Featured Original Articles

پاکستانی ملحدوں نے سپاہ صحابہ کے طرفدار دیوبندی ملحد علامہ ایاز نظامی کی منافقت کو عریاں کر دیا

nizamimolvi

سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کے قتل کی مذمت کی بابت ایاز نظامی سے ایک سوال – شامان سعید

میں سابقہ شیعہ ہوں اور پکا سکہ بند ملحد — میرے دل میں ایاز نظامی بھائی اور دیگر ملحد دوستوں کی جتنی محبت ہے، کسی شیعہ، سنی، دیوبندی، احمدی مسیحی مذہبی کی نہیں ہوسکتی –

یہ تو ہوگئی جذباتی بات – اب ذرا حقائق پر بات کرتے ہیں

ہاں ماروائے عدالت قتل ایک ناقابل قبول حل ہے کسی پرامن معاشرے میں جہاں اصول، قوانین اور ریاستی کنٹرول کی پاسداری ہو وہاں ایسی کلنگ کو انسانی حقوق کی عین خلاف ورزی سمجھا جائے اور جتنی مذمت کی جائے کم ہے — میں سوفیصد متفق ہوں

مگر کیا مملکت خداداد پاکستان ایک ایسا مثالی ملک ہے؟

بھائی ہم اس ملک کی بات کر رہے ہیں جہاں ملک اسحاق جیسا دہشت گرد، جو سپاہ صحابہ کا نائب صدر اور لشکر جھنگوی کا سرغنہ ہے، بھری عدالت میں اپنے جرم کا ببانگ دہل اعلان کرتا ہے “ہم نے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کیا، ہم نے دو ہزار سے زائد شیعہ کا قتل کیا اور مزید ماروں گا اگر چھٹ گیا – پھانسی پر چڑھ گیا تو خود کو شہید تصور کروں گا” — اس اعلان کے بعد بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت اسے ‘عدم ثبوت’ کی بنیاد پر رہا کردیتی ہے

کیا ہم اسی پاکستان کی بات کر رہے ہیں جہاں گورنر پنجاب کو اسکا محافظ گولیوں سے چھلنی کرکے مارڈالتا ہے اور آج تک زندہ ہے بلکہ جیل میں ہیرو کی حیثیت سے آرام کرتا ہے — کئی قیدی اسکی خدمت /مالش پر مامور ہیں

یہ اس ملک کی بات ہورہی ہے جہاں راشد رحمان کو بھری عدالت میں تین وکلا دھمکی دیتے ہیں کہ آپ اس مقدمے کی پیروی چھوڑ دیں ورنہ آپ اگلی پیشی میں زندہ نہیں آئیں گے اور ایسا ہی ہوتا ہے مگر نہ جج کی ہمت ہے کہ ان وکلا کے خلاف ایک لفظ بول سکے نہ ملتان بار ایسوسی ایشن کی ہمت ہے کہ ان تین وکلا کی رکینت منسوخ کردے اور اپنے شہید وکیل ساتھی کے ساتھ اظہار یکجہتی کردیکھائے

کون نہیں جانتا کہ جنید حفیظ کے کیس بگڑنے کی سب سے بڑی وجہ ملتان میں سپاہ صحابہ اور دیوبندی مولویوں کا اثرو رسوخ ہے اور اس کیس میں جنید کے ساتھ پروفیسر کا سپاہ صحابہ کو انوولو کرلینا سب سے بڑی مشکل بن گیا ہے

ملک اسحاق نے تین سال جیل میں سزا کاٹی اس دوران اس کے گھر والوں کو پنجاب حکومت سے وظیفہ کے نام پر مالی امداد ملتی رہی- وزیر قانون رانا ثناالله خان کی ملک اسحاق اور احمد لدھیانوی کے ساتھ تصویر موجود ہیں- یو ٹیوب پر ایک ویڈیو موجود ہے جس میں ملک اسحاق پنجاب ایلیٹ پولیس فورس (جسے شریف بردران کی ذاتی فورس بھی کہا جاتا ہے) کے ہاتھوں جدید آتشیں اسلحہ چلانے کی ٹریننگ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے

خلاصہ یہ ہے کہ جس ملک میں قانون کی پاسداری نہ ہو وہاں جنگل کا قانون ہی راج کرتا ہے اور جنگل کے قانون میں ایسے وحشی پاگل درندوں کو گولی ماردینا ہی مناسب ہے ورنہ یہ کسی کو بھی کاٹ کھائیں- یاد رکھیں جنگل میں عدالت نہیں ہوتی، اگر کوئی مقدمہ چلتا بھی ہے تو صرف دکھاوے کا

جو مائی کا لال پاکستان میں عدالت کی بات کرتا ہے وہ ذرا ملک اسحاق، مولوی عبدالعزیز، اورنگزیب فاروقی اور حافظ سعید جیسے اوپن دہشت گردوں کو سزا دلوا کر دکھائے، میں اسکے ہاتھ چوم لوں گا

—-

ایاز نظامی سے ایک چھوٹا سا اختلاف – زوہان شا

ایاز نظامی بھائی سے ایک چھوٹا سا اختلاف ہے انہوں نے کہا ماروائے عدالت قتل کی کسی صورت بھی گوارا نہیں کیا جاسکتا-الفاظ ان کے اور ہو سکتے ہیں

