Original Articles Urdu Articles

سنی مسلمانوں کے خلاف شیعہ دہشت گردوں اور شیعہ ملحدوں کی سازش – از دیوبندی ملحد منیب احمد ساحل

pp
نوٹ: سپاہ صحابہ کے طرفدار دیوبندی ملحدوں کے امیر علامہ ایاز نظامی کے دست راست منیب احمد ساحل دیوبندی وہابی نے اس تحریر میں سنی مسلمانوں کے خلاف ان کے بقول شیعہ دہشت گردی کی مذمت کی اور شیعہ ملحدین کو بھی بے نقاب کیا – یاد رہے کہ منیب ساحل دیوبندی کبھی اپنے آپ کو اہلحدیث کہتا ہے اور کبھی اپنے اوپر ملحد کا ملمع چڑھا لیتا ہے – حکیم الله محسود اور حق نواز جھنگوی اس کے ہیرو ہیں اور طالبان، سپاہ صحابہ اور حزب التحریر کے نظریات کا پرچار کرتا ہے – منیب ساحل نے ملالہ یوسفزئی پر طالبان کے حملے کا مذاق اڑایا اور اس حملے کا ذمہ دار شیعہ مسلمانوں کو قرار دیا تاکہ بقول اس کے ناموس رسالت کی مہم سے توجہ ہٹائی جا سکے – یہی شخص لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور طالبان کے طرفدار جریدوں روزنامہ اسلام اور ضرب مومن میں کالم بھی لکھتا ہے – اس کا والد مولانا سلیم اختر انصاری  نہایت متعصب وہابی  اہلحدیث مولوی تھا اور اس کا اپنا استاد علامہ ایاز نظامی سپاہ صحابہ کا طرفدارجعلی ملحد ہے اور دیوبندی مدرسے سے فارغ التحصیل – ملاحظہ کریں اس کے خیالات اور دیوبندی وہابی ملحدوں کی خباثت اور بد دیانتی کی داد دیں

***************************

ملحدوں کے بھیس میں چھپے شیعہ آج کھل کر سامنے آگئے ہیں،جو بھی دیوبندی کی اصلاح استعمال کرے سمجھ لیں وہ شیعہ ہے ملحد نہیں

تحریر: منیب احمد ساحل، سابق سپاہ صحابہ طالبان، حالیہ ملحد 

کچھ لوگ اہلسنت والجماعت کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کو جائز کہہ رہے ہیں جیسے انہیں مارنے والوں کو فرشتہ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں،بھائی جب مارو گے تو مرو گے بھی،جب جوابا مریں گے تو یہ شیعہ ملحدین رونے لگیں گے ہائے نسل کشی ہائے نسل کشی

یہ مذہبیوں کی آپس کی لڑائی ہے،کسی ایک گروہ کو جب تک سپورٹ کرو گے اس بنا پر کہ ہمارا سابق تعلق تھا ان سے تو ہم بھی کرینگے

کچھ لوگ ملحد اس لئے ہوتے ہیں کہ ”تین” پر تبرا کر سکیں،جہاں شیعت پر بات کرو،کھل کر سامنے آجاتے ہیں

جڑواں بچوں میں ایک حرامی اور ایک حلالی نہیں ہوسکتا تودیوبندیوں کی ٹارگٹ کلنگ جائز اور شیعوں کی ناجائز کیسے؟

بھائی دیوبندیوں کی جہادی جماعتیں فسادی ہیں اس میں کوئی دورائے نہیں،مسئلہ یہ ہے کہ ان حرامی رافضیوں کو بھی تو بولا جائے،وہ کمینے مذہب کے نام پر فساد کر رہے ہیں تویہ کون سا لنگر تقسیم کر رہے ہیں؟ہمارے بھائی لوگوں کو ان کے سیاہ کارنامے نظر نہیں آرہے،ہمارا شروع سے ہی موقف ہے کہ جہاد کے نام پر فساد بند ہو،اور فساد کی مذمت ہر قسم کے ہو،یہ نہیں کہ شیعوں کی کلنگ پر رونا اور سنیوں کی کلنگ پرتالیاں بجائی جائیں

