Featured Original Articles Urdu Articles

خطرہ آل سعود کی باد شاہت کو ہے – حرمین کو نہیں – عامر حسینی

آل سعود کی تباہ کاریاں

آج کل پاکستان میں ہر طرف کچھ لوگ ” حرمین شریفین ” کو (فرضی ) خطرات لاحق ہونے کا شور مچاکر آسمان سرپر اٹھائے ہوئے ہیں اور مجھے اس پر جالب کے اشعار یاد آئے جن کو زرا ترمیم سے یہاں درج کرتا ہوں

خطرہ نہیں حرمین کو
خطرہ ہے اقتدار و جاہ کے طلب گاروں کو
خطر ہے زرداروں کو ، سامراج کے یاروں کو
خطرہ نہیں حرمین کو

پارلمینٹ کے مشترکہ ایوان کی یمن پر قرارداد کو حکومت نے اپنی فتح قرار دیا تھا اور اس حکومت کے وزیر اطلاعات تو یہاں تک کہہ گئے تھے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حارجہ امور پر فیصلے عوام کے سامنے ہوئے اور پارلمینٹ کی آزادی کا ڈھونڈرا پرویز رشید نے خوب پیٹا لیکن برا ہو گلف تعاون کونسل کے ممالک کا کہ جنھوں نے یو اے ای کے وزیر خارجہ انور قرقاش کے ایک ٹوئٹر کے زریعے سے ایسا پیغام دیا کہ لگی سب کی ٹانگیں کانپنے ،چودھری نثار علی خان جو ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم سے دور ہیں شاید اس معاملے پر جلدی کرگئے اور انھوں نے مچھلی بیچنے والے عربوں کو کڑے ہاتھوں لیا لیکن اگلے دن جب سعودی عرب کا ایک اعلی سطحی وفد سعودی عرب کی تیسرے طاقتور وزیر برائے مذھبی امور صالح بن عزیز کی قیادت میں اسلام آباد پہنچا اس نے ملاقاتوں کے دوران نہ جانے کیا پھونک ماری کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے ایک اعلی سطحی میٹنگ پھر بلائی

جس میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سمیت نواز شریف کے قریب ترین حکومتی زعماء موجود تھے اور اس اجلاس کے بعد وویراعظم تھوڑی دیر کے لیے سرکاری ٹی وی کی سکرین پر نمودار ہوئے اور انھوں نے سعودیہ عرب کے ساتھ اپنے تزویراتی دفاعی تعلقات کا تذکرہ کیا ، یمن کے حوثی قبائل کو باغی اور ہادی حکومت کو جائز اور جمہوری منتخب حکومت قرار دیا ، ساتھ ہی انھوں نے یہ ارشاد بھی فرمایا کہ عرب دوستوں نے پارلمینٹ کی قرارداد کو سمجھنے میں غلطی کی ہے ، میں نے تو اس سے یہ بھی مراد لی کہ خود ان کے وزیراطلاعات نے بھی قرارداد کا مطلب غلط لیا اور اپوزیشن جماعتیں اور پاکستان کی اکثریت تو یمن کے سوال پر پارلمینٹ کی قرارداد کا مطلب ویسے ہی غلط نکال رہی ہیں

پاکستان نے سلامتی کونسل میں حال ہی میں پیش کی جانے والی متنازعہ قرارداد کی منظور کا خیرمقدم بھی کرڈالا ہے جس کے تحت حوثی قبائل کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ اس قرارداد میں حوثی قبائل کو صنعاء سمیت جنوبی یمن کے کئی ایک علاقوں سے نکل جانے کو کہا گيا ہے لیکن اس قرارداد میں ایک بھی جگہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ہوائی اور بحری حملوں کو بند کرنے اور یمن کی سرحدوں کی خلاف ورزی سے روکنے کا زکر تک نہیں ہے