ہمارے ہاں کا عدالتی نظام کیسا ہے یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ۔ ممتاز قادری جیسے قاتل کو چوٹی کے نوے سے زیادہ وکیلوں کی مفت میں “سروس” حاصل ہے،جبکہ استغاثہ کو ایک وکیل بھی دستیاب نہیں، اور جن طالبان دہشتگردوں کو ان عدالتوں کے سپرد کیا گیا ان کے ساتھ یہ عدالتیں کیسے پیش آئیں ہم سب جانتے ہیں کہ کسی کو کوئی سزا نہیں دی گئی اور اکثریت کو باعزت بری کر دیا گیا،چاہے وہ مزہبی جماعتوں کے دہشت گرد ہوں یا سیاسی جماعتوں کے جیسے ایم کیو ایم کے۔ ۔ان کے ساتھ عدالتی نظام نے ہمیشہ امتیازی سلوک کیا اور یہ سارا نضظام ان کو سزا سے بچائے رکھا سو ایسے مجرموں کا ماورائے عدالت قتل ہی اصل علاج ہے، ماورائے قتل کی مزمت تب ہی مناسب لگے گی جب عدالتیں بلا امتیاز انصاف کرنے لگے گی۔،رہی بات ان میں سے معصوم لوگوں کا قتل تو کوئی بھی مزہبی شخص ” معصوم ” تب تک معصوم ہے جب تک اسے موقع نہیں ملا۔ ۔ورنہ “رادھہ کشن” میں کوئی ایک تو بندہ ایسا ملتا جو کہتا “میں نے ان مسیحی میاں بیوی کو بچانے کی پوری کوشش کی اور مار بھی کھائی ان کو بچاتے بچاتے لیکن ٫٫٫٫”

احمد خان سٹیلمیٹ

سلسلہ کچھ یہ ہے کہ شیعہ اور احمدی اور کچھ حد تک سنی بریلوی بھی منظم قتل و غارت کا نشانہ ہیں گزشتہ بیس سالوں میں بے شمار ایسے واقعات پیش آئے ہیں جس میں بسوں سے اُتار اُتار کر شیعہ مارے گئے تو ایک بریلوی تنظیم کی پوری قیادت ہی ایک دھامکے میں اُڑا دی گئی ( اور نشتر پارک دھماکہ میں لشکرِ جھنگوی نہیں سپاہ صحابہ کے لوگ ملوث تھے جو آج اے ایس ڈبلیو جے کے نام سے موجود ہیں) سلیم قادری کا قتل اُس میں بھی سپاہ صحابہ ملوث تھی لشکرِ جھنگوی نہیں افغانستان میں قلعہ جنگی اور مزار شریف کی لڑائی میں افغان طالبان کے شانہ بشانہ بھی لشکرِ جھنگوی نہیں سپاہ صحابہ لڑ رہی تھی- یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ سپاہ صحابہ کسی بھی صورت لشکرِ جھنگوی سے کم ہرگز نہیں ہے- لشکرِ جھنگوی کی کاروائیاں تو مشرف دور میں ہی زیادہ بڑھی ہیں ورنہ تو یہ کام سپاہ صحابہ انجام دے رہی تھی-
اصولی طور پر یہ بات بلکل دُرست ہے ماورائے عدالت قتل ہر قسم کا غلط ہے اور انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے خلاف ہے اِس میں کوئی دو رائے نہیں- مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایک ایسی صورتحال جیسے کہ برما کے مسلمان جس میں وہ ایک گروہ کے ظلم کا نشانہ ہوں اور ریاست بھی ملوث ہو یا کمزور ہو اُن کی مدد نہ کر سکتی ہو تو اُن بیچاروں کے پاس واحد راستہ یہ ہی رہ جاتا ہے کہ وہ مزاحمت کریں- اِس مزاحمت سے ضروری نہیں کہ مسئلہ حل ہو مگر کافی حد تک کم بھی ہو سکتا ہے-

فرقہ وارانہ قتل و غارت کی صورتحال یہ ہے کہ ایک جانب عام شیعہ مارے جاتے ہیں اُن کی عبادت گاہوں پر دھماکے ہوتے ہیں بسوں سے اُتار کر مارے جاتے ہیں اور عام شیعہ پروفیشنلز ٹارگٹ کر کر کے مارے جاتے ہیں اور دوسری جانب مزاحمت میں صرف اُس دہشتگرد تنظیم کے لوگ مارے جاتے ہیں جس کی کاروائیاں اُپر میں نے بتائی ہیں- اگر تو صورتحال یہ ہوتی کہ صرف شیعہ ایم ڈبلیو ایم اور دیوبندی سپاہ صحابہ کے لوگ مارے جا رہے ہوتے تو سمجھ آتا برابر کی لڑائی ہےدو مذہبی گروہوں اور سیاسی پارٹیوں کی مگر ادھر معاملہ بلکل اُلٹ ہے

\\ اب بات سلیم قادری جن کو تیس گولیاں ماری گئی جو دیوبندی کو کافر کہتے تھے…
اور تیس ہی گولیاں اعظم طارق کو بھی جو شیعہ کو کافر کہتے تھے اور اسمبلی کے رکن تھے..\\

یہ ایک کلاسک مثال ہے دو ایسی چیزوں کو جوڑنے کی جن کا آپس میں نہ کوئی تعلق ہے نہ کوئی موازنہ بنتا ہے، جیسے رات کو دیر تک جاگنا بھی غلط ہے اور کسی کا گلا کاٹنا بھی غلط ہے مگر دونوں ایک جتنے غلط ہرگز نہیں ہیں- کلاسک مثال جو ہمیشہ جماعتیوں سپاہ ہمدردوں اور اِس قسم کے دیگر عناصر کی طرف سے کی جاتی ہے اُس میں ایسی ہی دو چیزوں کو جوڑا جاتا ہے جن کا نہ آپس میں کوئی تعلق نہ موازنہ-

