Original Articles Urdu Articles

فوجی عدالتوں کے خلاف وکلاء تحریک : چند سوالات – عامر حسینی

10943917_720558581396105_7651772627188511499_n

پاکستان بار کونسل کی جانب سے منعقدہ ایک وکلاء کنوشن میں لاہور ھائی کورٹ بار کے صدر شفقت چوہان نے مذھبی بنیادوں پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف فوجی عدالتیں قائم کرنے کے خلاف قرارداد پیش کی جسے اکثریت نے منظور کرلیا اور فوجی عدالتوں کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا
پاکستان بار کونسل کے اس وکلاء کنوشن سے پی پی پی ، اے این پی ، ایم کیو ایم ، عوامی ورکرز پارٹی سمیت کئی ایک سیاسی جماعتوں کے وکلاء ونگ کے صدور ، جنرل سیکرٹریز غیر حاضر تھے جبکہ چوہدری اعتزاز احسن ، عبداللطیف آفریدی ، یاسین آزاد ، مرتضی کامران ، جسٹس طارق محمود سمیت کئی بڑے قد کاٹھ کے وکلاء اس کنونشن سے غائب تھے

یہ کنونشن بنیادی طور پر مسلم لیگ نواز ، جماعت اسلامی ، اہلسنت والجماعت کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان ،پاکستان تحریک انصاف کے حامی وکلاء کی اکثریت کا کنونشن تھا اور اس میں ایسے وکلاء کی اکثریت تھی جنھوں نے ” عدلیہ کی آزادی کی تحریک ” عدالتی آمریت ” میں بدلنے اور اس کا رجعتی چہرہ غالب کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اسی وجہ سے بعد ازاں اس تحریک میں شمولیت پر چوہدری اعتزاز احسن ، منیر اے ملک ، علی احمد کرد نے بھی تاسف کا اظہار کیا تھا اور یہ وہ اکثریت تھی جس نے عدالتی ایکٹوازم کی وہ شکل جس سے ایک جمہوری حکومت عضو معطل بنکر رہ گئی تھی کی حمائت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ بار سے لیکر سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار پر قبضہ و غلبہ کرنے کے لئے ہر ایک حربہ اختیار کیا یہ اور بات کہ وکلاء برادری کی اکثریت سمجھ گئی اور اس نے افتخار چودھری کی لابی کو بار بار پنجاب بار ، لاہور ھائیکورٹ بار اور سپریم کورٹ بار و پاکستان بار کونسل کے انتخابات میں شکست فاش سے دوچار کیا اور آج وہی لابی پھر میدان عمل میں ہے اور پرانی وکلاء تحریک کے رجعتی چہرے کے ساتھ ، دائیں طرف سے پھر اس تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کی کوشش کررہی ہے

مسلم لیگ نواز کی جانب واضح جھکاو رکھنے والے لاہور ھائیکورٹ بار کے صدر شفقت چوہان ، اسلام آباد ھائی کورٹ میں نواز لیگ کی لابی اور لاہور میں حامد خان کی لابی ، ملتان کے اندر دائیں بازو کے وکلاء کی اکثریت ” جمہوریت ” کے خطرے میں پڑجانے اور آئین کی بنیادی روح کے متاثر ہونے کی نعرے بازی کررہی ہے اور اگر دیکھا جائے تو اس ساری مشق کا مقصد ذھبی دہشت گردوں کے خلاف سپیڈی ٹرائل کو ہر قیمت پر روکنا ہے

پاکستان بار کونسل کے اس کنونشن میں عاصمہ جہانگیر بھی شریک ہوئیں اور ان کو فوجی عدالتوں سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی نظر آئی
وکلاء برادری کے وہ حلقے جو اس وقت فوجی عدالتوں کے قیام کو عدلیہ کی آزادی کے منافی بتلارہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردوں کو سویلین عدالتوں سے سزائیں نہ ملنے کی زمہ دار عدالتیں نہیں بلکہ ججز ، گواہواں ، پراسیکیوٹرز ، انوسٹی گیشن آفیسرز کا تحفظ نہ ہونا ، فورنزک شواہد کو ضایع یونے سے بچانے کی صلاحیت نہ ہونا وغیرہ وغیرہ ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اربوں روپے موٹرویز اور میٹرو بس پر خرچ کرنے کی بجائے جوڈیشل سسٹم کی اصلاح پر خرچ کئے جائیں

