Newspaper Articles Urdu Articles

’پڑھائی چھوڑو، قرض ادا کرو‘

150501122833_jai_kumar_sindh_bonded_labour_640x360_bbcurdu_nocredit

عمرکوٹ شہر سے باہر ایک پیٹرول پمپ پر چند ریڑھیاں موجود ہیں۔ بھنے ہوئے چنے، مونگ پھلی اور سیو موجود ہیں تھر جانے والی گاڑیاں جب تیل بھروانے کے لیے یہاں آکر رکتی ہیں تو مسافر ان ریڑھی والوں سے یہ اشیا خرید کرتے ہیں۔

ان ریڑھی والوں میں ایک ریڑھی جئے کمار کولھی کی بھی ہے، جو آزاد ہیں اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق زندگی گذارتے اور کاروبار کرتے ہیں لیکن پہلے ایسا نہ تھا۔

جئے کمار کے والد کسان تھے وہ ابھی دسویں جماعت میں تھے کہ ان کے والد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے ، جس کے بعد گھر کی ذمے داری کے علاوہ والد کا قرضہ بھی ان کندھوں پر آگیا۔

جئے کمار بتاتے ہیں کہ قرضہ تو 8000 تھا لیکن زمیندار نے اس کو 60 ہزار روپے قرار دیا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ پڑھائی چھوڑ کر قرضہ ادا کرو، جو سننے کے بعد وہ پریشان ہوگئے۔ بالاخر خاندان کو لیکر راہ فرار اختیار کی، جس کے بعد زمیندار ان کو ڈھونڈتا رہا۔

جئے کمار کی ریڑھی سے چند کلومیٹر دور جبری مشقت سے رہائی پانے والے کسانوں کا کیمپ ہے، جہاں پانی، بجلی اور سکول جیسی کوئی سہولت نہیں۔ رہائی کے وقت یہ کسان خاندان صرف اپنے ساتھ چند چارپائیاں، کچھ برتن اور بسترے ساتھ لےکر آئے تھے۔

11 ہزار سے زائد کسانوں کو گزشتہ 27 ماہ میں عمرکوٹ کی مقامی عدالت کے حکم پر رہائی مل چکی ہے، جن کو رہائش فراہم کرنے کے لیے عدالت کے حکم پر یہ زمین کیمپ کے لیے الاٹ کی گئی۔

اس کیمپ میں ایک جھونپڑی میں منگل بھیل دوپہر کو روٹی بنانے میں مصروف تھے جبکہ سامنے موجود ان کا آٹھ سے نو سال کا بیٹا کیری کی چٹنی بنانے میں مصروف تھا اور ساتھ میں کھانس بھی رہا تھا۔ منگل نے بتایا کہ اس کو دو روز سے بخار ہے۔

70 سالہ منگل بھیل کو ہل ورثے میں ملا تھا لیکن اس نے اس وقت بغاوت کی، جب گندم کی بانٹ میں اس کو حصہ نہیں دیا گیا۔’ بیج، کھاد، زرعی ادویات، ٹریکٹر، کے اخراجات میں زمیندار کو آدھا حصہ ڈالنا ہے لیکن وہ یہ سارا بوجھ کسان پر ڈال دیتا ہے، اس کے علاوہ منشی اور مینجر کے اخراجات بھی ان سے لیے جاتے ہیں ، اس صورتحال میں زمیندار کے حصے میں80 فیصد اور کسان کو 20 فیصد ملتا ہے اب کسان کیسے ترقی کرسکتا ہے؟‘

منگل بھیل اب اس کیمپ میں ہوتے ہیں جبکہ دو بیٹے شہر میں مزدوری کرنے جاتے ہیں، جہاں سے روز تین سے 400 روپے مل جاتے ہیں، منگل بھیل کا کہنا ہے کہ کسانوں کو بھی روزانہ اجرت دینی چاہیے جو کم سے کم500 روپے ہو۔

