Newspaper Articles Original Articles Urdu Articles

جاوید چوہدری کی مبالغہ آرائی اور شیعہ دشمنی ۔۔۔ از نور درویش

http://javedch.com/maddad-kren-baken-nahi/

 

جاوید چوہدری صاحب سے متعلق میرے پچھلے کالم کو کچھ احباب نے دیبوندی تعصب سے تعبیر کیا۔ اس لیئے جاوید چوہدری صاحب کا ھی ایک اور کالم پیش خدمت ھے، اسے پڑھ کر آپ کو اندازہ ھو جائے گا کہ اصل میں تعصب کہتے کس کو ھیں، جس میں مبتلا ھو کر آدمی مبالغہ آرائی اور کذب بیانی کی تمام حدیں عبور کر جاتا ھے۔ 

جاوید چوہدری کے اس کالم کو سچ اور جھوٹ اور حقائق اور پراپگنڈے کو خلط ملط کرنے کی ایک بہترین مثال کہا جائے تو غلط نہ ھوگا۔ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ھی یہ ھے کہ یہاں صحافت سے لیکر سیاست کے ایوانوں تک اور محراب و ممبر سے لیکر داعیانِ تبلیغ دین کی محفلوں تک، آپ کو ھر طرف اس مائنڈ سیٹ کے وکیل اور دفاع کرنے والے نظر آئیں گے جس کا طرہ امتیاز تشدد اور ایجنڈا تکفیریت ھے۔ آپ کو یقینا محسوس ھو رھا ھوگا کہ کہیں ھم چوہدری صاحب پر بے جا تنقید تو نہیں کر رھے، کیونکہ اس کالم میں تو انہوں نے پاکستان کے مفاد کی بات کی ھے اور عالمی سطح پر جاری تبدیلیوں کا ذکر کیا ھے۔ تو عرض ھے کہ رائے عامہ پر اثر انداز ھونے کا گُر ان پروفینشل لکھاریوں کو بہت خوب آتا ھے، انہیں ٹھیک ٹھیک اندازہ ھوتا ھے کہ بات کو کس انداز سے گھما پھرا کر مختلف غلافوں میں لپیٹ کر قاریوں کے سامنے پیش کرنا ھے۔ جاوید چوہدری سمیت اس قبیلیے کے تمام دانشور یہ ھی طریقہ واردات استعمال کرتے ھیں، ان میں سے کچھ مذھبی لبادہ اوڑھ کر یہ کام کرتے ھیں اور کچھ جعلی لبرل ازم کا جبہ پہن کر۔ کام یہ سب ایک ھی کرتے ھیں۔ 

موصوف نے اس کالم میں بات بحرین کی تاریخ سے شروع کی اور سب سے پہلا جھوٹ بحرین کے بادشاہوں کو لبرل اور معتدل مزاج کہہ کر بولا۔ مغربی میڈیا اور پاکستان کا میڈیا چاھے جتنا بھی چھپانا چاھے، بحرین کے نہتے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کسی نہ کسی ذریعے سے منظر عام پر آتے رہتے ھیں۔ وہاں انہوں سے تیونس سے لیکر مصر اور مصر سے لیکر شام تک تمام ملکوں کا ذکر کیا جہاں عرب سپرنگ کے نتیجے میں شورش بپا ھے۔ وہاں کے حکمرانوں کو آمر قرار دیا، بادشاہ قرار دیا جن کا مقام عبرت بنا دیا گیا لیکن بحرین اور سعودی عرب کے بارے میں بات کرتے ھوئے انہیں ان کی فوجی مدد کے حل تجویز کرنے کا خیال آگیا۔ ان کی کم علمی کا عالم یہ ھے کہ بشار الاسد کو شیعہ العقیدہ قرار دے دیا، صرف اس وجہ سے کہ شامی حکومت کے ایران کے ساتھ بہتر تعلقات ھیں۔  اس فارمولے کے مطابق وہ کل روس کو بھی شیعہ نہ قرار دے دیں۔ ان کے خیال میں مصر کے حسنی مبارک اورلیبیا کے قذافی کی طرح جلد بشار الاسد کو بھی مقام عبرت بنا دیا جائے گا کیونکہ شام بھی خانہ جنگی کی لپیٹ میں ھے اور اس کے نتیجے میں جلد بشار الاسد اپنے انجام کو پہنچ جایئں گے۔ اس قسم کی نویدیں پچھلے دو سال سے اوریا مقبول بھی سنا رھے ھیں لیکن حقائق اس کے بر عکس ھیں۔ شام میں موجود باغیوں کی مدد کن کن مغربی ممالک سے کی جارھی ھے یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں۔ فرانس کے صدر نے خود اس بات کا اقرار کیا تھا۔  جس پر اب بہت سے حلقوں کی جانب سے ان پر تنقید بھی کی جارھی ھے کہ جن شدت پسندوں کو فرانس شامی عوام کو مارنے کیلیئے اسلحہ اور ٹریننگ دے رھا ھے جب وھی شدت پسند پیرس میں چارلی ھیبڈو پر حملہ کرتے ھیں تو ان کے خلاف بات کیوں کی جاتی ھے؟ البتہ چوہدری صاحب غالبا شام سے متعلق صرف وھی بات لکھنا چاہتے ھیں جس کے ذریعے وہ اپنے متعصب کالم کا پیٹ بھر سکیں اور اپنے مائی باپ کو خوش کر سکیں۔

