Original Articles Urdu Articles

اوریا مقبول اور شیطانِ بزرگ۔۔۔ از نور درویش

مورخہ ۱۳ اپریل، شیطانِ بزرگ سے دوستی اور مرگ بر امریکہ کی رخصتی کے عنوان سے اوریا مقبول نے اپنے کالم کی دوسری قسط میں مختلف باتوں پر بات کی۔ حسب معمول کالم میں مختلف تاریخی اور علاقائی باتوں کا تڑکا لگا کر نتیجہ اخذ کرنے کی سعی کی گئی۔ بہر حال جو بھی کیا حسب معمول کمال مہارت سے، لیکن پھر بھی ڈنڈی مارنے سے چوکے نہیں۔ اس لیئے چند گذارشات ضروری ہیں۔

مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جب یہ حضرات روس کی افغانستان سے روانگی کے بعد ہونے والی خانہ جنگی اور پھر پاکستان کی مدد سے بننے والی طالبان حکومت کا ذکر کرتے ہیں اور پاکستان کی اِس حکومت کی مکمل حمایت کی بات کرتے ہیں تو شمالی اتحاد کی ایران سے قربت پر انہیں کیوں اعتراض ہوتا ہے؟ کیا علاقائی سیاست اور سٹریٹجک ڈپتھ قسم کی چیزوں پر بس ہماری اجارہ داری ہے؟ طالبان حکومت کو پُر امن حکومت کہنا بھی ایک سفید جھوٹ ہے، بامیان اور بنج شیر میں ہونے والے شیعوں کے قتل عام، نو روز و عزاداری پر پابندی کس قسم کی مذہبی رواداری کی عکاس ہیں؟ اگر اتنے ہی امن پسند تھے تو افغنایوں کی اکثیرت کو آج اُن کے حق میں سڑکوں پر ہونا چاہئے تھا۔ البتہ اوریا مقبول جیسے دانشور اس جانب کبھی متنبہ نہیں ہوتے۔  حقیقت پسندانہ طرز عمل یہ ہے کہ جب ہم ایران کی افغانستان میں مداخلت کی مخالفت کریں تو پاکستان کی طالبان کی حمایت اور جنرل حمید گل کے نظریات  کی بھی مخالفت کریں ورنہ یہ دوہرا معیار کہلائے گا اور کچھ نہیں۔ اور ویسے بھی جب ہم افغانستان سے نورستان کُنڑ میں چھپے تحریک طالبان کے خلاف کاروائی کرنے کے مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں بھی اُن افغان طالبان کے حمایت اور مدد سے پیچھے ہٹنا چاہئے جو افغانستان کے اندر کاروایئاں کرتے ہیں۔ہم نے ساری دنیا میں اپنی خلیفہ گیری کا ٹھیکہ نہیں اُٹھا رکھا۔ 

جناب نے ایک عجیب کام کیا ہے اس دوسری قسط میں اور وہ ہے عراق کی بات کرتے ہوئے آیت اللہ سیستانی کو مکمل نظر انداز کر دینا۔ گویا عراق کی پوری شیعہ اکثریت ایران کے زیرِ اثر ہے جو کہ صریحا غلط ہے اور حقائق کے منافی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عراقی شیعہ عمومی طور پر ایرانی اثر قبول کرنے پر کبھی آمادہ نہیں رہے۔  عراق کی شیعہ آبادی میں اگر ِکوئی شخصیت سب سے گہرا اثر رکھتی ہے تو وہ آیت اللہ سیستانی ہیں، جن کے ایک فتوے پر لوگ ووٹ دینے نکل پڑے، مقامات  مقدسہ کی حفاظت کیلئے دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے نکل پڑے اور انہیں کے حکم پر مقتدی الصدر نے نجف میں جنگ بندی کی۔ مقتدی الصدر ایرانی زیرِ اثر ضرور  تھا لیکن جنگ بندی اُس نے سیستانی صاحب کے حکم پر کی اور نجف میں حضرت علی (کرم اللہ وجہہ) کے روضے سے اپنے لشکر سمیت باہر آگیا۔  اوریا مقبول کے مطابق مقتدی الصدر نے ایرانی احکامات پر مسلح کاروایئاں روکیں جو کہ بالکل غلط ہے۔مقتدی الصدر کا اپنا بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس میں اُس نے جنگ بندی کو مرجعیت کے احترام سے منسوب کیا تھا۔عملی سیاست سے دور رہنے کے باوجود سیستانی صاحب وہاں کی انتہائی اثر انگیز شخصیت ہیں، جن کا ایرانی نظامِ ولایتِ فقیہ کے بارے میں بھی نظریہ مختلف ہے اور عراق کی شیعہ سنی عوام میں یکساں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔

 اوریا مقبول کے مطابق عراق میں جہاد صرف سنی علاقوں تک محدود ہو گیا تھا، جس کی وجہ بھی ایران تھا کیونکہ ایران نے اپنے زیرِ اثر شیعہ آبادی کو اس سے روک دیا تھا ۔یہ بھی غلط اور انتہائی سطحی بات ہے۔ سوائے القائدہ کے ابو مصعب الزرقاوی اور بعث پارٹی کی باقیات کے، کوئی قابل ذکر نام نظر نہیں آتا اور اِن دونوں کو سنی کہنا غلط ہے۔  ابو  مصعب کو سنیوں میں کتنی پذیرائی حاصل تھی، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔انتخابات اور عملی سیاست میں شیعوں، سنیوں اور کردوں میں اختلافات سامنے آتے رہے جن کی نوعیت اکثر کافی شدید بھی تھی۔ البتہ علماء نے ہر دور میں دانشمندی کا ثبوت دیا۔ عراق کے معاملے کو کسی صورت سب اچھا تو نہیں کہا جا سکتا لیکن جو نتیجہ اوریا مقبول اخذ کر رہے ہیں وہ بھی غلط ہے۔ 

 

عراق کا ذکر کرتے ہوئے اوریا صاحب نے داعش یا دولت اسلامیہ کو سنی علاقوں سے جنم لینے والا گروہ قرار دیا جس کی وجہ ان کے نزدیک شیعہ سنی کشمکش تھی جس نے سنی اقلیت میں سے داعش کو پیدا کیا۔  دولت اسلامیہ کسی صورت سنیوں کا نمائندہ گروہ نہیں تھا۔ نہ مسلکی اعتبار سے اور نہ علاقائی اعتبار سے۔ مختلف عرب ملکوں اور دنیا بھر سے جمع ہوئے یہ جنگجو، جن کے نظریات میں سلفی عقائد کی تلخی اور ابن تیمیہ کے فتووں کا تڑکا لگا ہوا تھا، سفاکی اور بربریت میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ انہوں نے عراقیوں کو بلا تفریق قتل کیا۔ مساجد کو تباہ کیا اور مزارات کو مسمار۔ جھاد النکاح جیسی قبیح رسم پر عمل کیا اور بازاروں میں خواتین کی بولیاں لگوایئں۔  اوریا مقبول کا داعش سے رومانس کسی سے چھپا نہیں، اُن کے نزدیک داعش اُس نظام خلافت کی عملی تصویر ہے جس کا خواب اُمت مسلمہ دیکھ رہی  ہے، البتہ اس گروہ کے انسانیت سوز مظالم دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ کس طرح ایک پڑھا لکھ شخص ان جانوروں کی وکالت کر سکتا ہے اور ان کے ذرئعے خلافت رائج کرنے کا خواب دیکھ سکتا ہے۔  گذشتہ دنوں تکریت میں ۱۷۰۰ عراقیوں کی اجتماعی قبر دریافت ہوئی جنہیں داعش کے سفاک دہشت گردوں نے بیدردی سے قتل کر دیا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ داعش کے خلاف عراق کے شیعہ اور سنی علماء نے یکسو ہو کر فتوی دیئے اور انہیں خارجی قرار دیا۔

ایرانیوں کی اکثریت ایران اور مغربی ممالک پی ۵، جسے اوریا صاحب صرف امریکہ کہہ رہے ہیں، اس معاہدے سے خوش ہے۔ وہ دوستی اور معاہدے کے فرق کو سمجھتے ہیں۔ ہر ملک کو اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے کا حق ہے۔ ہمارے ایران سے لاکھ اختلافات ہوں لیکن اس بہترین سفارتی اور سیاسی حکمت عملی پر انہیں شاباش نہ دینا بد دیانتی ہوگی۔ نہ تو ہم تمام ایرانی پالیسیوں کے حمایتی ہیں اور نہ خطے کی صورتحال میں ایرانی اثر و رسوخ سے انکاری۔ یہ عالمی سیاست ہے اور اس میں ہر فریق اپنی چال چلتا ہے۔

