Featured Original Articles Urdu Articles

یمن پر سعودی جارحیت کی مخالفت کی وجوہات اصولی ہیں۔ خرم زکی

کیا مجھے یہ پریشانی ہے کہ پاک آرمی کے یمن کی جنگ میں ملوث ہونے سے حوثیوں کو شکست ہو جائے گی ؟ نہیں، ایسا کوئی خیال مجھے چھو کر بھی نہیں گزرا۔ حوثیوں نے جو قدم بھی اٹھایا ہے سوچ سمجھ کر اٹھایا ہے۔ اگر میں پاکستان کی مسلح افواج کے یمن پر سعودی جارحیت میں شرکت کا مخالف ہوں تو اس کی وجوہات اصولی ہیں:

1۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے رہنما اصول دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتے بلکہ ایسے امور کے سیاسی اور پر امن طریقوں سے حل کرنے کی بات کرتے ہیں۔

2۔ تمام اسلامی مملاک ہمارے لیئے یکساں ہیں، جیسے سعودی عرب کی سالمیت ہمارے لیئے اہم ہے ویسے ہی یمن کی سالمیت اور خود مختاری بھی اہم ہے۔

3۔ یمن کا معزول صدر ہادی اپنی مدت صدارت پوری کر چکا تھا اور وہ یمن کا آئینی و قانونی حکمران نہیں تھا، اس لیئے اس کی جانب سے کسی اپیل کی کوئی اہمیت نہیں۔ وہ جس ریفرینڈم میں منتخب ہوا تھا اس میں اس کو مسترد کرنے کا خانہ ہی موجود نہ تھا۔ اس نے اپنی قوم سے انتخابات اور آئین کے حوالے سے جو وعدے کیئے وہ بھی پورے نہیں کیئے۔

4۔ معزول صدر ہادی کا ملک پر سے کنٹرول ختم ہو چکا ہے اور وہ خود سعودیہ فرار ہو چکا ہے۔

5۔ یمن پر جارحیت ایک غلط نظیر قائم کرتی ہے۔ یہ حملہ ایسا ہی ہے جیسے پرویز مشرف کی جانب سے نواز شریف کا تختہ الٹنے کے بعد بھارت ہمارے ملک پر اس بہانے حملہ کر دے کہ ملک میں قانونی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے اس لیئے پاکستان کی خود مختاری روندی جا سکتی ہے۔ اگر حوثیوں کا اقدام غلط بھی ہے تو یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے اسے ان کو خود حل کرنا چاہیئے۔

6۔ پاکستان تیل کے بدلے اپنا خون نہیں بیچ سکتا اور نہ ہی کچھ لاکھ افراد کو ملازمتیں دے کر ہماری خارجہ پالیسی خریدی جا سکتی ہے۔

7۔ حرمین شریفین، جنت البقیع، کربلا معلی، نجف اشرف سمیت تمام مقدس مقامات کا دفاع ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے لیکن آل سعود کی حکومت کا دفاع صرف ان کی ذمہ داری ہے جو سعودی ہیں۔

8۔ خود آل سعود نے یمن کے بعض حصوں پر پچھلے 80 سال سے قبضہ کیا ہوا جیسے انڈیا ہمارے کشمیر پر قابض ہے۔

9۔ آل سعود کی حکومت خلافت عثمانیہ سے بغاوت اور غداری کے نتیجے میں قائم ہوئی اور اسی آل سعود نے برطانیہ کے ساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا اس لیئے حجاز مقدس پر ان کے اقتدار کا کوئی قانونی و شرعی جواز نہیں۔

10۔ جنت البقیع اور دیگر مقامت مقدسہ کو سب سے پہلے انہی آل سعود نے تاراج کیا اور اہل بیت و اصحاب رسول کے مزارات ڈھا دیئے جیسا کہ یہی کام اسی آل سعود کی پروردہ داعش نے شام اور عراق میں کیئے۔

11۔ آج اگر یمن پر سعودی جارحیت اور وہاں سعودی بمباری سے شہید ہونے والے مظلوم یمنی بچوں کے لیئے آواز نہیں اٹھائی جاتی تو کل اسی آل سعود کے اتحادی اسرائیل کے ہاتھوں جب فلسطینی بچے شہید ہوں گے تو اس پر بھی آواز بلند کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہے گا۔

12۔ پاکستان کا یمن پر سعودی جارحیت میں حصہ لینا خود ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ دہشتگردی میں اضافے اور کالعدم دہشتگرد گروہوں کی تقویت کا سبب بنے گا اور ملک میں ان کالعدم دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں اسی طرح بڑھ جائیں گی جس طرح افغان جنگ کے زمانے میں یہ گروہ طاقتور ہوئے تھے۔

 

About the author

Agahii

2 Comments

Click here to post a comment