Original Articles Urdu Articles

سعودی عرب اور اسرائیل کے اتحاد کی کہانی – رابرٹ پیری کی زباںی

Consortiumnews

کنسورشیم نیوز ڈاٹ کوم “آزاد صحافت ” کی علمبردار ایک ویب سائٹ ہے جو 1995ء سے کام کررہی ہے ، اس کے لیے کام کرنے والے معروف صحافی رابرٹ پیری نے اپریل 15 ، 2015ء کو ایک خصوصی رپورٹ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے نئے اتحاد بارے شایع کی
رپورٹ کا عنوان ہے

Did Money Seal Isreli – Saudi Alliance ?

رپورٹ کے آغاز میں ویب سائٹ نے رابرٹ پیری کے حوالے سے لکھا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کا حالیہ اتحاد ایران کو سبق سکھانے کی مشترکہ خواہش کا نتیجہ ہوسکتا ہے اور ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق اس ڈیل میں اس جہیز نے اہم کردار ادا کیا ہے جو سعودی عرب نے 16 ارب ڈالر کی شکل میں اسرائیل کو ادا کیا ہے

رابرٹ پیری اپنی اس رپورٹ کے آغاز میں لکھتا ہے کہ

سعودی عرب نے ایک صدی تک تیل کی کمائی کا بڑا حصّہ امریکہ میں اپنی لابی بنانے پر صرف کیا جو اسرائیل کی لابی کا مقابلہ کرسکے – ڈالر کے بل بوتے پر ، سعودی عرب نے لاء فرموں کو ہائر کیا ، پی آر سپیشلسٹ ہائر کئے -طاقتور امریکی خاندانوں سے اپنے زاتی تعلقات کو استعمال کیا جیسے بش خاندان تھا – لیکن سعودی عرب کبھی بھی ویسی گراس روٹ سیاسی تنظیم قائم نہ کرسکا جوکہ اسرائیلی اور اس کے امریکی حامیوں کو غیر معمولی جڑت دیتی ہے

رابرٹ پیری نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی لابی سے ساز باز کرکے سعودی عرب سے امریکہ میں لابی کرنے والے افراد اور فرمیں اپنا ریٹ بڑھاتی رہیں ہیں تاکہ وہ عربوں سے زیادہ سے زیادہ پیسے بٹور سکیں

President Obama and King Salman Arabia stand at attention during the U.S. national anthem as the First Lady stands in the background with other officials. (Official White House Photo by Pete Souza)

لیکن سعودی عرب نے امریکہ کے اندر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے اب ایک اور راستہ اختیار کرلیا ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ میں اسرائیلی لابی کو پیسہ دیا جائے اور اس طرح سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حمائت حاصل کرلی جائےکئی سالوں سے اسرائیل اور آل سعود ایران اور نام نہاد شیعی کریسنٹ کو اپنا سب سے بڑا دشمن گردان رہے ہیں اور اسی وجہ سے اسرائیل – سعودی اتحاد جو کبھی ناقابل یقین سمجھا جاتا تھا اب ممکن ہوچکا ہے

( ویسے عبدالعزیز ابن سعود نے برٹش سامراج کی سعودی عرب نامی ریاست کو تشکیل دینے میں مدد کرنے کے صلے میں اسرائیل کو قبول کرلیا تھا اور 60ء میں اس نے اردن میں پی ایل او کو اقتدار سنبھالنے سے روکنے کے لیے پاکستانی فوج اور طیاروں کو استعمال کیا تھا اور کئی درجن فلسطینی شہید کئے تھے تو آل سعود سے یہ کوئی بعید نہیں ہے کہ جب کبھی ان کو اپنا اقتدار ڈولتا ہوا محسوس ہو تو وہ سارے اصول قربان کردیتے ہیں

رابرٹ پیری کا کہنا ہے کہ سعودی – اسرائیل اتحاد کو ممکن بنانے کے لیے آل سعود نے بھاری بھر کم رقوم اسرائیل کے خزانے ميں پھینکی ہےرابرٹ پیری کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کے ایک تجزیہ نگار نے اس کو بتایا ہے کہ گزشتہ ڈھائی سالوں میں آل سعود نے 16 ارب ڈالر کی رقم ایک تیسرے عرب ملک کے زریعے سے یورپ میں اسرائیلی ڈویلپمنٹ اکاؤنٹ میں ڈالی ہے جو اسرائيل کے اندر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے بنایا گیا ہے

