Original Articles Urdu Articles

کیا تکفیریت تصوف کی جگہ لے رہی ہے ؟ – عامر حسینی

sufism

محمد الماموری الامانٹیر ویب سائٹ کے مستقل کالم نگار ہیں ، انھوں نے اس ویب سائٹ پر ایک کالم ” صوفی ازم کیسے سلفی ازم کو بیلنس کرسکتا ہے ؟ تحریر کیا ہے اور اس کالم کے آغاز ہی میں وہ لکھتے ہیں کہ

اسلام کی تاریخ پر نظر رکھنے والے اس بات پر حیران ہوں گے کہ کس طرح وسیع پیمانے پر صوفی اسلام سے سفر سلفی اسلام اکی طرف ہورہا ہے – لیکن ان کی حیرانگی میں کمی اس وقت ہوتی ہے جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ مذھبی انتہا پسندی کے ابھار سے اس تبدیلی کا وقت ملتا ہے ، کیونکہ صوفی ازم انتہا پسندی کو مسترد کرتا ہے جبکہ سلفی آئيڈیالوجی اکثر اپنی مذھبیت کی بنیاد انتہا پسندی پر رکھتی ہے

مجھے سب سے پہلے تو اس بات سے انکار ہے کہ مڈل ایسٹ ہو کہ جنوبی ایشیا یا شمالی افریقہ وہاں پر عام مسلمانوں کی اکثریت نے اپنی مرضی سے ، آزادانہ اور سوچ سمجھ کر وہابیت کو قبول نہیں کیا ، چاہے یہ وہابیت سعودی عرب کی عنائت سے غیرمقلدیت کی ہو یا دیوبندیت کے ہاں رونما ہوئی ہو ، بلکہ مذھبی انتہا پسندی کے اس ابھار کے ساتھ وہابیت جسے سلفی ازم کہا جاتا ہے اس کا ابھار اور پھیلاؤ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس نے کوئی تصوف پر علمی اور فکری فتح حاصل کرلی ہے اور لوگ اپنی مرضی سے تصوف کو ترک کررہے ہیں اور خاص طور ” سنّی اسلام ” کے باب میں یہ گمراہ کن تاثر ہے جس کو تیزی سے مقبول بنایا جارہا ہے محمد الماموری اسی مضژون میں آگے لکھتا ہے کہ سیاسی اور سماجی عوامل نے تصوف کے مقابلے میں سلفی ازم کے پھیلاؤ کے لیے راہ ہموار کی ،

اور پھر مسلم دنیا میں نوآبادیاتی دور کے ورثوں اور اسرائیل کی ریاست کے قیام نے جس کی وجہ سے مغرب کے خلاف اسلامی دنیاہ میں نفرت پیدا ہوئی ، ان دونوں نے ملکر انقلابی اسلام کے لیے زرخیز زمین فراہم کی میں سمجھتا ہوں کہ نوآبادیاتی دور ، پھر مابعد نوآبادیاتی دور اور اسرائیل کے قیام نے مسلم دنیا کے اندر اگرچہ اخوان المسلمون ، جماعت اسلامی اور سلفی وہابی ، دیوبندی وہابی تنظیموں کو جنم دیا جنھوں نے وہابی سخت گیر ، تکفیری خیالات اور عسکریت پسندی کا جھنڈا بلند کیا لیکن ان تحریکوں کو ایک مخصوص فرقہ اور مخصوص محدود تحریک تک محدود کردیا ، اس کے برعکس اسرائيل کے قیام کے خلاف جو پاپولر مزاحمت ابھری وہ سلفی ازم پر بنیاد رکھنے والی تحریک نہ تھی بلکہ اس کی بجآئے ترقی پسند، سامراج دشمن اور صہیونیت کے خلاف تحریک سامنے آئی جوکہ دائیں بازو کی رجعت پسندی اور بنیاد پرستی کی مخالف تھی ،

اگر مڈل ایسٹ کو سامنے رکھا جآئے تو وہاں کے سیاسی ، سماجی حالات اور اسرائیل کی ریاست کے قیام کے نتیجے میں جو تحریک ابھری وہ ترقی پسند عرب قوم پرستانہ ، اشتراکی خیالات اور تکثریت کی حامی تھی اور عوام ميں مقبول تھی ، اس تحریک کو شکست دینے کے لیے تو مڈل ایسٹ کی سلفی وہابی حکومتیں بشمول سعودیہ عرب امریکہ اور مغرب کے ساتھ کھڑے تھے اور مغرب اس ترقی سند تحریک کو شکست دینے کے لیے سلفی ازم کے انتہائی رجعت پسند خیالات کی مدد لے رہا تھا اور انقلابیت اگر اس دور میں کہيں موجود تھی تو وہ عرب لیفٹ و نینشلسٹ فرنٹ کے ہاں تھی نہ کہ سلفی ازم کے ہاں ، جبکہ سلفی ازم کی تصوف مخالفت کے باعث اکثریت ان سے دور ہوگئی محمد مالماموری لیفٹ اور نینشلسٹ حلقوں کی مڈل ایسٹ میں زوال پذیری بارے بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ان کے ززال پذیر ہونے کے بعد مڈل ایسٹ میں سیاسی اسلام سلفی ازم کی شکل میں ابھرا ،

