Featured Original Articles Urdu Articles

شاہ عبداللہ کا ورثہ – عامر حسینی

King_Abdullah,_Commander_of_Saudi_Arabian_National_Guard

سعودیہ عرب کے بادشاہ شاہ عبداللہ کی وفات کا اعلان سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی نے 23 جنوری 2015ء کو باقاعدہ طور پر کیا تو ساتھ ہی 78 سالہ شہزادہ سلیمان کے باقاعدہ اگلے بادشاہ ہونے کا اعلان بھی کردیا ، جنھوں نے منصب سنبھالتے ہی شاہ عبداللہ کے دور کی پالیسیاں جاری رکھنے کا اعلان کردیا شاہ عبداللہ کی وفات پر اگرچہ مغربی میڈیا کے رويے کو نرم سے نرم الفاظ میں ڈپلومیٹک اور مصلحت پسندانہ ، سعودیہ نواز میڈیا کے رويے کو خوشامدانہ اور اثباتی پسندی پر مبنی اور ایران نواز میڈیا کو بہت یک رخا ، کسی حد تک ویسا ہی متعصبانہ کہا جاسکتا ہے

جیسا کہ سعودیہ عرب کے اپالوجسٹ اور معذرت خواہوں کا ہے لیکن ہمیں شاہ عبداللہ کے دور کا غیر جانبدارانہ اور تنقیدی نظر سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور یہ دیکھنے کی ضرورت بھی ہے کہ مغربی و امریکی حکومتوں کی جانب سے شاہ عبداللہ کے عظیم ” مصلح ” ہونے بارے جو بیانات جاری کئے گئے ہیں ان میں کہاں تک صداقت ہے شاہ عبداللہ جو باقاعدہ طور پر بادشاہ 2005ء میں بنے تھے لیکن اصل میں 1995ء میں شاہ فہد کو شدید سٹروک ہوا تو وہی سعودیہ عرب کے فرمانروا تھے اور اس طرح سے سعودیہ عرب کے معاملات میں ان کا فیصلہ کن کردار 1995ء سے ہی شروع ہوچکا تھا سعودیہ عرب کی بنیاد جدید ان کے والد سلطان عبدالعزیز بن سعود نے انیس سو بتیس میں رکھی تھی اور حجاز و نجد و طائف پر مشتمل یہ ریاست محمد بن عبدالوہاب تمیمی کے نظریات پر استوار کی گئی تھی

جسے عرب عام میں وہابیت بھی کہا جاتا ہے ، اگرچہ طاقت کا مرکز آل سعود کی وفاداری کونسل ہی ہمیشہ سے رہی لیکن ساتھ ساتھ وہابی علماء کی ایک کونسل بھی تشکیل دی گئی جو آج سنئیر مجلس علماء کونسل کے نام سے موجود ہے اور کونسل کے پاس بھی بے تحاشا طاقت رہی ہے شاہ عبداللہ نے جب اقتدار سنبھالا تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنچ یہ تھا کہ وہابی ازم کی جڑوں سے ہی ایسی مسلح ، عسکریت پسند دھشت گرد تنظیمیں سامنے آگئیں کہ جو آل سعود کے سخت خلاف تھیں اور آل سعود کی بادشاہت کو غلط ، غیر شرعی ، غیر اسلامی ، امریکہ کی حامی قرار دیکر اس کو بزور طاقت الٹانے کی داعی تھیں ، اس حوالے سے القائدہ بہت اہم تھی جس کے سربراہ سمیت اکثر جنگجو اور دھشت پسند وہ تھے جو افغانستان میں روس کی آمد کے وقت لڑے تھے اور 90 ء کی دھائی میں عراق کے آمر صدام حسین کی جانب سے کویت پر ناجائز قبضے کو چھڑانے کے نام پر سعودی عرب میں امریکی فوجوں کی آمد کے خلاف ” جہاد ” کا فتوی دے دیا

