Original Articles Urdu Articles

حیدر جاوید سید کے کالم پر عامر حسینی کا تبصرہ

11243470_664497290347518_3522096082636112207_n

حیدر جاوید سید نے حسب معمول اس مرتبہ کے کالم میں چند ایک اور انکشافات کئے ہیں – پہلا انکشاف تو انہوں نے یہ کیا ہے کہ اورنگ زیب فاروقی اور آصف علی زرداری کی دوستی پیپلزپارٹی کے نظریات سے زیادہ بھاری ہے مجھے یہاں پر اسی بات کے تناظر میں کچھ انکشافات کرنے ہیں سندھ حکومت نے اورنگ زیب فاروقی سمیت کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے ابدروب سندھ اور کراچی کے رہنماوں کو نجی سیکورٹی گارڈ رکھنے اور پولیس اسکواڈ کی فراہمی ممکن بنائی اور ان کو وی وی آئی پی پرٹوکول دیا ، جبکہ اے ایس ڈبلیو جے المعروف سپاہ صحابہ پاکستان کو سندھ بھر میں آزادی سے اینٹی شیعہ ، اینٹی صوفی سنی ، اینٹی ہندو کام کرنے کی اجازت دی اور اس کے جلسے ، جلوسوں اور ریلیوب میں کہیں روکاوٹ نہیں ڈالی


اس حوالے سے خود پی پی پی کے کئی اہم رہنماوں میں سخت تشویش تھی ، پی پی پی کی سنٹرل کمیٹی کی ایک خاتون رکن اور سابق ممبر قومی اسمبلی نے دبئی اور کراچی میں پی پی پی کی کور کیمٹی اور سندھ پی پی پی کے اجلاسوں میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ان تمام افراد سے پولیس سیکورٹی واپس لے لی جائے جو فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی تکفیری مہم چلارہے ہیں اور جن کی تقریروں اور مہم کی وجہ سے کراچی اور اندرون سندھ شیعہ و سنی بریلوی ، ہندو اور عیسائیوں ہر حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے


اس خاتون رکن اسمبلی نے ان اجلاسوں میں سندھ کے اندر تیزی سے ابھرتی ہوئی نام نہاد جہادی فرقہ پرست تکفیری جماعتوں اور گروپوں کے ابھار اور فلاحی کاموں کی آڑ میں جماعت دعوہ اور سپاہ صحابہ کے اثر و نفوز پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے سندھ حکومت کو راست اقدام اٹھانے کا مشورہ دیا
ان دو اجلاسوں میں اس خاتون رکن اسمبلی کے بیانات کو لیاری سے منتخب ہونے والے ایک رکن صوبائی اسمبلی اور لیاری پی پی پی کے سابق صدر نے بھی آگے بڑھایا تھا اور اس نے پی پی پی کی قیادت کو خبردار کیا تھا کہ لیاری میں جامع مسجدی محمدی ، مسجد حنیف اور دیگر مساجد دیوبندیہ میں تمام آئمہ خا تعلق سرائیکی اور ہزارہ ڈویژن سے ہے اور سب کے سب اے ایس ڈبلیو جے دے تعلق رکھتے ہیں اور لیاری بلوچ ٹاون میں بلوچ نوجوان نسل کو ریڈیکل دیوبندی کیڈر میں بدلنے کام تیزی سے جاری ہے اور اس حوالے سے اس اجلاس میں خاتون رکن اسمبلی نے نیوز لائن کراچی کے جریدے میں فہیم رضا نامی ایک جرنلسٹ کی تحقیقی نیوز سٹوری کی کاپی بھی پیش کی جس میں بلوچستان کی سرحد سے ملنے والے سندھ کے اضلاع سے تکفیری خوارجی تنظیم اہلسنت والجماعت اور اس کے اندر سے لشکر جھنگوی ، جنداللہ کے لئے ریکروٹمنٹ میں تیزی آنے کا زکر تھا اور کشمور ، جیکب آباد ، خیر پور سے وسطی سندھ تک سفر کرنے والی تکفیریت کا زکر تھا