رابرٹ پیری نے اپنے سورس کے حوالے سے لکھا کہ اس کے سورس نے پہلے اس اکاؤنٹ کو

” A Netanyahu slush Fund “

کا نام دیا اور بعد میں اس کے کردار اور واضح کرنے کے لیے کہا کہ یہ رقم پبلک پروجیکٹس جیسے غزہ میں صیہونی آبادکاروں کے لیے عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہوئی ہےدوسرے لفظوں میں بقو رابرٹ پیری یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر آپ اسرائیلی لابی کو شکست نہیں دے سکتے تو اسے خریدنے کی کوشش کرو ” اگر ایسا ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ پردے کے پیچھے تعاون انتہائی قابل قدر پایا ہے -نیتن یاہو نے امریکی کانگریس کو ایران کے ایٹمی پروگرام پر چلے آرہے پرانے تنازعے پر کسی بھی ڈیل کے خلاف صف آراء ہونے کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا نیتن یاہو کے اشارے پر ریپبلکن کی اکثریت اور کئی ڈیموکریٹس نے اپنے آپ سے یہ عہد کیا کہ وہ جی پلس فائیو ملکوں کے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے ایٹمی پروگرام پر معاہدے کے لیے فریم ورک کو تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے جوکہ ایران پر یورونیم کی افزدگی کے حوالے سے سخت پابندیاں لگآنے کے لیے بنائے جانے پر اتفاق کے ساتھ بنایا گیا ہے

رابرٹ پیری نے لکھا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان اس اتحاد اور ڈیل کا ایک اور نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کو ایران کے خلاف فضائی حملوں پر تیار کرے اور اس کو اپنی فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے ڈالے اور سعودی عرب اور ایران کا باہمی اتحاد اور ڈیل امریکی فوج کو بھی ایرانی اہداف کو تباہ کن نقصان پہنچانے کے لیے اس جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کرسکتا ہے

رابرٹ پیری نے لکھا ہے کہ انھوں نے اسرائیل اور سعودی عرب کی حکومتوں کو سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو مبینہ رقوم کی ادائیگی بارے موقف دینے کو کہا تو دونوں حکومتوں نے اس حوالے سے کوئی بھی جواب دینے سے انکار کردیارابرٹ پیری کہتا ہے کہ نیتن یاہو نے تین مارچ 2015 ء کو امریکی کانگریس کے سامنے جو تقریر کی سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو 16 ارب ڈالر کی ادائیگی کے تناظر ميں اس کو ایک اور ںظر سے بھی دیکھا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ نیتن یاہو نے امریکی کانکڑیس میں ایران کے خلاف جس طنطے اور جس جارحانہ انداز ميں تقریر کی اور اس پر جو رسپانس امریکی ایوان نمآئندگان کے اندر سے آیا ، اس کا تو سعودی عرب نے کبھی خواب بھی نہيں دیکھا ہوگا

اب جبکہ کانگریس ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ہونے والی ممکنہ ڈیل کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم ہوچکی ہے تو آل سعود نے بجاطور پر یہ سوچا ہوگا کہ انھوں نے اسرائیل پر جو رقم خرچ کی وہ غلط نہیں تھی سعودی اس بات سے زیادہ چونکے کہ ایران سے عالمی طاقتوں کے ایٹمی پروگرام پر مبینہ ڈیل سے ایران سے معاشی پابندیاں ہٹ جائیں گی اور اس کی معشیت ترقی کرے گی اور اس کا اثر و رسوخ اور بڑھے گا

اس کو روکنے کے لیے سعودی عرب نے یہ چاہاکہ وہ امریکہ کو ” سنّی کیمپ ” ( اسے وہابی سعودی کیمپ پڑھنا چاہئیے ) میں کھینچ لائے اور مڈل ایسٹ میں چل رہی جیو پالٹیکس کی تشریخ تاریخی سنّی – شیعہ تنازعے کی روشنی میں کرے -اور اس حوالے سے اس نے نیتن یاہو کو ایک وچولے کے طور پر استعمال کرنے کی ٹھانی کہ وہ باراک اوبامہ کی ایران سے ڈیل کی کوشش کو روکے اور اسرائیلی لابی کی پوری طاقت کو کانگریس پر استعمال کرے اور واشنگٹن کے سرکاری حلقوں میں اس ڈیل کے خلاف رائے کو ہموار کرے