سیکورٹی اور ڈیفنس امور کے ماہر صحافی اور پاکستان کی سیکورٹی و خارجہ پالسیوں پر گہری نظر رکھنے والے صحافی باقر سجاد سید نے بالکل درست کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کی قرارداد کے بعد سے ہونے والے نقصان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی ہے تقسیم ہند ہوئی تو برصغير کے معروف افسانہ نگار سعارت حسن منٹو کو اس دوران پنجاب اور بنگال میں پھوٹ پڑنے والے فسادات میں 10 لاکھ لوگوں کے مارے جانے اور تقسیم سے پیدا ہونے والی ٹریجڈی پر یہ سوال تنگ کرہا تھا کہ اجالا داغ داغ کیوں ہے اور سحر شب گزیدہ کیوں ہے اور اس نے اجالے کے داغ اور سحر کی شب گزیدگی کو ” ٹوبہ ٹیک سنگھ ” افسانے میں کمال مہارت سے فکشن کردیا ،

جب سب مارے جانے والے انسانوں کی شناختوں کو فرقہ پرستی کی عینک سے دیکھ رہے تھے تو اس نے انسانوں کے مارے جانے کا سوال اٹھایا اور اس نے مارنے والوں ، عصمت دری کرنےوالوں کے اندر بھی ان کا جوھر انسانیت تلاش کرنے اور اسے دکھانے کی کوشش کی اور اس چیز کو ہی اس نے سامنے لانے کے لیے “ٹھنڈا گوشت ” ” کالی شلوار ” اور “کھول دو” میں ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ ” بہار عرب ” کے بطن سے جو تکفیریت اور فسطائیت پر مبنی فرقہ پرستی ظاہر ہوئی جس نے 60 لاکھ شامیوں کو ریفیوجی کیمپوں میں لا پھینکا ، لیبیا سے لیکر صومالیہ اور وہاں سے الجزائر و کینیا تک اور آگے یمن تک لاکھوں انسانوں کو خون ميں نہلایا اس پر بھی اگر منٹو ہوتا تو کوئی ٹوبہ ٹیک سنگھ ، کالی شلوار ، ٹھنڈا گوشت جیسے شاہکار افسانے سامنے آتے لیکن ہمارے ادیب ، فکشن نگار شاید اس مہارت اور کرافٹنگ سے محروم ہیں اور اس مشاہدے سے عاری ہیں جو منٹو کے پاس تھا اور اس نے اس سے کام لیکر ہمیں اس انسانی بحران کو دیکھنے سے محروم کردیا جو ہمیں اگر پہلے دکھادیا جاتا تو شاید ہمیں انسانی المیے کی اس شدت سے بچ جاتے جس کا سامنا ہمیں کرنا پڑا ، لیکن رجائیت کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوڑنا نہیں چاہئیے

ایسی ہی امید پرستی ہفتے کی شب اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے مشترکہ طور پر ایک قرارداد کے زریعے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے یمن میں حوثی قبائل اور صالح عبداللہ کے حامیوں کے خلاف بنائے جانے والے فوجی اتحاد کا حصّہ بننے اور یمن پر فضائی ، بحری امو ممکنہ زمینی حملوں کا حصّہ بننے سے صاف انکار کردیا اور حکومت کو کہا کہ وہ یمن میں امن قائم کرنے کے لیے تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کردار ادا کرے

میں پاکستان کی پارلیمنٹ کی اس قرارداد کو تاریخ ساز اس لیے قرار دے رہا ہوں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں خارجہ امور کے حوالے سے یہ ایسا فیصلہ ہے جس کی نظیر ماضی میں کبھی نہیں ملتی ہے اور یہ پاکستان کی عوام کی اکثریت کی خواہشات کی آئینہ دار قرار داد ہے جس کے احترام کا عندیہ اس ملک کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل نے اجلاس کے نتیجے سے پہلے دے دیا تھا