بشار الاسد کے انجام کی نوید سنانے کے بعد چوہدری صاحب اصل مقصد پر آتے ھیں اور فرماتے ھیں کہ شام کے بعد اس عرب سپرنگ کا اگلا ھدف سعودی عرب ھوگا۔  جس میں سعودی عرب کو سب سے زیادہ خطرہ شیعہ مکتب فکر سے ھے۔ ان کا خیال ھے کہ بحرین کی شیعہ آبادی منظم ھے، شام میں شیعوں کی حکومت ھے (جو کہ صریحا غلط بات ھے)، ایران کے ساتھ ویسے ھی سعودی عرب کے تعلقات خراب ھیں، عراق میں امریکہ موجود ھے اور وھاں پینسٹھ فیصد آبادی شیعہ ھے جو کہ مسلسل سعودی سرحدوں کے قریب آباد ھوتی جارہی ھے۔ ھمیں نہیں معلوم کہ چوہدری صاحب کی اس معلومات کی بنیاد کیا ھے۔ کیونکہ کویت اور سعودری عرب کے عرب کے قریب عراقی شہر بصرہ ھے جو پہلے ھی شیعہ اکثریتی آبادی پر مشتمل ھے۔ اور اگر چوہدری صاحب کی نرالی منطق مان بھی لی جائے تو سمجھ سے باھر ھے کہ شیعہ آبادی کے سعودی عرب کی سرحد کے قریب آباد ھونے سے کس قسم کا خطرہ پیدا ھو گیا؟ کیا آبادی کے دھوکے سے عراقی فوج وھاں جمع ھو رھی ھے؟ یا بس شیعہ لفظ لکھ کر اپنی بات  میں وزن اور فرقہ وارانہ رنگ پیدا کرنا اصل منشاء ھے؟ ایک طرف ایک سٹڈی کا ذکر کر رھے ھیں جس کے حساب سے عرب سپرنگ کے پیچھے مغرب کا ھاتھ ھے جو مسلامانوں کو آپس میں لڑوانا چاہتا ھے اور دوسری جانب خود بھی شیعہ شورش کا لاگ الاپ رھے ھیں اور اس سے مقابلے کے طریقے بیان فرما رھے ھیں۔ 

اگے چل کر وہ لکھتے ھیں کہ  اگر بحرین کی شیعہ اکثریت، (بحرین کی کل آبادی صرف تیرہ لاکھ ھے، جو سعودی عرب کے کسی ایک شھر کے برابر ھوگی)، نے بحرین اور  سعودی عرب میں انقلاب لانے کی کوشش کی تو امریکہ یقینا سعودی عرب اور بحرین کی مدد نہیں کرے گا۔ ایسے میں بحرین اور سعودی عرب کو فوج کی ضرورت پڑے گی۔ بحرین کا شاہی خاندان ایسی فوج کی تلاش کر رھا ھے جو شیعہ شورش کی صورت میں سنی عوام اور اپنی حکومت کی حفاظت کر سکے۔  یہ بات پڑھ کر میں سوچنے پر مجبور ھوگیا کہ کیا ھمارے ملک میں ایسی سطحی اور بے منطق باتیں کرنے والے شخص کو ایک صف اول کا کالم نویس اور ٹی وی اینکر کہنا کسی بھی صورت انصاف پر مبنی ھے؟ کیسے ممکن ھے کہ چند لاکھ نفوس پر مشتمل بحرین کی شیعہ آبادی سعودی عرب جیسے وسیع و عریض ملک میں انقلاب لے آئے جہاں سلفی نظریات کا مکمل کنٹرول ھے اور جو شیعہ تعصب میں اپنی مثال نہیں رکھتا۔ 