سلیم قادری کی جماعت دیوبندیوں کو کافر کہتی ہوگی مگر بات صرف کہنے تک ہی محدود تھی اُن لوگوں نے کبھی دیوبندی قتلِ عام نہیں کیا نہ کبھی دیوبندی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہے یہی وجہ ہے اُن پر کبھی پابندی بھی نہیں لگی، دوسری طرف اعظم طارق والے صرف کہنے تک محدود نہیں تھے اُنہوں نے بے شمار شیعوں کو قتل کیا اور وہ کلعدم بھی ہوئے- اِن دونوں واقعات کا کوئی موازنہ ہی نہیں-

اگر آپ کا “جو جہاں اکثریت اور طاقت میں ہو وہاں وہ ظلم کرے گا” کا اصول مان لیا جائے تو پھر آپ بھی یمن سیریا لبنان عراق کا رونا چھوڑ دو یہ اصول وہاں بھی لاگو ہوتا ہے-

جون بخاری

ماورائے عدالت قتال کی مزمت وہاں کی جائے جہاں رُول آف لاء ہو، عدلیہ قاتلوں کو سزا دیتی ہو اور اُن کے مونہہ نہ چومتی ہو۔ جہاں قاضی قاتلوں پے پھول نچھاور کرتے ہوں وہاں عدالتوں سے قاتلوں کی سزا کی اُمید رکھنا حد درجہ کی معصومیت ہے۔ یہاں قاتل ماورائے عدالت ہی قتل کر سکتا ہے جیسا کہ طالبان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ میں احمدیوں کی قاتل جماعت ختمِ نبوت، شیعوں کی قاتل جماعت لشکرِ جھنگوی اور سپاہ کے کارکن کی ٹارگٹ کلنگ کو اس لئیے جائز سمجھتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ انہیں کوئی جج سزا نہیں دے سکتا۔میں جانتا ہوں کہ انہں کھُلا چھوڑا گیا تو یہ یہاں کسی مُخالف کو نہیں چھوڑیں گے، اور آخر میں یہاں صرف انہی کی حکومت رہ جائے گی

—-

روشن زمان

میں نا ہی امجد زالان کے دیوبندیوں کے خلاف مؤقف کو مکمل طور پر جھٹلا سکتا ہوں اور نا ہی ایاز نظامی کی ماورائے عدالت قتل کے مؤقف کو ، لیکن جب بات عام شیعہ اور دیوبندی عوام سے ہٹ کر سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسی دہشت گرد تنظیم کے ارکان کی ٹارگٹ کلنگ پر آتی ہے تو مجھے انکی موت کا کوئی رنج نہیں ہے

ایاز نظامی صاحب آپکی ماوارئے عدالت قتل کی بات بجا ہے لیکن اگر آپ شیعہ عام عوام کی حالت دیکھیں تو بہت نازک ہے ایسے میں لشکر جھنگوی واقعی کسی طالبان اور داعیش سے کم نہیں ہے. اور اگرانکا کوئی بھی سربراہ مارا جاتا ہے تو مذمت نہیں بلکہ خوشی کی بات ہے

ا یاز نظامی ایک بات آپکو ماننا پڑیگی کے پاکستان کے شیعہ کے خلاف صرف دیوبندی ہی نہیں بلکہ پاکستانی حکومت ، سعودی حکومت ، فوج سب مل کر انکو ٹھکانے لگا رہے ہیں یار اسمیں کوئی شیعہ عالم نہیں بلکہ زیادہ تر عام شیعہ مر رہے ہیں. دوسری طرف دیوبندی ایک جن کیطرح کھلے پھر رہے بلا خوف خطر انہیں حکومت ، فوج عدالت اور انکے خدا کا بھی ڈر نہیں ہے کیونکہ وہ سارے انکے ساتھ ہیں ایسے میں اگر کسی دیوبندی ملا کی ٹارگٹ کلنگ ہو بھی جاتی ہے تو برائی کیاہے ؟

اگر آجتک دیوبندی مارے گئے ہیں ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو سربراہ تھے اور شیعہ کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے. پاکستان میں آجتک اجتماعی طور پر دیوبندی عام لوگوں کی اموات نہیں ہوئی ہیں. بہرحال اگر کوئی دیوبندی لیڈر اس کلنگ کا نشانہ بنتا ہے تو اچھی بات ہے لیکن جب عام لوگ مارے جائیں وہ چاہے شیعہ ہوں یا دیوبندی انکی مذمت کرنی چاہئے اور کسی بھی فرقے اگر فسادی لیڈر مارے جائیں اسکی مذمت کرنا بلکل غلط ہوگا

نظامی صاحب اسطرح سے تو اکثر سپاہ صحابہ کے وڈوں کو حکومت اور فوج کی مدد حاصل ہے انہیں تو عدالت پکڑ ہی نہیں سکتی ؟