رابرٹ پیری کا خیال ہے کہ اکر نیتن یاہو اور آل سعود ایران ایٹمی پروگرام کے حوالے سے معاہدے کے لیے تیار ہونے والے فریم ورک کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو وہ 632ء ميں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سے شروع ہونے والے شیعہ- سنّی تنازعے میں امریکہ کو سنّی کیمپ کی طرف سے ایک ملٹری طاقت کے طور پر ملوث کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے
نوٹ : میں سمجھتا ہوں کہ رابرٹ پیری مڈل ایسٹ میں جاری تنازعے کی تاریخی شیعہ – سنّی تنازعے کی روشنی میں تشریح کرنے کی اپروچ ٹھیک نہیں ہے بلکہ اس کو یہ لکھنا چاہئیے تھا کہ اگر آل سعود اور نیتن یاہو ایران سے عالمی طاقتوں کی ایٹمی پروگرام پر مبینہ ڈیل کو سبوتاژ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو وہ آل سعود اور اسرائیل کی جانب سے مڈل ایسٹ میں اپنی بقاء کی جنگ کے لیے فرقہ وارانہ جنگ کو شدید کرنے میں امرکی فوج کو ملوث کرنے میں کامیابی حاصل کرلیں گے اور آل سعود کے وہابی فسطائیت کو برقرار رکھنے کے لیے شروع کی جانے والی لڑائی میں آل سعود کے ایک اتحادی اور موثر فوجی قوت کے طور پر شمولیت کے منصوبے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے

رابرٹ پیری نے ٹھیک لکھا ہے کہ 1979ء میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے تختہ الٹے جانے کے بعد ایران میں روح اللہ خمینی موسوی کی قیادت ميں انقلابی حکومت کے قیام کے بعد سے آل سعود کے اعصاب پر ایرانی رجیم ایک آسیب کی طرح سوار ہے اور اس کو ہمہ وقت یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ یہ سلسلہ ایران تک نہیں رکے گا بلکہ یہ باہر اور ملکوں تک بھی جائے گا اور اسی وجہ سے آل سعود نے یہ کھڑاک پھیلایا کہ مڈل ایسٹ میں ایرانی انقلاب ” سنّی اسلام “کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ، اس نے اگست کی پانچ تاريخ اور سال 1980ء کو عراقی آمر صدام حسین کو تیار کیا کہ وہ ایران پر جنگ مسلط کردے

(خیال رہے کہ خود صدام حسین بھی اپنے ملک میں اکثریتی مسلم آبادی شیعہ جوکہ کل آبادی کا 60 فیصد اور مسلم آبادی کا 80 فیصد تھے ، کردوں کو سخت جبر اور استحصال کا نشانہ بنائے ہوئے تھا اور اس کے خلاف کرد اور شیعہ آبادی کے اندر بہت بڑی مزاحمتی تحریک موجود تھی اور اسے ایرانی انقلاب سے یہ حطرہ لاحق ہوا تھا کہ ایرانی اس کا تختہ الٹنے میں ان مزاحمتی تحریکوں کو مدد فراہم کرسکتے ہیں

اس وقت کے امریکی سٹیٹ سیکرٹری الیگزینڈر ہیگ نے مڈل ایسٹ کا دورہ کرنے کے بعد اپریل 1981ء میں امریکی صدر رونالڈ ریگن کو بتایا تھا کہ شاہ فہد سعودی فرمانروا نے عراقی صدر صدام حسین کو یقین دلایا تھا کہ اگر وہ ایران پر حملہ کرے گا تو اسے امریکی اشیر باد حاصل ہوگی

اور یہ دلچسپ بات ہے کہ اصل میں یہ جمی کارٹر تھا جس نے سعودی بادشاہ فہد کو گرین سگنل عراقی صدر صدام حسین کو دینے کے لیے کہا تھا -امریکی سیکرٹری سٹیٹ ہیگ نے 1994ء میں لکھا کہ اس نے امریکی کانگریس کی فائلوں ميں یہ بات دریافت کی تھی – اگرچہ جمی کارٹر اس بات سے انکار کرتا ہے کہ اس نے عراق کو ایران پر حملہ کرنے کی ہلہ شیری دی تھی جوکہ ایران کی جانب سے 52 امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں کو یرغمال بنانے کی وجہ سے غصے ميں تھا لیکن ہیگ کہتا ہے کہ یہ بات تو بہرحال طے ہے کہ شاہ فہد نے عراقی صدر کو ایران پر حملے کی صورت میں امریکی حمائت کی یقین دھانی کرائی تھی