بحرین میں جاری حکومت مخالف مظاھروں کو جس طریقے سے سعودی فوج اوربحرینی پولیس، جس میں پاکستانی بھی کافی تعداد میں موجود ھیں، سے تشدد کے ذریعے کچلا جاتا رھا ھے شاید موصف اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں رکھتے۔ شاید ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ بحرین میں چن چن کر شیعہ مساجد کو سعودی آرمی نے شہید کیا۔ بھاری اسلحہ اور ٹنینکوں تک کا استعمال کیا گیا۔ اس تشدد پر سعودی مشرقی علاقوں میں بھی احتجاج شروع ھوگئے جہاں پہلے ھی ال سعود کے اھل تشیع کے ساتھ استحصالانہ رویہ کی وجہ سے غصہ پایا جاتا ھے۔ بحرین اور سعودی مشرقی صوبے میں احتجاج کا سلسلہ آج بھی جاری ھے جس پر جاوید چوہدری سمیت عالمی میڈیا خاموش رہنا بہتر سمجھتا ھے۔ یہاں ایک اور قابل توجہ بات کا ذکر کرنا ضروری ھے کہ وھی جاوید چوہدری جو عرب سپرنگ کے نتیجے میں تیونس، لیبیا، مصر اور شام کے حکمرانوں کے خلاف احتجاج کا ذکر ایک عبرت ناک انجام کے تناظر میں کر رھے ھیں، وھی جاوید چوہدری بحرین اور سعودی عرب میں جاری یا متوقع احتجاج کے بارے میں فکر مند نظر آتے ھیں اور اس سے مقابلے کے طریقے بیان کرتے دکھائی دیتے ھیں۔ اس کی وجہ کیا ھے، یہ ھم آپ کی عقل سلیم پر چھوڑتے ھیں۔ پورے مشرق وسطی  اور عرب دنیا میں سلفی وھابی نظریات کی تلخی اور شدت پسندوں پھلانے والے سعودی عرب جس کے مال پر پاکستان کی تکفیری جماعتیں بھی پل رھی ھیں، کو چوہدری صاحب ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رھے ھیں جسے ھر طرف سے جارحیت کا سامنا ھے ، جس نے امن کے سوا کبھی کوئی بات ھی نہیں کی۔

بحرین اور سعودی عرب کے شاھی خاندانوں کو شیعہ شورش کے مقابلے کیلیئے فوج کی ضرورت پڑے گی جس کیلئے ترکی مصر اور پاکستان کے نام جاوید چوہدری کے ذہن میں آتے ھیں۔  پھر وہ دوبارہ ایک عجیب منطق پیش کرتے ھیں کہ چونکہ ترکی کی سرحدیں شام، ایران اور عراق سے ملتی ھیں اس لیئے اگر ترکی نے سعودی عرب اور بحرین کو فوج فراھم کی تو ان تمام ملکوں کی شیعہ کمیونٹی ترکی کو تباہ کر دینگی۔ جبکہ مصر پہلے ھی اندرونی مسائل کا شکار ھے لہذا وہ اس سلسلے میں کوئی مدد نہیں کر سکے گا۔    آپ یقینا یہ منطق پڑھنے کے بعد جاوید چوہدری کی معلومات پر عش عش کر رھے ھونگے۔ کبھی انہیں عراق کے شیعہ آبادی سعودی عرب کی سرحد پر جمع ھوتی نظر آجاتی ھے اور کبھی ایران شام اور عراق کی شیعہ آبادی سے ترکی کو تباہ کروا دیتے ھیں۔ البتہ ترکی کی شام میں مداخلت سے چوہدری صاحب کو کوئی مسئلہ نہیں ھے۔  گویا عجیب و غریب مفروضوں کی بنیاد پر پورا کالم لکھ دیتے ھیں اور حقایق لکھنے کی توفیق نہیں ھوتی۔ نہ انہیں سعودی عرب سے شام اور عراق میں جانے والے سلفی تکفیری جنگجو نظر آتے ھیں اور نہ ترکی کی طرف سے شامی باغیوں کو دی جانے والی لاجسٹک سپورٹ۔ نہ ھی انہیں جھاد النکاح جیسے قبیح فتوے دینے والے مفتیوں پر بات کرنا ضروری لگا اور نہ اس پر عمل کرنے والے داعش اور فری سیریئن آرمی کے باغیوں پر۔

