Original Articles Urdu Articles

زوالفقار مرزا کے بیانات اور پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کا ردعمل – عامر حسینی

Asif-Ali-Zardari-and-Zulfiqar-Mirza-old-picture09738296_20121118235213

زوالفقار مرزا کے بیانات اور پیپلزپارٹی میں شریک چئیرمین آصف علی زرداری کا ردعمل اور سندھ حکومت کی جانب سے پولیس کا سیاسی استعمال پیپلزپاڑتی کی اشرافیہ کی کھوکھلی اور بنجر اخلاقیات کا عکس ہے ، یہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے اندر موجود اس سیاسی اشرافیہ کا چہرہ ہے جس کو لیپا کرکے خوبصورت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ، اور میں تو یہ کہوں گا کہ پاکستان کی اشرافیہ صرف سیاسی ہی نہیں بلکہ عدالتی و فوجی اشرافیہ بنیادی طور پر بدترین اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے اور اصل میں یہ وہ دلدل ہے جس میں یہ سب پاوں پاوں دھنسے ہوئے ہیں زوالفقار مرزا آصف علی زرداری کو پوری طرح سے سبق سکھانے پر تل گئے ہیں اور یہ مارو یا مرجاو والا مشن ہے

علی جعفر زیدی نے اپنی سوانح عمر ” باہر جنگل ، اندر آگ ” میں لکھا ہے کہ لندن میں 2007ء میں سندھ کے ایک صاحب کے گھر ڈنر تھا اور بے نظیر بھٹو سمیت پی پی پی کے بڑے بڑے نام اس ڈنر میں موجود تھے ، مخدام امین فہیم سے علی جعفر زیدی کی ملاقات ہوئی تو “نصرت ” میگزین اور اس کے کردار کا زکر چل نکلا ، اس وقت ایک صاحب مخدوم امین فہیم صاحب کے ساتھ تھے جو ان کا بریف کیس پکڑے ہوئے تھے ، میں سمجھا کہ ان کے پولیٹکل سیکرٹری ہوں گے ، مخدوم صاحب کسی کام سے اٹھکر اندر گئے تو اس آدمی نے مجھ سے سوال کیا

کیا آپ بیگم نصرت بھٹو کے ایڈیٹر تھے ، پہلے تو مجھے کچھ سمجھ نہ آیا ، پھر جب سمجھ آئی تو میں نے سوچا کہ مخدوم امین فہیم کے سیاسی سیکرٹری کو اتنا بھی نہیں پتہ تھا کہ نصرت پیپلزپارٹی کا ترجمان ہفت روزہ رسالہ تھا اور پھر ایڈیٹر تو اخبارات ، جرائد ، کتب وغیرہ کے ہوتے ہیں کسی زندہ زی روح کا ایڈیٹر کوئی کیسے ہوسکتا ہے

علی جعفر زیدی کو بعد میں پتہ چلا کہ وہ صاحب راجہ پرویز اشرف تھے جو گیلانی کے بعد وزیراعظم بنائے گئے اس سے یہ اندازہ لگایا جانا مشکل نہیں ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی میں اب کس طرح کا سٹف باقی رہ گیا ہے اور آصف علی زرداری کے کیسے دوست تھے ، زوالفقار مرزا جن انکشافات کو بیان کررہے ہیں ان سے خود ان کی قماش کا بھی اظہار ہوتا ہے ، کیونکہ زرداری اگر اخلاقی سطح پر اس قسم کی گراوٹ کا شکار تھے تو ان کے یار غار ، ہم نوالہ و ہم پیالہ اور رازدار بھی تو کوئی “حاجی ثناء اللہ ” نہیں ہوں گے

پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ میں ضیاء الحق کی باقیات کو کردار کے دیوالیہ پن کا شکار لوگوں سے نمٹنے میں بہت آسانی رہتی ہے خاص طور پر اس وقت جب رندان بلاخیز نظریات سے بھی توبہ تائب ہوکر مال بنانے اور عوام سے دور ہوگئے ہوں ، پی پی پی پر کارکن دشمن لوگوں کے قبضے کی کہانی بہت پرانی ہے ، اب تو صرف ایک دوسرے کے گندے کپڑے بیچ چوراہے پر دھونے کی دوڑ لگی ہوئی ہے ، ویسے آصف علی زرداری تو کبھی زندگی میں پی پی پی کے سیاسی فلسفہ سے وابستہ نہیں رہے بلکہ انھوں نے پی پی پی کے اندر ایک ایسا جتھہ بنایا جس کا ماٹو اصل میں سیاست ان خطوط پر ہی کرنا ہے جن پر ملٹری اسٹبلشمنٹ نے 80ء کی دھائی سے استوار کی تھی ، آصف علی زرداری ان ہی ہتھکنڈوں کو بروئے کار لانے میں ید طولی حاصل کرچکے ہیں زوالفقار علی مرزا کو سچ کی الٹی تب لگی ہے جب وہ زرداری کے کلب سے باہر کردئے گئے

About the author

Guest Post

136 Comments

Click here to post a comment