اگر پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سیٹو ، سینٹو سے لیکر 80 ء کی دھائی میں نام نہاد افغان جہاد میں شرکت تک کے ماضی کے سنگ ہائے میل کو دیکھا جائے تو حالیہ فیصلہ کی تاریخی اہمیت اور واضح ہوجائے گی اور یہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور پاکستانی فوج کے بارے میں ” دستیابی برآئے رینٹ ‘ کے امیج پر بھی کاری ضرب ہے اور ہمیں اس نئے پاکستانی امیج پر بجا طور پر فخر کرنا چاہئیے اور آج اگر سعادت حسن منٹو اگرزندہ ہوتے تو خوش ہوتے اور وہ “ہندوستان کو سیاست دانوں سے بچاؤ ” جیسے مضمون ميں ترمیم ضرور کرتے اور پاکستانی سیاست کی دلدل میں کنول کے کھلنے کا سواگت ضرور کرتے مگر وہ ایک عرب خاندان سے اپنے تعلق اور احسانات پر پاکستان کے مفاد کو قربان کرنے والے رجحان رکھنے والوں کی کم بصیرتی کا ماتم بھی ضرور کرتے مسلم دنیا میں تکفیریت ، مذھبی فسطائیت اور بارودی آئیڈیالوجی سے نفرت اور وحشت و بیزاری کے آثار تیزی سے ابھرتے نظر آرہے ہیں اور بارودی آئیڈیالوجی کے ہرکاروں کی شکست کے آثار مسلم افق پر تیزی سے نمودار ہورہے ہیں

یمن پر برستے بموں اور بحری اور فضائی ناکہ بندی سے ابھرنے والے انسانی المیہ نے انسانی ضمیروں کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ” بہار عرب ” کو فرقہ وارانہ بارودی بارش میں لہو رنگ کرنے والوں کے خلاف آوازیں کہاں ، کہاں سے بلند ہورہی ہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے مقبوضہ کشمیر میں مظلوم و محکوم لاکھوں کشمیریوں نے ” سٹاپ دی وار آن یمن ” کے پلے کارڑز اٹھائے ہوئے تھے تو صنعاء یمنی دارالحکومت ميں کئی لاکھ یمنی باہر نکلے اور انھوں نے بمباری کو فی الفور روک دینے کا مطالبہ کیا ، لندن میں بہت بڑا مظاہرہ ہوا اور یمن پر بمباری بند کرو کا مطالبہ سننے میں آیا ، ترکی ، مصر ، لبنان ، شام ، بحرین کے اندر بڑے بڑے مظاہرے دیکھنے کو ملے تو خود ہاؤس آف آل سعود کے 60 فیصد شہزادوں نے اس جنگ کو روک دینے کا مطالبہ کیا اور دس سعودی شہزادوں نے اپنے اس مطالبے کے لیے نظر بندی تک قبول کرلی اور سعودی عرب کے اندر اکثریت نے بھی سعودی شاہ سلیمان کو مشورہ دیا کہ یمن کے لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں کہ کون یمن پر حکمرانی کرے گا ، حماس جیسی تنظیم کی جانب سے یمن کی حکمرانی کا فیصلہ ” حق بالغ رائے دہی ” کے زریعے سے کئے جانے کی حمائت کا اعلان کیا ، مڈل ایسٹ کے اندر عرب عوام ” جمہوریت اور سماجی انصاف ” سے کم کسی چیز کے لیے راضی نہیں ہیں اور یہ وہ بیداری ہے جسے بمباری ، توپوں کی گرج اور ٹینکوں کی دھمک سے روکا نہیں جاسکتا