ہم ان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ پاکستان کے اندر مذھبی بنیادوں پر وسیع پیمانے پر دہشت گردی کا سلسلہ تو نائن الیون کے بعد سے شروع ہوگیا تھا اور اس سے پہلے بھی 90 ء کی دھائی میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ اور اس کے تحت بننے والی عدالتیں بھی غیر موثر ہوگئی تھیں اور اس غیر موثر یونے کی وجہ سے پاکستان کے اندر 60 ہزار سے زائد پاکستانی شہری اس دہشت گردی کا نشانہ بنے تو اس وقت مسلم لیگ نواز ، پاکستان تحریک انصاف ، جماعت اسلامی کے حامی وکلاء نے ججز ، گواہوں ، پراسیکوٹرز کے تحفظ ، جدید طریقہ تفتیشش کے لئے کوئی تحریک کیوں نہ چلائی ؟

جب دہشت گردوں کو عدالتیں تھوک کے حساب سے رہا کررہی تھیں ، رہائی پانے والوں میں ملک اسحق بھی تھا اور پورے پاکستان میں شیعہ ، صوفی سنی ، سیاسی کارکن ، وکلاء ، ڈاکٹرز ، اساتذہ مارے جارہے تھے ، بے نظیر بھٹو ، سلمان تاثیر ، شہباز بھٹی، راشد رحمان ایڈوکیٹ کے قاتلوں کو ناقص عدالتی سسٹم فائدہ پہنچا رہا تھا تو اس وقت یہ سب خاموش کیوں تھے ؟ وکلاء کنونشن اس ایشو پر کیوں نہ ہوئے ؟

یوم سیاہ کیوں نہ بنائے گئے ؟ عدالتوں کا بائیکاٹ کیوں نہ ہوا ؟ کیا اس ملک کے 72 ہزار لوگوں کے قاتلوں کے بنیادی حقوق کی دھائی دینے والوں کو 22 ہزار شیعہ اور 45 ہزار صوفی سنیوں کے بنیادی حقوق نظر نہیں آئے تھے ؟ جس طرح سے سلمان تاثیر کا خاندان انصاف کے لئے دردبدر ہے اور اس کے قاتل کے حق میں 90 وکلاء کا پینل پیش ہوتا ہے کیا عاصمہ جہانگیر اور پاکستان بار کونسل کے کنونشن کے شرکاء کو ان کی مذمت کا خیال بھی آیا ؟

عدلیہ کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے چمپئن کہلوانے والے ، فوجی عدالتوں کے قیام پر شور مچانے والے جواب دیں کہ انہوں نے بلوچوں کےبنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ، اس ملک کے بلوچ ، سندھی جبری طور پر گمشدہ لوگوں کی بازیابی اور ان کے بنیادی حق یعنی آزادی نقل وحمل اور جینے کے حق کے سلب ہوجانے اور اس پر عدلیہ و انتظامیہ کے ناکام رہ جانے کے خلاف یوم سیاہ ، عدالتوں کا بائیکاٹ اور احتجاجی تحریک کیوں نہ چلائی ؟

آج ان کی تحریک اصل میں تحفظ طالبان و لشکر جھنگوی ، جماعت الاحرار و سپاہ صحابہ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ، یہ عدلیہ کی آزادی سے زیادہ عدالتی استبلشمنٹ میں تکفیری دہشت گردوں کے حامیوں کے دفاع کی جنگ ہے اور ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ اس تحریک کو نواز شریف ، شہباز شریف کی خاص سرپرستی حاصل ہے

ہم پاکستان کے سیکولر ، پروگریسو ، ترقی پسند حلقوں سے یہ امید بھی کرتے ہیں کہ وہ سلمان تاثیر ، شہباز بھٹی ، راشد رحمان ، بے نظیر بھٹو ، بشیر بلو ر سمیت ہزاروں لوگوں کے قاتلوں سے ہمدردی رکھنے والے مسلم لیگی ، انصافی ، سپاہ صحابہ اور جماعتی دائیں بازو کے وکلاء کی اس رجعتی تحریک کا جہموریت ، عدلیہ کی آزادی ، بنیادی انسانی حقوق کے نام پر ساتھ نہیں دیں گے

تکفیری فسطائی دہشت گردوں کی حامی نام نہاد وکلاء تحریک مردہ باد تکفیری دیوبندی دہشت گرد حامی وکلاء لابی مردہ باد  تکفیری دہشت گرد حامی جعلی سول سوسائٹی مردہ باد