Original Articles Urdu Articles

بن لادن ایبٹ آباد میں برسوں کس کا “مہمان” رہا.؟؟ – تنویر اختر

11217830_10204060956309347_777723049349892855_n

دور حاضر کے سب سے بڑے دہشت گرد اور عالمی سطح پر سب سے زیادہ مطلوب مجرم اسامہ بن لادن کی امریکی سیلرز کے ہاتھوں “کریا کرم” کی چوتھی سالگرہ پر گذشتہ روز یہی سوال دن بهر میرے ذہن میں کلبلاتا رہا کہ … مملکت خداداد کی سب سے بڑی عسکری تربیت گاہ کاکول کے پہلو میں قائم یہ کمین گاہ آخر “دنیا کی سب سے بڑی اور ہوشیار سپائی ایجنسی” کی دوربین نگاہوں سے برسہابرس تک کیسے اوچهل رہی.؟؟ اور اس سے کہیں زیادہ شرم ناک امر یہ کہ امریکہ ہیلی کاپٹر، اس “ہر دم بیدار ادارے” کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ہماری “محفوظ ترین” فضائی سرحدوں کو پامال کرتے ہیں اور پهر گھنٹہ بهر سے زائد طویل “آپریشن” کے بعد اپنا مطلوبہ ٹارگٹ اٹھا کر لے جاتے ہیں
جبکہ ہماری “بیداری” اس کے کئی گھنٹے بعد ہوش میں آتی ہے.؟؟ ان “احمقانہ” سوالات کے جواب میں “کوئی” چپکے سے میرے کانوں میں آن سرگوشی کرتا ہے کہ؛ “بهولے بادشاہ، کدی سنیا نئیں جے کہ کتی چوراں نال رلی ہوئی ہے”.! میرا مخمصہ ابھی بھی باقی ہے کہ “چور اے باہروں آ کے اپنا بندہ چک لے جانڑ آلے سنڑ یا گهر اچ چھپایا بندہ ای اصل چور سی”.؟؟ سرگوشی پهر اسی لہجے میں جواب دیتی ہے کہ “اے اصل اچ اندر آلے تے باہر آنے دوہاں چوراں نال رلی رہندی اے، بس مال دی گل اے، جتھوں چنگا آ جاوے، اودے نال ٹر پیندی اے”.! اسامہ بن لادن کی الباکستان میں “روپوشی” کی کہانی بس اتنی سی ہی ہے کہ ہمارے “محافظین” نے اپنے اس “مشترکہ سرمایہ” کو امریکہ کی مرضی سے ہی چھپا رکها تها .. “خود مختاری” کی کہانی البتہ یہ ہے کہ ہم نے امریکہ کے بندے کو حسب طلب اس کے حوالے کرنے میں جب ٹال مٹول سے کام لیا تو انہوں نے ہماری اس “ساورنٹی” کے ساتھ زنابالجبر کرتے ہوئے “ازخود” اختیار کے تحت اپنا بندہ خود “بازیاب” کرا لیا .
قصہ مختصر؛ اسامہ سے اس کے تخلیق کاروں نے جتنا کام لینا تها، اس کی تکمیل کے بعد اسے پاک فوج کی زیر نگرانی پینشن پر بهیج دیا گیا تاکہ بوقت ضرورت اسے دوبارہ استعمال کیا جا سکے .. اور یہ سیاسی ضرورت اوبامہ کو دوسری مدت صدارت کے انتخابات کے وقت “بڑا کارنامہ” کر دکھانے کے تحت جب پیش آئی تو ہماری “حمیت اسلامی” اور “تذویراتی گہرائی” دونوں جاگ اٹهیں . اور پهر؛ امریکہ بہادر کو گهی نکالنے کیلئے انگلی ذرا ٹیڑھی کرنا پڑی ..

About the author

Guest Post

26 Comments

Click here to post a comment