اردو ثقافت اور آرٹس

دادو کے جیالے ‘ ضیاؑ ‘گدھے اور لہراتی دھوتیاں – ندیم فاروق پراچہ

 

11

جو ہوا وہ پہلے اس خطے میں کسی نے نہ دیکھا تھا نہ سنا تھا ضیا کے بدترین دور میں سندھ میں آئے دن خبر آتی تھی کہ آج مورو میں فوج نے فائرگ کر کے پانچ جمہوری کارکنوں کو ہلاک کردیا۔ کبھی خیرپور ناتھن شاہ میں، کبھی دادو میں تو کبھی میہڑ میں۔ پورا سندھ جل رہا تھا لیکن احتجاج تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ عوام نے جیسے تہیہ کر لیا تھا کہ اب وہ مزید اس درندہ آمریت کو برداشت نہیں کریں گے۔ اور بھلا وہ کیسے بھلا سکتے تھے کہ جنرلوں نے ان کے محبوب قائد کو رات کی تاریکی میں، قوانین کو بالائے طاق رکھ کر، پھانسی پر چڑھا دیا تھا۔ اب تو وقت تھا سارے حساب برابر کرنے کا۔

اور حساب کیسے برابر ہوا؟ جنرل ضیا کی شامت آئی۔ ایک فوج نواز سندھی زمیندار کی دعوت اور بہلانے پھسلانے پر جنرل صاحب نے دادو کا دورہ کرنے کی حامی بھری۔ جمہوری کارکنوں کو جیسے ہی یہ معلوم ہوا کہ جنرل ضیا آ رہے ہیں انہوں نے بھی اپنا منصوبہ بنا لیا۔ جنرل ضیا کا ہیلی کاپٹر جہاں اترنا تھا اس کے آس پاس میں کھیتوں کھلیانوں میں درجنوں لوگ جمع ہوئے اور اپنے ساتھ چند گدھے بھی لائے۔

جیسے ہے جنرل صاحب ہیلی کاپٹر سے نکلے، لوگ جوک در جوک کھیتوں سے نکلے، درختوں سے کودے ہر طرف سے دوڑتے ہوئے میدان کی جانب لپکے۔ ان کے ساتھ جو گدھے تھے ان پر بڑا بڑا ضیا الحق لکھا ہوا تھا اور وہ بھی ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے آنے والے مہمان کے استقبال کے لیے دوڑے۔

12

پھر جو ہوا وہ پہلے اس خطے میں کسی نے نہ دیکھا تھا نہ سنا تھا۔ درجنوں لوگ جو نعرے لگاتے، بینر لہراتے، دوڑے چلے آ رہے تھے وہ اچانک ایک جگہ رک گئے۔ بس یہ جگہ اتنی دور تھی جہاں سے جنرل صاحب انہیں باآسانی دیکھ سکتے تھے۔ پھر کیا لپک جھپکتے ہی تمام مظاہرین نے اپنی دھوتیاں اتار پھینکیں اور آمریت مخالف نعرے بلند کرتے، ناچنے لگے۔

جنرل ضیا کے میزبانوں کی حالت شرم، غصے اور بے بسی کی وجہ سے ابتر ہو رہی تھی اور جنرل ضیا غصے میں تھے۔ ان کو فوراً ایک گاڑی میں بٹھا کر فوجی چھاؤنی لے جایا گیا۔ایم آر ڈی کی تحریک نے ثابت کیا تھا کہ آمریت کتنی بھی طاقتور ہو، وہ عوام کی طاقت کے سامنے بالکل بے بس ہے اور خاص طور پر جب وہ دھوتیاں اتار دیں۔

http://www.dawn.com/news/709925/the-general-the-dog-and-the-flasher

About the author

Shahram Ali

169 Comments

Click here to post a comment