دوماہ میں شیعوں نے ایک سواکسٹھ دیوبندی ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک کردیے . اکیس دیوبندی لیڈر تھے باقی عام شہری

کہانی کچھ اتنی سی ہے ملحدوں میں کچھ کالی بھیڑیں گھس گئی ہیں،یہ گیارہ مہینے ملحد رہتے ہیں ایک مہینے شیعہ بن جاتے ہیں۔سارا سال ”تین ” پر تبرا کرتے رہتے ہیں،جب ذرا سی دم پر پائوں رکھو اصلیت سامنے آجاتی ہے،غور سے اسٹیٹس پڑھیں لوگوں کے بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے،بھائی تم شیعہ ہو شیعہ رہو،کیوں ملحد بنتے ہو میرا اختلاف صرف اس بات پر ہے

سارا گند سعودیہ اور ایران کا ہی تو ہے۔دہشتگردی کیلئے سعودیہ سپورٹ کرتا ہے پاکستان کے دیوبندیوں کو،اور دفاع کے نام پر سنیوں کو مارنے کو پیسہ ایران دیتا ہے،سعودیہ اور ایران کی پراکسی وار میں ہم پستے ہیں

میں نے اہلسنت والجماعت کے دہشتگردوں کے قتل کی نہیں پرامن مولویوں کے قتل کی بات کی ہے،مفتی شامزئی وغیرہ کون سی بندوق لیکر فرقہ وارانہ فساد کرتے تھے

ملحد شیعہ سنی نہیں ہوئے بلکہ کچھ ملحدوں میں مذہبی گھس گئے ہیں ”تین” پر تبرا کیلئے۔جیسے اہل فارس شروع میں جعلی مسلمان ہوئے تھے اسلام بگاڑنے کیلئے اب الحاد کو مذہبی رنگ دینے کیلئے کچھ لوگ سازشیں کر رہے ہیں،یہ دیوبندی ملحد کی اصلاح وہی استعمال کر رہے ہیں

علامہ صاحب کا موقف بھی وہی ہے جو میرا ہے،ان کا یہی کہنا ہے کہ اچھے مذہبی اور برے مذہبی میں پڑنے کے بجائے مذہب کیخلاف بولا جائے،میں کافی عرصے سے دیکھ رہاہوں ایک مخصوص گروہ کو ہی ٹارگٹ کرکے دوسرے گروہ کو بہت اچھا پیش کیا جارہاہے،ہمارا موقف صرف اتنا ہے کہ دونوں برے ہیں ایک جتنے،کوئی دونوں میں سے دودھ کا دھلا نہیں ہے،کچھ لوگ رو رہے ہیں کہ ایک گروہ ہی مر رہاہے،ہم دکھا رہے ہیں کہ جنت کی لالچ میں دونوں ایک دوسرے کو مار رہے ہیںکوئی کم نہیں،یہ جنگ جنت کی جنگ ہے

ریاست پاکستان کو زکواتہ دینا جائز نہیں : شعیہ رہنما امین شہیدی
کہاں ہے نیشنل ایکشن پلان؟؟؟؟
کہاں ہے ریاست کے دشمنوں کے خلاف جنگ؟

بات سپاہ صحابہ کے ٹارگٹ کلنگ کی نہیں سنیوں کی ٹارگٹ کلنگ کی ہے،ساٹھ سے زائد مفتی مارے گئے،میں پانچ ہزار افراد کا ڈیٹا دے سکتا ہوں ابھی کے ابھی بمعہ تصاویر جو کہ بے گناہ مارے گئے محض دیو بندی ہونے کی وجہ سے،شیعہ تنظیموں کے دہشتگردانہ کیمپس کی ویڈیو دے سکتا ہوں،دیوبندی ملحد کے نام پر ہونیوالی گند بند کی جائے،اور صاف کہا جائے کہ یہ جو فرقہ واریت ہے اسلام کے دوفرقے آپس میں جنت کے حصول کیلئے خونریزی کر رہے ہیں