کالم کا اختتام وہ ان الفاظ پر کرتے ہیں:

ایران کی قیادت محتاط ہے۔ یہ احتیاط اس لیے کہ گزشتہ چالیس سال سے ایرانیوں کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا ’’مرگ بر امریکا،، چار نسلیں اس نعرے کے سائے میں پل کر جوان ہوئیں ہیں۔ انھیں اس بات کا احساس دلایا گیا کہ دنیا میں سب سے بڑا شیطان امریکا ہے اور اس سے شدید نفرت کی جائے۔ امریکی دوستی مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثرونفوذ بڑھانے میں مدد تو دے گی لیکن اندرون ایران، عام آدمی کے جذبات کیا ہوں گے اسے ایران کی مذہبی قیادت خوب جانتی ہے۔ انھیں خوف ہی اس بات کا ہے کہ وہ مرگ بر امریکا کا نعرہ جو کل شاہ کے خلاف استعمال کرتے تھے، آنے والے کل یہ ان کے خلاف استعمال نہ ہونے لگے۔ ایرانیوں کو انقلاب کا تجربہ تو ہے

حسب معمول ڈنڈی مارتے ہوئے اوریا مقبول نے امریکی دوستی اور دس سالوں پر محیط معاشقہ جیسے اصتلاحات استعمال کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ غالبا ایران نے اس معاہدے کے ساتھ ساتھ اپنے تمام اُصولی موقف بھی ترک کر دیئے ہیں ۔حیرت کی بات ہے کہ اس پورے کالم میں کہیں بھی اسرائیل کی اس معاہدے کے بارے میں تشویش اور ناراضگی کا ذکر نہیں ہے۔ نہ یہ نیتن یاہو کے اُس بیان کا جس میں امریکہ سے التجا کی گئی ہے کہ معاہدے سے پہلے ایران سے اسرائیل کر تسلیم کروایا جائے۔ اوریا مقبول نے بارک اوباما کہ اُس بیان کا ذکر بھی ضروری نہ سمجھا جس میں ایران کی دفاعی بجٹ اور فوجی قوت کا امریکی قوت اور بجٹ سے موازنہ کیا گیا ہے اور نہ ہی ذکر کیا اُس تنبیہ کاجو ایران کی یمن میں مداخلت پر کی گئی ہے۔ یاد رہے یہ سب معاہدے کے بعد کے واقعات ہیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں یقینا ایران کو معاشی ترقی ملے گی اور خطے میں  ایک مضبوط کردار جو سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کو بالخصوص اور بیشتر عرب ممالک کو بالعموم قبول نہ ہوگا۔ یہ مفادات کی جنگ ہے جس میں ہر فریق اپنا فائدہ دیکھتا ہے۔ 

ایران کے اندرونی حالات سے باخبر احباب جانتے ہونگے کہ ایران میں محض بنیاد پرست ایرانی نہیں بستے، یہاں معتدل مذہبی رجحان رکھنے والے ایرانی بھی ہیں، آزاد خیال بھی، اصلاح پسند بھی اور بنیاد پرست یا ولایتِ فقیہ کے پیرو بھی۔ معاہدے اور دوستی کے فرق کو اوریا مقبول جیسے دانشور تو نظر انداز کر سکتے ہیں لیکن ایرانی قیادت نے اس فرق کو نہایت خوبصورتی سے اپنی عوام کا سمجھا دیا ہے۔ کئی برسوں تک معاشی پابندی میں جکڑی ایرانی قوم اس معاہدے کو اپنی فتح سمجھتی ہے اور اس کے ذریعے اپنی معیشت کر مضبوط بنانے کی خواہاں ہے۔ شیطان بزرگ اور مرگ بر امریکہ کا نعرہ اس وقت رخصت ہوگا جب ایرانی قیادت اپنے اُصولی موقف ترک کر کے وہ راستہ اختیار کر لے جس پر رضا شاہ پہلوی چلا اور ال سعود چلے۔ فی الحال تو ایرانی قوم فتح کا جشن منا رہی ہے، کیونکہ وہ معاہدے کی افادیت سمجھتے ہیں اور دوستی کا مطلب بھی۔ اوریا صاحب بھی سمجھ لیں تو بہتر ہوگا۔

ختم شد

http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1102789880&Issue=NP_LHE&Date=20150413