Featured Original Articles Urdu Articles

برطانوی ایم آئی 6 کے سربراہ نے داعش کے تکفیری خوارج کے پیچھے سعودی ہاتھ بے نقاب کر دیا۔ خرم زکی

برطانوی سیکرٹ سروس ایم آئی 6 کے سابق سربراہ (1999-2004) سر رچرڈ ڈئیرلو کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ سے خطاب کے اہم نکات

ا۔ داعش کے تکفیری خارجی دہشتگردوں کی جنگ بنیادی طور پر مغرب یا مغربی اقدار کے خلاف نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی اندرونی فرقہ وارانہ لڑائی ہے۔

ب۔ امریکہ میں سابق سعودی سفیر اور بعد میں سعودی سلامتی کونسل اور انٹیلیجینس کے سربراہ بندر بن سلطان نے 11 ستمبر 2001 میں امریکہ پر ہونے والے حملوں سے پہلے کھلے لفظوں میں یہ دھمکی دی تھی کہ شیعہ مسلمانوں پر بر صغیر اور مشرق وسطی میں انتہائی برا وقت آنے والا ہے اور صرف اﷲ ہی ان کا مددگار رہ جائے گا۔

ج۔ مسلمانوں کے درمیان دہشتگردی اور انتہا پسندی کے فروغ کا مرکز سعودی عرب ہے اور اس حوالے سے معاملات کی سمجھ بوجھ کے لیئے ہمیں سب سے پہلے اسی ملک کی طرف دیکھنا چاہیئے۔

د۔ داعش کے تکفیری خارجی دہشتگردوں کی پشت پناہی اور مالی امداد سعودی حکومت کی مرضی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ داعش شام اور عراق میں کامیابیاں مسلسل اور لگاتار سعودی مالی امداد کی مرہون منت ہیں۔

ہ۔ ان تکفیری خارجی دہشتگردوں، القاعدہ، داعش اور ان سے منسلک دیگر دہشتگرد گروہوں کا ہدف اب امریکہ یا مغرب نہیں رہا بلکہ ان کا ٹارگٹ اب مسلمان ملکوں میں موجود آسان ٹارگٹس ہیں جیسے مسلمان ملکوں میں موجود غیر مسلم اقلیتیں (عیسائی، احمدی، ہندو وغیرہ) ہیں یا پھر دیگر مسلمان مکاتب فکر (جیسے صوفی اور بریلوی) لیکن خاص طور پر ان کی دہشتگردی کا سب سے بڑا ہدف شیعہ مسلمان ہیں۔

و۔ سعودی عرب کی تزویراتی (اسٹریٹیجک) سوچ بنیادی طور پر دو خیالات پر مبنی ہے

اول۔ ان کے وہابی افکار و عقائد کے خلاف کوئی جائز اور مشروع بغاوت ممکن ہی نہیں اور حرمین شریفین پر ان کے اقتدار کو چیلینج نہیں کیا جا سکتا۔

دوئم۔ وہ ہر اس دہشتگردی اور خونریزی کا ساتھ دینے کے لیئے تیار ہیں جس کی زد میں شیعہ مسلمان آتے ہوں۔

ز۔ شام میں بشار الاسد کے خلاف دہشتگردی کی وجہ بھی کوئی جمہوریت کی تلاش نہیں بلکہ یہی فرقہ وارانہ جنگ ہے اور عراق میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ اب ممکن نہیں رہا کہ عراق کی جغرافیائی وحدت برقرار رکھی جا سکے۔

اس تقریر سے دو باتیں کھل کر سامنے آ جاتی ہیں جن پر ہمارے مسلمان دانشوروں کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے اور امام خامنائی نے بھی اپنی حالیہ ایک تقریر میں اسی جانب اشارہ کیا تھا:

اول: مغرب نے اپنی جنگ کا رخ مسلمانوں کی طرف موڑ دیا ہے یعنی مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا کر وہ مطمئن ہو چکے ہیں اور اس آگ کو وہ خود اپنی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیئے مسلسل بھڑکاتے رہیں گے۔

دوئم: سعودی حکومت اور وہابی تکفیری سوچ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے اور اس کی پوری کوشش ہے کہ شیعہ مسلمانوں کا زیادہ سے زیادہ قتل عام کروائے اور سنیوں کو شیعہ مسلمانوں سے لڑوا کر اپنی حکومت و اقتدار کو دوام بخشے۔

جہاں ایک طرف پاکستان میں موجود تکفیری دیوبندی دہشتگرد اور ان سے منسلک مدارس اس لڑائی کے آلہء کار بن چکے ہیں اور پورے ملک میں شیعہ مسلمانوں اور بریلوی صوفی سنیوں سمیت دیگر غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف قتال کا اعلان کر چکے ہیں وہیں دوسری طرف سعودی اور امریکی لے پالک نام نیاد دیسی لبرلز حقائق بیان کرنے کے بجائے اس کو کبھی شیعہ سنی جنگ قرار دیتے ہیں اور کبھی ایران سعودی عرب پراکسی وار لیکن یہ نہیں بتاتے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی 90٪ سے زائد وارداتوں میں صرف اور صرف تکفیری دیوبندی دہشتگرد ملوث ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں دہشتگردی کے الزام میں پھانسی پر چڑھنے والے سارے جہنمی کتوں کا تعلق انجمن سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، تحریک طالبان اور دیوبندی مدارس سے تھا۔ جی او سی سوات کا قتل ہو یا جی ایچ کیو پر حملہ، آرمی کے سرجن جنرل کا قتل ہو یا سرگودھا میں آئی اییس آئی کے سنی بریلوی بریگیڈئیر کا قتل، کراچی میں عاشورہ کے جلوس پر حملہ ہو یا نشتر پارک مہں عید میلاد النبی کے جلسے پر حملہ، کراچی ائیرپورٹ پر حملہ ہو یا پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کا قتل عام، پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کی 90٪ سے زائد وارداتوں اور حملوں کے پیچھے صرف اور صرف تکفیری دیوبندی دہشتگرد ملوث ہیں، یہی انجمن سپاہ صحابہ اور تحریک طالبان کے دہشتگرد ہیں جنھوں نے پورے ملک کو جہنم بنا رکھا ہے اور یہی تکفیری دیوبندی دہشتگرد ہیں جو سعودی عرب جا کر وہاں موجود تکفیری وہابی مولویوں سے دہشتگردی کی ہدایتیں لے رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلح افواج ان تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہوں کو ان کے انجام تک پہنچائیں ورنہ ان کا ہدف پاکستان کو بھی دوسرا شام اور عراق بنانا ہے اور ان تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کو ان کے آقاؤں کی طرف سے یہی ہدف ملا ہے۔

برطانوی ایم آئی 6 کے سابق سربراہ سر رچرڈ ڈئیرلو کا خطاب