اور ساتھ ہی سعودی ریاست کے حاکموں کے خلاف جہاد کی تبلیغ بھی شروع کردی ، وہابی ازم کے اندر سے القائدہ کے ظہور کو تکفیری ، خارجی قرار دلوانے اور سعودیہ عرب میں ” جہاد فی سبیل کا مطلب القتال فی سبیل اللہ لینے والوں کو اپنے سے الگ کرنے کی سنجیدہ کوششوں کا آغاز شاہ عبداللہ نے کیا ، انھوں نے ہر کس و ناکس کو فتوی جاری کرنے سے روکا اور یہ کام سرکاری مجلس بر ائے مذھبی امور کے سپرد کردیا اور اور سعودیہ عرب کے سرکاری مہا مفتی یعنی مفتی اعظم کے سپرد کسی بھی مذھبی فتوے کی تصدیق لازم قرار دی لیکن ان کے ناقدین کا خیال یہ ہے کہ شاہ عبداللہ نے وہابی ازم سے جنم لینے والے تکفیری عسکریت پسندوں میں سے صرف ان کو ریاست دشمن اور سعودیہ عرب کے حاکم خاندان سے بغاوت کا مرتکب قرار دیا گيا جو سعودیہ عرب کے حاکم خاندان کا تختہ الٹنے اور اس کی امریکی سامراج کی حمائت پر مخالفت کررہے تھے

جبکہ شاہ عبداللہ کی سربراہی میں کام کرنے والی ریاست عراق ، شام ، لبنان اور شمالی افریقہ ، افغانستان اور پاکستان کے اندر موجود ایسے سلفی و دیوبندی مذھبی عسکریت پسند گروپوں کی سرپرستی ، مالی امدار اور اسلحہ فراہم کرتی رہی جو سعودیہ عرب کے خلاف کام نہیں کررہے تھے اور آل سعود کی حکمرانی پر سوال نہیں اٹھاتے تھے ، سعودیہ عرب پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ اس نے عراق میں ایسے سلفی عسکریت پسند گروپوں کی حمائت کی جنھوں نے آگے چل کر داعش العراق تشکیل دی اور اسی داعش العراق کے لوگ شام کے اندر جبھۃ النصرہ تشکیل دینے والے تھے اور اسی جبھۃ النصرہ سے لوگ نکل کر داعش العراق و الشام کے اندر شامل ہوگئے اور آج جبھۃ النصرہ کا داعش سے اختلاف ہی سعودیہ عرب اور ديگر گلف ریاستوں پر ہے کہ داعش تمام گلف ریاستوں کے حاکموں کو بھی ناجائز حکمران قرار دیتی ہے

اور وہ جبھۃ النصرہ کے برعکس الگ الگ ملکوں میں اسلامی (وہابی ) خلافت کی بجائے ساری دنیا پر ایک ہی خلیفہ کی حکمرانی کی داعی ہے اور القائدہ سے اس کا اختلاف یہ ہے کہ القائدہ وہابی سلفی عسکریت پسند تحریکوں کی ممکمل فتح کے بغیر خلافت کے اعلان کو درست خیال نہیں کرتیاور یہ ایک طرح سے تحریک طالبان افغانستان دیوبندی سے بھی مختلف ہے کہ جو کہ سلفی عسکریت پسند تنظیم جبھۃ النصرہ کی طرح افغانستان میں امارۃ اسلامیہ کے قیام کو درست خيال کرتی ہے اور عالمی خلافت سے زرا مختلف خيال کی حامل ہے اور اسے بھی سعودیہ عرب کی حمائت حاصل رہی ، کہا جاتا ہے کہ طالبان کے استاد مفتی نظام الدین شامزئی کا اسامہ بن لادن اور ان کی تنظیم القائدہ سے اختلاف بھی سعودیہ عرب کی حکومت کے خلاف فتوی جہاد دینے کی وجہ سے ہوا تھا ، کیونکہ دیوبندی مکتبہ فکر سے نکلنے والی عسکریت پسند تنظیموں کی اکثریت آل سعود کے خلاف ” جہاد بالقتال ” کی قائل نہیں تھیں ،

