Original Articles

کیا حزب اللہ کی وجہ سے پاکستان میں شیعہ نسل کشی ہورہی ہے؟ لدھیانوی اور ایاز نظامی کے سوالات کا جواب – عامر حسینی

hezb

0h

پاکستان میں پریس اور سوشل میڈیا میں جب “شیعہ نسل کشی” اور شیعہ امام بارگاہوں پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے اکثر بحث ہوتی ہے تو کئی ایک لوگ جوخود کو غیر جانبدار اور سیکولر ، لبرل یا معتدل مسلم دانشور، صحافی ، تجزیہ نگار ظاہر کرتے ہیں شیعہ سنّی بائنری کو مقدمہ اولی کے طور پر سامنے لیکر آتے ہیں اور یہ فرض کرکے آگے چلتے ہیں کہ پاکستان کے اندر ” شیعہ نسل کشی” اصل میں دیگر ممالک میں سنّی آبادی کے قتل کا نتیجہ ہے جو ان کے خیال ميں شیعہ ملیشیا کررہی ہیں

اس حوالے سے  دیوبندی مدارس سے فارغ التحصیل پاکستانی ملحد علامہ ایاز نظامی نے اسی مقدمہ کے ساتھ بحث سوشل میڈیا پرچھیڑی، انھوں نے اپنی تنقید کے جواز اور ” شیعہ نسل کشی” کی تشریح کے لیے یہ مقدمہ پیش کیا کہ دیوبندی و سلفی دھشت گردتںظیموں القاعدہ ، داعش ، ٹی ٹی پی ، جنداللہ ، لشکر جھنگوی اور اہلسنت والجماعت جیسی تنظیموں کا وجود حزب اللہ جیسی شیعہ تنظیم کے وجود کی وجہ سے ہے – ایاز نظامی اور ان جیسے لوگوں کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ “حزب اللہ ” شیعہ کی القاعدہ، جنداللہ ، لشکر جھنگوی ہے اور وہ ایسے ہی قتل عام و نسل کشی کی مرتکب ہے جیسے سلفی و دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیمیں ہیں

میں حزب اللہ کے بارے ميں پھیلائے جانے والے اس صریح غلط اور مسخ کردہ پروپیگنڈے کو نظر انداز کردیتا اگر یہ پروپیگنڈا محمد احمد لدھیانوی ، ایمن الزہراوی ، اورنگ زیب فاروقی، سلیم صافی اور اوریا مقبول جان کی جانب سے کیا جارہا ہوتا ، لیکن اس پروپیگنڈے کو مرے لیے نظر انداز کرنا اس لیے ممکن نہیں رہا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگوں کی طرف سے کیا جارہا ہے جو خود کو سیکولر ، لبرل ، ملحد ، کیمونسٹ اور بعض اوقات لیفٹسٹ کہتے ہیں ، وہ خود کو جرات مند محقق کہتے ہیں ، ہمت کفر سے سرشار کہتے ہیں اور ان کا یہ دعوی ہے کہ وہ بہت بڑے صنم شکن ہیں چاہے وہ مذھب اور تقدیس کے نام پر کیوں نہ ہو لیکن حزب اللہ کے بارے میں وہ نہ تو غیر جانبدار رہے نہ ہی جرات تحقیق کے دعوے پر قائم رہے

میں حزب اللہ کی آئیڈیالوجی سے اتفاق نہیں کرتا ہوں اور نہ ہی حزب اللہ کو لیفٹ کی تںظیم خیال کرتا ہوں لیکن اس کے بارے میں جن حقائق سے واقف ہوں ان کو اس مضمون ميں ضرور بیان کرنا چاہتا ہوں تا کہ قارئین خود فیصلہ کر سکیں کہ کیا حزب الله کو القاعدہ، سپاہ صحابہ یا داعش کے مماثل قرار دینا درست ہے اور کیا پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا جواز حزب الله کے ہاتھوں “سنی نسل کشی” میں تلاش کیا جا سکتا ہے