—-

کیپٹن طالب

مسلئہ دیوبند کے تعلیمات میں ہیں ،
زالان کے ہر پوسٹ/بات عقلی اور منطقی دلائل کے ساتھ ہوتا ہے ، زالان کے جن تنقیدو پر اعتراض ہے ، متعلقہ پوسٹ پر اچهی بحث ہو سکتی ہے ،
سپاہ صحابہ کے جو دہشتگرد قتل ہوئے ان میں اور طالبان میں کیا فرق ہیں ؟؟ اگر سپاہ صحابہ کی ٹارگٹ کلنگ قابل مزمت ہے تو بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کے قتل کے بهی مزمت کرے ، جو ڈرون حملوں میں مارے گئے.
سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کے قتل اور ایک شعیہ ڈاکٹر/پروفیسر/انجنئیر/وکیل کے قتل کیسے برابر ہو سکتے ہیں ؟؟
کس شعیہ گروہ نے پاکستان میں بیان دیا ہے کہ ہم ( شعیہ گروہ ) سنیوں/بریلویو/دیوبندیو کو کهلے عام ماریں گے ؟؟ لیکن دیوبند گروہ کهلے عام دھمکیاں دیتے ہیں .
کیا پروف ہے کہ سپاہ صحابہ کے ٹارگٹ کلنگ شیعہ کر رہے ہیں ؟؟ کسی شعیہ نے اعلان کر کے زمہ داری لی ہے ؟؟ شعیہ بلکل بهی اقلیت نہیں ہے ، 5 کروڑ آبادی کبهی اقلیت نہیں ہوتی بلکہ دیوبند خود ہی اقلیت میں ہے لیکن اپنی تعلیمات کیوجہ سے 20 کروڑ عوام کے ناک میں دم کی ہے .
جو دوست فرقوں سے بالاتر سوچ رکھتے ، کبهی بهی سپاہ صحابہ لشکر جهنگوی کے ٹارگٹ کلنگ کی مزمت نا کرے کیونکہ سپاہ صحابہ ایسے ہی دہشتگرد ہیں جیسے طالبان

بات نکلی تهی سپاہ صحابہ کے دہشتگرو کے ٹارگٹ کلنگ کی ..
سپاہ صحابہ دہشتگرد ہے اور انکے ٹارگٹ کلنگ کو ہم غلط نہیں سمجھتے .
اب جو کہتا ہے کہ سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی ٹارگٹ کلنگ غلط ہیں تو سامنے آئے ، تاکہ دہشتگردوں کے حمایتیوں کا پتہ چلے

مزہبی اختلافات ہندو ، عیسائی ، شعیہ ، اسماعیلی ، بریلوی میں بهی ہیں ، لیکن فساد کی جڑ صرف دیوبندی ہی کیوں ہے ؟؟
امریکہ اور بیرونی طاقتیں شعیہ ، اسماعیلی ، بریلوی ، کو کیوں اپنے مفاد کیلئے استعمال نہیں کرتا صرف دیوبندی ہی کیوں استعمال ہوتے ہیں ؟؟
اب اگر کچھ دوست دیوبندی مسلک میں پیدا ہوئے جو انتہائی خونی مسلک ہیں ، تو انکو ہائے بائے شائے کرنے سے بہتر ہیں کہ مان لینا چاہئے کہ مسلئہ دیوبندی کے تعلیمات میں ہیں .
جتنے بهی عام سنی لوگ قتل ہوئے بلکل غلط ہوا ، لیکن سپاہ صحابہ دہشتگردو کے قتل پر تو ملحدین کو خوش ہونا چائیے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دینا چائئے .
میں پهر وہی دوہراونگا کہ ٹاپک پر بات کرنا چائئے ، اور بات سپاہ صحابہ کے رہنما کی ٹارگٹ کلنگ سے شروع ہوئی تهی ،
کج بحثی وقت کا ضیاع ہے ،
اب ملحد احباب سپاہ صحابہ ( دہشتگردوں ) کے ٹارگٹ کلنگ کی حمایت کرتے ہیں یا مخالفت ؟؟ یہ ہاں یا نا والا سوال ہے ، شارٹ جواب دیا کرے

نظامی صاحب اور منیب بار بار بات کو عام دیوبندیو کی قتل کیطرف لے جا رہے ہیں اور بات بڑھ رہی ہے ،
بهائی عام لوگوں کا قتل ( چاہے دیوبندی ، بریلوی ، عیسائی ، یہودی ہو ) قابل مزمت ہے ،
لیکن اصل بات سپاہ صحابہ ( دہشتگردو ) کے ٹارگٹ کلنگ سے نکلی تهی ، جب زالان سپاہ صحابہ کے دہشتگردو کے ٹارگٹ کلنگ کی حمایت کر رہا تها اور منیب اور نظامی صاحب مزمت کر رہے تھے

نظامی صاحب اگر آپ سپاہ صحابہ دہشتگردوں کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف ہو تو کیا آپ بیت اللہ اور حکیم اللہ کے بهی ماورائے عدالت قتل کے خلاف ہو ؟؟ کیونکہ انکا قتل بهی ٹارگٹڈ ڈرون حملہ میں ( مورائے عدالت قتل ) ہوا تها

مزمل پیرزادہ

یہ شعیہ سنی کی جنگ نہیں ہے یہ اس طرح بان کر پیش کیا جاتا ہے یہ ایک دیوبندی ٹولہ ہے تو ہر کسی کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا رہا ہے آپ کچھ بھی کر لیں اس سے آنکھیں نہیں چرا سکتے آیاز نظامی سر۔۔۔میں یہ نہیں کہ رہا کہ شعیہ مین کوئئئ دہشتگرد نہیں لیکن وہ کہلے عام نعرے نہیں لگاتے کہ فلاں کافر فلاں کافر۔
میرا یہ موقف ہے کہ یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے دیوبندی ہے اور وردی ہے۔۔۔۔لیکن مین آپ کو دیوبندی ملحد نہیں کہوں گا۔۔۔باقی یہ میری اپنی راے ہے ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے
سپہ صحابہ عام شعیہ عوام کو مار رہی ہے جن مین ڈاکٹرز بھی آتے ہیں اور ان میں شعیہ ملحد بھی ہو سکتے ہیں (کل کو یونا کرمل کو کوئئ مار دے آپ یہ کہ کر اپنی آنکھیں بند کر لیں گے کہ یہ ان کی آپس کی جنگ ہے)؟

