Original Articles Urdu Articles

سعودی عرب، یمن میں امریکی فراہم کردہ کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے، سینکڑوں عام شہری ہلاک – ہیومن رائٹس واچ

10356412_10153265792249561_5596531918557231814_n

بی بی سی اردو رپورٹ: انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی افواج یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف تباہی پھیلانے والے کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے عام شہریوں کی زندگیوں کو طویل مدتی خطرات کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ اتحادی افواج نے جنوبی یمن کے صوبے صدا پر عام آبادی والے علاقوں میں ان بموں سے حملہ کیا ہے جن میں سینکڑوں عام شہری جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں ۔ صوبہ صدا حوثیوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ایسے تصویری اور ویڈیو شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کلسٹربم امریکہ کی جانب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو فراہم کیے گئے ہیں

دوسری جانب سعودی عرب نے یمن میں کلسٹر بم پھیکنے کی تردید کی ہے۔ واضع رہے کہ کلسٹر بم کے ذریعے ایک وسیع علاقے پر چھوٹے چھوٹے بم گراتے ہیں جو اگر فوری طور پر نہ بھی پھٹیں تو زمین میں دھنسے جانے کی وجہ سے آبادی کے لیے خطرناک ہوتے ہیں۔ ایک معاہدے کے تحت دنیا کے 116 ممالک نے ان بموں کے استعمال پر پابندی لگائی ہوئی ہے لیکن سعودی عرب ان ممالک میں شامل نہیں ہے۔ امریکہ اور سعودی اتحاد میں شامل دیگر ممالک نے بھی پابندی کے اس معاہدے پر دسخط نہیں کیے ہیں۔

11150405_10153265825514561_8221410439263393683_n

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ایک مبینہ کلسٹر بم یمن میں آلِصفرا کے علاقے المارا پر گرایا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر اس حملے کی تصاویر بھی شائع کی ہیں جن میں ایک امریکی کمپنی کے تیار کردہ CBU-105 نامی کلسٹر بم کی باقیات دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ وہ بم ہیں جو حالیہ برسوں میں امریکہ کی جانب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو فراہم کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ حوثیوں کے خلاف جاری سعودی عرب اور اس کے اتحادی فضائی کارروائی میں اب تک 12 سو سے زیادہ افراد ہلاک اور 3 لاکھ افراد اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چھ سو سے زائد بچے اور خواتین بھی شامل ہیں

About the author

Shahram Ali

40 Comments

Click here to post a comment