Original Articles Urdu Articles

کوششیں رائیگاں نہیں جارہی ہیں – عامر حسینی

54e53bc0d3cb6

ایک ماہ میں اگرچہ تکفیری فاشسٹوں کی حامی ، اپالوجسٹ قوتوں نے اپنی پوری کوشش کی ہے کہ کسی طرح سے مذھبی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طالبان و دیگر ریاست سے لڑنے والے گروپوں کی دہشت گردی اور شیعہ و صوفی سنیوں کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے باہمی تعلق اور رشتہ کو چھپایا جائے اور ان سب کے پیچھے موجود دیوبندی تکفیری دہشت گردی کی مشترک قدر پر پردہ ڈالا جاسکے اور کسی نہ کسی طرح سے دیوبندی تکفیری دہشت گردی کے لئے نظریاتی فضا تیار کرنے والے ، ان کے لئے پناہ گاہیں اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے اربن زرائع کو بچایا جاسکے ، جبکہ مسلم لیگ نواز بھی اس معاملے میں اپنی ٹوکری کے تکفیری بچانے کی پوری کوشش کرتی رہی لیکن پاکستان میں حقیقی سول سوسائٹی ، سنی ، شیعہ نمائیندہ مذھبی جماعتوں اور حقیقی لبرل ، سیکولر حلقوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباو نے ایک طرف پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو نواز شریف پر دباو بڑھانے پر مجبور کیا تو دوسری طرف عوامی دباو کی گرمی خود نواز شریف سمیت اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی محسوس ہونے لگی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب پہلی مرتبہ میاں نواز شریف نے دہشت گردی اور انتہاپسندی میں ملوث مدارس کے خلاف کاروائی کرنے کے حکم جیسے بیانات کھل کر اور واضح انداز میں دئے ہیں

مجلس وحدت المسلمین کے نمائش چورنگی پر دئے جانے والے دھرنے کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے سانحہ شکار پور کا مقدمہ فوجی کورٹ میں بھیجے جانے کا اعلان اس لحاظ سے ایک کامیابی ہے کہ اس سے سرکاری طور پر مان لیا گیا ہے کہ ریاست کے کسی ادارے پر حملہ کرنے والے دیوبندی تکفیری دہشت گرد کا کیس ہی فوجی عدالت میں نہیں جائے گا جو تکفیری دیوبندی دہشت گرد، ان کے سہولت کار شیعہ یا صوفی سنیوں پر حملہ کریں گے ان کے کیس بھی فوجی عدالت میں چلائے جائیں گے اور مذھبی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مطلب فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خلاف بھی جنگ ہے
نواز شریف حکومت کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے کہ اگر وہ اہلسنت والجماعت جیسی تنظیم کو اپنی ٹوکری میں چھپاکر بچانے پر مصر رہی تو پھر دباو سے آگے کی جانب کا راستہ اختیار کیا جائے گا ، کیونکہ ابھی تک متاثرین دیوبندی تکفیری دہشت گرد حکومت کے راست اقدام کا انتظار کررہے ہیں اور فوج سے یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے گھروں ، امام بارگاہوں ، درگاہوں سے اٹھنے والی لاشوں کا سلسلہ یہ بند کروائیں گے اور قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے ، اگر یہ انتظار مایوسی میں بدلا اور اعصاب جواب دے گئے اور فوج بھی اس نسل کشی کے آگے بند نہ باندھ سکی تو پھر جو ہوگا وہ بہت بھیانک اور ناقابل برداشت ہوگا

