Original Articles Urdu Articles

سیلف ڈیفینس جرم بن گیا : دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کے حملے کے خلاف دفاع کرنے والے پانچ شیعہ افراد کو بھکر سیشن عدالت نے سزائے موت سنادی – عامر حسینی

images

فروری 2013ء میں بھکر کے نواحی علاقے کوٹلہ جام پر دیوبندی تکفیری دہشت گرد تنظیم اہلسنت والجماعت المعروف سپاہ صحابہ پاکستان نے بازار میں ایک اپنے کارکن دکاندار کے زاتی جھگڑے میں مارے جانے اور قاتل کے نہ پکڑے جانے پر ریلی نکالی اور ریلی کا رخ بھکر میں اہلسنت والجماعت کے رہنماء دیوبندی تکفیری مولوی حمید اللہ اور عکاشہ نے شیعہ آبادی کی اکثریت کی کالونی کی جانب کرڈالا ، اس ریلی میں مسلح افراد بھی موجود تھے اور ریلی پولیس کے کانوائے کے ساتھ نکالی گئی ، جب یہ ریلی شیعہ کمیونٹی کی کالونی میں پہنچی تو ایک طرف سپاہ صحابہ پاکستان کے دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی تو دوسری طرف دکانیں و گھروں کو آگ لگانے اور لوٹ مار کی کوشش بھی گئی ،

اس پر وہاں پر موجودکچھ لوگوں نے سیلف ڈیفینس کے تحت مسلح دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور چھے حملہ آور مارگرائے گئے جبکہ اس سے پہلے دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کی فائرنگ سے تین شیعہ ھلاک ہوئے تھے ، اس حملے کے خلاف آبادی کے مکینوں نے ایک ایف آئی آر درج کرائی جس میں مولوی حمید سمیت دیگر سینکڑوں افراد کو نامزد کیا گیا ، اول دن سے بھکر پولیس ، پراسیکیوشن کا رویہ جانبدارانہ رہا اور کمزور چالان بناکر پیش کئے گئے اور بھکر کے اندر اسی طرح کے ملتے جلتے کیسز میں 187 دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کو رہا کردیا گیا اور صرف نو دیوبندی دہشت گردوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ، مولوی حمید اللہ اور منظور عکاشہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جواس ریلی کے مبینہ ماسٹر مائینڈ تھے ، عدالت کے اس فیصلے میں سب سے زیادہ جانب دارانہ بات یہ ہے کہ اس میں کہا گیا ہے کہ سیلف ڈیفنس فائرنگ سے سپاہ صحابہ کے چھے دہشت گرد نہیں مرے بلکہ ان کو اغواء کرکے بعد میں قتل کیا گیا جبکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ مرنے والوں کی لاشین تصادم کے دن اسی وقت وہاں سے اٹھائی گئی تھیں چیف منسٹر شہباز شریف جو بھکر کی نشست پر اہل سنت والجماعت المعروف سپاہ صحابہ پاکستان سے ڈیل کے نتیجے میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے مسلسل اے ڈبلیو ایس جے کو تحفظ دیتے رہے

بھکر سیشن جج کی عدالت کا کوٹلہ جام بھکر میں سیلف ڈیفنس کرنے والے مظلوموں کے خلاف یہ فیصلہ انتہائی جانب داری پر مبنی ہے اور اس جانب بھی اشارہ ہے کہ دیوبندی تکفیری دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ مسلح دہشت گردوں کے ساتھ شیعہ ، صوفی سنی ، مسیحی ، احمدی یا کسی اور کمیونٹی پر حملہ آور ہو تو ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کی وہ سیلف ڈیفینس کریں جبکہ ایسی مسلح بلوہ ریلیاں پولیس پروٹیکشن کے ساتھ نکالی جائیں

پنجاب حکومت کا دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان سے اتحاد کوئی راز نہیں ہے ، حالیہ سعودی عرب کے اعلی سطحی دوروں میں بھی اسی تنظیم کے لوگ آگے آگے تھے ملاقاتیں کرنے والوں میں اور حکومت نے کالعدم تکفیری دہشت گرد تنظیموں سے سعودی وزیر مذھبی امور سمیت دیگر حکام کی ملاقاتوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی اس سے پاکستان کی صوفی سنی ، شیعہ برادری جوکہ کل مسلم آبادی کا اسی فیصد سے زائد بنتی ہے میں یہ شدید احساس پیدا ہوا کہ موجودہ حکومت کو ان کی جان ، مال ، عزت ، آبرو کے تحفظ سے کوئی غرض نہیں ہے بلکہ وہ تکفیری دہشت گردقاتلوں کو سعودی عرب کے غاصب ، ظالم حاکموں کے ایما پر کھلی چھٹی دئے ہوئے ہیں ، سیشن عدالت کے مذکورہ فیصلے میں پرسیکیوشن کی دھاندلی اور جانب داری بہت واضح ہے اور ایسا ظاہر ہے کہ چیف منسٹر شہباز شریف اور ان کے غیر اعلانیہ ڈپٹی چیف منسٹر مربی تکفیریان رانا ثناء اللہ کے اشارے کے بغیر نہیں ہوا ہوگا

Bhakkar- Biased Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif has made the act of self-defence the heinous crime in Punjab province, as five members of Shia community, protecting their locality against the invader of Saudi-backed Ahle Sunnat Waljamaat (ASWJ) in the sectarian riots of 2013 in Bhakkar, were sentenced to the death penalty from the Punjab judiciary.

In the same cases, 187 people have been released by the judiciary, and nine people were sentenced to life in prison. The biased cleric of ASWJ, Hameedullah had designed this sectarian conspiracy in Bhakkar that have devoured the lives of six people, but the biased Punjab government did not take any action against that cleric due to pressure from Saudi Arabia.

In August 2013, the clash between workers of the Ahle Sunnat Waljamaat and members of the Shia community happened after a protest rally by the ASWJ against the police’s failure to apprehend those behind the killing of a shopkeeper. The protest rally by the armed worker of ASWJ attackeیd the Shia locality, where some Shia people had tried to protect the houses, shops and the lives of the people. During this attack six people were killed.

Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif also took notice of this clash and openly supported to the members of ASWJ. It is pertinent to mention here that PML-N government always supports terrorists’ banned outfits in Pakistan, while Rana Sanaullah, an important leader of PML-N, is quite famous for having deep connections with the central leader of terrorists’ banned outfit Laskar-e-Jhangvi.

The families of these innocent people are worried over the judiciary decision, and are of the view that this decision is nothing but injustice against Shia community. they said that they would nock the doors of high court and supreme court for justice.

About the author

Guest Post

108 Comments

Click here to post a comment