جواز قتل کا میں صرف اتنا دیتا ہوں کہ یہ مذہب کی کارستانی ہے اور بس،دونوں سائیڈ کی مذمت کرو،دیوبندی کتے بم کی صورت میں پھٹتے ہیں تو شیعہ ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں،میں بے گناہ افراد کا ڈیٹا دیتاہوں پورے پانچ ہزار بمعہ تصاویر،کہو ان کا کیا قصور تھا؟ان میں میرا استاد ڈاکٹر عرفان الدین قریشی سابق ایم ایل او قطر ہسپتال بھی شامل ہے،جو بریلوی تھا مگر اس کا قاتل پکڑا گیا تو سپاہ محمد کا نکلا

میں ایف آئی آرز کی بناء پر بات کررہاہوں،سارا ڈیٹا موجود ہے،ریڈ بک کے ہی شیعہ دہشتگرد دیکھ لیں،سو سے کم قتل کسی نے نہیں کئے،حکم کریں ابھی لگاتا ہوں
یونا پارا چنار میں نوہزار سنی مرے، کیا کوئی بلتی دہشتگرد دیکھا؟خود کش حملہ کرنیوالا؟

میرا بیک گرائونڈ اہلحدیث ہے،میرے والد نامور اہلحدیث عالم تھے،مولانا سلیم اختر انصاری

کاش کبھی یہ پڑھیں کہ سپاہ صحابہ کیوں بنی تھی،اس کا تاریخی پس منظر کیا تھا،شیعہ آج وہی کاٹ رہے ہیں جو کل بویا تھا انہوں نے،اسی کی دہائی سے پہلے تک شیعہ گردی پاکستان میں عروج پر تھی،کسی بھی بوڑھے سے ہی معلوم کرلیں،نہیں تو جنگ اخبار کے دفتر جاکر پرانے ریکارڈ کے اخبارات چیک کرلیں

سپاہ صحابہ کوئٹہ میں شیعوں کے ہاتھوں سنیوں کی کلنگ کے بعد بنی تھی،گوگل پر ہی سرچ کرلیں

پاکستان میں نہیں دنیا میں شیعہ ریاست،آئی ایس ایس کی طرح وہ سنی بنانا چاہتے ہیں یہ شیعہ۔

میں ضرب مومن پڑھتا نہیں بلکہ اس میں لکھتا ہوں،روزنامہ اسلام کا تو باقاعدہ کالم نگار رہاہوں

خود کش حملوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں،تاریخ میں خود کش حملے سب سے پہلے شروع ہی شیعوں نے کئے تھے

،میں ذرا اخبارات تلاش کرو پھر دکھاتا ہوں آپ کو آئینہ، شیعوں نے پارہ چنار میں سنی عورتوں کے پستان کاٹے ،بچوں کو ذبح کیا گیا،کہیں تو عینی شاہدین کی ویڈیو بنا کر بھی دکھلا دوں؟میں ان علاقوں میں باقاعدہ چھ ماہ گزار چکاہوں،پاکستان کے تمام قبائلی علاقوں پر میں نے خود اپنی تحقیق کی ہے،

کہیں تو پچیس بندوں کے نام اور تصاویر بھی حاصل کرسکتا ہوں،ان کیلئے محنت بھی کرلیتا ہوں،جنوری سے اب تک ٹوٹل 61بندے مرے ہیں جو کہ اہلسنت کے تھے،اور ملک بھر میں 181سنی قتل ہوئے،پھر بھی کہیں گے کہ مر شیعہ ہی رہے ہیں،کیا یہ لوگ انسان نہیں؟

ویسے یہ ضمنی چیزیں بعد میں پہلے میں سوچ رہاہوں کہ حضرت علی کے چہرے سے زرا نقاب حیدری اتارا جائے تا کہ وہ کرم اللہ وجہہ سے دوبارہ رضی اللہ تعالیٰ بن سکیں

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63mun1m2134567891112131415161718192021222324252728293031323334353637383940415152

