Original Articles Urdu Articles

بلوچ ، شیعہ ، صوفی سنی نسل کشی پر کیسے بات کی جائے ؟ – عامر حسینی

stop_genocide

دانشوروں ، ادیبوں اور صحافیوں میں یہ بحث بڑی شدت کے ساتھ چل رہی ہے کہ ملک میں بلوچ ، شیعہ ، صوفی سنی نسل کشی پر کیسے بات کی جائے ، ایک طرف قومی یک جہتی ، ملکی سلامتی ، قومی مفاد والے ہیں ، دوسری طرف سرمایہ دارانہ ڈویلپمنٹ ماڈل کے دلدادہ بظاہر لبرلز ہیں اور تیسری طرف ایسے لوگ ہیں کہ جن کے رشتے متاثرین سے کہیں نہ کہیں ملتے ہیں اور ان کو ان دکھوں و مصائب کا پتہ ہے جو اس وقت نسل کشی کی زد میں آنے والے خاندانوں کے ہاں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں

میں نے اگرچہ اس حوالے سے اپنی علمی استعداد کے مطابق ، مشاہدے ، تجربے سے کام لیکر لکھا ہے لیکن پھر بھی مری تشفی نہیں ہوپارہی تھی اور مجھے سب سے زیادہ مایوسی کا سامنا ” ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں ” کے کیمپ سے تھا اس ترقی پسند کیمپ کی ایک انجمن ترقی پسند مصنفین ہوا کرتی تھی اور جب یہ گمنامی سے نکل دوبارہ حال میں سامنے آئی تو مرا خیال تھا کہ یہ اس علمی ، بلند ادبی ترقی پسندانہ خلاء کو پر کرے گی جو آج پاکستان کے علمی ، فکری و جدلیاتی اکھاڑے میں ترقی پسند نکتہ نظر کی عدم خوجودگی کی وجہ سے پیدا ہوچکا ہے

ویسے ہمارے آشوب پر کوئی بھی آواز ادیبانہ ، دانشورانہ ایسی نہیں ہے جو اتنی مثالی ہو کہ ہم کہہ سکیں کہ اس نے ہمارے آشوب کو بیان کرنے اور اس حوالے سے جدوجہد کو بلندیوں ہر پہنچادیا ہے ایسے میں چینیوا ایشے بے افریقی ادیب کی کنجنکشنز رسالے کے مدیر بریڈ فورڈ مورو کے ساتھ گفتگو نظر سے گزری ، اور اس میں کچھ حصے ایسے ہیں جو آج کے ہمارے اس آشوب کی تفہیم اور کسی حد تک ایک لائن آف ایکشن بنانے میں مددگار ہوسکتی ہے
چینیوا ایشے بے اس گفتگو میں مورو کے ایک سوال کے جواب میں کہتا ہے کہ کہانی کاری کو انسانی تجربے کے تخلیقی جزو کے طور پر بیان کرنا بامقصد ادب ہے

اور مورو سوال کرتا ہے کہ ایشو بے کیوں نائجیریا سے بیافرا کی علیحدگی کی تحریک کا فعال کردار بنے ؟ بیافرا کی علیحدگی کے خواب کی ناکامی کو وہ کیسا پاتے ہیں ؟ چینیوا ایشوبے کہتا ہے کہ علیحدگی کی تحریک بیافرا کی اس وقت کی ضرورت تھی کیونکہ یہ ستم کا شکار اور نسل کشی سے چور عوام کا انکار کا لمحہ تھا اور یہ ان کا حق ہے کہ وہ کسی بھی جواز کو مسترد کردیں جو ان کی نسل کشی کی اجازت دیتا ہو اور ان کے وسائل کی لوٹ مار کی اجازت دیتا ہو ، یہ ان لوگوں کی خواہشات کے برعکس تھی جو قومی یک جہتی کو مقدم سمجھا کرتے تھے ، نیز ان کے نزدیک قوم کی سرحدیں مقدس تھیں

،
مرے نزدیک جب ہم ان دلائل کو ایک دوسرے کے سامنے رکھتے ہیں تو صرف ایک پوزیشن کا انتخاب کیا جاسکتا ہے اور وہ پوزیشن ہے احترام آدمیت کی ، عوام کی خوشیوں کے ناقابل زوال حق کی اور ایسے نظام سے نجات کی جو ان کے مطابق نہیں ہے ، تاہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں طاقت اور قوت حقیقت ہیں تو ایسے میں اگر آپ کی خواہش یہ ہو کہ آپ کو تنہا چھوڑ دیا جائے ، الگ ہونے دیا جائے تو یہ آپ کو بربادی ، خون ریزی کی جانب لے جائے گی جیسے ہمیں لے گئی اور ہمیں تو معلوم بھی نہیں کہ ہماری الگ ہونے کی خواہش کے اظہارپر ہم سے کتنے فنا کے گھاٹ اتار دئے گئے