لیکن شام میں بشار الاسد کی حکومت کی بزور طاقت تبدیلی کے لیے سلفی اور دیوبندی مکتبہ فکر کے عسکریت پسندوں کو گود لینے اور عراق میں شیعہ اکثریت کے ساتھ بننے والی مالکی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے لڑنے والے سلفی گروپوں کی سرپرستی کی پالیسی بیک فائر بن گئی ، شاہ عبداللہ کے دور میں ہی سعودیہ عرب کی مساجد اور تعلیمی اداروں میں الجہاد فی الشام و العراق کی تحریک چلی اور ایک عرصہ تک سعودیہ عرب کی ریاست نے اس سے آنکھیں بند کئے رکھیں جس نے سعودیہ عرب کے سلفی وہابی مکتبہ فکر کے نوجوانوں میں زبردست مذھبی ریڈکلائزیشن پیدا کی اور سعودیہ عرب کے اندر وہابی ازم کا زیادہ متشدد ، زیادہ متعصب رجحان دیکھنے کو ملا

اور شام، عراق قتال کے لیے جانے والے سعودی نژاد نوجوانوں نے سعودیہ عرب واپس آکر خود سعودیہ عرب کے اندر خلافت کی تحریک چلانا شروع کردی ، سعودیہ عرب کو ان متشدد ، ریڈیکل سلفی گروپوں کے ہاتھوں خود دھشت گردی کا خطرہ لاحق ہوگیا اور سعودیہ عرب میں نچلی سطح کی وہابی مذھبی پیشوائیت نے آل سعود کی حکمرانی کے خلاف جذبات کو تحریک دینا شروع کردی شاہ عبداللہ نے اس رجحان کے ابھرکر سامنے آنے پر تدارک کرنے کے لیے سعودی عرب کے ںطام تعلیم کے اندر بہت سی اصلاحات کو متعارف کرایا ، 2005ء میں شاہ عبداللہ نے سعودی نوجوانوں کو 20 ملکوں میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی تعلیم کے بھیجنے اور ان کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا اور اس پالیسی کے تحت 47 ہزار سعودی نوجوان دنیا بھر کی بہترین یونیورسٹیوں ميں گئے ،

جن ميں سے سے زیادہ امریکہ تقریبا 22 ہزار ، اور پھر برطانیہ اور تیسرے نمبر پر آسٹریلیا گئے ، جبکہ ملکی نظام تعلیم کا وزیر شاہ فیصل کو بنایا اور ڈپٹی ایجوکیشن منسٹر کا عہدہ امریکہ سے پڑھی ہوئی خاتون نورا کو دیا ، شاہ عبداللہ نے مذھبی تعلیم کے اداروں میں وہابی ازم کے اندر ایسے اصلاحاتی پروگرام کی منظوری دی جس سے سلفی وہابی ازم کا سافٹ چہرہ سعودیہ عرب کے اندر سامنے آئے جو کم از کم سعودیہ عرب کے اندر ” جہاد ” کی مخالفت کرتا ہو شاہ عبداللہ کی وہابی ازم کی سافٹ امیجنگ کا پروگرام تھا کہ اس نے بتدریج سعودیہ پریس کو کم از کم تکفیری وہابیت پر تنقید کی اجازت دے ڈالی لیکن یہ سب سعودیہ عرب کے اندر تک محدود تھا شاہ عبداللہ نے اپنے پیش رو شاہ فہد کے برعکس اسرائیل اور فلطسین کے معاملے پر اخوان اور حماس کے ريڈیکل ازم سے دوری اختیار کی

اور شاہ عبداللہ کا زیادہ فوکس ایران ، شام ، لبنان کی حزب اللہ پر ںظر آیا اور اس حوالے سے شاہ عبداللہ نے امریکہ کے ساتھ بھی اس وقت سرد سا رویہ اختیار کیا جب جی فائیو پلس ممالک کے نمائندوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایران سے مذاکرات اختیار کئے اور ایران پر پابندیاں کم کردیں اور اس حوالے سے سعودیہ عرب کی خارجہ پالیسی کا فوکس اینٹی اسرائیل سے زیادہ اینٹی ایران ہوگیا اور یوں لگتا تھا جیسے ایران کے خلاف گلف تعاون کونسل کی آرمی آزخود کوئی فوجی مہم شروع کردے گي ، لیکن معاملات داعش کے ابھار سے کسی حد تک شاہ عبداللہ کی سخت گیری میں کمی لائے ، لیکن اس دوران سعودیہ عرب نے اخوان کو دھشت گرد تنظیم قرار دے دیا ،

