Original Articles Urdu Articles

سلمان تاثیر شہید کا قاتل ملک ممتاز ایک معمولی مہرہ ہے

aswj

شہید سلمان تاثیر کے لعنتی قاتل، ممتاز دیوبندی قادری کو چومنے اور کندھے پر بٹھانے والا نواز لیگ کا پالتو اور جماعت اسلامی کا وفادار دیوبندی جج شوکت صدیقی اگلے چند روز میں کیس کا فیصلہ کرے گا اور ممتاز لعنتی کا وکیل نواز شریف کا ایک اور پالتو سابق چیف جسٹس پنجاب خواجہ شریف ہے – کیا انصاف کی کوئی امید ہے؟

یاد رہے کہ نواز شریف کے ایک اور پالتو، مظفرگڑھ سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ ہولڈر عباد ڈوگر دیوبندی نے اعلان کیا تھا کہ جو شخص بھی سلمان تاثیر کو قتل کرے گا اسے وہ ایک کروڑ روپے انعام دے گا، اسی لالچ نے راولپنڈی بارہ کھو کے ایک دیوبندی گھرانے سے تعلق رکھنے والے ممتاز لعنتی کو اندھا کر دیا – اس سے پہلے مہر بخاری اور صمد خرم جیسے لبرلز اور رانا ثنا الله جیسے سپاہ صحابہ کے سرپرستوں نے شہید سلمنان تاثیر کے خلاف ایک منظم مہم چلائی تھی، کیا نواز یافتہ لبرل جو ممتاز لعنتی یعنی ایک معمولی مہرے کے خلاف بولتے رہتے ہیں، وہ عباد ڈوگر دیوبندی، خواجہ شریف، شوکت صدیقی، صمد خرم، رانا ثناالله اور نواز شریف کی پھانسی کا مطا لبہ کریں گے؟

یقینی طور پر حنیف قریشی اور ثروت اعجاز جیسے سنی بریلوی مولوی جہالت اور نادانی کی وجہ سے ممتاز لعنتی کی سپورٹ کرتے ہیں لیکن ان سے زیادہ سینئر اور موثر سنی بریلوی اور صوفی رہنماؤں مولانا الیاس عطار قادری اور ڈاکٹر طاہر القادری نے ممتاز لعنتی کی مذمت کی، نواز شریف اور دیوبندیوں کا نمک حلال کرنے والے لبرلز حنیف قریشی اور ثروت اعجاز کا نام تو لیتے ہیں لیکن عباد ڈوگر دیوبندی، یوسف قریشی دیوبندی اور رانا ثنا الله کا تذکرہ کبھی نہیں کرتے، کیوں؟

اگر تاثیر شہید آج زندہ ہوتے تو اپنا خون کرنے والوں اور خون کے نام پر اصلی قاتلوں کو چھپانے والوں سے یہ کہتے

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوۓ ہیں دستانے

About the author

Abdul Nishapuri

1 Comment

Click here to post a comment
  • ’سلمان تاثیر قتل کے مقدمے کی روزانہ سماعت کرنے کو تیار ہیں‘
    شہزاد ملک
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
    ایک گھنٹہ پہلے
    شیئر

    جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس تاثر کو زائل ہونا چاہیے کہ اس مقدمے کا استغاثہ کسی خوف کی وجہ سے مقدمے کی پیروی کرنے کو تیار نہیں ہے
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ وہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر بھی کرنے کو تیار ہیں۔ ادھر اس مقدمے میں موت کی سزا پانے والے مجرم ممتاز قادری کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں دہشت گردی کے مقدمات جلد نمٹانے کا فیصلہ نہ ہوا ہوتا تو شاید اُن کی درخواست کی سماعت تین سال کے بعد بھی نہ ہوتی۔
    جسٹس نور الحق قریشی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ممتاز قادری کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے گورنر پنجاب کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔
    مجرم کے وکیل اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے کہا کہ اس مقدمے میں نہ تو شکایت کندہ کی طرف سے ابھی تک عدالت میں آیا ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت اس مقدمے کی پیروی کرنے کو تیار ہے۔
    بینچ میں موجود جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس تاثر کو زائل ہونا چاہیے کہ اس مقدمے کا استغاثہ کسی خوف کی وجہ سے مقدمے کی پیروی کرنے کو تیار نہیں ہے۔
    اُنھوں نے کہا کہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی ذمہ داری عدالتوں پر ڈال دی جاتی ہے جو مناسب نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت گورنر پنجاب کے مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کو تیار ہے۔
    قادری کے حامی

    سماعت کے موقعے پر ممتاز قادری کے حامیوں کی ایک خاصی تعداد اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر موجود تھی، تاہم اُن میں سے کسی کو بھی عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
    اس مقدمے میں سرکاری وکیل جہانگیر جدون اور ایڈووکیٹ جنرل میاں رؤف نے اس مقدمے کی تیاری کے سلسلے میں عدالت سے دو ہفتوں کی مہلت مانگی تاہم عدالت نے اس مقدمے کی سماعت ایک ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
    یاد رہے کہ ممتاز قادری کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے یکم اکتوبر 2011 کو سلمان تاثیر کے قتل کے اعتراف پر ممتاز قادری کو موت کی سزا سنائی تھی جبکہ 11 اکتوبر 2011 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نےمجرم کی درخواست پر سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا تھا جس کے خلاف وفاق نے ابھی تک عدالت عالیہ میں درخواست دائر نہیں کی۔
    ممتاز قادری کا تعلق پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس سے تھا اور وہ سلمان تاثیر کی ذاتی سکیورٹی پر تعینات تھے۔ چار جنوری سنہ 2011 میں مجرم نے گورنر پنجاب کو مبینہ طور پر توہین مذہب کرنے پر قتل کر دیا تھا۔
    سماعت کے موقعے پر ممتاز قادری کے حامیوں کی ایک خاصی تعداد اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر موجود تھی، تاہم اُن میں سے کسی کو بھی عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس درخواست کی سماعت کے موقعے پر مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور کسی بھی غیر متعقلہ شخص کو عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں۔
    ک

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/01/150127_salman_taseer_murder_case_zis