جبری مشقت کے خوف نے اب کئی خاندانوں سے کھیتی باڑی کا رشتہ توڑ دیا ہے۔

شریمتی ست بائی نے دو ماہ قبل رہائی حاصل کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ’زمیندار آٹا اور پانی تک نہیں دیتا تھا، انھوں نے دس، دس ہزار قرضہ لیا تھا لیکن اس نے ہر فرد پر ایک لاکھ روپے نکال لیے، بچوں کو پڑھنے اور انہیں کہیں جانے کی اجازت تک نہ تھی، اس صورتحال کے بعد وہاں سے نکلے۔ اب ڈر لگتا ہے کہ کسی دوسرے زمیندار کے پاس جائیں گے تو دوبارہ پھنس جائیں گے۔‘

سندھ میں لاکھوں افراد کھیتی باڑی سے منسلک ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ ان کے زمیندار سے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔ کسان اور زمیندار کے درمیان حساب کتاب رکھنے کے لیے سندھ ٹیننسی ایکٹ کے تحت تحصیل دار کو ثالثی کا کردار دیا گیا لیکن اس قانون پر عملدر آمد نہیں ہوسکا، جس وجہ سے کسان کورٹس کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

زمیندار انور راجڑ خود بھی ایک کسان کے بیٹے ہیں وہ 70 اور 30 فیصد حصےداری سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’زمیندار اور کسان میں اعتماد کا رشتہ ہے اس میں کوئی لکھا پڑھا نہیں، اب کسانوں کے اکاؤنٹ تو ہوتے نہیں جو انہیں چیک دیے جائیں یہ سارے معاملات اعتماد پر ہی چلتے ہیں۔‘

ٹیننسی ایکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے کسان اور زمیندار میں کشیدگی ہے اگر قانون پر عمل درآمد ہو تو قصور وار کون ہے اس کا پتہ لگ سکتا ہے۔

سندھ میں ٹیننسی ایکٹ 50 کی دہائی میں متعارف کرایا گیا تھا، 2002 میں سندھ ہائی کورٹ نے یہ حکم جاری کیا تھا کہ اس قانون میں ترامیم کرکے کسان دوست بنایا جائے لیکن اس پر عمل نہیں ہوسکا۔

ملک میں ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں زرعی اصلاحات لائی گئی اس کے بعد سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے، خود پیپلز پارٹی اس کی مخالفت کرچکی ہے۔ تاہم ماضی میں سیاسی جماعتیں بے زمین کسانوں میں زمین بھی تقسیم کی گئی لیکن زرعی اصلاحات کی مخالفت کی گئی

2011 کے سیلابی بارشوں کے بعد زمیندار معاشی دباؤ کا بھی شکار ہے جس سے فصلوں میں لاگت میں اضافہ اور سبسڈی میں کم ہوئی ہے 90 کی دہائی سے جبری مشقت کا مسائل کو اٹھاتی آرہی ہیں، ہزاروں کسان زمنیداروں سے رہا کرائے گئے ہیں، حبس بے جا کے مطابق رہا کرائے جاتے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے 2002 میں ایک تفصیلی فیصلہ سنایا تھا جس میں 1950 کے ٹیننسی ایکٹ میں کسانوں کی ضروریات کے مطابق ترامیم کی ہدایت کی تھی، ہاری اور زمیندار کے درمیان تعلقات میں تربیت دیے جاسکیں تحصیل دار کو ثالثی کا کردار ادا کرنا ہے۔

سندھ میں جبری مشقت کے خلاف قانون کا مسودہ اب بھی زیر غور ہے۔ اراکین اسمبلی کی اکثریت کا تعلق زرعی شعبے سے ہونے کی وجہ سے کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پنجاب میں حکم جاری کیا تھا کہ اگر کہیں بھی جبری مشقت کی شکایت آئی تو اس کا مقدمہ متعلقہ ڈی پی او کے خلاف دائر ہوگا جس کے بعد پنجاب میں اس رجحان میں کمی آئی لیکن سندھ میں یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

ایک غیر سکاری تنظیم سپارک کے مطابق 2005 سے 2014 تک انھوں نے سترہ ہزار کے قریب کسانوں اور مزوروں کو جبری مشقت سے نجات دلائی ہے۔

Source:

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/05/150501_labour_day_hk

About the author

Shahram Ali

12 Comments

Click here to post a comment