Featured Original Articles Urdu Articles

سبین محمود کی شہادت : بلوچستان پر سچ بولنے والی ایک اور آواز خاموش کردی گئی – عامر حسینی

11164800_10152723769947382_4150169341340153323_n
دی سیکنڈ فلور یعنی ٹی 2 فلور کی ڈائریکٹر سبین محمود اپنی والدہ کے ساتھ کراچی میں کار میں جارہی تھیں جب ان کو نامعلوم موٹر سائیکل پر سوار مسلح لوگوں نے گولیوں کا نشانہ بنایا ، وہ پانچ گولیاں کھانے کے بعد جانبر نہ ہوسکیں جبکہ ان کی والدہ بھی گولیوں سے زخمی ہوکر ہسپتال داخل ہیں سبین محمود کی شہادت ایسے موقعہ پر ہوئی ہے جب کہ انھوں نے صرف ایک دن پہلے اپنے ہاں ” بلوچستان پر خاموشی توڑ ” پروگرام آرگنائز کیا اور یہ وہ پروگرام تھا جو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ میں ہونا تھا لیکن وہاں آئی ایس آئی کے کچھ ہرکاروں نے انتظامیہ پر دباو ڈالا اور وہ پروگرام وہاں پر کالعدم قرار پایا ،
اس پروگرام کو کروانے کے لئے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ کے جو پروفیسر یعنی ڈاکٹر تیمور الرحمان متحرک ہوئے تھے ان کے خلاف ایک دم سے نادیدہ ھاتھ متحرک ہوئے ، ایکسپریس ٹی وی چینل پر ایک اینکر نے اپنے پروگرام میں راشد الرحمان کے بیٹے ڈاکٹر تیمور الرحمان اور اس کے خاندان کو ایسے بناکر پیش کیا جیسے پاکستان نامی ریاست کو سب سے زیادہ خطرات ہی تیمور نامی لمز کے پروفیسر سے درپیش ہیں اور صاف پتہ چل رہا تھا کہ یہ آب پارہ کی ستخ عمارت کے اندر بیٹھے منکر نکیروں کا بھیجا ہوا سکرپٹ ہے جسے وہ اینکر پڑھ رہا تھا

سبین محمود نے جب بلوچستان کے معاملے پر بڑھ جانے والی گھٹن اور حبس کو ختم کرنے کی ٹھانی تو کم از کم سبین محمود کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ اس ملک کی اسٹبلشمنٹ اور ایجنسیوں میں بیٹھے منکر نکرین ان کو اس جرم کی اتنی بڑی سزا دینے پر تل جائیں گے لیکن سبین محمود کو ایک احساس ضرور ہوچلا تھا کہ جب سے اس نے بلوچستان پر ریاست کے سب سے ناپسندیدہ اشخاص ماما قدیر ، فرزانہ بلوچ ، علی احمد ٹالپر ودیگر کے موقف کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے تب سے اس کی ان دیکھی نگرانی شروع کردی گئی ہے ، اس کے فون ٹیپ کئے جارہے ہیں اور اس کی گاڑی کا پیچھا کیا جارہا ہے ، بلوچستان پر ریاست کی جانب سے بات کرنے پر پابندی اور لوگوں کو ریاستی موقف سے ہٹ کر دوسرے موقف سے بے خبر رکھنے والی پالیسی کے خلاف چلنے پر سبین محمود کا ٹوئٹر اکاونٹ بلاک کیا گیا ، اس کا فیس بک اکاونٹ ہیک کرنے کی کوشش ہوئی اور اسے ٹی 2 فلور میں بلوچستان پر پروگرام کرنے سے روکنے کی کوشش ہوئی اور نامعلوم نمبرز سے اسے دھمکانے کی کوشش کی گئی لیکن سبین محمود نے ان سب دھمکیوں اور دھونس کو چنداں اہمیت نہ دی