نوٹ : آپ یمن کے حوثی قبائل کی بغاوت کو لیں کہ وہ سعودی کالونی کے طور پر رہنا نہیں چاہتے ، بحرین کی عوام کو دیکھیں کہ وہ آل خلیفہ کے چنگل سے آزادی چاہتے ہیں ، لبنانیوں کو دیکھیں وہ آل سعود کے پٹھو حاکنوں سے نجات چاہتے ہیں ، فلسطین کو دیکھ لیں وہ آپنی آزادی اور شناخت اسرائیلیوں کے چرنوں میں قربان نہیں کرنا چاہتے ، یہی معاملہ اہل کشمیر اور جنوبی ہندوستان میں آدی واسی قبائل ہیں جو دہلی اور کارپوریٹ کارپوریشنوں کے مشترکہ وینچر کے منصوبے کو اپنی ہوند کے لئے خطرناک مانتے ہیں اور یہی معاملہ بلوچستان کے بلوچ کے ساتھ بھی ہے

بیافرا کی علیحدگی کی تحریک اور گوریلہ جنگ الجزائر کی مرکزی حکومت سے لڑائی تین سال تک ہوتی رہی ، اس تجربے کے بارے میں ایشو بے لکھتا ہے
بیافرا کی تین سالہ جنگ آزادی کا تجربہ انتہائی تلخ تھا جس نے پہلے واقعات کا رخ موڑا اور پھر اس جنگ کو طول دینے میں عالمی طاقتیں ملوث ہوگئیں ( یہاں بلوچ قومی تحریک اور طالبانائزیشن اور پھر اس میں علاقائی و عالمی طاقتوں کے مکوث ہوجانے کو زھن میں رکھکر یہ تجزیہ پڑھیں ) ایشو بے بڑی ہی دقیق بات کرتا ہے کہآپ نے دیکھا ، ہم دنیا کے چھوٹے لوگ مستقل طور پر قابل توسیع ہوتے ہیں ، بڑی طاقتیں اپنا کھیل کھیلتی ہیں اور ایسا ہی ہوا

نائجیریا اصل میں برطانیہ کی تخلیق تھا جو پچاس برس سےزیادہ برطانیہ کے زیر نگیں نہیں رہا ، برطانوی راج کے خاتمے پر ہم نے نائجیریا کے تصور کو قبول کرلیا تھا لیکن ملک بہتر انداز میں نہیں چل رہا تھا جس کے باعث بیافرا کا معاملہ پیش آیا ، اس ملک کو یک جا رکھنا صرف نائیجیریا کے بیافرا کو کالونی سمجھنے والے حکمران طبقات کے لئے ہی ناگزیر نہیں تھا بلکہ اس وقت کی عالمی قوتوں برطانیہ ، امریکہ اور سوویت یوینین کے مفاد میں بھی تھا ، یہ سب اسے معاشی و تزویراتی مفادات کے امکانات کی بنا پر اسے یک جا رکھنے کے خواہش مند تھے ، جو بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی وہ یہ ہے کہ اگر عوام ناخوش ہیں تو معشیت بے معنی ہے ، بیافرا کا کیا بنتا ؟ ہم اس نوع کی آزادی ، اس نوع کی خودمختاری چاہتے تھے جو ہمیں نائیجریا میں میسر نہیں تھی ملک آزاد تو ہوا مگر پھر بھی اس کے حاکم برطانیہ کی جانب دیکھتے رہے اور جب ملک کے کچھ حصوں میں عوام کا بالارادہ قتل عام کیا گیا اور حکومت کھڑی دیکھتی رہی تو یہ سب ہمارے برطانیہ سے آزادی کے مفہوم سے الگ تھا بلکہ الٹ تھا چناچہ بیافرا ایک ایسی قوم کی تشکیل کی کوشش تھی جہاں حقیقی آزادی و خود مختاری پائی جاتی ہو

بلوچستان ، کشمیر ، ناگالینڈ ، تامل ناڈ ، فلسطین ، بحرین ، سعودی عرب کے مشرقی صوبے ، نجران ، یمن کے حوثی ، فلسطینی یہ سب کے سب اپنی حقیقی آزادی و خودمختاری کی تلاش میں ہیں اور میں تو یہ کہتا ہوں کہ ہمارے سندھی ، پشتون ، سرائیکی ، گلگتی بلتی بھی حقیقی آزادی کے متلاشی ہیں اور دنیا بھر کی مظلوم و مجبور مذھبی برادریاں بھی حقیقی نجات اور حقیقی سیٹزن شپ کی تلاش میں ہیں چینیوا ایشے بے کی طرح ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ ہم ایسے چھوڑے لوگ ہمشیہ قابل توسیع یوتے ہیں ، بڑی طاقتیں اپنا کھیل کھیلتی ہیں تو دانشور ، ادیبوں ، شاعروں اور صحافیوں کو بلوچ ، شیعہ و صوفی سنی نسل کشی پر کم از کم ایشوبے جیسی بلندی پر جاکر سوچنا ہوگا

About the author

Guest Post

63 Comments

Click here to post a comment