Featured Original Articles Urdu Articles

سپاہ صحابہ کےدہشتگرد کے مرنے پرکسی ملحد کو دکھ ہو اور وہ اسے دہشتگردی کہے، اسکا مطلب ہےدیوبندی ملحد کی اصطلاح میں وزن ہے – زالان

zalaan

سپاہ صحابہ کےدہشتگرد کے مرنے پرکسی ملحد کو دکھ ہوا اور وہ اسے دہشتگردی کہتاہے،اسکا مطلب ہے”دیوبندی ملحد”کی اصطلاح میں وزن ہے

کچھ ملحد طالبان اور سپاہ صحابہ میں فرق رکھتے ہیں، ڈرون کے حمایتی ہیں پرسپاہ صحابہ والادہشتگرد مارا جائے تو اسے دہشتگردی کہتے ہیں

دہشتگرد اورنگزیب فاروقی اور احمد لدھیانوی اتنے ہی خطرناک دہستگیرد ہے جیسے حکیم الله محسود یا ابو بکر بغدادی

اورنگزیب فاروقی پر فائرنگ دیوبندی ملحد کی نظر میں دہشتگردی؟پھر تو اسکی نظرمیں حکیم الله اور اسامہ کو مارنا بھی دہشتگردی ہوگی

اہل سنت ولجماعت /سپاہ صحابہ طالبان اور داعش کا ہی حصہ ہیں ، انکے مارے جانے پر کوئی ملحد احتجاج کرتا ہے تو پھر اسے حکیم الله محسود اور اسامہ بن لادن کے مارے جانے پر بھی افسوس کرنا چاہیے کیونکہ یہ بھی ماورا عدالت اور قانون قتل ہوے تھے

جس طرح اچھے طالبان اور برے طالبان کا فرق کرنے کا پروپیگنڈا کیا گیا اسی طرح دشتگرد سپاہ صحابہ کو “اچھا مولوی”بنا کر پیش کیا جا رہا ہے

کوئی ابو بکر بغدادی کو مارے یا احمد لدھیانوی کو مجھے تو انکے مرنے پر بہت خوشی ہوگی

جماعت اسلامی کےنزدیک طالبان پرڈرون مارنا یا انکےخلاف آپریشن کرنا “دہشتگردی” ہےاب یہی بات سپاہ صحابہ کےلئےدیوبندی ملحد کر رہے ہیں

طالبان اور سپاہ صحابہ دیوبندیوں کی مسلح دہشتگرد تنظیمیں ہیں، ریاست یا مخالف گروہ انہیں قتل کرتا ہے تو یہ دہشتگردی نہیں

بلا تفریق یا بےقصوروں کو خوف اوردہشت زدہ کرنےکےلئے قتل کرنا دہشتگردی ہے،قاتل گروہ کے کارندوں کومارنا دہشتگردی کی تعریف میں نہیں آتا

اگر خونخوار طالبان کی ملک کے اندر ٹارگٹ کلنگ نا جائز ہے تو پھر ڈرون پر بھی جماعت اسلامی کے ساتھ احتجاج کرو

اگر کسی ملحد کو سہراب گوٹھ میں طالبان یا سپاہ صحابہ کےکمانڈر کے مرنے کا دکھ ہے تو پھر اسےبیت الله محسود کےمرنےپر بھی افسوس ہوگا

جو دیوبندی ملحد طالبان کی ٹارگٹ کلنگز کو نا جائزسمجھ رہےہیں انہیں جماعت اسلامی کےساتھ ڈرون مخالف مظاہروں میں حصہ لینا چاہیے

طالبان حمایتی برگر نسل آج کل کہتی نظر آتی ہےکہ”یہ داعش امریکہ کا ڈرامہ ہےحقیقت میں نہیں”یہی بات وہ طالبان کے لئے بھی کہتے تھے

اگر طالبان یا سپاہ صحابہ کے دہشتگرد کو اجنسی یا دوسرا مخالف گروہ مارے گا تو وہ دہشتگردی ہوگی – دیوبندی ملحد کی نئی تشریح

