Featured Original Articles Urdu Articles

خواتین کا عالمی دن کس طرح منائیں؟

0

آٹھ مارچ کو پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے پاکستان میں بھی یہ دن پورے جوش اور جذبہ سے منایا جاتا ہے۔بڑے بڑے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں خواتین کے حقوق کے لیئے کام کرنی والی این جی اوز سمینار کرتی ہیں۔میرے خیال میں پاکستان میں جس طرح کا معاشرہ ہے اس میں صرف خواتین کا دن اس طرح نہیں منانا چاہیئے۔اس نیم قبائلی اور فرسودہ جاگیردارانہ معاشرے میں خواتین کا دن سیمینار منعقد کرکے یا اس طرح کی مختلف تقریبات معنقد کرنے کے بجائے  کسی اور طریقے سے منانا چاہیئے۔جیسے خواتین کو کاری قرار دے کر مار کر بھی  یہ دن منایا جاسکتا ہے اور اس دن بد چلن عورتوں کو ایک میدان میں جمع کریں اور ان کو کاری قرار دے کر ماریں۔اس مقصد کے لیئے این جی اوز کی بے حیا عورتوں کا انتخاب کرنا چاہیئے کیوں کہ وہ یہود و نصاریٰ سے ڈالر لے کر ان کے ایجنڈے پر کام کررہی ہیں اس لیئے سب سے زیادہ بدچلن تو وہی ہیں۔ 
اس کے علاوہ  عورتوں کو قرآن سے شادی کرواکر بھی یہ دن منایا جاسکتا ہے۔اس مقصد کے لیئے اجتماعی شادیوں کا بندوبست بھی کرنا چاہیئے۔ اب دیکھیں نا کون اپنی جائیداد میں سے حصہ ان نا سمجھ اور ناقص العقل عورتوں کو دے۔اس کے بجائے ان کی شادی قرآن سے کروانا بہتر رہے گا اور اس کے لیئے خواتین کے عالمی دن کا انتخاب کیا جائے تاکہ دینا کو پتہ چل سکے کہ ہم خواتین کو ان کے حقوق دینے میں پوری دنیا سے آگے ہیں۔
خواتین کے عالمی دن کو ہم ونی کی رسم ادا کرکے بھی مناسکتے ہیں۔اس رسم کے دو فائدے ہیں۔اس سے ایک تو بیچاری ان خواتین کی شادی بھی ہوجاتی ہے جو اپنے گھر والوں کے لیئے بوجھ ہوتی ہیں اور دوسرے  یہ کہ قبائل اور خاندانوں کی رنجشیں اور  آپس کی دشمنیاں بھی رشتہ داری میں بدل جاتی ہیں۔اس مقصد کے لیئے ہمیں خواتین کے عالمی دن کا انتخاب کرنا چاہیئے تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ ہم اس رسم کے ذریعے خواتین کو ونی کرکے آپس کی دشمنیاں کیسے ختم کرتے ہیں۔اس رسم کو ادا کرتے وقت بالکل شرمانا نہیں چاہیئے۔اب دیکھیں نا آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنے والے میر ہزار بجارانی بھی اس رسم کو ادا کرتے وقت بالکل نہیں شرمائے تھے۔خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہمیں ونی میں ملوث افراد کو کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ دس برس قید یا دس لاکھ روپے جرمانے تک کی سزا دینے کے ظالمانہ قانون کو ختم کردینا چاہیئے۔
اس دیکھیں نا اس ناقص العقل عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا ہوا ہے۔ان عورتوں کو کہاں عقل ہوتی ہے کہ کس کو ووٹ دینا ٹھیک ہے اور کس کو غلط،ان عورتوں کو سیاست کا کیا پتہ۔خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہمیں اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے روکیں گے،ان کا کام تو گھر داری کرنا اور اپنے شوہروں کی خدمت کرنا ہے۔ان کو ووٹ کیوں ڈالنے دیا جائے۔
خواتین کا عالمی دن منانے کا طریقہ اور بھی ہیں۔مثال کے طور اپنی عورتوں پر تشدد کرکے بھی یہ دن منایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ دفاتر میں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والی بے حیا عورتوں کو گھروں میں قید کرکے بھی یہ دن منایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ بدچلن اور بے حیا عورتوں کے چہرے پر تیزاب پھینک کر بھی یہ دن منایا جاسکتا ہے۔چاہیں تو لڑکیوں کی تعلیم کی بات کرنے والی ملک دشمن اور یہود و نصاریٰ کی ایجنٹ ملالہ پر لعنتیں بھیج کر یہ دن منائیں۔چاہیں تو بے پردہ گھومنی والی خواتین سے زیادتی  کرکے یہ دن منائیں۔ کیوں کہ بقول منور حسن کے  ڈی این اے ٹیسٹ کروانا خلاف شرع ہے اس لیئے زیادتی کا شکار خاتون اگر وہ چار گواہ نہیں لاسکتیں تو اس کو خاموش رہنا چاہیئے۔ ہمارے ملک میں اس دن کو منانے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔اب یہ آپ کی مرضی پر ہے کہ آپ کس طرح یہ دن منائیں۔چاہیں تو عورتوں کو ونی کریں یا ان کو کاری قرار دے کر ماردیں یا ان کی قرآن سے شادی کروادیں اور یا ان کو جائیداد میں حصے سے محروم رکھیں۔یا ان کو تعلیم حاصل کرنے سے روکیں-اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ یہ دن کیسے مناتے ہیں۔ لیکن یہ دن منائیے گا ضرور آخر آپ کو یہ ثابت بھی کرنا ہے نہ کہ آپ خواتین کے حقوق دینے میں سب سے آگے ہیں۔