پاکستان کی پارلیمنٹ کی قرارداد نے پاکستان میں فرقہ پرست مذھبی جنونیوں اور بارود والوں کو بہت واضح پیغام دیا ہے کہ اس ملک کو ریالوں اور ڈالروں سے ” نوآبادی ” بنانے کا خواب دیکھنے والے اور اسے تکفیرستان میں بدلنے والی سیاست اور نام نہاد جہاد کے دن اب چلے گئے ہیں اور زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ ان کے غیرملکی آقا و شیوخ ، صہیونی سب کی جگہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوگی اور پاکستان میں ان کے لیے سوائے تاریخ کے کوڑے دان کے کہيں اور جگہ نہیں ہوگی جو آج ایک مرتبہ پھر تاریخ کا پہیہ الٹا گھمانا چاہتے ہیں

فاضل سکالر علامہ غلام رسول دھلوی نے ایشین ایج کی تازہ اشاعت میں اپنے ایک مضمون ميں لکھا ہے کہ اللہ کی قھاریت ، جبرویتی اور سریع الحساب و النتقام جیسی صفات کے غلط اطلاقات کرنے اور اس کی صفت ربوبیت و ودودیت کو چھپانے والی خارجی و تکفیری سیاست و جنگ کے حاملین کا انجام وہی ہوگا جو نجد الیمامہ میں مسلیمہ کذاب کے لشکر کا حضرت سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لشکر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے کیا تھا اور یہ انجام اس سے بھی دردناک ہوگا جو جنگ نھروان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کا کیا تھا اور یہ انجام بہت قریب نظر آرہا ہے ، امن ، آشتی ، صلح کل ، جیو اور جینے دو کے کے اصولوں کی جیت ہوگی

پاکستان کی پارلمینٹ کے فصیلے کے فوری بعد نام نہاد ” آپریشن فیصلہ کن طوفان ” کے ترجمان جنرل عسیری اس مرتبہ اپنا موقف بیان کرنے آئے تو ان کے سامنے پڑے جھنڈوں میں سے پاکستان کا جھنڈا غآئب تھا جو فضائی حملوں کے پہلے دن سے ان کی ڈائس پر دکھائی دیتا تھا اور لوگ سوال کرتے تھے کہ اگر پاکستان اس جنگ میں شریک نہیں تو یہ جھنڈا وہاں کیوں نظر آتا ہے ، اصل میں پاکستان کی قسمت کے انتہائی اہم فیصلوں ميں اس پہلے یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ ریاض یا واشنگٹن کی وفاداری اس کے ایوان ہائے اقتدار میں اتنی سرایت کرگئی ہے کہ جو فیصلہ ریاض و واشنگٹن سے آئے گا اس پر تصدیق کی مہر لازمی اسلام آباد سے لگ جائے گی چاہے اس کے بعد پاکستان میں آگ لگے ، 75 ہزار شہری جام شہادت نوش کریں اور پاکستان کے فوجیوں کے سروں سے فٹبال کھیلا جائے اور پارلیمنٹ کے اجلاس کے چوتھے دن چندآوازیں ایسی تھیں جو کہہ رہی تھیں ہاؤس آف سعود جو مانگیں ان کو دے دیا جائے ،

ایک سینٹر تو تقریر کرتے ہوئے ایسے لگ رہے تھے جیسے وہ پاکستانی سینٹ کی بجائے ہاشس آف سعود کی مشاورتی کونسل کے رکن ہوں اور خلیجی ریاستوں کا پریس بھی ایسی خبریں بے پر کی اڑا رہا تھا جیسے اصل مدد اور فیصلے تو ہوچکے اب تو پارلیمنٹ کا اجلاس آنکھوں ميں دھول جھونکنے کے لیے ہورہا ہے لیکن متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش کا بیان بتاتا ہے پاکستان کی پارلمینٹ کی قرارداد نے کیسے آمروں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے
انور قرقاش نے قرارداد کے فوری بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے فیصلے نے ان کو مایوس کیا ہے ، پارلیمنٹ کی قرارداد ملتبس ہے ، اور بتاتی ہے کہ پاکستان نے اپنے علاقائی سٹریٹجک مفادات کو گلف ریاستوں کے مفاد پر مقدم رکھا ہے اور ہمیں اس کی امید نہ تھی اور اس کے نتائج پاکستان کو بھگتنا ہوں گے

