Original Articles Urdu Articles

بہت افسوس ہوا کہ کچھ ملحدین سپاہ صحابہ اور طالبان کے مارے جانے کو بھی دہشتگردی کہہ رہے ہیں – زالان

 

22

 

بہت افسوس ہوا کہ کچھ ملحدین سپاہ صحابہ اور طالبان کے مارے جانے کو بھی دہشتگردی کہہ رہے ہیں

اگر کوئی گروہ یا اجنسیاں طالبان یا سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی ٹارگٹ کلنگز کرتی ہیں تو یہ دہشتگردی نہیں کہلاہے گی

یہ امریکہ اور طالبان کی جنگ دونوں طرف برابر ہے – جماعتی

یہ شیعہ سنی کی جنگ ہے دونوں فرقوں کی – (بعض) لبرلز

طالبان کی جانب سے شعیوں پر حملوں اور دہشتگردی کی وجہ اسے فرقہ وارانہ جنگ بنانا ہے اور وہ اس میں کامیاب ہو رہے ہیں

یہ کہنا کہ طالبان دہشتگردی مذہبی اختلاف کا نتیجہ ہے ،طالبان موقف کی تائید اور انکے آگے گھٹنے ٹیکنا ہے

پاکستان میں شیعہ، ہندو ،قادیانی ،عیسائی آپس میں نہیں لڑتے ہیں انکا بھی تو مذہبی اختلاف ہے صرف دیوبندی وہابی تشدد پسند کیوں ؟

دیوبندیوں کی جانب سے شیعہ قتل عام پر کسی ملحد کا فرقہ وارانہ کہہ کر جسٹیفائی کرنا بھی “ڈرون ردعمل ” جیسا جماعتی موقف ہے

22 23 24 25 26 2721ayaz

الحاد کا لبادہ اوڑھ کر تکفیری دیوبندیوں کی وکالت کرنے والے فخرِ دو نمبر ملحدینِ جہاں جناب علامہ ایاز نظامی کی خدمت میں ایک حقیر نذرانہِ عقیدت

db

About the author

Shahram Ali

1 Comment

Click here to post a comment
  • February 27 at 1:45pm · Like · 1

    Ayaz Nizami
    منیب آج جو کراچی میں اہلسنت و الجماعت کا مولوی یاسر جو قتل ہوا ہے اس کی خبر تو لگاؤ یہاں۔ جنگ نے ابھی تک خبر ہی اپ ڈیٹ نہیں کی ہے۔
    February 27 at 1:47pm · Like

    Muneeb Ahmed Sahil abhi lagata hon, ajj he nahi 3 din say in k molvi mar rahay hen
    February 27 at 1:48pm · Like · 1

    Muneeb Ahmed Sahil kal bhi korangi may koi mara gaya tha
    February 27 at 1:48pm · Like · 1

    Ayaz Nizami
    میرا کہنا یہی ہے کہ ان کے قتل پر بھی تو کوئی احتجاج کرنے والا ہونا چاہئے
    February 27 at 1:49pm · Edited · Like · 1

    Adil Ali
    نظامی صاحب بے شک آپ سپاہ صحابہ کے مقتول دہشتگردوں کےلئے احتجاج کريں ہميں قطعا کوئی مسئلہ نہيں ہے پر برائے مہربانی لبرل ازم کا لبادہ تو مت اوڑھئے
    February 27 at 4:17pm · Like · 2

    Adil Ali
    منيب مياں ميں نے اوپر بھی عرض کی ہے کہ شيعہ نسل کشی کے حوالے سے ميں بھی ہزاروں لنکس شيئر کرسکتا ہوں
    دوسرا
    صرف 2015 ميں 500 کے قريب شيعہ دہشتگردی کی نظر ہوئے ہيں
    والسلام
    February 27 at 4:19pm · Like · 1