حزب اللہ جنوبی لبنان میں ١٩٨٢ میں اس وقت تشکیل پانا شروع ہوئی جب یہاں پر اسرائیل نے قبضہ کرلیا اور جنوبی لبنان لبریشن آرمی زوال پذیر ہوگئی تو اس خطے میں جوکہ شیعہ اکثریت کا علاقہ تھا ” شیعہ گوریلاز” نے جن کی اکثریت کا پس مںظر لبنان کمیونسٹ پارٹی اور لبنانی بعث پارٹی کا تھا اسرائیل کے قبضے کے خلاف جدوجہد شروع کردی اور ان کے روابط ایسے شیعہ علماء سیاسی قیادت سے استوار ہوگئے جو ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی سے متاثر تھے اور ان کی مدد سے اور اس وقت باقی ماندہ لبنان میں موجود شامی آرمی کی اجازت سے پندرہ سو ایرانی نیشنل گارڑ جنوبی لبنان پہنچے اور انھوں نے حزب اللہ کے گوریلوں کی تربیت شروع کردی ، حزب اللہ نے سنہ پچاسی میں باقاعدہ اپنے قیام کا اعلان کیا اور اس نے اعلانیہ اپنی تنظیم کے تین مقاصد بیان کئے – اسرائیل قبضے کا لبنان سے خاتمہ، فلسطین کی آزادی، عرب حظے سے سامراجیت کا خاتمہ

حزب اللہ نے ان مقاصد کے حصول کے لیے “شیعی اسلامی آئیڈیالوجی” کو اپنی بنیاد قرار دیا لیکن ساتھ ہی اس نے واضح کیا کہ اس کا مقصد لبنان میں بسنے والی سنّی، دروزی، مسیحی ، لبرل، سیکولر جمہوریت پسندوں کے خلاف جدوجہد نہیں ہے اور نہ ہی ان کی مذھبی آزادی پر کوئی قدغن لگانا مقصود ہے اور حزب اللہ کی آئیڈیالوجی ميں کسی ایک جگہ بھی تکفیر اہل السنہ ایجنڈے کے طور پر موجود نہ تھی

سنہ ٢٠٠٤ میں ميں جب لبنان پر اسرائیلی قبضہ ختم ہوا تو حزب اللہ نے فیصلہ کیا کہ وہ لبنان میں ایک سیاسی پارٹی کے طور پر کام کرے گی اور چونکہ ابھی تک اسرائیل سے سارے مقبوضہ علاقے آزاد نہیں ہوئے تو وہ اپنے عسکری ونگ جہاد کونسل کو باقی رکھے گی ، اس کے ساتھ ساتھ حزب اللہ نے اپنا سٹلائٹ ٹی وی چینل ، ریڈیو اسٹیشن ، اپنا شعبہ خدمت خلق اور پولیٹکل ونگ قائم کیا اور اس کا جو پولیٹکل ونگ تھا اس نے لبنان کی سیاست میں کسی تکفیری ، فرقہ پرست ایجںڈے کے ساتھ اور پروگرام کے ساتھ سیاست کا آغاز بھی نہیں کیا

حزب اللہ لبنان کی سیاست میں ایک طرف کرونی کیپٹل ازم ، نیولبرل ازم ، اور نیولبرل سرمایہ دارانہ معاشی ایجنڈے کے خلاف سوشل ویلفئر پروگرام کے ساتھ سامنے آئی اور دوسری طرف اس نے لبنان کی خارجہ پالیسی کو امریکہ اور اس کے اتحادی سعودیہ عرب و گلف اسٹیٹس کے اثر سے آزاد کرانے کا ایجنڈا پیش کیا ، حزب اللہ مڈل ایسٹ میں بیرونی مداخلت کے زریعے سے حکومتوں کا تختہ الٹے جانے کے خلاف بھی واضح سوچ کے ساتھ سامنے آئی اور حزب اللہ نے لبنان سمیت پورے مڈل ایسٹ میں وہابیت کے پیسے اور اسلحے کے زور پر پھیلاؤ اور اس مہم کے نتيجے میں جنم لینے والی سلفی تکفیری جہادی تحریکوں کے خلاف ابتدائی طور پر خود کو محض فکری جدال تک محدود رکھا اور حزب اللہ نے اپنے ملٹری ونگ کو شام ، عراق ، بحرین کہیں بھی ملوث نہ کیا اور یہاں تک کہ لبنان کے اندر بھی اس نے سلفی وہابی تکفیری جہادیوں کے خلاف عملی لڑائی شروع نہ کی