—-

یونا کرمل

اگر ریاست ان کو نہیں مارتی تو مجبوراً لوگ خود مارے گے نا۔مجھے پتہ لگ جائے کے کونسا بندہ لشکر جھنگوی کا ہے تو میں بھی خود اسے گولی مارونگی ۔۔اندر کے زخم بہت گہرے ہوتے ہے

—-

اسد رضا

تمہاری مثال ایسی ہی ہے جیسی پچھلے دنوں مُسلے دے رہے تھے کہ لو دیکھو ایک ملحد نے بھی مسلمانوں کو امریکہ مین قتل کیا

—–

ز١لان امجد خان

اصظلاح اس لئے بنائی جاتی ہے کہ ایک لفظ سے پوری کہانی سمجھ آجاے ، دیوبندی ملحد کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی ملحد ابھی بھی مذہبی ہے یا دیوبندی ہے ، بلکہ اسکا جھکاؤ دیوبندی فرقے کی طرف ہے اور وہ اس فرقے کی قتل و غارت پر تھوڑا نرم رویہ رکھتا ہے اور اس کے جواز دیتا ہے

تحریک طالبان پاکستان دیوبند مافیا کا ایک گروہ ہے ، اسی مزید شاخیں لال مسجد اور سپاہ صحابہ جیسی جماعتیں ہیں

طالبانی ریاست کے لئے کئی دیوبندی گروہ کام کر رہے ہیں ہر ایک کو ایک رول دیا گیا ہے تحریک طالبان پاکستان اور سپاہ صحابہ ایک ہی ہیں

اپنی جنگ کو سب کی جنگ بنانے کا حربہ
القاعدہ ،طالبان سے لے کر جماعت اسلامی جیسی جماعتوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ اور اپنے اجنڈے کو سارے مسلمانوں کا ایجنڈا بنا دیں اور اپنی جنگ کو اسلام اور کفر کی جنگ بنا کر تمام مسلمانوں کو اپنا حامی بنا لیں ،خود مغرب پر حملے کریں اور جب ان پر حملہ ہو یا انکا کوئی مارے تو اسے “مسلمانوں پر ظلم ” بنا کر مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا لیں اور اسے اسلام اور کفر کی جنگ قرار دے کر مقبولیت حاصل کریں اور اپنی جنگ کو “سب کی جنگ ” بنا دیں ، امریکہ کا حملہ القاعدہ اور طالبان کے لئے ہو تو اسے موڑ کر مسلمانوں پر حملہ بنا کر پیش کیا جاتا ، مسلمانوں میں اس سوچ کو بہت پھیلایا گیا مگر مسلمانوں میں موجود لبرل سوچ رکھنے والوں نے اس سوچ کے خلاف آواز بلند کی اور اب بھی ان گروہوں کی جنگ کو مسلمانوں کو کفر کی جنگ کہنے کے بجاے طالبان اور القاعدہ کی اپنی جنگ کہا اور یہ مذہبی گروہ اپنا یہ نظریہ پھیلانے میں خاصی حد تک ناکام ہوے .
مغرب یا کافروں سے القاعدہ اور طالبان کی جنگ کو تمام مسلمانوں کی جنگ بنانے کی ناکامی کے بعد اسی گروہ نے شیعوں پر حملے اور انہیں قتل کرنا شروع کر دیا ،اسکا بھی یہی مقصد تھا کہ شیعہ سنی فساد پیدا کر کے سنی عوام کو اپنی جانب راغب کیا جائے اس فساد سے انکی طاقت اور مقبولیت میں اضافہ ہوگا ، اسی طرح جب انکا کوئی دہشتگرد مرتا ہے تو انکی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اسے “شیعہ سنی ” جنگ قرار دے کر اپنے اہداف حاصل کئے جائیں .
درحقیقت آج بھی ایک عام مسلمان یا عام کافر آپس میں ایک دوسرے کا قتل نہیں کر رہے ہیں اس لئے یہ مسلمان اور کافروں کی جنگ نہیں یہ اسلام عسکریت پسندوں کی جنگ ہے جسکے جواب میں مغرب انہیں مار رہا ہے
آج بھی عام شیعہ یا عام سنی ایک دوسرے کو قتل نہیں کر رہے ہیں ،بلکہ یہ دیوبندی اور وہابی گروہوں کی جنگ ہے اور جب انہیں ایجنسیاں ،سیاسی گروہ یا مخالف شیعہ فرقہ مارے تو یہ اسے “شیعہ سنی ” جنگ بنا کر پیش کرتے ہیں کیونکہ اس جنگ کا فائدہ سب انہیں ہوگا
کسی دہشتگرد جماعت کا کارکن مرنا ماورا عدالت تو ہو سکتا ہے مگر دہشتگردی یا نسل کشی نہیں جبکہ کسی گروہ کا دوسرے گروہ کے عام لوگوں کو قتل کرنا دہشتگردی اور نسل کشی کہلاہے گا

“جس نے کسی ایک سپاہ صحابہ کے دہشتگرد کو قتل کیا ،گویا اس نے سارے سنیوں کو قتل کیا” – دیوبندی مل*د

سپاہ صحابہ کے دہشتگرد کا قتل “سنی کلنگز ” ہے – دیوبندی ملحد
‫#‏اچھا‬ سوری

سپاہ صحابہ کے دہشتگرد کے مرنے پر اسے شیعہ سنی جگھڑا کہنا ایسا ہی ہے جیسے اسامہ یا حکیم الله کے مرنے پر اسے اسلام یہودیت جنگ قرار دینا