اس کی مصر میں حکومت کے خاتمے ميں مصری فوج کی مدد کی اور حالیہ اسرائیل – حماس جنگ میں سعودیہ عرب نے غیرجانبداری برتے رکھی اور مصر کے فوجی حاکم السیسی کو بھی سرحدوں کو نہ کھولنے اور حماس کی جانب سے مصر میں داخل ہونے کے لیے بنائی جانے والی سرنگوں کو بھی منہدم کرنے کی حمائت کی اور اس کے قطر سے تعلقات بھی خاصے کشیدہ رہے ، سعودیہ عرب نے شام کے اندر بھی ان تنظیموں کی حمائت بھی نہیں کی جو ترکی ، قطر کے زیر اثر تھیں شاہ عبداللہ کے دور میں شیعہ اکثریت کے سعودیہ عرب کے مشرقی حصّے میں ریاستی جبر میں اضافہ دیکھنے کو ملا ، سعودیہ شیعہ عالم شیخ النمر کو سزائے موت سنادی گئی اور سعودیہ مشرقی صوبے میں تاحال ایک زبردست عوامی تحریک موجود ہے جبکہ سعودیہ عرب میں آزادی اظہار، عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والوں پر برابر ریاستی جبر ، گرفتاریاں ، کوڑے کی سزاؤں کا سلسلہ جاری رہا اور ایک بلاگر کو سرعام کوڑے بھی مارے گئے جس کا بین الاقوامی سطح پر تذکرہ ہوتا رہا ہے

سعودیہ شاہ عبداللہ ویسے تومذھبی ہم آہنگی ، بین المذاہب مکالمے کی بات کرتے رہے لیکن ان کے دور میں شاید اس مکالمے سے کچھ اسلامی مکاتب فکر اسی طرح سے باہر رکھے گئے جیسے ایرانی رجیم کے بین المذاہب مکالمے میں باہر رکھے گئے ، مثال کے طور پر سعودیہ عرب خود کو صوفی سںّی اور شیعہ مکاتب ہائے فکر کے تحفظات دور کرنے میں ناکام رہا اور اس کی جانب سے دنیا بھر کے سںّیوں کی ترجمانی کا دعوی صوفی سنّیوں کے ہآں قبولیت نہیں پاسکا ، یہی وجہ ہے نہ صرف مڈل ایسٹ بلکہ جنوبی ایشیا ، مشرق بعید اور سنٹرل ایشیا کے صوفی سنّی سعودی ماڈل کو اپنے لیے نمونہ قرار دینے سے انکاری رہے یہی وجہ ہے کہ شاہ عبداللہ کی وفات پر دارالعلوم دیوبند انڈیا اور پاکستان میں وفاق المدارس دیوبندی کی جانب سے تعزیتی بیانات بھی سامنے آئے

اور ان کی رحلت کو عالم اسلام کے لیے بڑے نقصان سے تعبیر کیا گیا لیکن آل انڈیا علماء و مشائخ بورڑ سنّی بریلوی ، تنظیم المدارس اور سنّی بریلوی تنظیموں نے خاموشی اختیار گئے رکھی اور اسی طرح کی خاموشی عراق ، شام ، لبنان سمیت مڈل ایسٹ ، وسط ایشیا ، مشرقی ایشیائی ممالک میں صوفی سںّی بااثر حلقوں کے ہاں بھی دیکھی گئی ، اس سے خود سنّی سرکلز مين بھی سعودیہ عرب کے حوالے سے واضح تقسیم کو دیکھا جاسکتا ہے ،یہ تقسیم شام میں حکومت کی تبدیلی کے سوال پر خود شام کے سنّی حلقوں میں بھی موجود ہے ،جہاں صوفی سنّی شامی حلقے سعودیہ نواز سلفی عسکریت پسندوں کے خلاف ہیں ، اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ شاہ عبداللہ اپنے عہد میں خود کو سنّی اسلام کا واحد متفقہ نمائندہ کہلوانے میں اپنے پیش روؤں کی طرح ناکام رہے بلکہ شاہ عبداللہ کے دور پر تنقیدی نظریں ڈالنے والوں کا کہنا تو یہ بھی ہے کہ شاہ عبداللہ کے دور میں گلف ریاستوں کے اندر جو باہمی اتحاد تھا اس میں بھی کافی رخنے پڑے اور علاقائی جیو پالیٹکس میں گلف سٹیٹس کے درمیان باہمی اتفاق میں کمی دیکھنے کو ملی بلکہ قطر نے سعودیہ عرب کے مقابلے میں خود کو زیادہ نرم ، زیادہ معتدل ، زیادہ روشن خیال سلفی ازم کا علمبردار ثابت کرنے