طالبان حملہ مزمت؟
تم ڈرون حملے نہیں دیکھتے ؟ – جماعتی
“تم سپہ صحابہ کی ٹارگٹ کلنگ نہیں دیکھتے ” دیوبندی ملحد

یہی جماعتی بھی کہتے ہیں کہ خودکش حملوں اور ڈرون حملوں میں کوئی فرق نہیں دونوں دہشتگرد ہیں

جو کوئی سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں یا طالبان کےمارے جانے کو دہشتگردی کہتا ہے وہ طالبان کا حامی ہے چاہے وہ ملحد ہی کیوں نا ہو

جو طالبان کی دہشتگردی کی مذمت اگر مگر کے ساتھ کرتا ہے یا طالبان کے مرنے یر “متوازن تجزیہ” کےنام پرافسوس کرتا ہے، وہ طالبان کا حامی ہی ہے

1

2

3

4

5

6z111121314opzzzz2z3

الحاد کا لبادہ اوڑھ کر تکفیری دیوبندیوں کی وکالت کرنے والے فخرِ دو نمبر ملحدینِ جہاں جناب علامہ ایاز نظامی کی خدمت میں ایک حقیر نذرانہِ عقیدت

db

About the author

SK

1 Comment

Click here to post a comment
  • February 27 at 1:45pm · Like · 1

    Ayaz Nizami
    منیب آج جو کراچی میں اہلسنت و الجماعت کا مولوی یاسر جو قتل ہوا ہے اس کی خبر تو لگاؤ یہاں۔ جنگ نے ابھی تک خبر ہی اپ ڈیٹ نہیں کی ہے۔
    February 27 at 1:47pm · Like

    Muneeb Ahmed Sahil abhi lagata hon, ajj he nahi 3 din say in k molvi mar rahay hen
    February 27 at 1:48pm · Like · 1

    Muneeb Ahmed Sahil kal bhi korangi may koi mara gaya tha
    February 27 at 1:48pm · Like · 1

    Ayaz Nizami
    میرا کہنا یہی ہے کہ ان کے قتل پر بھی تو کوئی احتجاج کرنے والا ہونا چاہئے
    February 27 at 1:49pm · Edited · Like · 1

    Adil Ali
    نظامی صاحب بے شک آپ سپاہ صحابہ کے مقتول دہشتگردوں کےلئے احتجاج کريں ہميں قطعا کوئی مسئلہ نہيں ہے پر برائے مہربانی لبرل ازم کا لبادہ تو مت اوڑھئے
    February 27 at 4:17pm · Like · 2

    Adil Ali
    منيب مياں ميں نے اوپر بھی عرض کی ہے کہ شيعہ نسل کشی کے حوالے سے ميں بھی ہزاروں لنکس شيئر کرسکتا ہوں
    دوسرا
    صرف 2015 ميں 500 کے قريب شيعہ دہشتگردی کی نظر ہوئے ہيں
    والسلام
    February 27 at 4:19pm · Like · 1

    Khak Nasheen
    انسانی خوف نے مذہب کو ایجاد کیا اور جب تک خوف ہے تب تک مذہب کا کاروبار نہیں رکے گا۔ لہذا مذہب کا مکمل خاتمہ شاید ممکن نا ہوسکے۔ مغربی دنیا نے مذہبی اختلافات کے ساتھ جینا سیکھا ہے اور ہم اس مرحلے کے راہی ہیں۔ ابھی وقت لگے گا۔ محترم نظامی صاحب کی درج بالا تحریر سے مکمل اتفاق ممکن نہیں۔ کیونکہ نسل کشی اور ٹارگٹ کلنگ کا کوئی تقابل نہیں۔ شیعہ کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ جبکہ ٹارگٹ کلنگ کو بھی دیکھا جائے تو ڈاکٹرز، وکلا، شعرا، آفیسرز، دانشوروں کو محض شیعہ ہونے کی بنا پہ قتل کیا گیا جوکہ واجبی حد یا نام کی حد تک مسلمان تھے، جبکہ دوسری طرف سپاہ صحابہ کے چند کارکن جوکہ اس نسل کشی کے عمل میں کسی نا کسی طور ملوث تھے وہ ٹارگٹ ہوئے۔ جبکہ بعض معاملات میں تو خفیہ ہاتھ درپردہ اپنا الو سیدھا کررہے ہیں۔ اس انتہائی غیرمتوازن لڑائی میں آغاز، تعداد، تحرک، حربی کاروائیوں کسی حوالے سے کوئی تقابل نہیں۔ یہ تقابل تو یوں ہی ہوا کہ اگر کسی کو ذبح کیا جارہا ہو اور ذبح ہوتا شخص جان نکلتے ہوئے ہاتھ پاوں مارے اور ذبح کرنے والے کی انگلی زخمی ہو جائے اور منصف فیصلہ یہ کرے کہ وہ ذبح تو ہوا لیکن اسکے ہاتھ پاوں چلانے سے دوسرے کی انگلی بھی زخمی ہوئی۔ لہذا ذبح کرنا درست نہیں لیکن ذبح ہوتے ہلنا بھی جائز نہیں۔ غلطی دونوں طرف سے ہوئی۔ دونوں عمل قابل مذمت ہیں۔
    February 27 at 4:24pm · Edited · Like · 2