حسب معمول آخر میں نتیجہ پیش کرتے ھوئے کہتے ھیں کہ ایسی صورت میں صرف پاکستان کی فوج کی آپشن موجود ھے جو دنیا کی پانچویں بڑی فوج ھے۔ بحرین نے پنجاب سے ریٹائرڈ فوجی بھرتی کرنے کی خوہش ظاھر کی ھے اور سعودی عرب کو ایک ڈویژن فوج چاہیئے۔ چوہدری صاحب کی خیال میں ھمیں یہ دونوں کام کر لینے چاہیئے۔ اس کی وجہ یہ ھے کہ سعودی عرب نے ھمیشہ ھماری مدد کی ھے اس لیئے ھمیں بھی ان کی مدد کرنی چاہیئے۔ ھمیں اس کا معاوضہ بھی نہیں لینا چاہیئے اور نہ ھی کوئی مالی مدد۔ ریٹائر فوجیوں کر بحرین بھیج دینا چاہیئے تاکہ ان بیچاروں کو نوکری مل جائے۔  مصر کی فوج ان کے خیال میں اندرونی مسائل کی وجہ سے دستیاب نہیں ھے لیکن پاکستانی فوج تو جیسے بالکل فارغ اور حالت امن میں ھے اور مدد کیلئے دستیاب ھے۔ سب سے مضحکہ خیز بات موصوف نے یہ لکھی ھے کہ ھمیں یہ بھی خیال رکھنا چاہیئے کہ ھماری ۔ مدد کسی خاص مسلک یا اسلامی ملک کے خلاف نہ ھو جبکہ پورا کالم انہوں نے لکھا ھی شیعہ شورش اور شیعہ آبادی  کے حوالے سے ھے جس کی وجہ سے سعودی عرب اور بحرین کو خطرہ ھے اور اس خطرے سے وھاں کے سنیوں اور حکومت کو بچانے کیلیئے ھمیں اپنی فوج اور ریٹائرڈ فوجی وھاں بھیجنے چاہیئے۔ 

اس پورے کالم میں جس انداز سے مفروضوں اور غلط بیانی پر مبنی باتیں لکھ کر نتیجہ نکالنے کی کوشش کی گئی ھے اس کو پڑھ کر مجھے کامل یقین ھو گیا ھے کہ جاوید چوہدری صاحب منصوبہ بندی کے تحت نہ صرف فرقہ واریت اور تعصب کو ھوا دے رھے ھیں بلکہ کھلے عام شیعہ دشمنی کا بھی اظہاد کر رھے ھیں۔ ورنہ ایک معروف کالم نویس سے اتنی سطحی اور کج فہمی پر مبنی باتیں کرنے کی کوئی اور وجہ ھماری سمجھ سے باھر ھے،۔ پاکستان کی فوج جسے اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں کا سامنا ھے، ایسے میں فوج کے ایک ڈویژن کو سعودی عرب اور بحرین بھیجنے جیسے مضحکہ خیز مطالبے پر جاوید چوہدری صاحب  سے سوال پوچھا جانا چاہیئے کہ  اس مشورہ کا اصل پس منظر کیا ھے؟

Madad Karein ,Bikkein Nahein By Javed Chaudhry (Dated: 21 March 2014)

About the author

Noor Darwesh

2 Comments

Click here to post a comment
  • Mai javeed choudhry ko aik acha aur sacha journalist samajhta that laiken yeh article perh k pata chala k wo taacsub se bhare hain

  • میں جاوید چوہدری کا یہ کالم پڑھ کر ان کی دور اندیشی کا قائل ہو گیا ہوں ۔۔ جاوید چوہدری نے جو کچھ لکھا چند ماہ بعد ھی ھوا ۔ سعودی حکمران بہت جلد پاکستان حکومت سے فوج کی مدد مانگ رھے تھے ۔ اور اس کالم پر تنقید کرنے والے کو چاھئے کہ وہ اب ایک ایسی تحریر لکھے جس میں وہ یہ تسلیم کرے کہ اس کا ویژن اور سوچ اتنی بلند نہیں تھی جتنی کہ جاوید چودھری کی ھے