ہیگ نے یہ بھی امریکی کانگریس کی فائلوں سے نوٹ کیا تھا کہ اسرائیل نے ایران – عراق جنگ کے دوران ایران کو امریکی اسلحے کی سپلائی جاری رکھی تھی اور انور سادات اور شاہ فہد نے امریکی حکام کو بتایا تھا کہ ایران کو اسرائیل کے زریعے سے امریکی اسلحے کی فراہمی جاری ہے

آٹھ سالہ ایران – عراق خون آشام جنگ کے دوران اسرائيل نے ایران کو جو اسلحہ فراہم کیا اس کی قیمت کئی ارب ڈالر تک پہنچتی ہے اور یہاں تک کہ یہ اسرائیل تھا جس نے ریگن انتظامیہ کو بھی ایران کو اسلحے کی فراہمی کی ڈیل میں شامل کرلیا اور اس ڈیل کے تحت اسلحے کی شپمنٹ یورپ میں امریکی خفیہ بینک اکاؤنٹ میں رقوم کی منتقلی کے زریعے سے ہوتی رہی جو بعد میں ريگن انتظامیہ کے خلاف بدترین ایران -کانٹرا آرمز سیکنڈل کی شکل میں سامنے بھی آئی

رابرٹ پیری کا کہنا ہے کہ 1990ء تک آتے آتے جب ایرانی خزانہ خالی ہوگیا تو اسرائیل کا بھی اپنے تجارتی شراکت دار ایران سے رویہ سرد ہوگیا اور اسی دوران امریکی فوج کی بالادستی سامنے آنے اور سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سرد جنگ کے ختم ہوجانے کے بعد امریکہ کے واحد سپر پاور کے طور پر سامنے آنے کے بعد نیو کانز ابھرے اور انھوں نے نیتن یاہو کو گلف – پرشین وار میں امریکی فتح کے بعد مڈل ایسٹ کی حرکیات کو بدلنے کے لیے رجیم تبدیلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کو کہا

انیس سو چھانوے میں نیتن یاہو کی کمپئن کے دوران نمایاں نیو کانز بشمول رچرڈ پرل اور ڈوگلس فیتھ نے ایک پالیسی پیپر پیش کیا جس کا عنوان تھا

A Clean Break : A New strategy for Securing the Relam .”

اس دستاویز میں بہت واضح کہا گيا تھا کہ اسرائیل اپنے تزویراتی ماحول کو شام کو کمزور کرتے ہوئے ، اس کو محدود کرتے ہوئے حتی کہ اس کو رول بیک کرتے ہوئ اپنے حق میں متشکل کرسکتا ہے اور یہ کوشش مزید مستحکم صدام حسین کو عراق سے اقتدار سے الگ کرکے ہوسکتی ہے اور اسرائیل کے تزوایرتی مقاصد یعنی شام کے خطے ميں تزویراتی مقاصد کو ناکام بنانے کا مقصد اس طریقے سے بخوبی پورا کیا جاسکتا ہے

رابرٹ پیری کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کا مقصد اسرائیل سے مخاصمت رکھنے والے مسلم ملکوں کی حکومتوں کو ختم کرنا اور ان کی جگہ دوست حکومتیں لانا اور بغیر بیرونی امداد کے فلسطین میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کا خاتمہ کرنا تھا ، نیوکانز کے ” نیو امریکن سنچری ” پلان جو 1998 ء میں بہت واضح ہوگيا تھا کا پہلا ہدف عراقی رجیم تھا لیکن شام اور ایران اس کا دوسرا ٹارگٹ تھے ، نیو کانز امریکی فوج اور دوسرے زرایع سے تینوں حکومتوں کا خاتمہ چاہتے تھے

نیوکانز کو 2003ء میں عراق پر حملہ کرنے کا موقعہ مل گیا لیکن اس کا ایک سائیڈ ایفکیٹ یہ ہوا کہ صدام حسین کے اقتدار سے جانے کے بعد عراق میں جو اتحادی حکومت بنی اس کی قیادت ایسے شیعہ بلاک کے پاس تھی جس کی ایران کے ساتھ ہمدردیاں بہت واضح تھیں اور اس حملے نے مڈل ایسٹ میں طاقت کے توازن کو سعودی عرب کی بجائے ایران کے حق میں کردیا اور عراق جنگ کے تباہ کن نتائج نے نیو کانز کو ایران اور شام میں رجیم تبدیل کرنے کے ایجنڈے پر عمل نہ کرنے دیا