سپاہ صحابہ اور طالبان اپنی جنگ کو شیعہ سنی کی جنگ بنانا چاہتے ہیں ،اپنا دہشتگرد مرنے پر سنی قتل عام کہہ کر غلط تاثر دیتے ہیں

یہ اتحاد کی باتیں کرنا ، نظریاتی اختلاف رکھنے والے کو ” کالی بھیڑ ” کہنا وہی تاریک سوچ کی نشانی ہے جو مذہب نے پیدا کی تھی

جو ملحد سپاہ صحابہ کے کارکن کی ٹارگٹ کلنگ کو جائز سمجھے وہ ” کالی بھیڑ ” ہے . فتاویٰ دیوبندیہ ملحدییہ

جو احتجاج طالبان کے مرنے پر جماعتی کرتے ہیں ویسا ہی احتجاج سپاہ صحابہ کے دہشتگرد کے مرنے پر دیوبندی ملحد کرتا ہے

دیوبندی ملحد کے مطابق یہ انصاف کا تقاضہ ہے کہ جب طالبان خودکش دھماکوں اور دوسرے فرقوں کے قتل عام کی مذمت کرو تو طالبان اور سپاہ صحابہ کے دہشتگرد کی ٹارگٹ کلنگ کی بھی مذمت کرو

“تم خودکش دھماکوں پر تو خوب شور مچاتے ہو مگر طالبان اور سپاہ صحابہ کے کارکن مرنے پر خاموش کیوں ؟ ” – دیوبندی ملحد کا احتجاج

سپاہ صحابہ نے بریلویوں کی بھی ٹارگٹ کلنز کی ہیں ، دیوبندی ملحد کیا اسے بھی سعودی عرب اور ایران کی جنگ کہتے ہیں

دیوبندی دہشتگرد تنظیمیں ،پولیس فوج ،تمام مذہبی فرقوں اور دیگر لوگوں کو قتل کر رہے ہیں ،مگر جب بھی شیعہ کو قتل کرتے ہیں دیوبندی ملحد انکے دفاع میں کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ جب تک “دو طرفہ فرقہ واریت ” ختم نہیں ہوگی ایسا ہوتا رہے گا ، یہ اصل میں سابقہ مولوی کمیونٹی سے تعلق کی وجہ سے ہے

سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی ٹارگٹ کلنگ فوج اور ایم کیو ایم بھی کرتی ہے مگر دیوبندی ملحد صرف اسے شیعہ گروپ سے جوڑ کر فرقہ وارانہ جنگ کہتے ہیں

دیوبندی تنظیموں کی جانب سے داتا دربار ، عبدللہ شاہ غازی پر خود کش حملے ،بریلوی علموں اور پیروں کا قتل کا دیوبندی ملحد کیا جواز دیتے ہیں

اب کوئی خودکش دھماکہ ہوگا یا کوئی عام شیعہ شہری دیوبندیوں کے ہاتھو ں قتل ہوگا تو دیوبندی ملحد اسکا جواز دیگا کہ سپاہ صحابہ کا کمانڈر بھی تو مرتا ہے

دیوبندی ملحد یہ بتائیں کہ مذہبی اختلافات تو شیعہ ،بریلوی ،قادیانی اور عیسایوں میں بھی ہیں وہ کیوں اپس میں قتل و غارت نہیں کرتے

سپاہ صحابہ اصل میں دیوبندی ملحد کے نزدیک ” اچھے طالبان ” ہیں وہ کہتے ہیں طالبان صاف کرو پر سپاہ صحابہ نہیں ،یہ ہمارے پرانے دوست ہیں

سپاہ صحابہ اور طالبان کی بنیاد دوسرے مذہبی گروہ وجہ نہیں بلکہ اپنا مذہبی ایجنڈا دوسروں پر نافذ کرنا ہے ، اسکے لئے وہ مخالف مذہبی گروہ سے جنگ شروع کرتے ہیں تاکہ اسے ” دو طرفہ ” جنگ بنا کر عوامی حمایت حاصل کی جائے اور اپنی شریعت نافذ کی جائے
دیوبنددی ملحد انکے ایجنڈے پر پوری طرح انکے ساتھ ہیں

عجیب بات ہے طالبان کا کمانڈر مارا جائے تو ٹھیک مگر سپاہ صحابہ کا مرے تو دیوبندی ملحد کے آگ لگ جاتی ہے

دیوبندی سپاہ صحابہ نے بریلویوں کی مساجد پر قبضہ کرنا شروع کیا تو بریلویوں نے سنی تحریک بنائی

پاکستان میں طالبان اور سپاہ صحابہ شیعوں کو اسی طرح قتل کر رہے ہیں جیسے داعش یزیدی فرقے کے لوگوں کو، اس قتل عام کو فرقہ واریت سے جوڑنا اور اسے “دو طرفہ ” جنگ کہنا اصل میں طالبان کی حمایت ہے

پتا نہیں کیسے دیوبندی ملحد بیت الله اور حکیم الله محسود کی “ٹارگٹ کلنگ” پر خاموش رہا ،ضرور اسے دلی صدمہ ہوا ہوگا

سپاہ صحابہ کے دہشتگرد کے مرنے پر جامعہ بنوریہ بھی مزمت کرتا ہے اور دیوبندی ملحد بھی

ایک عام شیعہ قادیانی قتل ہونا اور ایک کالعدم جماعت کا دہشتگرد قتل ہونا دیوبندی ملحد کے نزدیک برابر ہے ، کیونکہ تعلق جو پرانا ہے