کراچی میں بلوچ مزاحمتی تحریک ، بلوچ انسانی حقوق کی صورت حال پر اسٹبلشمنٹ مخالف بیانیہ کے ساتھ پروگرام کرنا اور اس حوالے سے ایک فرنٹ کی تشکیل کی راہ ہموار کرنا اسلام آباد کی سب سے طاقتور آبپارہ سے ملک پر نادیدہ حکومت کرنے والی ایجنسی کو طیش دلانا ہے اور وہ یہ بھی سمجھتی ہے کہ اگر اس موقعہ پر پاکستان کے اربن سنٹرز میں پیدا ہوجانے والے سبین محمود جیسے سرپھروں کو سبق نہ سکھایا گیا تو پھر جبر و فسطائیت کے زریعے قائم کیا گیا حصار زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا

پاکستان کی حکمران اشرافیہ اور اس کے مفادات کی حفاظت پر مامور عسکری انتظامیہ بلوچستان کے سوال کو پاکستان کے اربن سنٹرز پر زیر بحث لانے اور معتوب آوازوں کو خاموش کرانے کے لئے اسقدر وحشیانہ اقدام کیوں کررہی ہے ؟ اس سوال کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ اسلام آباد بلوچستان کے حوالے سے جو وینچرز چین کے ساتھ ملکر کررہا ہے اس کے لئے درکار سرمایہ اسی صورت پاکستان آئے گا جب بلوچستان میں امن ہوگا ، بلوچستان میں سرمایہ داروں کی سرمایہ کاری پر کوئی آنچ نہیں آئے گی ، بلوچستان میں گوادر ایک بین الاقوامی بندر گاہ اور پھر نام نہاد اقتصادی ترقیاتی کوریڈور کو بھی تحفظ اسی صورت میسر آئے گا جب وہاں پر ریاست کی پالیسیوں کے خلاف ساری آوازیں خاموش کردی جائیں گی

پاکستان کی ریاست اور بلوچستان کے وسائل اور اس کی مخصوص تزویراتی پوزیشن سے فائدہ اٹھانے کا خواب دیکھنے والے سرمایہ دار سب کے سب بلوچستان میں بلوچستان کے عوام کی محکومی ، ان کی محرومی اور ان کی غلامی کے خلاف کھڑی ہونے والی قومی مزاحمت کی تحریک کو کچلنے پر متفق نظر آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تو پہلے ہی بلوچستان کے چپے چپے پر ایف سی ، پاکستان آرمی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکار تعینات ہیں اور اب ایک اور سریع الحرکت سپیشل پاکستانی فوج کے یونٹس بنائے جارہے ہیں جو اقتصادی کوریڈور کی حفاظت کے نام پر بلوچستان میں تعینات کردئے جائیں گے اور اس طرح سے پورا بلوچستان اور بلوچ ایک بڑے عسکری محاصرے میں زندگی بسر کریں گے

