Original Articles Urdu Articles

مقدس مقامات کی آڑ میں آل سعود کا ایجنڈا کامیاب نا ہونے دیا جائے – از عمار کاظمی

download

گزشتہ دو دن سے ایک ہی بات سوچ رہاں ہوں کہ کعبہ اور مقامات مقدسہ کے تحفظ کی بات وہ کیوں کر رہے ہیں جن کے عقائد میں بھی قبروں کا احترام شامل نہیں؟ لہذا ایک بات تو واضع ہے کہ یہ لوگ مقامات مقدسہ کا استعمال محض سیاسی مقاصد کے لیے کر رہے ہیں۔ تاہم زیادہ تفکر کی بات یہ ہے کہ کہیں یہ کوئی سازش، کوئی ٹریپ تو نہیں؟ کل اگر انہی لوگوں میں سے یا کوئی تیسرا بھی اُٹھ کر یمنیوں یا پاکستان میں موجود شیعہ بریلوی کے خلاف آگ بھڑکانے کے لیے کعبہ یا دیگر مقامات مقدسہ کو نقصان پہنچا کر الزام یمنیوں پر لگا دے تو؟ اس صورت میں پاکستان میں موجود شیعہ بریلوی کے لیے نہ صرف اس کا جواب دینا مشکل ہو جائے گا بلکہ سارا بلیم ان طبقات پر شفٹ ہو جائے گا جنھوں نے مقامات مقدسہ کی حفاظت کے حوالے سے لا پرواہی برتی یا توجہ نہیں دی۔ یہ صورت ریاست پاکستان کی داخلی صورتحال کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

موجودہ حالات میں شیعہ علما کوزیادہ محتاط اور ذمہ دار رویے کی ضرورت ہے۔ آج کے دن تک ان کی طرف سے مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لیے فوج بھیجنے کے حوالے سے کوئی واضع بیان سامنے نہیں آیا۔ جہاں تک پاکستانی حکومت و ریاست کا تعلق ہے تو انھوں نے فوج ہر دو صورت سعودی عرب بھیجنی ہے۔ لہذا یہ بات بھی ضروری ہے کہ آل سعود کو مقدس اور مقامات مقدسہ کو آل سعود نہ بننے دیا جائے۔ میری رائے میں شیعہ بریلوی علماء کو زور ان نقاط پر دینا چاہیے کہ مکہ اور مدینہ کے دو شہروں کی حفاظت کے لیے پاکستانی فوج ضرور بھیجی جائے اور پاک فوج صرف مکہ اور مدینہ کی حفاظت تک ہی محدود رہے۔ اور مسلمانوں یا عربوں کی آپسی لڑائی میں آل سعود کو بھی مقامات مقدسہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے یا ان میں پناہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ نیز شیعہ بریلوی علماء کی طرف سے یہ مطالبہ بھی پر زور طریقے سے کیا جانا چاہیے کہ جو فوجی دستے مکہ اور مدینہ کی حفاظت کے لیے جائیں ان میں تمام مکاتب فکر کے فوجیوں کی یکساں نمائندگی ہونی چاہیے۔ جو وہاں حفاظت کے ساتھ غیر جانبدار مبصر کا کام بھی کر سکیں۔ یہ بہت حساس معاملہ ہے۔ لہذا یہاں یہ کہہ دینا کافی نہ ہوگا کہ فوج میں کوئی فرقہ واریت نہیں یا اس میں کوئی سازشی عناصر نہیں ہو سکتے۔ اگر ایسا ہوتا تو جی ایچ کیو، کامرہ، مہران بیس اور مشرف پر حملوں میں اندر کے لوگ ملوث نہ پائے جاتے۔