بنائے رکھنے کی ایک مسلسل جدو جہد میں مصروف ہیں۔

جس معاشرے میں سلمان تاثیر جیسے بڑے انسان کو محض ضیا کے بنائے قوانین پر تنقید کرنے کے گناہ میں گولیاں مار دی گئیں وہاں یہ سیدھا خدا سے “متھا” لگا بیٹھتے ہیں۔ پہلی جماعت کے بچے سے اپنی مرضی کے مضمون کا ایم اے پاس کروانا چاہتے ہیں۔ جو ہم کر سکتے ہیں وہ کرنا نہیں اور جو نہیں کر سکتے اس پر مغز ماری کرنی ہے۔ سُرخ سلام، لال سلام، نیلا پیلا طوطے رنگ کا سلام، وڑ گیا بئی کھوکھے والا کامریڈ جو ہار کر اپنے بچوں کے ساتھ معاشرے کو بھی مولوی کے رحم و کرم پر چھوڑ گیا۔ نہ غریب کی معاشیات کی فکر نہ اسے مولوی اور سرمایہ دار سے رہائی دلوانے کی کوئی سنجیدہ کوشش۔ بھٹو کی سالگرہ کے کیک کاٹو، مارکس کے گُن گاو اور سیکولر ریاستوں کی تعریفوں کے پل باندھو۔ خود چاہے میری طرح میٹرک سائنس کے ساتھ پاس کرتے موت آتی ہو مگر انتہا پسندی کا شکار معاشرے میں الحاد کو سائینٹفک اور مذہب کو جمود بتاو۔ ان سے تو وہ تبلیغی سمجھدار ہیں جو سال کے سال اکٹھا ہو کر ایک دوجے کی تجارت کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ مولوی کو جہاں موقعہ ملے وہ فوج کی طرح وہیں اپنے بندے گھسیڑ دیتا ہے۔ لیکن آج تک ان برائے نام لبرل، روشن خیال اور سوشلسٹوں نے اپنے ہم خیال لوگوں کے لیے کیا ہی کیا ہے؟

خیر جب ہم سیکولر ریاست کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں تو مذہب اور عقائد کی بحث بے معنی ہو جاتی ہے۔ کسی بھی سیکولر ذہن کا سیکولرازم کی چھتری تلے کسی مذہب مسلک کی بنیاد کو حرف تنقید بنانا سیکولر ازم کی نفی ہے۔ اور پاکستان میں اکثر سیکولر لوگ ایسا کرتے نظر آتے ہیں۔ شاید یہی رویہ مولوی کو یہ غلط معنی پیش کرنے کی گنجائش دیتا ہے کہ سیکولرازم لا دینیت کا نام ہے۔ پڑھی لکھی سوچ کا فوکس ہونا لازمی ہے۔ ہم دودھ دہی کی دکان پر جا کر الیکٹرانکس ٹھیک نہیں کروا سکتے۔ زمین پر ہر مسلک اور نظریے کے زمین زاد موجود ہیں مگر زمین کا انسانیت کے سوا کوئی مسلک مذہب نطریہ نہیں ہوتا۔ اور یہی ہمارا بنیادی مقصد اور پیغام ہونا چاہیے کہ ریاست اور سیاست، عقائد اور مذہب سے الگ رہیں۔

جب ریاست مذہب میں الجھے گی تو چودہ سو سال پرانی تاریخ کے بخیے اُدھڑیں گے۔ ہر کوئی اپنی تاریخ اٹھا لائے گا۔ مسالک کی بحث چھڑے گی۔ اور زمین اپنے زادوں کے لہو سے سرخ ہوگی۔ سیکولر ازم ریاست کے ہر شہری کو مذہبی آزادی دیتا ہے۔ مگر اس کی ریاست میں مداخلت برداشت نہیں کرتا۔ مذہب اور عقائد کے جھوٹ سچ کا فیصلہ نہیں کرتا۔ اگر آپ ایک اچھا پرامن، ترقی پسند اور صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں تو مذہب اور عقائد کی بحث کو اپنی زات تک یا اپنے حلقہ احباب تک محدود رکھیں۔ چودہ سو سال پرانی بحث اس معاشرے کو کچھ مثبت نہیں دے سکتی۔ نہ آج ہم چودہ سو سال پرانے کسی شخص کو سزا دلوا سکتے ہیں نہ حق۔ اگر کچھ کر سکتے ہیں تو اتنا کہ آج کے مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں اور آج کے ظالم کے خلاف لڑیں۔ ریاستی آئین و قانون کی موجودگی میں جگہ جگہ کھلی ہر مسلک کی فتوی فیکٹریوں پر پابندی کا مطالبہ کریں۔ ہر مسلک کے ُمُلا سے زمین زاد کو آزاد کروائیں۔

About the author

Guest Post

1 Comment

Click here to post a comment
  • بہت اچھا لکھا ہے، بلکل یہی سوچ ہے ہماری، ہیمیں ابھی تک خود یہ پتا نہیں چل سکا کہ مزہب ملحدیت اور اور لائقی)سیکولرزم) میں فرق، زیادہ تر عوام، اور مزیبی وگ لائقی کو ملحدیت ہی سمجھتے ہیں پھلے تو ہمیں لائقی یعنی سعکولرزم کو معاشرے میں ڈیفائن کرنے کی ضرورت ہے۔