بلوچ عوام کی محکومیت اور بلوچستان کو ایک کالونیل طرز پر چلائے جانے پر اس وقت پاکستان کی کسی بھی بڑی قومی یا علاقائی پارٹی کو اعتراض نہیں ہے ، پنجابی بزنس مین ، پنجابی صنعت کاروں ، پنجابی سرمایہ داروں کی سب سے بڑی نمائیندہ پارٹی مسلم لیگ نواز ہو یا پنجابی زمیندار اشرافیہ اور متوسط پنجابی کسانوں کی نمائیندہ مسلم لیگ ق ہو ، پاکستان میں تبدیلی کے نام پر نئی ابھرنے والی پروفیشنل پرتوں کی نمائیندہ پاکستان تحریک انصاف ہو ، پنجاب اور کراچی شہر میں پاکٹس رکھنے والی مذھبی سیاسی جماعتیں ہوں ، جماعت اسلامی ہو، پشتون قوم پرستی کی علمبردار جماعتیں ہوں جن میں اے این پی اور پشتون خوا ملی عوامی پارٹی نمایاں ہے ،
سندھی مڈل کلاس اور سندھی جاگیرداروں ، وڈیروں اور اشرافیہ کے غلبے اور پنجاب ، خیبر پختون خوا ، بلوچستان ، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر کے اشراف کے بوجھ تلے دب کر سسکنے والی پیپلزپارٹی ہو اور خود بلوچستان اور سندھ کی نام نہاد مین سٹریم پارلیمانی پالیٹکس سے جڑی قوم پرست جماعتیں ہوں ان سب کے قائدین پہلے درجے سے لیکر تیسرے درجے تک سب کے سب پاکستان کی نام نہاد سرمایہ دارانہ ترقی کے سفر سے مستفید ہورہے ہیں اور ان کو آئیندہ پاکستان کے توانائی ، انفراسٹرکچر کی تعمیر کے بڑے بڑے منصوبوں سے بہت سا پیسہ کمانے کا موقعہ ملتا نظر آرہا ہے ، نواز شریف ، آصف علی زرداری ، اسفند یار ولی ، محمود خان اچکزئی ،فضل الرحمان ، سراج الحق ، جہانگیر ترین ، اسد عمر سمیت سارے سیاست دانوں کو یقین ہے کہ چین -پاکستان اور دیگر ملکوں کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ ملکر بننے والے میگا پروجیکٹس میں ان کے ھاتھ بہت مال آئے گا اور یہی وجہ ہے کہ اس مرحلے پر یہ سب لڑنا نہیں چاہتے ، پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ اور اس ملک کی سرمایہ کی عمارت میں گھسا فوجی سرمایہ بھی اپنے سٹیک کے حوالے سے یقین دھانی چاہتا تھا اور یہ یقین دھانی اس کو مل گئی ہے ،
یہ فوجی سرمایہ پہلے ہی گلف ریاستوں کے سرمایہ سے ملکر پاکستان کے زرعی ، بینکنگ سیکٹرز سمیت کئی ایک سیکٹرز میں اپنی جڑیں مضبوط کرچکا ہے اور مصر کی فوج کی طرح پاکستانی فوج کا بھی کرونی کیپیٹلزم میں بہت اہم کردار بن چکا ہے اور یہی وہ کردار ہے جس کو برقرار رکھنے کے لئے بلوچستان کو ایک نوآبادی کے طور پر ٹریٹ کیا جارہا ہے ، بلوچ اپنے علاقے کو اپنے سے دور ہوتا دیکھ رہے ہیں اور ان کو نام نہاد ترقی کا یہ سفر اپنے وجود کے مٹ جانے سے عبارے لگ رہا ہے ، اسی لئے پوری بلوچ قوم کی اکثریت کے اندر یہ خیال جڑ پکڑ چکا ہے کہ ان کی بقا ، شناخت ، وجود ، ان کے وسائل کے باقی رہنے کی ایک ہی سبیل ہوسکتی ہے اور وہ ہے آزاد بلوچستان

آزاد بلوچستان ایک ایسا نعرہ اور ایک ایسی تحریک ہے کہ جسے سنکر پاکستان کی ایجنسیاں ، سیکورٹی فورسز اور ریاست کی دیگر جابر مشنیری کا ٹمپرامنٹ گرجاتا ہے اور وہ اس تحریک کے علمبرداروں کے کسی بھی قسم کے حقوق ماننے کو تیار نہیں ہیں اور وہ بلوچستان میں آزادی کی مانگ کرنے والوں ، اس نعرے سے ہمدردی رکھنے والوں کو اٹھالینا ، ازیت خانوں میں ازیت دینا ، ان کو تشدد کے بعد مسخ شدہ لاشوں کی شکل میں اجتماعی قبروں میں دفن کردینا ، یا ویرانوں میں پھینک دینا درست خیال کرتے ہیں ، ان کے نزدیک جو آزادی پسندوں کے بنیادی انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھائے ، ان کی تحریک کو غیر ملکی سازش قرار نہ دے بلکہ اصلی ، پاپولر تحریک قرار دے اور بلوچ قوم کو محکوم بنائے جانے اور ان سے نوآبادی کا سلوک کئے جانے کی تصدیق کرے وہ بھی ففتھ کالمسٹ ہے ، غدار ہے اور وہ غیر ملکی قوتوں کا آلہ کار ہے

