Original Articles Urdu Articles

طالبان کے مظالم سامنے لانا طالبان کو گلوریفائی کرنا نہیں ہے – عمار کاظمی

Taliban

انتہائی معذرت اور احترام کے ساتھ، نہ ہماری عقل بوٹوں میں ہے اور نہ ہماری وفاداری کسی انسانیت دشمن کے ساتھ ہے۔ ہم اس وقت بھی طالبان کے خلاف تھے جب فوج طالبان پیدا کر رہی تھی۔ ہم تب بھی طالبان کے خلاف رہے جب فوج طالبان کو اپنا دفاعی اثاثہ مانتی رہی۔ اور ہم تب بھی طالبان کے خلاف رہے جب جرنیل اچھے برے طالبان کی جھوٹی ڈاکٹرائن پاکستانیوں کو بتاتے رہے۔ لیکن جب طالبان نے آرمی پبلک کے بچے مارے تو ہم سب کچھ جانتے بوجھتے بھی فوج ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جانتے ہو کیوں؟ کیونکہ ہمیں اسی مٹی نے جنم دیا ہے۔ ہمارے ماں باپ، بھن بھائی، بچے، عزیز رشتہ دار، دوست احباب سب اسی مٹی سے ہیں، اس فوج سے ہیں۔ ایک بار مرنا آسان ہوتا ہے مگر بار بار مرنا مشکل ہوتا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ہم فوج کی غلطیوں کی وجہ سے بار بار مرتے رہے۔ کونسا نشان حیدر ہے جو بار بار شہید ہوا؟

سادہ سی بات ہے اب ہم داستان گوئی سے زیادہ حقیقت سننا چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایک گھنٹہ پہلے ریڈیو پاکستان لوگوں کو بتائے کہ ہماری فوج نے دشمن کے چھکے چھڑوا دیے اور گھنٹے بعد سقوط ڈھاکہ کی خبر سننے کو مل جائے۔ فوجی جرنیل بھی حقیقت اور سچ کو اپنے ایمان کا حصہ بنائیں۔ ہیلی کاپٹر حادثے یا کسی اور بظاہر مشکوک نظر آنے والے حادثے کے بارے میں سوالوں سے طالبان کی طاقت گلوریفائی نہیں ہوتی بلکہ ان کا ظلم سامنے آتا ہے۔ حقیقت سامنے آتی ہے۔ معاملے کی حساسیت سامنے آتی ہے جس سے معاملہ فہمی پیدا ہوتی ہے۔طالبان کے پھیلے ہوئے گند کا مقابلہ کرنے کے لیے حقیقی صورتحال کا واضع ہونا ضروری ہےباقی جو بھی گلے شکوے ہوں ہم فوج کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ مگر کوئی فوجی ہمیں پڑھانے اور حب الوطنی بتانے کی کوشش م

About the author

Shahram Ali

82 Comments

Click here to post a comment