حزب اللہ کی لبنان کے اندر جو سیاسی لڑائی تھی وہ کبھی بھی فرقہ پرستانہ نہ رہی اور یہی وجہ تھی کہ جب لبنان میں اسرائیلی قبضے کے بعد لبنان میں اقتدار کی لڑائی شروع ہوئی تو حزب اللہ نے سولوفلائٹ نہ کیا بلکہ اس نے لبنان میں ایک وسیع پیمانے پر قوم پرستانہ ، ترقی پسند ، سوشل ڈیموکریٹ ، سامراج مخالف اور صہیونیت مخالف سیاسی اتحاد تشکیل دینے کی طرف قدم بڑھایا اور اس کی کوششوں سے لبنان میں آٹھ مارچ اتحاد سامنے آیا جس کے پاس لبنان کی اسمبلی میں اڑسٹھ نشستیں اس وقت بھی موجود ہیں اور یہ اتحاد لبنان کے نمآئندہ سنّی ، سیکولر ، شیعہ ، کتھولک و پروٹسٹنٹ کرسچن ، دیروزی، آرمینی اور علوی سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے

اس اتحاد میں سنّی لبنانیوں کی دو بڑی پارٹیاں جن میں التنظیم الشعبی الناصری اور حرکۃ المجد (جس کے سربراہ نجیب مکاتی عبوری وزیراعظم بھی بنے ) شامل ہیں جبکہ اس میں لبنان کی سب سے قدیم سیاسی پارٹی حزب اللبعث الاشتراکی العربی ، معروف سیکولر پارٹی الحزب السوری القومی الاجتماعی بھی شامل ہے جبکہ میرونائٹس کرسچن کی نمائندہ تنظیم حزب التضامن ، یونانی کتھولک کرسچن کی پارٹی کتلۃ سکاف ، علوی شیعہ کی نمائندہ پارٹی الحزب الدیمقراطی اور آرمینی آبادی کی نمآئندہ الطاشناق ، میرونائٹ کرسچن کی ایک اور پارٹی التیار الوطنی الحر ، شیعہ پارٹی حرکۃ امل اور دیروزی کی الحزب الدیمقراطی اللبنانی شامل ہیں اور اس بلاک کے پاس اڑسٹھ نشتیں ہیں اور کابینہ میں اس کی نمآئندگی بھی نمایاں ہے

اگست ٢٠٠٨ میں لبنان کابینہ نے متفقہ طور پر ایک معاہدے کی منظوری دی جس میں حزب اللہ کو اس کے ملٹری ونگ کو باقی رکھنے اور مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کا حق رکھنے کی اجازت دی گئی

