Original Articles Urdu Articles

یا الله، یا رسول الله، یا علی اور یا غوث کے تقابل کی آڑمیں اصلی ایجنڈا کیا ہے – عمار کاظمی

11081150_10202631185900439_4600313689664266789_n

حضرت ذرا احتیاط کیجیے
نہ مذہبی بحث میں دلچسپی ہے نہ کسی کے عقائد سے کوئی لگاو۔ نہیں جانتا کون حق پر ہے اور کون نہیں۔ بلا تفریق تمام مذاہب اور مکاتب فکر کو قابل احترام سمجھتا ہوں۔ جو جسے درست سمجھتا ہے اسے وہیں لگے رہنا چاہیے کہ مذہب اور عقیدہ انتہائی زاتی نوعیت کی باتیں ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر بریلوی شیعہ عقائد کے خلاف گمراہ کن، جھوٹا اور بے وجہ کا پراپیگنڈا دیکھ کر کچھ باتیں، کچھ گزارشات لکھنا ضروری خیال کرتا ہوں۔ کچھ عام فہم سوال اور اندیشے قارئین کے سامنے رکھ کر کچھ سیکھنا اور جاننا چاہتا ہوں۔

سوشل میڈیا پر جن دو پوسٹرس نے میری توجہ اس طرف مبزول کروائی ان میں سے پہلا کچھ یوں تھا کہ کالے رنگ کے پوسٹر میں سب سے اوپر نمایاں الفاظ یہ سوال تحریر تھا کہ “آپ ان میں سے کون سے والے ہیں؟” سوال کے نیچے اے، بی اور سی لکھ کر تین مختلف آپشنز دی گئی تھیں۔ آے- یا اللہ مدد، بی- یا علی مدد اور سی- یا غوث مدد۔

میرے لیے اس میں قابل اعتراض اور پُر تججس بات یہی تھی کہ یہ سب پوچھنے کا آخر مقصد کیا ہوسکتا ہے؟ بظاہر یہ کسی کی طرف سے ایک بچگانہ سی پوسٹ محسوس ہوتی ہے۔ لیکن درحقیقت یہ صوفی سنی، بریلوی اور شیعہ عقائد پر براہ راست حملہ اور شاید ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے۔ بھلا ایسا کونسا شیعہ یا صوفی سنی ہوسکتا ہے جو اللہ تعالی کے مقابلے میں حضرت علی یا غوث العظم کو فوقیت دے؟ سوشل میڈیا پر اس طرح کے بہت سے فیس بک گروپس ہیں جہاں الفاظ میں انیس بیس کی ہیرا پھیری کر کے نئی نسل سے اسی طرح کے سوال پوچھے جاتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک اور پوسٹر سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں مولانا طارق جمیل کی اور ایک ہری پگڑی والے عالم دین اور ایک شیعہ عالم دین طالب جوہری کی فوٹو لگی ہے۔

پوسٹر میں پہلی تصویر مولانا طارق جمیل صاحب کی ہے جس کے ساتھ لکھا ہے کہ یہ یا اللہ مدد والے ہیں۔دوسرے نمبر پر ایک ہری پگڑی والے محترم عالم دین کی فوٹو کے سامنے لکھا ہے کہ یہ یا غوث پاک مدد والے ہیں۔ تیسرے نمبر پر شیعہ عالم دین علامہ طالب جوہری صاحب کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے کہ یہ یا علی مدد والے ہیں۔ تینوں محترم علماء کی تصویروں کے نیچے لکھا ہے کہ “آپ ان میں سے کس کے ساتھ ہیں؟”۔ جنرل ضیا کے ریفرنڈم جیسے سوال پوچھ کر دو مسالک کے علماء کو کم فہم ثابت کرنے کے مولانا طارق جمیل صاحب کو سبقت دلانا۔ یعنی ہر دو صورت میں اولیاء اللہ کو اللہ کے مقابلے میں کھڑا کر کے شیعہ، بریلوی اور صوفی سنی عقائد کے نا پختہ ذہنوں کی حامل نئی نسل کے سامنے نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بدعت اور شرک کی بات کرنے والوں کو تو یہ سوال پوچھتے بھی شرم کرنی چاہیے کہ وہ یہ سوال اللہ تعالی کے مقابلے میں پوچھ کر خود بھی شرک و بدعت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