بلوچستان میں ایجنسیوں ، ایف سی اور فوج کا راج ہے اور اس راج میں جماعت دعوہ ، سپاہ صحابہ ، جماعت اسلامی کے لشکر دندناتے پھرتے ہیں اور یہ سب ان سب بلوچ سیاسی کارکنوں ، دانشوروں ، شاعروں ، ادیبوں ، لکھاریوں ، طالب علموں ، اساتذہ ، خواتین ایکٹوسٹوں کو دھمکاتے ، ان کو جینے کے حق سے محروم کرتے پھرتے ہیں

سبین محمود کی شھادت اصل میں ریاست کے حکمران طبقات کی جانب سے کراچی ، لاہور ، اسلام آباد ، ملتان سمیت اربن سنٹرز میں بیٹھے ان تمام سماجی رضاکاروں ، سیاسی کارکنوں ، دانشوروں ، صحافیوں ، ادیبوں کے لئے کھلی تنبیہ اور وارننگ ہے کہ اگر وہ بلوچستان پر سرکاری و ریاستی بیانئے سے ھٹ کر حقیقی ، معروضی اور سچائی پر مبنی بیانئے کو پاکستان کے اربن سنٹرز پر مشتہر کرنے اور عوام دوست قوتوں کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے سے باز نہ آئے تو پھر ان کا حشر سبین محمود جیسا ہوگا

پاکستان کی اسٹبلشمنٹ اور اسلام آباد کا اپنا ایک مہا بیانیہ ہے اور اس مہا بیانیہ کے کئی ایک پہلو ہیں ، اس کا ایک پہلو نام نہاد تزویراتی گہرائی کی پالیسی ہے جس کے تحت اس نے بہت سارے نجی مسلح دہشت گرد لشکر دیوبندی اور اہلحدیث مکاتب فکر سے پال رکھے ہیں اور اس تزویراتی گہرائی کو پاکستان کے تحفظ و سلامتی کی پہلی اور آخری حفاظتی دیوار ثابت کرنے کے لئے اس کے پاس اردو اور انگریزی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور اب سوشل میڈیا میں بھی بھاڑے کے خچروں کی ایک نہ ختم ہونے والی فوج بیٹھی ہے جو دودھ کو کالا اور شہد کو کڑوا ثابت کرنے میں کوئی دیر نہیں لگاتی ، اس مہابیانیہ کو چیلنج کرنے والوں کے لئے اسٹبلشمنٹ اور اسلام آباد دونوں خونخوار ہوجاتے ہیں ، سبین محمود نے بھی اس مہا بیانیہ کو چیلنج کیا ، اس نے بلوچستان پر خاموشی ، بلیک آوٹ ، سنسر شپ کو چیلنج کیا اور اس کو توڑنے کی کوشش کی اور نتیجے میں اپنی جان سے ھاتھ اسے دھونا پڑے

اسٹبلشمنٹ تو ماضی میں اپنے پسندیدہ سیاست دان الطاف حسین اور ان کی محبوب پارٹی ایم کیو ایم کا جو حشر کررہی ہے اس سے یہ اندازہ لگایا جانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ جو مکمل آزادی کی بات کرتی ہوں ان اقوام سے اسٹبلشمنٹ اور اسلام آباد کا سلوک کیا ہوسکتا ہے اور اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ

ابتک چار ہزار سے زائد بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ویرانوں سے ملی ہیں ، جبکہ 15 ہزار سے زائد لاپتہ ہیں اور سیکورٹی فورسز کے مظالم سے تنگ آکر کئی ہزار لوگ داخلی مہاجرت کے تجربے سے بھی دوچار ہوئے ہیں اور پورا بلوچستان چھاونی میں بدل چکا ہے

سبین محمود !
تمہاری جرات ، بہادری اور عزت و وقار سے دی جانے والی قربانی بہت قابل قدر ہے ، ہمارا سرخ سلام تمہیں اور مجھے یقین ہے کہ تمہاری بے گناہ شہادت رائیگاں نہیں جائے گی ، اسٹبلشمنٹ کا مہا بیانیہ بہت جلد اربن سنٹرز میں بھی عوامی جگہوں پر چیلنج ہوگا اور اس کے تار و پود بکھر جائیں گے

 

About the author

Guest Post

73 Comments

Click here to post a comment