طاقت کے اس بدلے ہوئے توازن نے ایک طرف تو سعودیہ عرب کو چونکایا تو دوسری طرف اسرائيل نے ایران ، لبنان اور بغداد کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھنے پر مجبور کردیا اور یہی وہ تبدیل ہونے والی صورت حال تھی جس میں سعودی عرب اور اسرائیل کی جانب سے ” شیعہ کریسنٹ ” اور نام نہاد ایرانی توسیع پسند پلان کا پروپیگنڈا شروع کیا گیا

ایک طرف سعودیہ عرب نے عراق میں شیعہ ، سنّی ، کرد ، عیسائی مخلوط اتحادی حکومت کو گرانے کے لئے سلفی – دیوبندی دھشت گردوں کو بھیجنا شروع کیا تو دوسری طرف اس نے 2011ء میں ترکی سمیت دیگر گلف ریاستوں کے ساتھ ملکر شام میں بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے وہابی سلفی – دیوبندی نام نہاد جہادیوں کے لشکر منظم کرنے شروع کردئے اور 2013ء تک یہ بات بھی کھل گئی کہ امریکی مین سٹریم میڈیا بشار الاسد کے خلاف جن اعتدال پسند سنّی مزاحمت کاروں کا واویلا مچآئے ہوئے تھا ان کا زمین پر کوئی وجود نہیں تھا بلکہ بشار الاسد کے خلاف پیش قدمی کرنے والی القائدہ ، جبھۃ النصرہ اور پھر عراق سے اٹھنے والی داعش وغیرہ تھیں

حیران کن امر یہ تھا کہ اسرائيل نے بھی اس دوران اسد کی سیکولر حکومت جس میں سنّی ، شیعہ ، علوی ، عیسائی ، کرد سبھی شامل تھے اور جن کو سعودی حمائت یافتہ سلفی دیوبندی دھشت گردوں سے سب سے بڑا خطرہ تھا پر القائدہ کے دھشت گردوں کو ترجیح دینا شروع کردی

ستمبر 2013ء میں یروشلم پوسٹ کو امریکہ میں اسرائیل کے سفیر مائیکل اورین جوکہ نیتن یاہو کا مشیر خاص تھا یہ بتاکر حیران کردیا کہ اسرائیل بشار الاسد کے خلاف برسر پیکار سلفی دیوبندی عسکریت پسندوں کی حمائت کرتا ہے
مائیکل اورین نے کہا

The greatest danger to Isreal is by the stretegic arc that extends from Tehran to Damascus to Beriut .And we saw the Asad regime as the key stone of that arc “
“We always wanted Bashar Assad to go , we alwaus prefered the bad guys who were not backed by Iran to the bad guys who were bcked by Iran “

گویا ایران کے حمآئت یافتہ عسکریت پسندوں کی بجآئے ایسے عسکریت پسند جن کو ایرانی حمائت حاصل نہ ہو اور ظاہر ہے دوسری صورت میں ایسے گندے بچے یا تو سعودی حمآئت یافتہ ہوں گے یا القائدہ کے حمآئت یافتہ تو وہ اسرائیل کے لیے قابل قبول تھے اور وہ ان کی حمائت کرنے پر بھی آمادہ تھا

اورین نے 2014ء ميں اپنے موقف کی آسپن انسٹی ٹیوٹ میں تقریر کے دوران مزید واضح کی اور دوران تقریر کہا کہ اسرائیل داعش کی فتح کو ترجیح دے گا جبکہ یہ بات واضح تھی کہ داعش ایک طرف تو بشار الاسد کے حامیوں کے سر قلم کررہی تھی تو دوسری طرف وہ خود امریکیوں اور مغربیوں کے سر بھی قلم کررہی تھی