میں سمجھتا ہوں کہ یو اے ای کے وزیر خارجہ کا یہ بیان پاکستان کی پارلیمنٹ کی قراداد کی تاریخ ساز اہمیت کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے اور اس کی آزادی و خودمختاری کا کسی حد تک ثبوت بھی ہے مگر اس موقعہ پر حکمرانوں کی لن ترانیاں اور پارلمینٹ کے فیصلے سے انحراف کے آثار پریشان کن ہیں
میں جمعیت العلمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کو اس کی اپنی تاریخ کے کچھ ابواب دوبارہ پڑھنے کا مشورہ دوں گآ اور ھفاق المدارس کی قیادت کو بھی کہوں کہ وہ تاریخ کے پنّے دوبارہ سے کھولے اور بات بے بات دارالعلوم دیوبند اور اس کے عظیم اکابرین کی تاریخ کو مسخ کرنے کی روش چھوڑ دے ، اللہ کو جان دینی ہے

حرمین شریفین ، مکّہ مکرمہ اور مدینہ المنورہ سمیت مقدس مقامات کی حفاظت کی تحریک 1920ء میں ہندوستان کے اندر تحریک خلافت کے آغاز سے ہی شروع ہوگئی تھی اور اس تحریک کا ایک مرتبہ زور و شور سے آغاز 1925ء میں اس وقت ہوا جب برطانوی سامراج نے سلطنت عثمانیہ جو مڈل ایسٹ میں سنّی مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت تھی کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا فیصلہ کرلیا ، دارالعلوم دیوبند ہو کہ دارالعلوم فرنگی محل یا پھر دارالعلوم ندوۃ العلماء ہو یا بدایوں کا حضرت مولانا عبدالماجد بدایونی کا مرکز ہو ، جماعت الاحرار ہو کہ جمعیت العلمائے ہند ہو یا مولانا محمد علی جوہر ہوں اور مولانا شوکت علی ہوں ، انجمن حمائت اسلام ہوں کہ محمڈن ایجوکیشنل سوسائٹی ہو یہ سب کے سب تحفظ حرمین شریفین اور سلطنت عثمانیہ کے خلاف برطانوی سامراج کی سازشوں کے خلاف سرپا احتجاج تھے اور اس زمانے ميں سعودی عرب کی سلطنت کی بنیاد رکھنے والا عبدالعزیز بن سعود ، ہاشمی خاندان تھا جو برطانوی سامراج کا اتحادی تھا اور آل سعود کے حامیوں نے جنت البقیع ، جنت المعلی ميں اصحاب رسول و اہل بیت و عامۃ المسلمین کے مزارات تباہ کردئے تھے اور اس پر اس زمانے میں سارا ہندوستان ، مصر ، لبنان اور دیگر ممالک کے مسلمان سرّا احتجاج بنے اور کویت کے ایک اخبار الکون کی خبر کے مطابق اس افسوس ناک واقعے پر ہونے والے احتجاج کے پیش نظر ابن سعود نے جنت البقیع اور جنت معلی سمیت جن جن مقدس مقامات کو نقصان پہنچا تھا ان کی دوبارہ تعمیر کرنے کا وعدہ بھی کیا اور جب جمعیت العلمائے ہند سمیت ہندوستان سے مسلمانوں کا ایک وفد حجاز گیا اور ابن سعود سے ملا تو اس موقعہ پر ایک معاہدہ بھی ہوا تھا جس ک آج تک آل سعود نے پورا نہیں کیا

