Original Articles Urdu Articles

کراچی میں اسماعیلی شیعہ مسلمانوں کے قتل پر حامد میر کا کالم اور صدائے اہلسنت کا تبصرہ

06_06

ادارتی نوٹ : محترم حامد میر کا یہ کالم اگرچہ بین السطور اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ جو لوگ شیعہ ، مسیحی ، مرزائی اور دیگر مذھبی اقلیتوں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہیں وہ اس قتل وغارت گری کی مذمت کرنے والے اہلسنت علماء کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہیں لیکن محترم حامد میر نے یہاں اس دہشت گردی کے ان برادریوں کی تکفیر اور وجوب قتل کا فتوی دینے والوں اور سڑکوں پر کافر ،کافر فلاں کافر کے نعرے لگانے والی تنظیم اور مولویوں کا نام نہیں لکھا

کیا حامد میر کو معلوم نہیں ہے کہ اس ملک کے صوفی سنیوں کو مشرک و بدعتی قرار دینے اور شیعہ کے خلاف نفرت انگیزی پھیلانے والی تنظیم کون سی ہے یہ وہی تنظیم ہے جس کے سربراہ اورنگ زیب فاروقی اور اس کے سرپرست لدھیانوی کو وہ اپنے پروگرام میں بلاتے رہے ہیں اور مفتی نعیم جس کو جیو جنگ گروپ بہت پروجیکشن دیتے ہیں اور حامد میر اہلسنت والجماعت ،جامعہ بنوریہ کا نام لینے سے کترارہے ہیں

وہ کہتے ہیں کہ تکفیری زھن رکھنے والوں کے خلاف تمام مکاتب فکر کے علماء متفقہ فتوی دیں اور پارلیمنٹ اس کی تصدیق کرے تو ہم معذرت سے کہتے ہیں کہ وہ صرف وفاق المدارس سے تعلق رکھنے والے مولوی صاحبان سے کہیں کہ وہ سپاہ صحابہ پاکستان ، طالبان ، جنداللہ ، لشکر جھنگوی ، جماعت الاحرار سمیت ان سب دہشت گرد تنظیموں کو تکفیری خارجی قرار دے ڈالیں اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں کو دیوبندیت سے خارج قرار دیں اور ان عناصر کا داخلہ اپنی مساجد و مدارس میں بند کرائیں اور کسی اور ملک کی پراکسی لڑنا بند کردیں تو ہم شرطیہ کہتے ہیں کہ دیوبندی نوجوانوں کے اندر فرقہ پرست دہشت گردی کی جانب بڑھتا ہوا رجحان خاصا کم ہوجائے گا

حامد میر کو سچ بولنے سے گریز نہیں کرنا چاہئیے کہ اس ملک میں دیوبندی نوجوانوں کی تکفیری دہشت گردی کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کی سب سے بڑی وجہ دیوبندی مدارس و مساجد میں تکفیری وخوارج کی آئیڈیالوجی کو سنی آئیڈیالوجی بناکر پیش کرنے کا بڑھتا ہوا عمل ہے اور ان دیوبندی مدارس پر سعودی عرب کا غیرمعمولی اثر بھی ہے جس نے دیوبندی نوجوانوں کے اندر متشدد اور عسکریت پسند رجحان طاقتور کردیا ہے اور دیوبندی مذھبی قیادت مجموعی طور پر اس رجحان کے آگے بند باندھنے کی بجائے اس کو مزید آگ لگانے میں مصروف ہے تو حامد میر کو چاہئیے کہ وہ سچ بولیں تاکہ قوم کو پتہ چلے کہ تکفیری زھن کہاں بیٹھے ہوئے ہیں

About the author

Shahram Ali

7 Comments

Click here to post a comment