Featured Original Articles Urdu Articles

وسعت اللہ خان کی ڈنڈیاں – از عبدل نیشاپوری

a19

وسعت اللہ خان سینئر پاکستانی صحافی ہیں جو بی بی سی اردو اور پاکستانی اخبارات میں اپنی تحریروں اور تجزیوں کی وجہ سے مشھور ہیں، دیگر زرد اور خاموش صحافیوں جیسا کہ انصار عباسی، ندیم پراچہ، مشرف زیدی، حامد میر کے بر عکس عام طور پر وسعت الله خان کی تحریروں میں حساس موضوعات پر متوازن تجزیے پیش کیے جاتے ہیں لیکن بعض اوقات یوں لگتا ہے کہ نجم سیٹھی کی طرح، وسعت الله خان بھی اسی فیصد سچ میں بیس فیصد مصنوعی توازن یا دروغ کا تڑکا لگا رہے ہیں ، نہایت ہی خفتہ ڈنڈی مارتے ہیں اور ان کا رجحان پاکستان کے بدنام زمانہ اشرافیہ لبرلز یا فیک لبرلز کی طرف نظر آتا ہے – کچھ مثالیں پیش خدمت ہیں

روزنامہ دنیا میں اپنے کالم ‘وقت پر دس رپلی بھی نہ نکالیو’ میں آپ نے عراق اور شام میں جاری تصادم کے لیے نہایت بے جا طور پر سنی اور شیعہ کی بائنری استعمال کی اور داعش، القاعدہ اور النصرہ کی سلفی وہابی اور دیوبندی شناخت کو مکمل طور پر غائب کر دیا

http://e.dunya.com.pk/colum.php?date=2014-09-16&edition=LHR&id=37080_54009707

a3a1a2

بی بی سی اردو کے لیے لکھے گئے اپنے کالم ‘پاکستان کی شان بلوچستان’ میں وسعت اللہ خان نے بلوچ لبریشن آرمی اور دیگر بلوچ دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے ہزاروں سرائیکی، سندھی، پشتون اور دیگر غیر بلوچ سیٹلرز اور مزدوروں کا تذکرہ بالکل گول کر دیا، بلوچ دہشت گرد تنظیموں کے لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے ساتھ قریبی تعلقات کو بھی محو کر دیا جبکہ کالعدم دیوبندی دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کا موازنہ ایک مظلوم اور پرامن سیاسی تنظیم مجلس وحدت مسلمین سے کرنے کی بھونڈی کوشش کی

وسعت الله خان لکھتے ہیں

“بلوچستان میں بھی پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح کبھی کبھار فرقہ وارانہ کشیدگی سر اٹھاتی ہے مگر یہاں کبھی شیعہ سنی یا ذکری نمازی جھگڑا پرتشدد شکل اختیار کرنے لگے تو لشکرِ جھنگوی اور شیعہ مجلسِ وحدت المسلمین جیسی سماجی تنظیموں کے رضاکار کشیدہ علاقوں میں مشترکہ گشت کرتے ہیں۔ یوں شرپسند بیرونی عناصر کے عزائم ہر بار خاک میں مل جاتے ہیں”

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/04/150412_wusatullah_khan_baat_say_baat_hk

غور فرمائیں لشکر جھنگوی کی دیوبندی شناخت کو گول کر دیا گیا اور ایم ڈبلیو ایم کی شیعہ شناخت ظاہر کی گئی – کیا لشکر جھنگوی کا ایم ڈبلیو ایم سے تقابل جائز ہے؟

a5a6a4a9

کراچی میں سبین محمود کے قتل پر اپنے کالم میں وسعت الله خان نے ایک مرتبہ پھر بلوچ دہشت گرد اور دیوبندی تکفیری تنظیموں کے ممکنہ کردار کو نظر انداز کیا اور دبے چھپے لفظوں میں اس قتل کی ذمہ داری پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی پر ڈالی ، وسعت الله خان لکھتے ہیں

سبین قتل ہوئی اس لیے کہ جب سب رفتہ رفتہ لائن پے آ رہے ہیں تو تو افلاطون کی بچی لائن سے باہر کیسے نکل رہی ہے؟ لے اب گولی کھا۔ اور تیرے مرنے پر بھی زیادہ سے زیادہ کیا ہو جائے گا؟

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/04/150424_sabeen_piece_tim

a7a8

اپنے پورے کالم میں وسعت الله خان نے سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کی طرف سے شیعہ نسل کشی کی مذمت میں سبین محمود کے متحرک کردار کا کوئی ذکر نہیں کیا نہ ہی لال مسجد کے دیوبندی مولوی عبد العزیز کے خلاف سبین کی آواز کا تزکرہ کیا، نہ ہی دیوبندی تکفیری تنظیموں کی طرف سے ملنے والے دھمکیوں کا تذکرہ کیا، خان صاحب، بلوچستان میں ایجنسیوں کے سوالیہ کردار پر ضرور بات کریں لیکن بی ایل اے اور سپاہ صحابہ کے ممکنہ کردار پر بھی تو بات ہونی چاہیے