اس اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ زوالفقار مرزا ہی وہ واحد ممبر سنٹرل کمیٹی تھے جنھوں نے اس خاتون رکن اسمبلی کی معروضات کو آگے بڑھایا تھا جبکہ وہاں آصف علی زرداری کے اردگرد نظر آنے والی شیری رحمان کی لابی نے اس خاتون کی بریفنگ کو مبالغہ قرار دے ڈالا اور تکفیریوں کے ھاتھوں جس چیف منسٹر کی بیٹی کے جلوس پر حملہ ہوا تھا وہ بھی اس حوالے سے راست اقدام اٹھانے کے خلاف نظر آیا ، خورشید شاہ نے تو اس خاتون رکن اسمبلی کو ییاں تک کہہ دیا کہ وہ سیاست میں ابھی بچی ہے اور ہمیں پتہ ہے کیا کرنا ہے


کراچی اور سندھ میں شیعہ نسل کشی سے بات صوفی سنی نسل کشی تک پہنچ گئی اور ہندوں کی ہولی کے تہوار تک پر حملے ہوئے ، اور پھر لاڑکانہ شہر کو بند کروانے کی پوزیشن میں دیوبندی تکفیری آگئے مرے پاس اس خاتون رکن اسمبلی کی ای میل محفوظ ہے اس کے آخر میں لکھا ہے کہ اس بریفنگ کے بعد سے اس کی کراچی میں فیملی اور تعلق داروں کو دھمکیاں مل رہی ہیں اور اس کو بلاول کی مشیر بنانے کا فیصلہ کرکے واپس لے لیا گیا ، اور پی پی پی کی سئنیر نائب صدارت بھی اس کی بجائے شیری رحمان کو دی گئی اور اس کا کہنا ہے کہ کیا پی پی پی میں اب کوئی اہم منصب سنبھالنے کے لئے ایک تو سعودی ، یو اے ای لابی کی رضامندی اور پھر آئی ایس آئی کا منظور نظر ہونا ضروری ہے ؟


وہ کہتی ہے کہ پی پی پی کے حوالے سے یہ پالیسی میمو گیٹ ساگا کے بعد سامنے آئی ، ساری ترجیحات ہی بدل دی گئیں زوالفقار مرزا کا بقول اس خاتون رکن قومی اسمبلی ایک قصور یہ بھی ہے کہ اس نے ایم کیو ایم ، جے یوآئی ایف ، وفاق المدارس ، اہلسنت والجماعت کے پیچھے پناہ لئے ہوئے شیعہ اور صوفی سنی نسل کشی میں ملوث لوگوں کے خلاف کاروائی کرنے اور مظلوموں کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلحہ لائنسس جاری کئے ، بدین اور اس کے آس پاس آج اگر صوفی کلچر کا تحفظ ہوا اور وہاں پر تکفیریوں کو سر اٹھانے کا موقعہ نہ ملا تو اس میں بہت بڑا کردار زوالفقار مرزا ، حسنین مرزا اور فہمیدہ مرزا کا ہے اور یہ خاندان بدین اور اس کے اردگرد بسنے والے صوفی سنی ، شیعہ ، ہندو ، عیسائیوں کا محسن خاندان ہے


پی پی پی سندھ کونسل سے خطاب کرتے یوئے چیف منسٹر سید قائم علی شاہ نے جعفر کذاب کی سنت پر عمل کرتے زوالفقار مرزا کے کیس کو فوجی کورٹ میں بھیجنے کی دھمکی دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ سندھ حکومت اور پی پی پی کا زرداری کیمپ تکفیری دہشت گردوں کے نظریہ سازوں سے ھاتھ ملاچکے ہیں


سید قائم علی شاہ ، شرجیل میمن ، سراج درانی اور دیگر مصاحبین زرداری اگر کلاشنکوف لہرانے والوں ، تھانوں پر دھاوا بولنے والوں اور زبردستی بازار بند خرانے والوں کو دہشت گرد سمجھتے ہیں اور ان کے کیس فوجی کورٹ بھیجنا درست اقدام سمجھتے ہیں تاکہ وہ عام عدالتوں سے ضمانت نہ کراپائیں تو
اورنگ زیب فاروقی سمیت سپاہ صحابہ کے ان تمام لوگوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں کیسز بھجواتے ، ڈاکٹر خالد سومرو کے بھائی راشد سومرو اور ان کی جماعت نے سندھ کی مین شاہراہ بند کروائی ، لاڑکانہ شہر کی دکانیں زبردستی بند کرائیں اور اس دوران کئی کلاشنکوف لہرائیں گی ، حافظ سعید کی جہادی ریلیاں ، لدھیانوی نے سرعام شیعہ و سنی بریلویوں کے خلاف نفرت آمیز تقاریر اور ریلیوں سے خطاب کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ، آفتاب شعبان میرانی اور نفسیہ شاہ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے دیوبندی سپاہ صحابہ کے کارکنوں کا کیس فوجی کورٹ میں کیوں نہ لگایا جائے ؟ اور زوالفقار مرزا کو کیوں سزا دی جائے ؟