لبنان میں فیوچر پارٹی کی قیادت میں بننے والا جو دوسرا حریف اتحاد ہے وہ تحالف 14 آزار یعنی مارچ 14 کے نام سے معروف ہے اور اس کی سب سے بڑی پارٹی فیوچر پارٹی یعنی التیار مستقبل ہے جس کے سربراہ سعد حریری ہیں جو رفیق حریری کے بیٹے ہیں اور فیوچر پارٹی لبنان کے بڑے سرمایہ داروں کی پارٹی ہے اور اسے آپ لبنان کی مسلم لیگ نواز بھی کہہ سکتے ہیں اور اس پارٹی کے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں جبکہ اس پارٹی کے آل سعود کے ساتھ بھی گہرے رشتے ہیں اور یہ فیوچر اتحاد کہا جاتا ہے کہ امریکی ایڈمنسٹریشن نے مارچ 8 اتحاد کا لبنان میں اقتدار میں آنے کا راستہ روکنے کے لیے بنایا تھا ، اس اتحاد میں سلفی وہابی تنظیم جماعۃ الاسلامیہ بھی شامل ہے جس کو مغربی پریس سنّی تںظیم لکھتا ہے ،جبکہ یہ تںظیم اصل میں اخوان المسلمون سے متاثر ہونے والے سلفی ملاّ فتح یکن نے تشکیل دی تھی جوکہ پیدا تریپولی میں ہوا تھا اور اس نے سعودی امداد سے لبنان کے اندر ایک سلفی یونیورسٹی کی بنیاد بھی رکھی اور لبنان میں یہ تنظیم عرب قوم پرستوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی ، آج بھی یہ تںظیم سرمایہ دار نیولبرل بلاک اور سعودی بلاک میں شامل ہے

جبکہ فیوچر پارٹی کی لیڈرشپ وہ ہے جس کا اسرائیل کے لبنان پر قـبضے دوران کئی مزاحمتی کردار نہیں رہا ہے ۔ لبنانی معاشرے میں حزب اللہ کبھی بھی سنّی آبادی یا ان کی مساجد پر حملوں میں ملوث نہیں ہوئی اور نہ ہی لبنانی سماج میں کبھی اسے القائدہ ، جنداللہ ، داعش یا کسی اور طرح کی وہابی تکفیری دھشت گرد تںظیموں کی طرح دیکھا گیا ، اگرچہ سعودی عرب ، امریکی و مغربی میڈیا اسے شیعہ دھشت گرد تںظیم کے طور پر پیش کرتا رہا لیکن لبنان میں مارچ 8 الائنس کی کامیابی اور وہاں پر نسلی و مذھبی اعتبارسے متنوع سیاسی قوتوں اے ساتھ حزب اللہ کے اتحاد نے اس پروپیگنڈے کو رد کردیا بلکہ مارچ 14 میں شامل پروگریسو سوشلسٹ پارٹی نے مارچ 2011ء میں اس اتحاد کو چھوڑ دیا اور مارچ 8 اتحاد میں شامل ہوگئی ، مارچ 14 میں ایک اور پارٹی کتائب پارٹی بھی شامل ہے جس کا لیڈر امریکی حکومت کا دم چھلّہ سمجھا جاتا ہے اور مارچ 14 الائنس کی پوری انتخابی مہم میں شام کے اندر جاری سول وار میں سعودی کیمپ کی حمائت ، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا ایشو سرفہرست رہا لیکن اس ایجنڈے پر مارچ 14 الائنس ناکام رہا تو اگر حزب اللہ اگر لبنان کی کوئی سپاہ صحابہ پاکستان طرز کی پارٹی ہوتی یا وہ القائدہ جیسی تنظیم ہوتی تو کیا لبنانی سیاست کے مرکزی دھارے میں اس کی کامیابی انتخابی سیاست میں ایسے مکمن ہوپاتی جیسے ہمیں ںظر آرہی ہے

حزب اللہ نے اپنے نظری اور عملی جدوجہد کے دائرے میں گذشتہ دو سالوں میں یہ اضافہ کیا ہے کہ وہ لبنان سمیت پورے مڈل ایسٹ میں ” تکفیری عسکریت پسندی ” کے خلاف بھی کھل کر میدان میں آگئی ہے اور اس نے شام کے اندر جاری لڑائی میں اس وقت شامل ہونے کا اعلان کیا جب لبنان کی جنوبی سرحد کے ساتھ ملحقہ علاقوں ميں تکفیری دھشت گرد تںظیم جبھۃ النصرہ اور داعش کے قدم جمنے لگے اور یہ صاف نظر آنے لگا کہ اگر ان کی پیش رفت کو نہ روکا گیا تو وہ جنوبی لبنان میں داخل ہوجائیں گے ، حزب اللہ شام ، عراق میں جاری تکفیری جنگ کو صہیونی وہابی سازش قرار دیتی ہے اور اس کے خلاف اس نے نہ صرف حزب اللہ کے شیعہ گوریلوں کو لڑنے شام بھیجا ہے بلکہ اس نے حزب اللہ کے عسکری ونگ میں سنّی ، دروزی ، مسیحی اور آرمینی باشندوں کو بھی شامل کیا ہے اور اس حوالے سے ایک مفصل رپورٹ خود سعودی عرب کے سرکاری میڈیا نیٹ ورک العربیہ نیوز ڈاٹ کام نے 13 نومبر 2014ء کو شایع کی

