Featured Original Articles

Javed Ahmed Ghamidi’s indirect role in Shia genocide in Pakistan – by Abdul Nishapuri

ghamdi1

Javed Ahmed Ghamidi and other Salafi, Wahhabi and Deobandi clerics have issued numerous hateful statements against Shia and Sunni Sufi Muslims alleging them of deviating from ‘true’ Islam, religious innovation (Biddat), infidelty (Kufr) and polytheism (Shirk).

Ghamdi plays a key role in the process of misrepresenting Shia Muslim beliefs. As a so-called champion of moderate Islam, Ghamdi cannot escape his Salafist-Nasibi-Jamaati background and resorts to the crudest and most one-sided sectarian polemics in misrepresenting Shia Muslim beliefs

In the aftermath of such hatred and incitement to violence, at least 23,000 Shia Muslims, along with tens of thousands of Sunni Sufis and Barevlis, have been killed in Pakistan at the hands of Deobandi Takfiri terrorists of the Sipah-e-Sahaba (ASWJ), Taliban (TTP) and other allied groups and aliases.

From Quetta to Peshawar, Lahore to Karachi, Deobandi terrorists have attacked and detonated Shia mosques and Imambargahs, target killed professionals, bombed public meetings and congregations and indiscriminately massacred ordinary Shia citizens of Pakistan.

While Javed Ahmed Ghamidi, despite his semi-Salafi semi-Deobandi approach to Islam is often promoted as a moderate cleric by a certain section of Pakistani establishment and elitist liberals, his views about Shias and Sunni Sufis are not much different to those held by Takfiri Salafi and Deobandi clerics. Here are some examples of his hate speech against Shia Muslims which consequently result in incidents of violence and intolerance.

gh

About the author

Abdul Nishapuri

3 Comments

Click here to post a comment
  • میں پاکستان چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوا – جاوید احمد غامدی کی وضاحت اور ہمارے کچھ سوال
    جاوید احمد غامدی صاحب نے عمر بھر سنی صوفی اور شیعہ مسلمانوں کے عقائد اورشعائرکو غیراسلامی، مشرکانہ اور کفریہ قرار دیا، یا رسول الله اور یا علی کہنے والوں کو مشرک کہا، کربلا میں امام حسین اور اہلبیت کے دیگر افراد کی شہادت کو فقط ایک حادثہ قرار دیا، عمر بھرسلفی، وہابی، دیوبندی اور ناصبی نظریات کی ترویج کی اور سنی صوفی اور شیعہ کی تکفیر اور قتل و غارت کرنے والوں کے دلائل مضبوط کیے، لیکن بالاخر اسی تکفیری دیوبندی گروہ نے ان کے اپنے دوستوں اور ہم مسلکوں پر حملے شروع کر دیے، ڈاکٹر محمد فاروق اور ڈاکٹر حبیب الرحمن کو قتل کر دیا گیا، ان کے رسالے کے مدیر منظور الحسن پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، لیکن آج بھی وہ ان قاتلوں کی تنظیمی شناخت یعنی کالعدم سپاہ صحابہ، جو کہ لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان کا ہی اصلی روپ ہے، اور ان کی نظریاتی شناخت یعنی تکفیری دیوبندی کو چھپا رہے ہیں
    اس ویڈیو میں غامدی صاحب فرما رہے ہیں کہ بعض دھمکیوں اورممکنہ قاتلانہ حملوں کی وجہ سے وہ پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہوۓ – اسی ویڈیو میں انہوں نے رینجرز کے کمانڈر کے شیعہ مسلک کا تو تذکرہ کیا لیکن اپنے ہی رفقا کو قتل کرنے والے اورپورے پاکستان میں سنی، شیعہ، مسیحی، احمدی و دیگر کو قتل کرنے والوں کی دیوبندی شناخت اور ان کے سرپرست دیوبندی مولویوں کا تذکرہ گول کر گئے – اگر آپ ملائشیا اور امریکہ میں بیٹھ کر بھی سچ نہیں بول سکتے تو کب بولیں گے؟
    آخر میں آپ سے گذارش ہے کہ سنی صوفی اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف آپ کی نفرت انگیز تقریروں نے جس نسل کشی کا بازار گرم کیا ہے، ان پرالله اور پاکستانی عوام سے معافی مانگیں اور سنی بریلوی و شیعہ مسلمانوں کو قتل کرنے والے سپاہ صحابہ کے دیوبندی خوارج کی واضح مذمت کریں، ورنہ ہم یہی سمجھیں گے کہ آپ میں اور موقع پرست طاہر اشرفی دیوبندی میں کوئی فرق نہیں کیونکہ اجکل بعض ایسے اشرفی برانڈ لبرل آپ کو پروموٹ کر رہے ہیں جو اس سے پہلے طاہر اشرفی اور لدھیانوی کو سفیر امن قرار دے چکے ہیں

    https://www.youtube.com/watch?v=ZrbCBZu-hjM

  • from facebook

    Abdul Nishapuri said

    نازی جرمنی کے دور میں جب یہودیوں کو ہولوکاسٹ کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اس وقت یہودیوں کے عقائد اور رسوم پر تنقید کا براہ راست فائدہ ہٹلر اور دیگر مجرموں کو پہنچ رہا تھا اور ہولوکاسٹ میں امداد ہو رہی تھی – پاکستان میں جبکہ شیعہ مسلمان تکفیری دیوبندیوں کے ہاتھوں کافر کافر شیعہ کافر کے نعروں کی گونج میں قتل ہو رہے ہیں، اس وقت شیعہ یا سنی بریلوی عقائد پر تکفیری فتوے سپاہ صحابہ کی امداد اور نسل کشی میں شمولیت کے مترادف ہیں