اورین نے کہا کہ

” اگر کسی ایک برائی کو غاب آنا ہی ہے تو وہ سنّی ( وہابی ) برائی ہونی چاہئیے “

اکتوبر 2013ء ميں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے نیتن یاہو اسرائيلی وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر اسرائیل -سعودی عرب اتحاد کے بارے میں بہتر اشارہ دیا جب اس نے اپنی ساری تقریر کا زور مبینہ ایران – جی پلس فائیو مذاکرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے اوپر شدید تنقید اور ایران کو مڈل ایسٹ میں سب سے بڑی برائی اور خطرہ بتلانے پر ہی رکھا اور یہ بھی کہا کہ اکیلا اسرائیل ہی ایران پر حملہ کرسکتا ہے اور اس تقریر کے دوران نیتن یاہو کے منہ سے بالآخر یہ نکل ہی گیا کہ ایٹمی اسلحے سے لیس ایران کا خطرہ اور دوسرے خطروں کے ظہور سے ہمارے خطے میں کئی عرب ہمسایہ ملکوں کو اب یہ یقین ہوچلا ہے کہ اسرائیل ان کا دشمن نہیں ہے اور اس نے ہمیں یہ موقعہ فراہم کردیا ہے کہ ہم خطے ميں تاريخی دشمنیوں کو ختم کریں اور نئے تعلقات ، نئی دوستیاں اور نئی امیدیں قائم کریں “

Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu speaking to the United Nations General Assembly on Oct. 1, 2013. (UN Photo by Evan Schneider)

نوٹ ؛ ویسے سعودی عرب نے یمن پر جارحیت کے دوسرے مرحلے کا نام ” امید کی بحالی ” رکھا ہے

اس تقریر کے اگلے دن اسرائیل کے چینل 2 ٹی وی نے خبر دی کہ یروشلم میں ہائی لیول کے ہم منصب عرب شخصیت نے اسرائیل کی سئنیر سیکورٹی شخصیات سے ملاقات کی ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ امریکہ میں سعودیہ عرب کے سابق سفیر بندر بن سلطان تھا اور اس وقت وہ سعودی انٹیلی جنس کا سربراہ تھا

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان اس اتحاد کی حقیقت کی خبر امریکی مین سٹریم میڈیا تک بھی پہنچ چکی تھی ، مثال کے طور پر ٹائم میگزین کے نمائندے جو کیلن نے جنوری کی 19 تاریخ 2015ء کے ایشو میں اس نئے اتحاد بارے رپورٹ دی اور بتایا کہ مئی کی 26 تاریخ 2014ء کو اسرائیل اور سعودی عرب کے سپائی ماسٹر آموس یلدین اور پرنس ترکی الفیصل کے درمیان برسلز میں ایک مکالمہ ہوا اور دونوں ایک گھنٹے سے زیادہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ، علاقائی سیاست پر بات چیت کی اور اس گفتگو کو واشنگٹن پوسٹ کے ڈیوڈ آگنٹس نے ماڈریٹ کیا ، کیلن نے رپورٹ کیا کہ

اسرائیلی و سعودی سپائی ماسٹرز نے اسرائیل – فلسطین امن پروسس کی نوعیت ، صیہونی آبادکاری پر ایک دوسرے سے اختلاف کیا اور انہوں نے ایرانی ایٹمی ہتھیار کے خطرے کی شدت ، مصر کی فوجی حکومت کی حمائت اور شام میں مرتکز بین الاقوامی ایکشن پر اتفاق کیا ، سب سے حیرت انگیز بیان سعودی سپائی ماسٹر ترکی الفیصل کی جانب سے آيا جس میں اس نے کہا کہ
عربوں نے روبکون کو عبور کرلیا ہے اور اب وہ اسرائیل سے لڑائی نہيں چاہتے

رابرٹ پیری کا تجزیہ یہ ہے کہ اگرچہ سعودی عرب والے فلسطینوں کی حالت زار پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے رہیں گے لیکن اصل میں ان کے لیے یہ معاملہ اب کوئی خاص اہمیت کا حامل نہیں ہےرابرٹ پیری نے اپنے تجزیہ میں لکھا کہ کیسے مصر میں اخوان المسلون کی منتخب حکومت فلسطین میں حماس کی حمآئت کرنے کی وجہ سے آل سعود کے عتاب کا شکار بنی اور اس کے پیچھے بھی اسرائيل – سعودی ڈیل کے بعد سعودیہ عرب کی بدلتی ترجیحات ہیں