فہمیدہ مرزا نے بالکل ٹھیک کہا کہ زوالفقار مرزاکے خلاف ایف آئی آر بچے دے رہی ہیں اور یہ سب اس لئے ہورہا ہے کہ زوالفقار مرزانے زرداری صاحب کی ہر حد سے گزری ہوئی منافقت و موقعہ پرستی کی پالیسی کو دانا پالیسی ماننے سے انکار کردیا ہے سندھ حکومت اور پنجاب حکومت کا دیوبندی تکفیریوں کے ساتھ خفیہ اور غیر اعلانیہ اتحاد میں کوئی شک و شبہ نہیں رہا ہے اور پی پی پی کے زرداریہ فرقے کا اتحاد اورنگ زیبی ٹولے سے اتحاد موقعہ پرستانہ ہے جبکہ پی ایم ایل این کا اتحاد تزویراتی اور نظریاتی ہے ، بدین میں اے ایس ڈبلیو جے کو جلسہ اور ریلی نہ کرنے دینا بھی زوالفقار مرزا کی سب سے بڑی دھشت گردی تھی ، ایسے شخص کو تو واقعی فوجی کورٹ سے پھانسی لگوادینا چاہئیے


آصف زرداری پی پی پی کا جنرل ضیاء الحق ہے اور بھٹوز کے لئے بروٹس ہے ، بلاول وآصفہ کی گوشہ نشینی کا زمہ دار اور ان کے تنہائی میں آنسو بہانے کا باعث ہے اور بیچاری صنم بھٹو بے نظیر بھٹو کی سیاسی میراث بلاول و آصفہ و بختاور و فاطمہ و زوالفقار جوئنیر میں منتقل کرنے کا جو خواب دیکھ رہی تھی وہ زرداری قبیلے کے سردار آصف علی زرداری اور اس کی بہن نام نہاد ادی فریال تالپر نے چکنا چور کردئے ہیں


مجھے ملک سلیم نے مری پچھلی پوسٹ پر کہا تھا کہ میں اپنے دوستوں امام بخش اور محمد شہزاد شافی کو مخاطب کرلوں اور انہوں نے یہ اشارہ روف کلاسراء کے حوالے سے مری معروضات کے تناظرمیں لکھا تھا میں اپنے ان سارے ساتھیوں سے پوچھتا ہوں کہ اب جب کہ آصف زرداری اور روف کلاسراء کے درمیان ہھر سے رجوع ہوگیا ہے جبکہ مجھے نہیں حلالہ کے طور پر ان دونوں حضرات نے کیا کیا ہے تو روف کلاسراء کے بارے میں ان کی ساری باتیں تو دھڑام دے نیچے آگریں ہیں


اب یہ “گلاسٹرا ” آصف زرداری کے پہلو میں بیٹھ خر جب تعفن اور سڑانڈ پھیلائے گا تو کیا اس کو مفاہمتی مشک و عنبر قرار دیا جائے گا اور اسے آصف علی زرداری کی بصیرت عظیم قرار دیا جائےگا جمہوریت کا چمپئن زرداری اندرون ملک تکفیریوں ، آل سعود کے ایجنٹ نواز شریف ، لدھیانوی ، اورنگ زیب فاروقی ، ملا فضل الرحمان کا اتحادی ہے اور وہ آل سعودکے تحفظ کے لئے دیوبندی و سلفی ملاوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے پھر کہتا ہوں کہ پی پی پی سندھ کونسل اور چیف منسٹر سندھ سید المنافقین قائم بالیزیدیت ، سید الکازبین و الخوشامدین شریر جل میمن ، چمچہ اعظم للزرداری سراج درانی کچھ شرم ہونی چاہئیے ، کچھ حیا ہونی چاہئیے ، بدضیمری اور موقعہ پرستی کی گندگی میں لتھڑے لوگوں اپنی ناپاک زبان سے بھٹوز کا نام نہ لو ان کی سیاسی میراث پر تمہرا سنگھاسن ایسے ہی ہے جیسے یزید کی تخت نشینی تھی

About the author

Shahram Ali

131 Comments

Click here to post a comment