    Khak Nasheen
    انسانی خوف نے مذہب کو ایجاد کیا اور جب تک خوف ہے تب تک مذہب کا کاروبار نہیں رکے گا۔ لہذا مذہب کا مکمل خاتمہ شاید ممکن نا ہوسکے۔ مغربی دنیا نے مذہبی اختلافات کے ساتھ جینا سیکھا ہے اور ہم اس مرحلے کے راہی ہیں۔ ابھی وقت لگے گا۔ محترم نظامی صاحب کی درج بالا تحریر سے مکمل اتفاق ممکن نہیں۔ کیونکہ نسل کشی اور ٹارگٹ کلنگ کا کوئی تقابل نہیں۔ شیعہ کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ جبکہ ٹارگٹ کلنگ کو بھی دیکھا جائے تو ڈاکٹرز، وکلا، شعرا، آفیسرز، دانشوروں کو محض شیعہ ہونے کی بنا پہ قتل کیا گیا جوکہ واجبی حد یا نام کی حد تک مسلمان تھے، جبکہ دوسری طرف سپاہ صحابہ کے چند کارکن جوکہ اس نسل کشی کے عمل میں کسی نا کسی طور ملوث تھے وہ ٹارگٹ ہوئے۔ جبکہ بعض معاملات میں تو خفیہ ہاتھ درپردہ اپنا الو سیدھا کررہے ہیں۔ اس انتہائی غیرمتوازن لڑائی میں آغاز، تعداد، تحرک، حربی کاروائیوں کسی حوالے سے کوئی تقابل نہیں۔ یہ تقابل تو یوں ہی ہوا کہ اگر کسی کو ذبح کیا جارہا ہو اور ذبح ہوتا شخص جان نکلتے ہوئے ہاتھ پاوں مارے اور ذبح کرنے والے کی انگلی زخمی ہو جائے اور منصف فیصلہ یہ کرے کہ وہ ذبح تو ہوا لیکن اسکے ہاتھ پاوں چلانے سے دوسرے کی انگلی بھی زخمی ہوئی۔ لہذا ذبح کرنا درست نہیں لیکن ذبح ہوتے ہلنا بھی جائز نہیں۔ غلطی دونوں طرف سے ہوئی۔ دونوں عمل قابل مذمت ہیں۔
    February 27 at 4:24pm · Edited · Like · 2

    Ayaz Nizami
    جناب جہاں تک موازنے کی بات ہے، میں متفق ہوں کہ کوئی موازنہ نہیں ہو سکتا، شیعوں کا نقصان بے حد و حساب ہوا ہے۔ جہاں تک اجتماعی اور انفرادی قتل کی بات ہے تو یہ فرق بھی مجھے ملحوظ ہے۔ جہاں تک طریقہ کار کا فرق ہے تو اس میں بھی میں ان تکفیریوں کے طریقہ کار کو زیادہ قابل مذمت سمجھتا ہوں
    لیکن جہاں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ ایک یک طرفہ معاملہ ہے اور ایک فرقہ بالکل معصوم ہے، مجھے اس بات سے اختلاف ہے، شائد آپ تک وہ خبریں نہیں پہنچ پا رہیں جن کے مطابق باقاعدہ ایک منصوبہ بندی سے ان تکفیری جماعتوں کے کارکنوں اور ذمہ داروں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ اور دن بہ دن یہ تعداد بھی بہت تیزی سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ یہ بھی تو ایک دہشت گردی ہے۔ اور ہم ہرطرح کی دہشت گردی کی بغیر کسی امتیاز کے مذمت کرتے ہیں۔ تو تکفیریوں کی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اگر کبھی کبھار اس طرح کی دہشت گردی کی بھی مذمت کر دی جائے تو کیا مضائقہ ہے؟ Khak Nasheen
    February 27 at 4:57pm · Like

    Khak Nasheen
    محترم نظامی صاحب جارحیت اور دفاع دو بالکل مختلف روئیے ہیں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ جارحیت کا مظاہرہ دیوبندی مکتب کی طرف سے ہے جوکہ ریاست پاکستان، شیعہ، بریلوی، احمدی، ہندو، سکھ، عیسائی المختصر تمام مذاہب و مسالک کے خلاف جارحیت حملوں اور قتل و غارت کا مرتکب ہے۔ غلطی پہ وہی ہے جو جارحیت کررہا ہے۔ اور یہ بات بچہ بچہ جانتا ہے کہ کون جارحیت پہ ہے۔ جارحیت ظلم کی ہی ایک شکل ہے اور جارح کبھی مظلوم نہیں ہوتا۔ پھر ظالم کی موت پہ کیا نوحہ کناں ہونا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    February 27 at 8:55pm · Like · 2

    Captian Talib
    داعش کے بهی ہزاروں کارکن مارے گئے ہیں ، انکے لیے بهی دهرنا کا اہتمام کیا جائے کیا ؟؟
    اہل سنت و الجماعت کے کارکن بهی دہشتگرد ہے اگر وہ مرتے ہیں تو اس سے اچهی بات کوئی نہیں … اگر بے قصور سنی ڈاکٹر/پروفیسر/تاجر مرتے ہیں تو بری بات ہے .
    February 27 at 9:07pm · Like · 2

    Mirza Ali Ayaz Sahab, resistance aur self defense koi nayay concept nahe.

    https://www.facebook.com/photo.php?fbid=10202316051941739&set=a.1311105636782.42611.1804879158&type=1