حزب اللہ کی جانب سے بشار الاسد کی مدد کے لیے فوجی مدد نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی اور اس مداخلت نے شام کے اندر داعش اور جبھۃ النصرہ سمیت سلفی تکفیری جہادیوں کے بڑھتے قدم نہ صرف روکے بلکہ شیعہ ، سنّی ، کرد ، مسیحی آبادیوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کا منصوبہ بھی رک گیا ، اس حوالے سے معروف صحافی رابرٹ فسک کے مراسلے 2012ء سے 2014ء تک پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور پیٹرک کوک برن کے مضامين اور ” جہادیوں کی واپسی” کتاب بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے

سعودی عرب سے جڑی انٹیلیجنٹیسیا اور امریکہ کے اندر بیٹھی ایک بڑی سامراجی پلٹن شیعہ نسل کشی کے بارے میں جن مغالطوں اور جھوٹ کو ” سچ ” بناکر دکھاتی ہے ان میں سے ایک بڑا مغالطہ اور جھوٹ یہ ہے کہ اس نسل کشی کو دو طرفہ جنگ میں ہونے والا نقصان بناکر دکھایا جائے اور اس دوران یہ صاف چھپالیا جاتا ہے کہ سلفی و دیوبندی دھشت گرد گروپ صرف شیعہ نسل کشی میں ہی ملوث نہیں ہیں بلکہ وہ سنّی آبادی کے قتل اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں میں بھی پوری طرح سے شریک ہیں

پاکستان کے اندر تو ایسی کوئی حزب اللہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے اس کے باوجود دور کی کوڑی لائی جاتی ہے اور کسی نا کسی طریقے سے شیعہ نسل کشی کے جواز کو ثابت کرنے اور یہاں پر سنّی صوفی اور بریلوی آبادی کی دیوبندی دھشت گردوں کے ہاتھوں قتل اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں کو چھپانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے تاکہ کسی بھی طرح سے سنّی شیعہ بائنری کو درست ثابت کیا جائے ، اس طرح کے مذموم پروپیگنڈے سے نام نہاد روشن خیالوں اور نام نہاد ملحدوں کی جرات تحقیق کا پول بھی کھل جاتا ہے

Summary in English:

Aaamir Hussaini’s article examines if we can compare Hezbollah to ISIS, Al Qaeda or Sipah-e-Sahaba (ASWJ, LeJ) and if it is fair to blame or implicate Hezbollah for Shia genocide in Pakistan and elsewhere.

Currently there is a systematic campaign by some known Deobandi takfiri propagandists in Pakistan including Tahir Ashrafi, Aamir Saeed Deobandi, Ahmed Ludhyanvi, Aamir Khan and Ayaz Nizami who are equating Hezbollah with Al-Qaeda and ISIS and are referring to Hezb’s imaginary brutalities in Syria and Iraq against Sunnis. They are also citing such examples to justify Shia genocide in Pakistan etc. Similarly they are equating ASWJ-LeJ with imaginary SMP. Aamir Hussaini’s post offers well crafted rebuttal on this topic.

Specimen tweets by Deobandi propagandists and their fake liberal comrades

1

2

3

4anan5an4anan2an3

 

5

6

7

8

9

10

Alternative views by some secular Pakistanis

a1

a2

a3

a4

a5

a6