رابرٹ پیری بہت تفصیل سے اسرائیل -سعودی اتحاد کے تناظر میں بہت تفصیل سے اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ کس طرح ایک طرف تو سعودی عرب ، دیگر گلف ریاستیں اور ترکی ملکر شام میں القائدہ کی اتحادی جبھۃ النصرہ اور دیگر سلفی وہابی دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کی حمائت کررہے ہیں اور خود اسرائیل بھی ان کی پشت پناہی کررہا ہے اور اسرائیلی حکام امریکیوں کو یہ درس دے رہے ہیں کہ القائدہ ، داعش ، جبھۃ النصرہ وغیرہ مڈل ایسٹ اور پوری دنیا کے لیے خطرناک نہیں ہیں بلکہ یہ نام نہاد ” شیعہ کریسنٹ ” یا ایران ہے جو بڑا خطرہ ہیں اور اس ضمن میں یمن میں حوثی قبائل کے خلاف سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی بمباری اور سعودی عرب کے عزائم اور اسرائیل کا اس کاروائی کی حمائت کا جائزہ بھی لیا ہے

رابرٹ پیری کہتا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے سٹریٹجک اتحاد کا مقصد ایران کا راستہ روکنا ہوسکتا ہے لیکن اس کا اس وقت اس کا سب سے بڑا مقصد شام ، عراق ، یمن کی القائدہ ، داعش سمیت وہابی -دیوبندی دھشت گردوں کے خلاف جو جدوجہد ہے اس کو ناکام بنایا جائے اور وہاں کے صوفی سنّی ، شیعہ ، عیسائی ، کرد ، دیروزی ، علوی ، یزیدیوں کو ان وہابی تکفیری قصائیوں کے ہاتھوں ذبح کروادیا جائے اور یہ بڑے پیمانے پر زبح گری سعودی عرب اور اسرائیل کے نزدیک کمتر برائی ہے ۔ سعودی عرب اور اسرائیل اپنے اتحاد کے اندر امریکی ریاست کو بھی داخل کرنا چاہتے ہيں اور وہ مڈل ایسٹ میں جہنم کے دروازے کو وسیع کرنے کے لیے امریکی فوج کو استعمال کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں

رابرٹ پیری نے امریکی مین سٹریم میڈیا بشمول نیویارک ٹائمز ، واشنگٹن پوسٹ وغیرہ کے اسرائیل اور سعودی عرب کے اس تزویراتی مقصد ميں ہاتھ بٹانے کا زکر بھی کیا ہےرابرٹ پیری کے اس تجزئے سے ہم یہ بھی اندازہ کرسکتے ہیں کہ آل سعود اور دیگر گلف ممالک پاکستان کی فوج کو کس جہنم میں دھکیلنے کی کوشش کررہے ہیں اور یمن وہ دروازہ ہے جس سے پاکستانی فوج کو اس جہنم میں اپنے تزویراتی شراکت دار کے طور پر سعودیہ عرب دآخل کرنے کے لیے ہر طرح کا دباؤ اور لالچ استعمال کررہا ہے
تاريخ کے اس انتہآئی نازک موڑ پر پاکستان کی اکثر بڑے سیاسی قائدین انتہائی ناعاقبت اندیش پالیسی اپنائے ہوئے ہیں ، وہ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی اپنی ہی قرارداد سے ہٹ کر سعودیہ عرب کی چاکری میں مشغول ہیں

نواز شریف اور آصف علی زرداری کے بیانات انتہائی حد تک شرمناک ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہيں کہ نواز شریف آل سعود اور زرداری آل النہیان کے احسانات کا بدلہ اور اپنے کاروباری وینچرز کو مزید بڑھاوا دینے کا اسے سنہری موقعہ خیال کررہے ہیں
نواز شریف کی دورہ سعودیہ عرب کے موقعہ پر مفرور اور کٹھ پتلی صدر ہادی سے ملاقات بھی اسی شرمناکی کی ایک مثال کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

رابرٹ پیری نے 1980ء میں امریکی ایسوسی ایٹس پریس اور نیوز ویک کے لیے کئی شہرہ آفاق نیوز سٹوریز کو بریک کیا جس میں ایران -کانٹرا سیکنڈل سٹوری بھی شامل تھی اور حال ہی میں انھوں نے ایک کتاب

America ‘s Stolen Narrative

شایع ہوئی ہے

Source:

https://consortiumnews.com/2015/04/15/did-money-seal-israeli-saudi-alliance/

About the author

Pash Poet

37 Comments

Click here to post a comment