اور سعودیہ عرب کے جونیر پارٹنر کی بجائے برابری کرنے کی طرف بھی قدم بڑھایا ، سلفی ازم کے دو مراکز قطر اور سعودیہ عرب کی شکل میں آمنے سامنے نظر آئے اور ریاستی سرپرستی سے ہٹ کر سلفی ازم تکفیری دھشت گردی کے ساتھ لتھڑا ہوا ایک الگ شکل میں سامنے آیا جس کا طاقت ور اظہار ” داعش ” کی شکل میں ہوا اور امریکہ کی قیادت میں گلف ریاستوں نے ایک فوجی اتحاد بنایا جس میں سعودی فضائیہ نے پہلی مرتبہ ملک سے باہر کاروائیوں میں حصّہ لیا سعودیہ عرب نے داعش کے سامنے آنے کے بعد پرائیویٹ جہاد کے تصور پر خاصی تحدیدات لگائیں اور اس کے اکثر مظاہر کو خوارج اور تکفیریت سے تعبیر کیا اور اس تبدیلی کا اثر سعودیہ نواز عرب میڈیا اور خود سعودی عرب کے نیٹ ورک العربیہ نیوز نیٹ ورک کے اوپر بھی نظر آتا ہے جبکہ سعودی عرب کے زیر اثر سلفی گروپ بھی اس تبدیلی کے ساتھ مطابقت کرتے نظر آتے ہیں ،

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغان وار سے سلفی اور دیوبندی جہادیوں کے اندر جو تکفیری فاشسٹ انارکسٹ نیٹ ورک وجود میں آئے کیا ان کا خاتمہ کیا جاسکے گا ، شاہ عبداللہ نے اپنے دور میں اس انارکی کو سعودیہ عرب کی سرحدیں پار کرنے سے روکنے کی کوشش بہت کی لیکن یہ اب تک اسے مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہی ہے شاہ عبداللہ سعودیہ عرب کے اندر جس اصلاح پسندی کے علمبردار تھے اس کے سعودی نوجوانوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ ایک سروے یہ بتاتا ہے کہ سعودی عرب کے 85 فیصد نوجوان داعش کے حامی یا ہمدرد نکلے جبکہ امریکہ ، برطانیہ اور آسٹریلیا میں پڑھنے کے لیے آنے والے کئی ایک سعودی نوجوانوں نے شام ، عراق میں داعش میں شمولیت اختیار کرلی ،

یہ ویسی ہی ریڈکلائزیشن ہے جیسی ہم دیوبندی نوجوانوں مين دیکھ رہے ہیں جہاں تکفیریوں سے ہمدردی اور ان کی آئیڈیالوجی میں کشش بڑھتی جاتی ہے جوکہ وفاق المدارس ، دارالعلوم دیوبند کے لیے اتنی ہی فکر مندی کا سبب ہونی چاہئیے جتنی یہ سعودی عرب کے حکام کے لیے ہے شاہ سلیمان جوکہ 78 سال کے ہیں اور ذھنی یاداشت کے انحاط کے مرض ڈینمشیا میں بھی مبتلا ہیں نے اگرچہ کہا ہے کہ وہ شاہ عبداللہ کی پالیسیوں کو جاری رکھیں گے لیکن ان کو ان اسباب کا کھوج ضرور لگانا ہوگا جس کی وجہ سے سعودیہ عرب کی گلف ریاستوں میں بالخصوص اور مڈل ایسٹ میں بالعموم معاملات پر گرفت پہلے جیسی نہیں رہی

Source:

http://lail-o-nihar.blogspot.com/2015/01/blog-post_24.html