اپنے حالیہ کالم میں معروف پاکستانی تجزیہ نگار عامر حسینی لکھتے ہیں کہ حیدر جاوید سید اور دیگر ترقی پسند مصنفین کو یہ شکائت ہے کہ بلوچستان میں اسٹبلشمنٹ کی چیرہ دستیوں اور ایجنسیوں کے سنگین جرائم پر بات کرنے والے بلوچ شاونسٹ اور بلوچ سرمچاریت کو مذھبی فرقہ پرستانہ دیوبندی تکفیری دہشت گردی کے ساتھ ملاکر چلنے والوں کے خلاف کھل کر بات نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی مذمت تک کرتے ہیں حسینی لکھتے ہیں کہ انہوں نے سرائیکی ، پنجابی ، سندھی ، پشتون مزدوروں کے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ھاتھوں مارے جانے ، آبادکاروں کے خلاف زبردست نسلی شاونزم کے سامنے آنے پر ماما قدیر بلوچ اور ان کے دیگر ساتھیوں کی خاموشی بلکہ کئی ایک جگہ تو ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو جائز تک قرار دینے پر احتجاج کیا اور ان تک پیغام بھی پہنچایا مگر نہ تو ان کی خاموشی ٹوٹی اور نہ ہی اس موضوع پر ان کی جانب سے کوئی وضاحتی بیان دیا گیا

نواز شریف حکومت کے خلاف عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنوں کے خلاف وسعت الله خان نے کئی غیر متوازن کالم لکھے جن کے بارے میں پیجا مستری نے لکھا کہ لگتا ھے وسعت اللہ خان کو بھی دھرنوں نے پاگل کر دیا ھے۔ یہ صحافی جب سے پیسوں میں تلنے لگے ھیں ان کی دماغ کو چولیں ھل گیی ھیں۔ ایک تو اسکو کوی بتاے کہ اس کے اپنے پرانے شہر ڈیرہ غازی خان میں بھی کوی رفیق ھیرڈریسر ، عزیز ڈرای کلینر، حکیم نور محمد ایسے خیالات نھیں رکھتا، ایسے سارے خیالات یا تو ڈاکٹر سیف اللہ یا پھر انجنیئر سعود یا بھر کرنل مسعود کے ھو سکتے ھیں جن سے اجکل شاید لندن میں صحافی وسعت اللہ خان کی بہت چھن رھی ھے – دوسرے پڑھا لکھا ھونا اس بات کی ضمانت نھیں ھے کہ اپ سوچ بھی سکتے ھوں – وسعت اللہ جیسے بقراطوں کو مگر مچھوں کا عمران اور قادری کو نگلنا یاد اجاتا ھے لیکن درجنوں لوگوں کے قاتل اور جدہ محلوں کے رھنے والے وہ شرفا یاد نھیں اتے جنہیں مگر مچھ نگل کر بھی اگل دیتا ھے

http://www.twitlonger.com/show/n_1sds4e3

a12a13a16

سعودی بادشاہ عبد الله کے انتقال پر لکھے گئے کالم میں وسعت الله خان نے شاہ عبد الله کی ڈھکے چھپے الفاظ میں یوں مدح سرائی کی

جنت مکانی نے ہی سعودی تاریخ میں پہلی بار دس سال پہلے بلدیاتی انتخابات میں رعایا کو ووٹ کا حق دیا۔ آپ ہی نے اولمپک گیمز میں خاتون ایتھلیٹ کو جانے کی اجازت دی۔ آپ نے کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی میں مخلوط تعلیم سے درگزر فرمایا آپ نے 160 رکنی شوری کونسل میں 30 خواتین کو بھی نشستیں سنبھالنے کا ازن دیا۔ آپ نے بادشاہ اور ولی عہد کے انتخاب کو جمہوری بنانے کے لیے ایک خاندانی جانشین کونسل قائم کی۔ آپ نے لگ بھگ 25 ہزار شہزادوں کو پابند کیا کہ وہ فون کا بل اپنی جیب سے دیں گے۔ آپ ہی نے یقینی بنایا کہ اتنے وسیع خاندان کا کوئی فرد کسی ایسی غیر اخلاقی حرکت میں ملوث نہ ہو جو پوری برادری کے لیے کلنک بن جائے۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/01/150125_baat_say_baat_rwa

جس تفصیل سے شاہ عبد الله کی تعریف کی گئی، وہ تفصیل دنیا بھر میں دیوبدنی اور سلفی وہابی تکفیریت کے پھیلاؤ میں سعودی کردارکے بارے میں نہیں پیش کی گئی

a17a18

چند سال قبل اپنے ایک کالم میں وسعت الله خان نے اپنے دیوبندی پس منظر کا اعتراف کیا تھا – ایک سنی دیوبندی گھرانے میں پیدا ہونے والا وسعت اللہ خان خود کو ایک اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لئے کہاں تک جائے، کیا کرے؟

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2012/08/120826_baat_se_baat_wusat_tk.shtml

a10a11

ہم اس بات کے معترف ہیں کہ دیوبندی پس منظر کے باوجود خان صاحب نے شیعہ نسل کشی اور دیگر معاملات پر نہایت عمدہ مضامین لکھے ہیں، ہم ان کے مشکور ہیں، اس تحریر کا مقصد ان سے فقط یہ درخواست کرنا ہے کہ بعض اوقات ان کی تحریروں سے یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ لا شعوری طور پر فالس نیوٹرلٹی اور اشرافیہ جعلی لبرلز کے حصار میں مقید ہیں، اس حصار سے باہر نکلنے کی کوشش کریں اور نجم سیٹھی، عامر احمد خان، حامد میر اور طاہرعمران میاں وغیرہ کی صحبت سے اجتناب فرمائیں

About the author

Abdul Nishapuri

80 Comments

Click here to post a comment