لیکن تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سلفی ازم کے مصر ، عراق ، اردن ، لبنان ، شام کے اندر ابھرنے اور سامنے آنے کی وجہ اس کی انقلابیت نہ تھی اور نہ ہی لیفٹ و نیشنلسٹ فورسز سے زیادہ انقلابی ہونا تھا ، بلکہ ایک تو اس میں متعلقہ ریاستی آپریٹس ، وہآں کے کرونی سرمایہ داروں کی سرپرستی اور لیفٹ کو کرش کرنے کی پالیسی تھی دوسرا سعودیہ عرب کا پیسہ اور اس کے اثر میں قائم کردہ نیٹ ورک تھے اور پھر زبردست قسم کا تکفیری ، خارجی پروپیگنڈا تھا اور تیسرا سرد جنگ کے زمانے میں سی آئی اے ، آئی ایس آئی کے ساتھ ملکر ” نام نہاد جہادی ” پروجیکٹ تھا اور اس دوران آنے والی وہ دولت اور پیسہ تھا جس کے بل بوتے پر وہابی اسلام کے علمبرداروں نے ” فلاحی پروجیکٹ ” شروع کئے اور ریاست جبکہ سماجی خدمات کے شعبے سے دست بردار ہورہی تھی تو انھوں نے ریاست کی جگہ کئی علاقوں میں خود ریاست کا متبادل بناکر پیش بھی کیا ،

اس پر سمیر امین اور گلبرٹ آشکار نے بہت تفصیل سے لکھا ہے کہ کیسے اخوانی ، جماعتی ، وہابی سلفی اور دیوبندی وہابی مسلم دنیا کے اندر مضبوط نیٹ ورک کے ساتھ اپنی جڑیں بنانے میں کامیاب ہوئے اور یہ غلبہ اگر عددی اعتبار سے دیکھا جآئے تو پھر بھی اقلیت کا اکثریت پر تھا ،کیونکہ مسلم دنیا کی اکثریت نے آج بھی وہابیت چاہے وہ سلفیوں کی ہو یا دیوبندیوں کی ہو اسے قبول نہیں کیا ہے اور سنّی ہوں کہ شیعہ ان کے تصوف ہی رائج ہے تاہم میں ماموری کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ سلفی آئیڈیالوجی ہے جس نے کٹھ ملائيت ، دوسروں کی طرف بہت زیادہ جارحیت کو جنم دیا اور یہ ایسی فکر ہے جو سیاسی اور سماجی بحرانوں کے درمیان جنم لیتی ہے اور ماموری کی یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ وہابیت اور تصوف کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ اور جارحانہ رہے ہیں اور اس کی وجہ بھی وہابیت ہے جو تصوف کو کفر خیال کرتی ہے ،

وہابیت صوفی مذھبی شعائر اور رسوم کو شرک خیال کرتی ہے ، صوفیا ء مقابر اولیاء کی تعمیر کرتے ہیں اور زیارات مزارات اولیاء اللہ کو جاتے ہیں اور مذھبی تہوار رنگا رنگ طریقے سے مناتے ہہیں ماموری نے بالکل ٹھیک اندازہ لگایا کہ تصوف ثقافتی طور پر تنوع کو قبول کرنے والا ہے اور اس کی یہ خاصیت ہندوستان سے لیکر افریقہ تک مانی جاتیہے لیکن آگے تصوف کی روحانیت سے وابستگی کو بیان کرنے کے لیے ماموری نے یہ جو کہا کہ صوفی مذھب کی روحانی جہت پر زیادہ سیاسی جہت کے زور دیتے ہیں تو یہ اس صورت میں ٹھیک ہے جب سیاسی جہت سے مراد ہوس اقتدار ، اختیار کا نشہ ہیں ، تصوف نے تاتاری حملے کے خلاف ابن تیمیہ کی روش اختیار نہ کی اور یہ ان کی کوششتوں کا نتیجہ تھا کہ صوفی جمال الدین کے ہاتھ تاتاری شہزادہ مسلمان ہوگیا اور جنھوں نے ” تلوار ” و قتال کا راستہ اختیار کیا وہ ناکام ہوگیا

ماموری کا یہ کہنا بھی ٹھیک ہے کہ یہ تصوف جس نے سنّی ، شیعہ اور دوسری مذھب کے ماننے والوں کے کو یکسر گلے سے لگایا اور ایسے حالات پیدا کئے کہ جس نے مذھبی ہم آہنگی پیدا کی جبکہ وہابیت چاہے وہ غیر مقلدوں کے ہاں ہو کہ دیوبندیت کے ہاں اس کا رویہ دوسری مذھبی برادریوں کے خلاف جارحانہ رہا ہے ماموری تصوف کے اس رشتے کو مدنظر رکھتے ہوئے جب عراق اور مصر کا جائوہ لیتا ہے تو اس کی اسٹڈی اسے بالکل ٹھیک نظر آتی ہے اور وہ اس مضمون میں بتاتا ہے کہ کیسے وہآں پر سنّی صوفی اور شیعہ کمیونٹی کے درمیان قربت اور اشتراک پیدا ہوا ہے ، اور وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ عراق میں نجف اکبر کے اندر ایک آیت اللہ نے مسلم دنیا میں صوفی سنّی اور شیعہ کے درمیان اشتراک عمل کو بڑے پیمانے پر شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے پاکستان میں بھی صوفی سنّی اور شیعہ کے درمیان اشتراک عمل دیکھنے کو ملا ہے

، بلکہ دیکھا جائے تو وہابیت کے خلاف ہندوستان ، پاکستان ، شمالی افریقہ اور مڈل ایسٹ میں یہ تصوف کی روح ہے جو شیعہ ، سنّی ، عیسائی ، احمدی ، ہندؤ ، یزیدی ، کرد ، بلوچ ، سندھی ، پنجابی ، سرائیکی ، عرب ، ایرانی کے درمیان سلفی -دیوبندی تکفیری خارجی دھشت گردی کے خلاف اتفاق پایا جارہا ہے اورسلفی دیوبندی تکفیریت ایک اقلیتی عنصر کے طور پر دکھائی دے رہی ہے

Source:

http://lail-o-nihar.blogspot.com/2015/01/blog-post_17.html