ایک عام شیعہ ڈاکٹر کا قتل اور سپاہ صحابہ کے مولوی کا قتل دیوبندی ملحد کی نظر میں ایک جیسے ہیں

صرف دیوبندی ملحد کو ہی پتا ہے کہ اسکے سپاہ صحابہ کے امن پسند بھائیوں کو شیعہ ہی قتل کرتے ہیں ،باقی اجنسیاں اور دوسری جماعتیں نہیں کرتی ہے

لدھیانوی تیرے جاں نثار
ملحد بھی ہیں بے شمار

اگر ملک میں شیعہ ،قادیانی ،عیسائی قتل ہوتے ہیں تو کیا “مظلوم “سپاہ صحابہ اور طالبان قتل نہیں ہوتے- دیوبندی ملحد کا جذباتی خطاب

پاہ صحابہ کے دہشتگرد ڈاکٹر فیاض کے مرنے پر دیوبندی ملحد دہاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں ، یہ کوئی عام ڈاکٹر نہیں تھا ،یہ دہشتگرد تنظیم کا ایک دہشتگرد تھا ،مگر دیوبندی ملحد اسے عام شیعہ افراد کے قتل عام سے ملا کر اپنے” مظلوم سپاہ صحابہ” کے بھائیوں کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں

سپاہ صحابہ کا دہشتگر مارنا دہشتگردی ہے – انجمن محبان سپاہ صحابہ (الحادی گروپ )

سپاہ صحابہ کے دہشتگرد فیاض کو آج کسی نے مار دیا ،سوچا کہ دیوبندی ملحدین کو پرسا دے دوں

“میں سپورٹر سپاہ صحابہ دا ” – دیوبندی ملحد

جس طرح جماعتی کو ڈرون کے ذریعے طالبان کے مرنے پر انسانیت ،قانون اور انصاف یاد آتا ہے اسی طرح دیوبندی ملحد کو سپاہ صحابہ کے دہشتگرد کے مرنے پر قانون ،انصاف ،بیرونی سازش ،مذہبی اختلاف یاد آجاتا ہے ، ہاے کیسا دل دکھا ہے جب اورنگزیب فاروقی پر فائرنگ ہوئی … ہاےہاے ظلم ہوا ،دیوبندی ملحد کا احتجاج

سپاہ صحابہ کے دہشتگرد کے مرنے پر دیوبندی ملحد دھاڑیں مار مار کر رو پڑا

آپریشن کے رد عمل میں ہم نے امام بارگاہ پر خوکش حملہ کیا -طالبان
نہیں یہ عالمی سازش ہے-جماعتی
نہیں یہ شام اور عراق کی فرقہ وارانہ جنگ ہے-دیوبندی ملحد

پاکستان میں دیوبند مدارس،جماعت اسلامی ،سپاہ صحابہ ،تبلیغی جماعت وغیرہ طالبان اور داعش کی خلافت کے لئے کام کر رہے ہیں

ہمارے علاقے میں ایک ڈاکٹر مہدی ہوتا تھا ،بہت اچھا ڈاکٹر ،میں بھی بچپن میں اسکے کلینک جاتا تھا ،چھ مہینے پہلے اسے شیعہ ہونے پر دیوبندیوں میں مار دیا ، مگر میرے سارے دیوبندی کزن کہتے ہیں کہ اسے بھتے کی چکر میں مارا ، مذہب تعصب اور محبت کی آنکھوں پر بندھی پٹی انہیں سچ بولنے سے روکتی ہے

تنظیم اہل سنت والجماعت یعنی سپاہ صحابہ القاعدہ ،داعش اور طالبان کی طرح دہشتگرد گروہ ہے ،انکی ٹارگٹ کللنگز کو میں جائز اور ضروری سمجھتا ہوں ، کون کون ملحد اس سے متفق ہے ؟

کامیاب طالبانائزیشن ،طالبان اور داعش کی ذیلی تنظیم سپاہ صحابہ وغیرہ اور اسکے دہشتگرد رہنما میڈیا پر مذہبی رہنماؤں کے طور پر پیش کیے گئے تاکہ انہیں ذہنی طور پر قبول کر لیا جائے ،اور اب کچھ ملحدین کے نزدیک بھی یہ دہشتگرد نہیں بلکہ ” قومی مذہبی ” شخصیت بن گئے ہیں

اچھے طالبان اور برے طالبان کی تھیوری ناکام ہونے پر اب سپاہ صحابہ کو بطور “اچھے طالبان ” کے پیش کیا جا رہا ہے

اگر آج دیوبند مدارس کو بند نہیں کیا گیا تو کل یہ داعش کی طرح ان مدارس میں عدالتیں لگا کر گلے کاٹ رہے ہونگے

یہاں شیعہ سنی تنازے کی بات نہیں ہو رہی ، یہاں اس کے نام پر قتل کی بات ہو رہی ہے

یہ بلکل ایسی ہی بحث ہے جیسے کوئی طالبان کا حامی طالبان کی مذمت کو گھما پھرا کر امریکہ ،اسرئیل ،سیاستدانوں ،جنگ عظیم تک کی باتوں میں لے جاتا ہے مگر طالبان کی مزمت نہیں کرتا

پاکستان میں ایک فیصد بھی عام سنی کو شیعہ سے خطرہ نہیں جبکہ سو فیصد شیعہ کمیونٹی کے لوگ چاہے وہ ملحد ، یا شیعہ سرخے ہی کیوں نہ ہوں انہیں دیوبندی گروہوں سے جان کا خطرہ ہے ، اسے دو طرفہ جنگ کہہ کر ہم طالبان کے ایجنڈے کو مضبوط کرتے ہیں
انڈیا میں بھی شیعہ سنی ہیں وہاں لڑائی نہیں ہو رہی ، اگر وہان بھی دوندی گروپ مضبوط ہو گئے تو ہوگی ، شیعوں کا قتل مذہبی اختلاف نہیں یہ دیوبندی حرامی پن ہے