میں برملا کہتا ہوں کہ دیوبندی مذھبی و سیاسی قیادت شیعہ -سنی بریلوی نسل کشی کی زمہ دار دیوبندی دہشت گرد تنظیموں اور شیعہ و صوفی سنیوں کے خلاف قتل و غارت گری پر اکسانے والی تکفیری مہم چلانے والی نام نہاد اہلسنت والجماعت کے بارے میں مکمل طور پر کرپٹ اور اپالوجی سیکنگ کے راستے پر گامزن ہے ، اس کی جانب سے دیوبندی دہشت گردوں کی کہیں سرپرستی تو کہیں ان کے لئے اپالوجی تلاش کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس وقت سب سے زیادہ تکفیری دہشت گردوں کے خلاف ابہام ، الجھن اور انتشار پھیلانے کا کام بھی اس کی نمائیندہ مدارس کی تنظیم وفاق المدارس اور اس کی نمائیندہ سیاسی تنظیموں کی جانب سے ہوئی ہے اور اس دیوبندی ملائیت کے پیروکار ، کارکن ، مقتدی اور معتقدین بھی ان کی قابل مذمت لائن کی پیروی کررہے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ دیوبندی مکتبہ فکر میں اس وقت اکثریت شیعہ و صوفی نسل کشی کا جواز تلاش کرنے اور اس نسل کشی کے زمہ دار دیوبندی دہشت گردوں کی لڑائی کو اینٹی امریکن ازم ، جہادی ، اسلامی لڑائی بناکر دکھانے اور اسلام ، مدراس دینیہ کے خلاف سازش ہونے جیسے مفروضے کے زریعے سے جواز بخشنے کی طرف مائل ہے اور آج کی معاصر مذھبی فسطائیت ، تکفیریت کے گھناونے جرائم پر دیوبندی مکتبہ فکر کی یہ لائن سب سے گھٹیا اور شرمناک لائن و موقف ہے اور اس نے دارالعلوم دیوبند سے وابستہ تمام تر ھیروازم پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کردئے ہیں اور مجھے اس مکتبہ فکر کی جملہ سیاسی و مذھبی قیادت میں تکفیریت ، جنگجوئیت ، فسطائیت اور بربادی کے خلاف کسی نحیف و کمزور تحریک کے موجود ہونے کے آثار تلاش کرنے میں مکمل ناکامی کا سامنا ہے اگر دیوبندی سیاسی و مذھبی قیادت کی اس مجرمانہ روش پر مرا مشاہدہ اور رائے غلط ہے تو میں اپنے دوستوں کو اس غلطی کو درست کرنے کا موقعہ فراہم کرنے کے لئے تیار ہوں کہ وہ ایسی کسی نحیف سی تحریک کے وجود کے دیوبند کی مذھبی و سیاسی قیادت اور ان کے پیروکاروں میں آثار کے ثبوت فراہم کریں

راولپنڈی ، شکار پور ، پشاور سمیت ابتک جتنے بھی صوفی سنیوں اور شیعہ کی عبادت گاہوں ، مزارات پر حملے ہوئے وہ سب کے سب دیوبندی دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے کئے گئے اور ان کو مدد دیوبندی مدرسوں اور دیوبندی سہولت کاروں نے فراہم کی جبکہ شیعہ و صوفی سنیوں کی تکفیر کی سب دے بڑی نظریہ ساز تنظیم اہل سنت والجماعت سابق سپاہ صحابہ دیوبندی تنظیموں بشمول وفاق المدارس کے نمائیندہ اتحاد مجلس علمائے اسلام کی رکن ہے اور اس تنظیم کی قیادت کو وفاق المدارس کے صدر ، جنرل سکیرٹری ، جے یوآئی ایف و ایس سمیت تمام دھڑوں کی حمائت و سرپرستی حاصل ہے ، دیوبندیوں کا شیخ الاسلام مفتی اعظم رفیع عثمانی ، جامعہ بنوریہ کا صدر الشریعہ مفتی نعیم اور مہتم ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ان کو گلے لگائے ہوئے ہے اس کے بعد بھی کسی شک و شبے کی گنجائش رہ جاتی ہے

بلکہ وفاق المدارس کی قیادت تو اسقدر بے شرم واقع ہوئی ہے کہ اس نے پچھلے دنوں ایک مرتبہ پھر حکومت کو طالبان سے مذاکرات کرنے کا مشورہ دیا ہے ، اس سے اس تنظیم کے فکری دیوالیہ کا ثبوت مل جاتا ہے اور اس دوران قاری حنیف جالندھری ، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ، مفتی رفیع عثمانی سمیت بہت سے ملا بے نقاب ہوئے ہیں ان کے اندر تکفیریوں کے لئے ہمدردی کھل کر سامنے آگئی ہے
نواز شریف ، شہباز شریف سمیت سب سیاست دانوں کو وفاق المدارس اور دیوبندی سیاسی مذھبی جماعتوں کی بلیک میلنگ سے باہر آنا ہوگا ، اگر وہ اس بلیک میلنگ سے اپنا پیچھا نہ چھڑا پائے تو عوام ان سے پیچھا چھڑانے بارے سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں