Featured Original Articles Urdu Articles

ابن تیمیہ – تکفیری تحاریک کا منبہ – از عامر حسینی

10988535_833438670028211_1839850880058944021_n

 

شیخ ابن تیمیہ مسلم تاریخ کے بہت متنازعہ شخص ہیں ایک طرف تو وہ ہیں جو ابن تیمیہ کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے امام احمد بن حنبل کے انتہائی سخت گیر ، متشدد اور ظاہر پرست ، توحید کے عقیدے میں انتہائی ظاہریت کو اختیار کرتے ہوئے اسے مجسمہ کے قریب کردیا اور اس کے سیاسی خیالات کو خوارج کے قریب بتلایا گیا اور فقہ میں اس کو ابن داود کی ظاہر پرستی کے قریب کہا گیا اور دوسرا گروہ وہ ہے جو اس سے دوسری انتہا پر گیا اور شیخ ابن تیمیہ کو وہ شیخ الاسلام ، مجدد ، ماحی السنہ ، و ھالک البدعہ قرار دیتا ہے اور وہ ابن تیمیہ جیسی درایت حدیث ، مہارت تفسیر ، تفقہ فی الدین کے بربر کسی کو نہیں مانتا اور اس تعریف کی انتہا ہمیں محمد بن عبدالوھاب تمیمی المعروف شیخ الوھابیہ و النجدیہ کے ہاں نظر آتی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شیخ ابن تیمیہ کے افکار و خیالات جو تاریخ کی گرد میں دب گئے تھے ان کو پھر سے محمد بن عبدالوھاب نے زندہ کیا بلکہ اس نے شیخ ابن تیمیہ سے کئی ھاتھ آگے جاکر مذھب ظاہریت کو دوبارہ زندہ کیا اور شیخ ابن تیمیہ سے بھی کہیں زیادہ توحید کو مجرد کیا

اور تصوف کے بارے میں اس کا رویہ زیادہ سخت ہوا ، شیخ ابن تیمیہ کے بارے میں اس بات سے تو کوئی اختلاف نہیں کرتا کہ مذھب وھابیہ جسے سلفی ازم بھی کہا جاتا ہے اس کی بنیاد شیخ ابن تیمیہ کے افکار پر استوار ہوئی ، شیخ ابن تیمیہ کے بارے ایک بات یہ بھی جاننے سے تعلق رکھتی ہے کہ اس نے خوارج کے بعد پہلی مرتبہ سیاسی اختلاف کی بنیاد ہر اپنے مخالفوں کو مشرک قرار دیتے ہوئے ان کے دعوی اسلام کو رد کردیا اور حوران جو آج کے لبنان میں شامل ہے کے کئی ایک صوفیا کو مرتد قرار دیکر ان کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور اس نے شیخ ابن عربی کی فکر کے پیرو صوفیاء اور ان کے ماننے والوں کے خلاف لشکر کشی کی ، آپ کو ان کے مصر کی جیل میں نظربندی کے دوران کے خطوط پڑھنے چاہیں جس سے پتہ چلے گا کہ جو اہل قبلہ کی تکفیر والا معاملہ ہے اس کو پروان چڑھانے میں شیخ ابن تیمیہ کا کہاں تک ھاتھ تھا

شیخ ابن تیمیہ کی فکر میں شدت اور کئی ایک جگہ پر علم کے موتی بھی سامنے آتے تھے اور ان کی شخصیت اور فکر کے اس تضاد کی رونمائی ان کے شاگردوں میں بھی دیکھنے کو ملی جیسے اگر آپ حافظ عبدالہادی کو دیکھیں تو وہ ابن تیمیہ کے سلف صالحین اور امت کے ہاں چلے آنے والے معمولات کے انحراف کلی سے چمٹا نظر آتا ہے جبکہ حافظ ابن قیم درمیان کی راہ اختیار کرتا ہے جبکہ عماد الدیں ابولفداء ابن کثیر شیخ ابن تیمیہ کے تفردات کی پیروی نہیں کرتا

 مسلم دنیا میں سنی اسلام کے عقائد کے باب میں جو اشاعرہ و ماتریدیہ تھے اور فقہ میں مذاہب اربعہ کے جمہور فقہا تھے انہوں نے مذھب ابن تیمیہ کو اختیار نہیں کیا تھا اور ان کی عقائد میں روش کو غیر محتاط اور ان کے مشرب کو سوئے بے ادبی پر محمول کیا تھا اور خاص طور پر انہوں نے زیارت قبور ، توسل ، ایصال ثواب ، استعانت لغیراللہ ، نیت زیارت قبر النبوی ، توحید میں آیات جن میں ید ، قدم اور دیگر کا جو اضافت اللہ کی طرف ہوئی ، استوی علی العرش پر ان کے موقف کو تجسیمیہ کے قریب گردانا گیا اور شوافع ، مالکیہ اور احناف نے تو بالکل ہی ان سے دوری اختیار کی جبکہ جمہور حنابلہ نے بھی ان سے فاصلہ رکھا ، دارالعلوم دیوبند میں بھی مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا یوسف بنوری ، مفتی شفیع ، کی کتب میں تو اس حوالے سے شیخ ابن تیمیہ کی آراء کو ان کا تفرد قرار دیا اگرچہ ان کے ہاں شیخ ابن تیمیہ ، محمد بن عبدالوھاب ، شاہ اسماعیل دھلوی کے لئے نرم گوشہ رہا اور ان موضوعات پر نیم دروں ، نیم بروں کی کیفیت رہی اور اسی وجہ سے دارالعلوم دیوبند سے جڑے لوگوں کے اندر مماتیہ ، تجسیمیہ ، مائل بہ وھابیت کا ظہور ہوتا رہا اور خود دیوبند مجموعی طور پر استغاثہ ، دعائے بعد از نماز جنازہ ، استعانت ، ندائے غیر اللہ وغیرہ سے منحرف ہوا اور اس نے اپنے آپ کو وھابیہ اور اہل متصوف کے درمیان ایک راہ اعتدال پر ہونے والے مکتبہ فکر کے طور پر پیش کیا ، یہ تھیالوجیکل بنیاد ہے ، ایک بات طے ہے کہ تاریخ میں ابن تیمیہ کے بعد جس نے بھی مسلمانوں کی اکثریت پر شرک جلی کا الزام عائد کیا اور ان کے اکثر شعائر کو بدعات سے تعبیر کیا اور جس نے اس بنیاد پر قتال للمسلمین کو جائز ٹھہرایا تو وہ شیخ ابن تیمیہ کا خوشہ چین ضرور ہوا اور اس نے ابن تیمیہ کو اپنا مرشد ضرور مانا

 آج جو سلفی و دیوبندی مکاتب فکر سے جنم لینے والی جہادی ، عسکریت پسند تحریکیں ہیں وہ اپنی فکر اور آئیڈیالوجی کی فرقہ پرستانہ ، اہل قبلہ کی تکفیر اور اس بنیاد پر ان کے ساتھ قتال کے جواز کے لئے کہیں نہ کہیں براہ راست یا بالواسطہ شیخ ابن تیمیہ کے افکار کخ مرہون منت ضرور ہیں

 دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی عرب سمیت عرب دنیا میں جو سلفی علماء ہیں وہ اس بات سے انکاری نہیں ہیں کہ القاعدہ سے لیکر داعش تک جتنے بھی تکفیری خارجی گروہ ہیں وہ سلفی نہیں ہیں اور شیخ ابن تیمیہ و محمد بن عبدالوھاب کو اپنا راہنماء نہیں مانتے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان دو حضرات کی تعلیمات میں غلو کے مرتکب ہوئے ہیں اور آج کل تو داعش کی وہابیت کے رد کے لئے ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوھاب تمیمی کی فکر کو فکر اعتدال و وسط کا لباس پہنانے کی کوشش سعودی سئینر علماء کونسل شد و مد سے کررہی ہے

