Original Articles Urdu Articles

طالبان اور سپاہ صحابہ کے مدد گار دیوبندی مدرسوں کو بچانے کے لئے بکاؤ شیعہ اور سنی بریلوی مولوی میدان میں آ گئے

10628048_1059328127417354_8914563285306204729_n

دیوبندی، شیعہ اور چند بریلوی مولویوں کا ایک اہم اجلاس چودہ مارچ کو لاہور کے جامعتہ المنتظر میں منعقد ہوا جس میں پاک فوج اور حکومت کی طرف سے مدارس کے خلاف جاری حکومتی اقدامات اور رجسٹریشن کے معاملات کو زیر بحث لایا گیا ۔ وفاق المدارس الشیعہ کی میزبانی میں منعقد ہونے والے اہم اجلاس میں آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی، نائب صدر مولانا نیاز حسین نقوی، سیکرٹری مولانا محمد افضل حیدری، دیوبندی وفاق المدارس العربیہ کے قاری حنیف جالندھری، وفاق المدارس السلفیہ کے مولانا یاسین ظفر،تنظیم المدارس اہل سنت کے مولانا عبدالمصطفیٰ ہزاروی اور تنظیم رابطہ المدارس کے مولانا عبدالمالک شریک ہوۓ ۔ اجلاس کی صدارت مفتی منیب الرحمان نے کی جو اتحاد تنظیمات المدارس کے سربراہ ہیں

واضع رہے کہ یہ اجلاس تکفیری دیوبندی مدارس کو فوجی آپریشن سے بچانے کے لیے کیا گیا – دیوبندی وفاق مدارس کے سربراہ قاری حنیف جالندھری جامعہ المنتظر سمیت دیگر مدارسِ شیعہ کے خلاف پراپیگنڈا میں مشھور ہیں اور دیوبندیوں نے سنی بریلوی علما کے خلاف بھی غلیظ زبان استعمال کی اور ان کے درباروں اور مزاروں پر حملے کے آج اپنے تکفیر ی مدارس ، کہ جہاں سے دہشتگردی کی ٹرینگ اور مسلمانوں کو کافر قرار دینے کا سرٹیفکٹ مہیا کیا جاتا ہے اور جو دہشتگردوں کی آمجگاہ ہے کو بچانے کے لئے شیعہ اور سنی بریلوی مدارس کا سہارا لے رہے ہیں۔

جامعہ المنتظر کے لئے یہ انتہائی شرم کا مقام ہے کہ شیعہ قتل عام میں ملوث دہشتگردوں کی آما جگاہوں کو بچانے کے لئے وہ اپنا کندھا فراہم کررہے ہیں، ہر وہ شیعہ اور سنی بریلوی جو ان جو تکفیری مدارس کے نفرت انگزیر بیانات کے سبب قتل ہوا ہے وہ جامعہ المنتظر کے سربراہوں اور مفتی منیب الرحمن سے ناحق بہنے والے اس خون سے غداری کرنے پر سوال پوچھنے کا حق رکھتا ہے کہ آخر کیا مجبوری ہے کہ آپکی کہ آپ نے ہمارے بچوں ،جوانوں ،بزرگوں اور ماؤں بہنوں نے قاتلوں کو اپنے ادارے میں جگہ دی اور ان دہشتگردی کے اڈوں کو بچانے کے لئے کوشیش کی اسکا جواب تو آپکو دینا ہوگا۔

واضع رہے کہ جامعتہ المنتظر علامہ ساجد نقوی کے حمایت یافتہ مدارس میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ علامہ ساجد نقوی کی تنظیم شیعہ علماء کونسل بھی حکومت پاکستان کی جانب سے قومی ایکشن پلان کے تحت بنائے گئے مدارس ایکٹ کے موضوع پر اپنے اتحادی دیوبندی مولویوں فضل الرحمن اور حنیف جالندھری کے ساتھ ہے، اسی اتحاد کے اجلاسوں میں کالعدم دیوبندی دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ کا لدھیانوی بھی شریک ہوتا ہے