    Ayaz Nizami
    جناب جہاں تک موازنے کی بات ہے، میں متفق ہوں کہ کوئی موازنہ نہیں ہو سکتا، شیعوں کا نقصان بے حد و حساب ہوا ہے۔ جہاں تک اجتماعی اور انفرادی قتل کی بات ہے تو یہ فرق بھی مجھے ملحوظ ہے۔ جہاں تک طریقہ کار کا فرق ہے تو اس میں بھی میں ان تکفیریوں کے طریقہ کار کو زیادہ قابل مذمت سمجھتا ہوں
    لیکن جہاں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ ایک یک طرفہ معاملہ ہے اور ایک فرقہ بالکل معصوم ہے، مجھے اس بات سے اختلاف ہے، شائد آپ تک وہ خبریں نہیں پہنچ پا رہیں جن کے مطابق باقاعدہ ایک منصوبہ بندی سے ان تکفیری جماعتوں کے کارکنوں اور ذمہ داروں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ اور دن بہ دن یہ تعداد بھی بہت تیزی سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ یہ بھی تو ایک دہشت گردی ہے۔ اور ہم ہرطرح کی دہشت گردی کی بغیر کسی امتیاز کے مذمت کرتے ہیں۔ تو تکفیریوں کی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اگر کبھی کبھار اس طرح کی دہشت گردی کی بھی مذمت کر دی جائے تو کیا مضائقہ ہے؟ Khak Nasheen
    February 27 at 4:57pm · Like

    Khak Nasheen
    محترم نظامی صاحب جارحیت اور دفاع دو بالکل مختلف روئیے ہیں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ جارحیت کا مظاہرہ دیوبندی مکتب کی طرف سے ہے جوکہ ریاست پاکستان، شیعہ، بریلوی، احمدی، ہندو، سکھ، عیسائی المختصر تمام مذاہب و مسالک کے خلاف جارحیت حملوں اور قتل و غارت کا مرتکب ہے۔ غلطی پہ وہی ہے جو جارحیت کررہا ہے۔ اور یہ بات بچہ بچہ جانتا ہے کہ کون جارحیت پہ ہے۔ جارحیت ظلم کی ہی ایک شکل ہے اور جارح کبھی مظلوم نہیں ہوتا۔ پھر ظالم کی موت پہ کیا نوحہ کناں ہونا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    February 27 at 8:55pm · Like · 2

    Captian Talib
    داعش کے بهی ہزاروں کارکن مارے گئے ہیں ، انکے لیے بهی دهرنا کا اہتمام کیا جائے کیا ؟؟
    اہل سنت و الجماعت کے کارکن بهی دہشتگرد ہے اگر وہ مرتے ہیں تو اس سے اچهی بات کوئی نہیں … اگر بے قصور سنی ڈاکٹر/پروفیسر/تاجر مرتے ہیں تو بری بات ہے .
    February 27 at 9:07pm · Like · 2

    Mirza Ali Ayaz Sahab, resistance aur self defense koi nayay concept nahe.

    https://www.facebook.com/photo.php?fbid=10202316051941739&set=a.1311105636782.42611.1804879158&type=1