Original Articles Urdu Articles

پاکستان کے آخری یہودی فشل بن خلد کی عجیب حرکتیں – احمد خان

j

نوٹ: فشل بن خلد صاحب کے بارے میں احمد خان کی تحریر حاضر خدمت ہے – یاد رہے کہ فشل کو طارق فتح وغیرہ سپورٹ کرتے ہیں اور طارق کی طرح فشل بھی سنی بریلوی، شیعہ، احمدی، مسیحی کو قتل کرنے والے دیوبندی دہشت گردوں کی دیوبندی شناخت چھپاتے ہیں – آجکل موصوف این جی اوز والے حربے آزما کر کچھ عجیب وغریب حرکتیں کر رہے ہیں جن سے توجہ کا طالب ہونے کا تاثر ملتا ہے – احمد خان کی تحریر حاضر خدمت ہے

****************************

ایک صاحب ہیں کراچی میں رہتے ہیں ٹویٹر پر کافی مشہور ہیں اور میں بھی اُن کو ٹویٹر سے ہی جانتا ہوں اُن کا دعوی ہے کہ وہ پاکستان میں بچ جانے والے “آخری یہودی” ہیں- کراچی میں کسی زمانے میں یہودی آبادی بھی ہوا کرتی تھی جس کے کافی لوگ اسرائیل بن جانے کے بعد اسرائیل چلے گئے اور جو پیچھے بچ گئے وہ بعد میں حالات کی نزاکت بھاپنتے ہوئے پاکستان سے ہجرت کر گئے- کراچی میں آج بھی حاجی کیمپ کے پاس یہودی قبرستان موجود ہے جو اُسی یہودی کمیونٹی کا تھا جو کبھی موجود ہوا کرتی تھی-

اب یہ موصوف کافی عرصے سے عجیب و غریب قسم کی حرکتیں کر رہے ہیں کبھی یہ چارلی ہیبڈو کے حق میں سڑک پر مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی جماعتِ اسلامی کی فرانسیسی خاکوں کے خلاف ریلی میں میں چارلی ہوں والا پلے کارڈ اٹھائے پہنچ جاتے ہیں اور تصویر کھینچ کر بڑے فخر سے ٹویٹر پر اپلوڈ کرتے ہیں-
مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا اِن کو شوقِ شہادت چڑھا ہے یا کیا مسئلہ ہے؟ چلو اگر آپ نے چارلی ہیبڈو کے حق میں پلے کارڈ اٹھانا ہی ہے تو ضروری ہے جماعتِ اسلامی کی ریلی میں ہی اٹھاؤ؟ ( یہ وہی ریلی ہے جس میں ایک فرینچ نیوز ایجنسی کے پاکستانی صحافی کو بھی گولی مار دی گئی تھی، خوشقستی سے اِن صاحب کو شاید کسی نے نوٹس نہیں کیا نہ اِنکے پلے کارڈ پر دھیان دیا ورنہ یقیناً صحیح سلامت گھر نہ پہنچ پاتے)-

تازہ ترین واقعہ یہ ہوا کے اُنہوں نے ٹویٹر پر بحث چھیڑی (اکثر چھیڑتے رہتے ہیں) کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو مساوی حقوق ملنے چاہیں اور غیر مسلموں کو بھی صدر وزیرِ اعظم کے لئے کھڑے ہونے کا حق ہونا چاہیے- جس پر کچھ زید حامدیوں نے بحث آگے بڑھائی جس پر موصوف نے اُن کو فیس ٹو فیس بات کرنے کی دعوت دے دی- کھڈا مارکیٹ میں کسی جگہ مقام طے پایا دونوں پارٹیاں وہاں پہنچیں بحث شروع ہوئی جس کے بعد ان کے مخالفین نے اسرائیل کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور موصوف نے جواباً پاکستان کو گالیاں نکال دیں اور یوں بات ہاتھا پائی تک پہنچیمخالفین نے تعداد میں زیادہ ہونے کی وجہ سے اِن کی کافی پھینٹی لگائی اور غیر ملکی ایجنٹ کہہ کر ڈی ایچ اے پولیس کے حوالے کر دیا وہاں سے وہ کسی ایجنسی کی تحویل میں گئے سترہ گھنٹے تک آنکھوں پر پٹی بندھی رہی اور بلآخر اُنہوں نے تفتیش مکمل کر کے رہا کر دیا-
اِس واقعے کی اطلاع اِن صاحب نے ٹویٹر پر موجود ملکی و غیر ملکی صحافیوں کو بھی دی اور اگلے دن کئی ملکی و غیر ملکی اخباروں میں سرخی لگی کہ پاکستان میں موجود آخری یہودی کو مارا پیٹا اور گرفتار کیا گیا

اور یوں ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی ہمدردیاں ہمارے اِس نادان کے ساتھ ہو گئیں جب کہ حقیقتاً غلطی اِن صاحب کی ہی ہے اِنکو ہیرو بننے کا شوق چڑھا تھا جب ہی جانے ماننے متشدد اور تنگ نظر لوگوں سے بحث رکھ لی

fk

 

j2

j3

j4

j5

j6

j7

About the author

SK

48 Comments

Click here to post a comment