اس لئے میں کہتا ہوں کہ یہ جو
مقدمہ اس امیج میں قائم کیا گیا غلط نہیں ہے اور بے بنیاد بھی نہیں ہے اور مذھبی جنونیت ، متشدد پن ، اکھڑپن ، ظاہریت پسندی ان سب کی جتنی شدت ہمیں اول خوارج پھر پیروان ابن تیمیہ اور پھر اس کے بعد پیروان وھابیہ اور آج کے نو وھابیہ و نو دیانبہ تکفیریہ و خوارجہ کے ہاں نظر آتا ہے وہ مسلم دنیا میں دوسرے مسلم مکاتب فکر کے ہاں نظر نہیں آتا
اور جب اسلامی تاریخ میں مذھبی جنونیت ، تکفیر اہل قبلہ ، آیات قرآنی و احادیث مبارکہ کی غلط تاویل و تعلیل سے مسلمانوں کے خون ، مال ، عزت و آبرو کو خوارج نے حلال کیا اور ظاہر پرستی کا علم بلند کیا ، الحکم للہ کا نعرہ بلند کرکے یہاں تک کہ السابقون الاولون من المہاجر و الانصار تک کی تکفیر کی ان کو مرتد کہہ ان سے قتال کو جہاد قرار دے ڈالا تو یہ کبار صحابہ کرام تھے جن میں شہر مدینہ العلم علی المرتضی ، حبر الامہ عبداللہ بن عباس ، صاحب زھد والاتقاء عبداللہ بن عمر ،ابو ھریرہ ، حضرت سعد بن ابی وقاص من عشرہ مبشرہ تھے جنھوں نے ان خوارج کی امثال زکر کیں ان کی سختی ، تشدد ، کن فہمی ، تفقہ سے فارغ ہونے کا زکر کیا اس لئے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اور اصحاب رسول میں خاص طور پر وہ جن کو علم و معرفت نبوت سے فیض خاص ملا اور جن کے بارے میں سنی اسلام کی صحاح ستہ میں مقبول اقوال موجود ہیں کہ کس سے عقائد کی تعلیم لینی ہے ، کس سے وراثت کا معاملہ پوچھنا ہے ،کس سے قران کی تفسیر بار ے معلوم کرنا ہے اور کس سے احسان و زھد بار پوچھنا ہے اس بارے میں بہت صراحت موجود ہے اور اس بنیاد پر میں یہ دعوی کرسکتا ہوں کہ اصحاب رسول میں جو اولی اللباب ، صاحبان الراسخون فی العلم تھے اور جن کے پاس کتاب کا علم تھا اور جو مزکی اور عالمان باالحکمہ کی بلندیوں کو چھو رہے تھے ان کے ہاں جنونیت ، سخےی ، اکھڑ پن نہیں تھا اور وہی افہم الدین والے بھی تھے

علامہ ابن تیمیہ بہت پڑھا لکھا تھا اور اس کا مطالعہ بہت وسیع تھا اور اس کے دماغ میں تفسیر ، فقہ ، حدیث کا بڑا ڈیٹا بینک بھی موجود تھا اور اس وسعت علم میں وہ اپنے کئی معاصرین اور پیشروں سے کہیں آگے تھا جس کا انکار کسی صورت ممکن نہیں ہے لیکن اس کے ہاں تطبیق المسائل جو تھی وہ اس وسعت کا ساتھ دینے سے اکثر قاصر رہ جاتی تھی اور وہ تاویل و تعلیل کے باب میں نرا ظاہری ہی تھا اور شاید اس زمانے کے آشوب کا بھی اثر تھا جو اس کی فکر پر بری طرح سے اثرانداز ہوا ، وہ سلجوق اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت نہ کرسکا اور عرب کلچرل کے ایشیا کے دیگر علاقوں کی تہذیبوں سے لین دین سے بننے والی صورت اور اس سے جنم لینے والے تنوع کو بھی قبول نہ کرسکا خاص طور پر اس کے لئے فقہ حنفی اور عقائد کے باب میں اشاعرہ و ماتریدیہ کے اثر سے ابھرنے والے ثقافتی تنوع کو قبول کرنا مشکل ہوگیا تھا اور بدوی عصبیت بار بار اس کے آڑے آتی تھی