Original Articles Urdu Articles

سبین محمود کی شہادت، بلوچستان کے مسائل اور پورا سچ – عامر حسینی

11078251_10205079333877024_8545119946547640876_n

سبین محمود شہید – جہاں دیواروں پر آرٹ ہو اور ادیب و شاعر پورا سچ بولیں

ڈان ڈاٹ کوم ویب سائٹ پر سمیع شاہ نے اپنے ایک بلاگ میں سبین محمود کی شہادت کے حوالے سے لکھا ہے کہ سبین اکثر اس سے کہا کرتی تھی کہ وہ ایک ایسا کیفے کراچی میں بنانا چاہتی ہے جہاں دیواروں پر آرٹ ٹنگا ہو اور وہاں شاعر ، ادیب آزادی سے بات کرسکیں اور ٹی 2 فلور اسی آئیڈیا کی عملی شکل تھا
سچی بات یہ ہے کہ میں یہ چاہتا تھا کہ ٹی 2 فلور پر

Unsilencing Baluchistan

کے نام پر مذاکرے کے دوران ہمیں ماما قدیر بلوچ ، فرازنہ مجید کے ساتھ ساتھ کم از کم حیدر جاوید سید کو ضرور مدعو کرنا چاہئیے تھا اور ان سب لوگوں کو بھی جو کم از کم “بلوچ قومی تحریک کے بعض سیکشنز کے تکفیری دیوبندی سلفی فسطائیت کے ساتھ اشتراک اور اتحاد ” پر بات کرتے ہیں اور اس تحریک کے کئی ایک سیکشن کے نسل پرستانہ دہشت گرد شاونزم پر واضح تحفظات رکھتے ہیں اور ان کو یہ شکائت بھی ہے کہ بلوچستان میں اسٹبلشمنٹ کی چیرہ دستیوں پر بات کرنے والے ، ایجنسیوں کے سنگین جرائم پر بات کرنے والے بلوچ شاونسٹ اور بلوچ سرمچاریت کو مذھبی فرقہ پرستانہ دیوبندی تکفیری دہشت گردی کے ساتھ ملاکر چلنے والوں کے خلاف کھل کر بات نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی مذمت تک کرتے ہیں

میں نے سرائیکی ، پنجابی ، سندھی ، پشتون مزدوروں کے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ھاتھوں مارے جانے ، آبادکاروں کے خلاف زبردست نسلی شاونزم کے سامنے آنے پر ماما قدیر بلوچ اور ان کے دیگر ساتھیوں کی خاموشی بلکہ کئی ایک جگہ تو ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک خو جائز تک قرار دینے پر احتجاج کیا اور ان تک پیغام بھی پہنچایا مگر نہ تو ان کی خاموشی ٹوٹی اور نہ ہی اس موضوع پر ان کی جانب سے کوئی وضاحتی بیان دیا گیا

ماما قدیر بلوچ ، فرزانہ مجید اور ان کے ساتھی بلوچوں کی جبری گمشدگیوں ، بلوچوں کی نسل کشی اور ان پر چڑھائی کے حوالے سے جو موقف رکھتے ہیں اس کے ساتھ اس ملک کے اکثر بایاں بازو کے دوست ، انسانی حقوق کے کارکن ، ترقی پسند سندھی ، پشتون ، سرائیکی اور چند ایک پنجابی ترقی پسند متفق ہیں لیکن نجانے مجھے اور ان کو کیوں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ماما قدیر بلوچ ، فرزانہ بلوچ اور کئی اور بلوچ ایکٹوسٹ بلوچ قوم پر جبر اور استحصال اور زیادتی کے خلاف دوسری اقوام کی آوازوں کو ویلکم تو کرتے ہیں لیکن ان اقوام کے مزدورں اور معصوم شہریوں سے جو سلوک بی ایل ایف یا بی ایل اے کررہی ہے اس پر ان اقوام کی پریشانی اور تشویش کا ان کو کوئی خیال نہیں ، ان کی دل جوئی کے حوالے سے ان کی ظالمانہ سرد مہری پر کوئی نوٹس بھی نہیں لیا جارہا
حیدر جاوید سید نے پے در پے اپنے کالموں میں کئی ایک سنسی خیز انکشافات کئے ہیں

حالیہ کالم نے انھوں نے سات نام شایع کئے ہیں جنھوں نے دیوبندی تکفیری دہشت گرد تنظیم “جنداللہ ” کی تشکیل کی جن میں ایک نام تو بی ایل ایف کے سربراہ اللہ داد نذر بلوچ کا ہے اور انہوں نے بلوچ لبریشن فرنٹ کے بلوچ پیپلز لبریشن فرنٹ کے نام سے آغاز کرنے اور موسی بلوچ جوکہ بحرین کی خفیہ پولیس میں ملازم تھا کو اس کا روح رواں بتلایا جبکہ رفیق جرار یعنی عبدالقدوس بلوچ کے عمان خفیہ پولیس میں ملازم تھا اور وہ بھی اس تنظیم کا تشکیل کنندہ تھا اور ان سات ناموں میں ایک اور نام رمضان کبیر مینگل کا ہے جو اب بلوچستان میں اہلسنت والجماعت یعنی سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کے زیلی ونگ لشکر جھنگوی کا روح رواں ہے اور ان سب کے رشتے گلف ریاستوں سے ملتے ہیں

حیدر جاوید سید کے ان انکشافات کو اگر ہم سامنے رکھیں اور پھر یہ بھی دیکھیں کہ بلوچستان کے اندر پنجابی ، سرائیکی ، سندھی ، پشتون محنت کشوں اور غریب نائیوں ، موچی ، ترکھان ، معمولی کار پینٹرز اور ٹیچرز اور یہاں تک کے خواتین اساتذہ پر جو حملے ہوئے ان سب کی زمہ داری بی ایل ایف یا بی ایل اے نے قبول کی اور یہ بی ایل ایف اور بی ایل اے ہے جس کے سرمچاروں کی سپاہ صحابہ پاکستان ، جند اللہ ، الفرقان ، جیش العدل وغیرہ میں بھی رکنیت کے شواہد ملتے ہیں اور اگر میں اپنے سورسز کی اطلاعات کی روشنی میں اس سارے معاملے کو دیکھوں تو مجھے پتہ چلتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ نے جہاں پنجابی اور پشتون دیوبندی دہشت گردوں کو بلوچوں کے خلاف بطور پراکسی کے استعمال کیا وہیں پر خود بلوچ تحریک کے کئی ایک سیکشن سپاہ صحابہ پاکستان ، لشکر جھنگوی ، جند اللہ وغیرہ کے ساتھ اشتراک میں کھڑے ہیں

Unsilencing Baluchistan

مشن بالکل ٹھیک ہے لیکن ادھورا اور نامکمل تنقید کے ساتھ نہیں ہونا چاپئیے سبین محمود یہی چاہتی تھی کہ کسی بھی ایشو پر بحث آزادی کے ساتھ ، کسی خوف اور ڈر کے بغیر ہونی چاہئیے اور سارے پہلو سامنے آنے ضروری ہیں ماما قدیر کی زات پر تنقید کا ایک پہلو بہت وزنی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ بلوچستان میں کام کی تلاش میں آنے والے پنجابی ، سرائیکی ، پشتون ، سندھی ، ھزارہ کے قتل کے جواز کے قائل ہیں اور وہ اس کی مذمت سے فرار اختیار کرتے ہیں
ان سے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ بلوچ محنت کش جو اس وقت بحرین کے اندر مختلف کام کررہے ہیں کیا بحرینی عرب ان کو مارنا شروع کردیں کیونکہ کئی ایک بلوچ بحرینی خفیہ پولیس میں کام کررہے ہیں ، یقینی بات ہے کوئی بھی اس کی حمائت نہیں کرے گا

بلوچ قوم کی آزادی سرائیکیوں ، بلوچوں ، پشتونوں ، سندھیوں اور پنجابی محنت کش طبقے کی حمائت اور ان سے یکجہتی و جڑت کے بغیر ہرگز ممکن نہیں ہے ، مظلوم اقوام اور ظالم حکمرانوں کی قوم کے محنت کش طبقات کے خلاف شاونزم رجعت پسندی ، تاریک خیالی اور ری ایکشنری ہی ہوا کرتا ہے ماما قدیر اور ان کے ساتھیوں کو اس سوال سے جلد بدیر معاملہ کرنا ہوگا اور ان کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ اس معاملے پر ان کی رائے اور موقف کیا ہے
ان کو سرائیکیوں کے دکھوں کو بھی محسوس کرنا ہوگا جیسے وہ سرائیکیوں سے توقع رکھتے ہیں

About the author

Guest Post

105 Comments

Click here to post a comment