————————————

Appendix

Muneeb:
اسلام علیکم :میرا نام ڈاکٹر منیب احمد ساحل ہے میں کراچی سے ہوں ،میں ایک صحافی ،کالم نگار و رائٹر ہوں ،میرے پسندیدہ مشغلے ساحل سمندر پر گھومنا،سیگریٹ پینا اور چیٹنگ کرنا ہے،میں 3کتابیں لکھ چکا ہوں اور رواں دنوں اے آر وائی ون ورلڈ کی ویب سائٹ،روزنامہ اسلام(پاکستان) اور روزنامہ خبریں (ناروے) میں کالم لکھ رہا ہوں امید ہے کہ آپ سب کے ساتھ اچھی گزرے گی۔والسلام،منیب احمد ساحل

http://desichat.org/forum/index.php?topic=3114.0;wap2

مقامی روزنامے کے نیوز ایڈیٹر و معروف کالم نگار ڈاکٹر منیب احمد ساحل کے گھر پر اے این پی کے دہشتگردوں کا دھاوا

کراچی۔ مقامی روزنامے کے نیوز ایڈیٹر و معروف کالم نگار ڈاکٹر منیب احمد ساحل کے گھر پر اے این پی کے دہشتگردوں کا دھاوا، گھر میں موجود خواتین کو ذدوکوب کیا ،گھر پہنچنے پر اے این پی کے کارکنوں کا منیب احمد سمیت دو مزید صحافیوں پر تشدد،پولیس کا واقعہ کی رپورٹ درج کرنے سے انکار، تفصیلات کے مطابق روزنامہ اعلان کے نیوز ایڈیٹر و کالم نگار ڈاکٹر منیب احمد ساحل کے گھر پر گزشتہ شب عوامی نیشنل پارٹی خیبر وارڈ کے یونٹ انچارج ارشد نے دیگر کارکنوں خان محمد عرف خانوں، امجد، لالی و دیگر 8ساتھیوں کے ساتھ مل کر صحافی کے گھر پر دھاوا بول دیا اور گھر میں موجود خواتین سے بدتمیزی کی اور گالم گلوچ کی اور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے ۔بعد ازاں واقع کی اطلاع ملنے پر جب منیب احمد اپنے دوستوں روزنامہ انجام اور عوامی آواز کے اسٹاف رپورٹر محمد اسماعیل رند اور روزنامہ ندائے کراچی کے اسٹاف رپورٹرجنید علی کے ہمراہ اپنے گھر گئے اور عوامی نیشنل پارٹی کے یونٹ میں شکایت کی تو عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے ان تینوں کو زدوکوب کیا اور کیمرا اور موبائل فون چھین لئے واقعے کی تین بار 15پر اطلاع دینے کے باوجود علاقہ پولیس جائے وقوعہ پر نہیں پہنچی بعد ازاں جب مدعیان تھانے گئے تو اسٹیشن ہاؤس آفیسر اورنگی ٹاؤن تھانہ مطیع اللہ نے کہا کہ ہمیں اوپر سے سخت آرڈر ہیں ہم کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن کیخلاف مقدمہ درج نہیں کر سکتے۔ اسٹیشن ہاؤس آفیسر نے مزید کہا کہ ہمیں علاقے میں حکومتی رٹ بحال رکھنے کیلئے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کے پاس ہم سے زیادہ جدید اسلحہ ہے ہم ان کیخلاف کوئی بھی کاروائی نہیں کر سکتے آپ بہتر ہے کہ خاموش ہو کر بیٹھ جاؤ۔

http://alqamar.info/2010/01/04/%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%B1%D9%88%D8%B2%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D9%86%DB%8C%D9%88%D8%B2-%D8%A7%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%B9%D8%B1-%D9%88-%D9%85%D8%B9%D8%B1%D9%88%D9%81-%DA%A9%D8%A7.html

111

112

113

114

115

116

117

1181

An ex-Shia Muslim, now an atheist, abandoned Islam, and came across the same Takfiri Deobandis camouflaged as atheists that he had tried to escape.

salm

About the author

SK

62 Comments

Click here to post a comment