Original Articles Urdu Articles

جعلی ڈگریاں – از فہمیدہ ریاض

fake-degree-file-670

یہ پرانی بات ہے لیکن جب ہم اسکول مین پڑھتے تھے تب سنا کرتے تھے کہ امریکی ڈگریوں کا کوی اعتبار نہیں ۔ وہاں جعلی ڈگریاں بیچی جاتی ہیں ۔اس زمانے کے بہت بعد تک ، اعلی تعلیم کے لیٗے جعل سازی سے ڈرے سہمے پاکستانی انگلینڈ کا ہی رخ کرتے تھے۔ تو امریکہ میں جعلی ڈگریوں کی تاریخ قدیم ہے ۔ اب ایک کتاب ـ ڈگری ملز ـ شایع ہوی ہے جس کے مظابق یہ بلیٗن ڈالر انڈسٹری اب بھی خوب پھل پھول رہی ہے .اس کے مطابق امریکہ میں ہر سال چالیس ہزار ڈاکٹریٹ کی ڈگریز دی جاتی ہیں ۔ان میں پچاس ہزار جعلی ہوتی ہیں ۔ ان گنت ادارے مدل ایسٹ اور یورپ میں دفاتر رکھتے ہیں اور پتہ برطانیہ کا دیتے ہیں ، اور جعلی ڈگریاں ٹھاٹ سے بیچ رہے ہیں ۔اور یہ سب امریکی چلا رہے ہیں ۔

صورت حال تو یہ ہے ۔ پھر ایک پاکستانی ڈیگری جعل ساز ادارے پر ایسا سیاپا ؟ آخر کیوں ؟

ایک وجہ سمجھ میں آنے والی یہ ہے کہ یہ واقعی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ پاکستان امریکی اوربٹ سے نکلنے کے لیٗے کوشاں ہے ۔ چینی معاشی راہداری کا اہم حصہ بننے جا رہا ہے ۔ انڈیا اس بات پر بہت جھنجلا رہا ہے اور جان توڑ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان کو نا اہل، غیر محفوظ اور نالایق ثابت کرے ۔پاکستان کو شکریہ ادا کر کے کہنا چاہیٗے کہ توجہ دلانے کے لیٗے ممنون ہیں اب ہم اس کا سد باب فورا کریں گے ۔ انڈیا اپنا سا منہ لے کر رہ جایٗگا ۔ شاید ان حرکتوں سے ہاتھ کھینچ لے ہار کر جھک مار کر ۔۔۔پاکستان نہ نالایق ہے نہ نا اہل۔ غیر محفوظ ضرور ہے لیکن یہ اکنامک کوریڈور لوگوں کو ایک مختلف آلٹرنیٹ دے گی اور کل اتنا غیر محفوظ نہیں رہے گا۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنی جعل سازیوں سے ٓا نکھیں موند لیں۔ سچ یہی ہے کہ ضیا الحق کے زمانے سے ایک گھناونی ، غلیظ دھوکہ دھڑی، جعل سازی اور غنڈہ گردی کی ذہنیٗت یہاں پیدا ہوی ہے ۔آپ دنیا میں کہیں چلے جایں ، بد ترین سکیمز میں پاکستانیوں کا نام نظر آے گا۔ خواہ وہ بلڈ ٹیسٹ کرنے کی جعلسازی ہو جیسی کہ امریکہ میں کچھ برس پہلے ہوی تھی ، خواہ ہیومن ٹریفکنگ ، جس کا ذکر اخباروں میں روز آتا ہے ۔ نہ بنگلہ دیشی ایسے ہیں نہ ہندوستا نی مسلمان ۔۔صرف پاکستانی ہی ایسی قبیح حرکتیں کرتے ہیں ۔۔عرصے سے شریف اور مہذب لوگ اس ملک سے اپنا نام جوڑتے ہوے کوفت محسوس کرتے ہیں ۔۔ پاکستانی عوام بہت اینرجیٹک ہیں ۔ یہی اینرجی کوی بھی بہتر راستہ نہ پا کر اس قسم کی حرکتوں میں لگ گٗئ ہے۔یعنی کسی بھی سسٹم کو سمجھ کر اس کو مس یوز کرنا ۔