دارالعلوم دیوبند سمیت ہندوستان کے سنّی و شیعہ مدارس اور مذھبی جماعتوں نے انگریز سامراج اور اس کے مڈل ایسٹ میں اتحادیوں کی پالسیوں کی شدید مذمت کی اور اس زمانے ميں آل سعود کے خلاف ان کی پالیسی بھی بہت واضح تھی ، پھر 1960ء میں جب سعودیہ عرب نے سوشلسٹ ریپبلک آف جنوبی یمن کے خلاف سلفی ملیشیا تشکیل دی جو آج وہاں المجتمع الیمنی الاصلاح کے اندر ضم ہے تو مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے مصری افواج کو یمن کی عوامی حکومت بچانے کے لیے روانہ کیا اور اس زمانے ميں جماعت اسلامی یمن کے خلاف برطانیہ ، سعودی عرب اور امریکہ کی جنگ کو اسلامی جنگ قرار دے رہی تھی لیکن پاکستان میں جمعیت العلمائے اسلام نے اس معاملے پر سوشلسٹ ری پبلک آف یمن کی حمائت کی اور جمال عبدالناصر کی افواج کی یمن لڑائی کو سامراج کے خلاف لڑائی قرار دیا ، اس کا حال ہی میں تذکرہ مفتی محمود اکیڈیمی کراچی کی جانب سے مفتی محمود پر شایع کی گئی ایک کتاب میں بھی کیا گیا ہے اور اس میں مولنا ابرالحسن ندوی کی جمال عبدالناصر پر تنقید کا جواب بھی موجود ہے ،

لیکن آج کی جمعیت العلمائے اسلام ہو کہ وفاق المدارس کی قیادت وہ اپنے اکابرین مفتی ہند مفتی محمود حسن ، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ، مفتی محمود ، غلام غوث ہزاروی جیسے عظیم رہنماؤں کی روایت کو پس پشت ڈال کر سعودی عرب اور آل سعود کی حکومت کو حرمین شریفین کے تحفظ سے گڈ مڈ کررہی ہیں اور یہاں تک کہ پارلیمنٹ کی قرارداد منظور ہونے کے موقعہ پر تو انھوں نے کوئی واک آؤٹ کیا نہیں لیکن جب سے آل سعود اور دیگر عرب ملکوں کا دباؤ آڑے آیا ہے تو پارلیمنٹ کی قرارداد کے خلاف دارالعلوم کبیروالہ میں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد کے موقعہ پر ہاتھ کھڑے کروا کر پارلیمنٹ کی قرارداد کو مسترد کرنے کی کوشش مولانا حنیف جالندھری جیسے جید عالم دین کی جانب سے کی جاتی ہے

ہمیں یمن کے معاملے کو لیکر سعودی عرب یا ایران کی خارجہ پالیسی اور ان ملکوں کے مفادات سے پہلے اپنے ملک کے مفاد عزیز ہونے چاہيں اور پاکستان کو کسی اور کی جنگ نہیں لڑنی چاہئیے ، افغان جنگ سے مذھبی جنونیت کا جن بوتل سے باہر آیا ، اس کو ہم ابتک واپس نہیں بھیج سکے ، پھر ہم نے نائن الیون کے بعد ایک جنگ لڑی اور اس کے بطن سے خود کش برآمد ہوئے اور آج پھر ہمیں لاحاصل جنگ کی جانب دھکیلا جارہا ہے جو ہماری جنگ نہیں ہے
پاکستان میں غربت ، ناانصافی ، بھوک ، افلاس ، بربریت ، تشدد ، فرقہ پرستی جیسے مسائل ہیں جن کے خلاف جنگ ہونی چاہئیے اور شناختوں پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والوں کا محاسبہ کیا جانا چاہئیے تاکہ منٹو جیسے ادیب اپنا ٹوبہ ٹیک سنگھ ( پاکستان ) تلاش کرنے والوں کا رزمیہ لکھکر ہم سے پوچھتے نہ پھریں کہ آزادی اس قدر داغدار کیوں ہے اور سحر اتنی شب گزیدہ کیوں ہے

Source:

http://lail-o-nihar.blogspot.fr/2015/04/blog-post.html

About the author

Guest Post

2 Comments

Click here to post a comment