Original Articles Urdu Articles

سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کے قتل کی مذمت کی بابت ایاز نظامی سے ایک سوال – شامان سید

nizami

میں سابقہ شیعہ ہوں اور پکا سکہ بند ملحد — میرے دل میں ایاز نظامی بھائی اور دیگر ملحد دوستوں کی جتنی محبت ہے، کسی شیعہ، سنی، دیوبندی، احمدی مسیحی مذہبی کی نہیں ہوسکتی

یہ تو ہوگئی جذباتی بات – اب ذرا حقائق پر بات کرتے ہیں

ہاں ماروائے عدالت قتل ایک ناقابل قبول حل ہے کسی پرامن معاشرے میں جہاں اصول، قوانین اور ریاستی کنٹرول کی پاسداری ہو وہاں ایسی کلنگ کو انسانی حقوق کی عین خلاف ورزی سمجھا جائے اور جتنی مذمت کی جائے کم ہے — میں سوفیصد متفق ہوں

مگر کیا مملکت خداداد پاکستان ایک ایسا مثالی ملک ہے؟

بھائی ہم اس ملک کی بات کر رہے ہیں جہاں ملک اسحاق جیسا دہشت گرد، جو سپاہ صحابہ کا نائب صدر اور لشکر جھنگوی کا سرغنہ ہے، بھری عدالت میں اپنے جرم کا ببانگ دہل اعلان کرتا ہے “ہم نے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کیا، ہم نے دو ہزار سے زائد شیعہ کا قتل کیا اور مزید ماروں گا اگر چھٹ گیا – پھانسی پر چڑھ گیا تو خود کو شہید تصور کروں گا” — اس اعلان کے بعد بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت اسے ‘عدم ثبوت’ کی بنیاد پر رہا کردیتی ہے

کیا ہم اسی پاکستان کی بات کر رہے ہیں جہاں گورنر پنجاب کو اسکا محافظ گولیوں سے چھلنی کرکے مارڈالتا ہے اور آج تک زندہ ہے بلکہ جیل میں ہیرو کی حیثیت سے آرام کرتا ہے — کئی قیدی اسکی خدمت /مالش پر مامور ہیں

یہ اس ملک کی بات ہورہی ہے جہاں راشد رحمان کو بھری عدالت میں تین وکلا دھمکی دیتے ہیں کہ آپ اس مقدمے کی پیروی چھوڑ دیں ورنہ آپ اگلی پیشی میں زندہ نہیں آئیں گے اور ایسا ہی ہوتا ہے مگر نہ جج کی ہمت ہے کہ ان وکلا کے خلاف ایک لفظ بول سکے نہ ملتان بار ایسوسی ایشن کی ہمت ہے کہ ان تین وکلا کی رکینت منسوخ کردے اور اپنے شہید وکیل ساتھی کے ساتھ اظہار یکجہتی کردیکھائے

کون نہیں جانتا کہ جنید حفیظ کے کیس بگڑنے کی سب سے بڑی وجہ ملتان میں سپاہ صحابہ اور دیوبندی مولویوں کا اثرو رسوخ ہے اور اس کیس میں جنید کے ساتھ پروفیسر کا سپاہ صحابہ کو انوولو کرلینا سب سے بڑی مشکل بن گیا ہے

ملک اسحاق نے تین سال جیل میں سزا کاٹی اس دوران اس کے گھر والوں کو پنجاب حکومت سے وظیفہ کے نام پر مالی امداد ملتی رہی- وزیر قانون رانا ثناالله خان کی ملک اسحاق اور احمد لدھیانوی کے ساتھ تصویر موجود ہیں- یو ٹیوب پر ایک ویڈیو موجود ہے جس میں ملک اسحاق پنجاب ایلیٹ پولیس فورس (جسے شریف بردران کی ذاتی فورس بھی کہا جاتا ہے) کے ہاتھوں جدید آتشیں اسلحہ چلانے کی ٹریننگ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے

خلاصہ یہ ہے کہ جس ملک میں قانون کی پاسداری نہ ہو وہاں جنگل کا قانون ہی راج کرتا ہے اور جنگل کے قانون میں ایسے وحشی پاگل درندوں کو گولی ماردینا ہی مناسب ہے ورنہ یہ کسی کو بھی کاٹ کھائیں- یاد رکھیں جنگل میں عدالت نہیں ہوتی، اگر کوئی مقدمہ چلتا بھی ہے تو صرف دکھاوے کا

جو مائی کا لال پاکستان میں عدالت کی بات کرتا ہے وہ ذرا ملک اسحاق، مولوی عبدالعزیز، اورنگزیب فاروقی اور حافظ سعید جیسے اوپن دہشت گردوں کو سزا دلوا کر دکھائے، میں اسکے ہاتھ چوم لوں گا

1

2

الحاد کا لبادہ اوڑھ کر تکفیری دیوبندیوں کی وکالت کرنے والے فخرِ دو نمبر ملحدینِ جہاں جناب علامہ ایاز نظامی کی خدمت میں ایک حقیر نذرانہِ عقیدت

db

About the author

SK

32 Comments

Click here to post a comment