11075152_10153173785199561_8157811056407478981_n

دوسرے سوال نامے میں مولانا طارق جمیل صاحب کو پہلے نمبر پر رکھ کر ضیا کے ریفرنڈم جیسے سوال پوچھنے سے صاف ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے اور اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں۔ یہ لوگ اسی طرز کی گمراہ کن تشہیر سے اب تک بریلوی صوفی سنی عقائد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے ہیں۔ بہت سے لوگ ان کی پھیلائی غلط فہمیوں کا شکار ہو کر اپنا عقیدہ تبدیل کر کے ہیں۔ جبکہ ان بے معنی باتوں کا اس کے علاوہ کوئی مقصد سمجھ نہیں آتا کہ دوسروں کو ایسی تبلیغ کے ذریعے کس حد تک بہکایا سکتا ہے، ان کی اس بہکاوے والی تبلیغ کے نتیجے میں کتنے بریلوی صوفی بہکے اور اب ان بہکے لوگوں کو شامل کرنے کے بعد ان کی اپنی تعداد کیا ہو سکتی ہے۔

یہ ممکنہ طور پر ان کا غیر سرکاری مردم شماری کا طریقہ بھی ہے اور ان کی پروموشن کا ذریعہ بھی۔ بجا طور پر تبلیغ کا حق ہر مسلک، مذہب اور نظریے کو لوگوں کو حاصل ہونا چاہیے لیکن دوسرے کے بارے میں جھوٹ پھیلا کر خود کو بڑا ثابت کرنا کہاں کی اخلاقیات ہے؟ کبھی کسی تبلیغی کی دکان میں چلے جاو تو سامنے بڑا بڑا لکھا نظر آتا ہے “میرے لیے اللہ ہی کافی ہے” ارے بھائی کس کے لیے اللہ کافی نہیں؟ مگر کیا تمھیں اللہ اور اس کی کتاب کا پتا اللہ کے نبی کے وسیلے کے بغیر ہی چل گیا تھا؟ کیا حدیث کی کُتب تمھارے علم کا وسیلہ نہیں ہیں؟ کیا تم احادیث کی کُتب سے مدد نہیں لیتے ہو؟ کیا تم پر انفرادی وحی نازل ہوتی ہے؟

بریلویوں کے عقائد پر جہالت کا ٹھپہ لگاتے ہو تم خود کس جہالت کا شکار ہو؟ ایک طرف تبلیغیوں کے یہ دعوے کہ ہم تو فرقہ واریت کی بات ہی نہیں کرتے اور دوسری طرف ہر جگہ یہ جھوٹا اور منافقت بھرا پراپیگنڈا، بریلوی صوفی سنی حضرات کے عقائد کا مزاق۔ بریولی، صوفی سنی اور شیعہ حضرات کی دل آزاری۔ ان پر وہ تہمتیں جن کا ان کے حقیقی عقائد سے واستہ ہی نہیں۔ اپنی فکر سے وابستہ سوفیصد خودکُش بمباروں اور دہشت گردوں پر شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے دوسروں کو بدعتی اور کافر کہنا۔

صرف اپنے عقائد و فکر کو ہی بر حق جان لینے سے آپ کو کونسی ٹرافی وصول ہو جائے گی؟ دوسروں کی فکر چھوڑیے اپنی فکر مین موجود دہشت گردی کے ناسور پر قابو پانے کی کوشش کیجیے جو نہ صرف انسانیت اور اس ریاست کو بلکہ آپکی فکر کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ اگر آپ اپنی بڑھتی تعداد ناپانا چاہتے ہیں اور اقلیت کے اکثریت اور اکثریت کے اقلیت بننے کے خواب لیے تازہ اعداد و شمار جاننا چاہتے ہیں تو سیدھی طرح کھل کر سامنے آیے۔ مردم شماری کا مطالبہ کیجیے۔ آپ کو پتا چل جائے گا کہ بریلوی کس قدر کم ہوئے یا آپ کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوا۔ اس منافقت اور بے مقصد بہتان طرازی کی کیا ضرورت ہے؟ وہ پرانی نسل ہوگی جو آپ کی چالاکیوں کو سمجھ نہ سکی۔ اب آپ کی فکر سے جڑے دہشت گردوں کی مہربانی سے متاثرین بہت حساس ہو چکے ہیں۔ یہ انفارمیشن ٹیکنالو جی کا زمانہ ہے۔ ریاست پہلے ہی فرقہ پرستی اور مذہبی انتہا پسندی کی آگ میں جل رہی ہے۔ حضرت زرا احتیاط کیجیے۔