اگر ملک میں شیعہ نا بھی ہوتے تو دیوبندی کسی اور گروہ کو نشانہ بنا رہے ہوتے

سپاہ صحابہ طالبان اور داعش کی طرح ایک خطرناک دہشتگرد تنظیم ہے مگر کیونکہ یہ ہماری گلی کوچوں میں عام ہو گئی ہے ہمارے دوست محلے دار ان میں ہونگے اس لئے کچھ ملحدین انہیں دہشتگرد گروپ سمجھتے ہی نہیں ، اگر شیعہ بدلہ میں کسی غیر مسلح دیوبندی تنظیم کو قتل کر رہے ہوتے یا کسی تبلیغی کو قتل کرتے تو میں احتجاج بھی کرتا ، مگر سپاہ صحابہ کے دہشتگرد مرنے پر اسے ایک سول وار کہنا سوچنے پر بجبور کرتا ہے

طالبانی حمایتی کی ایک اور پہچان ہی یہی ہے کہ جیسے ہی شیعہ کا قتل ہو بات کو مذہبی عقائد کر طرف موڑ دو ، یہی کام دیوبندی ملحد بھی کرتا ہے ، ہم یہ کہتے ہیں کہ مذہبی اختلاف چاہے جو بھی ہو اس بنیاد پر قتل نہیں ہونا چاہیے ، شیعہ گروپ نے رد عمل میں اگر کیا بھی ہوگا تو انہوں نے کسی عام سنی کو نشانہ نہیں بنایا ، انکا نشانہ سپاہ صاحبہ کے بدمعاش ہونگے

جماعتی بھی یہی کہتے ہیں کہ امریکہ اور اسرئیل بھی تو کر رہے ہیں ، طالبان کی ہی صرف مذمت کیوں
کسی جماعتی سے پوچھیں گے تو وہ بھی یہی کہے گا کہ میں طالبان کی مذمت کرتا ہوں اور ساتھ ہی اگر مگر بھی لگاے گا
اگر کوئی شیعہ گروہ رد عمل میں سپاہ صحابہ کے کارکنوں کو مارتا بھی ہے تو یہ شیعہ سنی فرقہ واریت نہیں
عجیب بات ، رد عمل کس کا کیسا ہے ، کوئی شیعہ گروپ عام سنی کو اس کے عقیدے کی وجہ سے نہیں مار رہا جبکہ وہابی اور دیوبندی ساری دنیا میں شیعہ کو اس کے عقیدے پر مار رہے ہیں ، اپنے بچاؤ یا رد عمل میں شیعہ گروپ کسی دیوبندی دہشتگرد کو مارتا بھی ہے تو پھر اسے ایک جیسا دیکھا انتہائی بدیانتی ہے

تو پانچ ہزار عام سنیوں کو شیعہ گروپ قتل کر چکے ہیں ؟ منیب ساحل ایسی ہی تھیوری پیش کر رہے ہیں جیسے دیوبندی ” قادیانی سازش ” پر کتاب لکھ کر اسے ” بےنقاب ” کرتے ہیں

ہاہا عام دیوبندی نشانہ کب بنا کہ دیوبندی رد عمل ہوگا ؟ رد عمل سپاہ صحابہ کا ہوگا نا کہ دیوبندی فرقے کے لوگوں کا

——

عرفان قادری

امجد خان زالان کی بات میں وزن ہے – ایاز نظامی کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے دہشت گردوں کے مارے جانے کوسنی کی ٹارگٹ کلنگ کا نام دیتے ہیں، سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کے مارے جانے کا عام سنی بریلوی، شیعہ، احمدی اور مسیحی کے قتل سے تقابل کر کے حساب برابر کرنے کی کوشش کرتے ہیں – تمام انسانوں کے قاتل طالبان، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی کے دیوبندی دہشت گردوں کے مرنے کا افسوس کیوں؟ ایاز نظامی نے یہ بھی غلط کہا کہ دار العلوم دیوبند کی جانب سے شیعہ کی تکفیر کا کوئی فتویٰ جاری نہیں ہوا – اپنے جھوٹ یا غلطی پر معزرت بھی نہیں کی – دیوبندی دہشت گردوں کی ایسی وکالت کسی تحقیق پسند ملحد کو زیب نہیں دیتی – ٹویٹر پر آپ کی تحریریں دیوبندی دہشت گردوں کی وکالت کی گواہ ہیں – میں نہ مانوں کا کوئی علاج نہیں

—-

اویس قرنی

نظامی یار۔۔۔
انی ٹینشن توں چنگا اے خودکشی کر لے

1001011041 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48
49 50 51 52 53 54 55 56 57 58 60 61 59 62 63 64 65 66 67 68 69 70 71 72 73 74 75 76 77 78 79 81 82 83 84 85 86 87 88 89 90 91 92 93 94 95 96 97 98 99

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55a3a1a2
a4a5a6

A secular Shia Muslim came across the same Takfiri Deobandis camouflaged as atheists that he had tried to escape.

salm

الحاد کا لبادہ اوڑھ کر تکفیری دیوبندیوں کی وکالت کرنے والے فخرِ دو نمبر ملحدینِ جہاں جناب علامہ ایاز نظامی کی خدمت میں ایک حقیر نذرانہِ عقیدت

db

About the author

SK

45 Comments

Click here to post a comment